صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6262
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: 23] فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: قُرْبَى مُحَمَّدٍ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عَجِلْتَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَقَالَ: «إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ»
طاؤ س بیان کرتےہیں :حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ "تم یہ فرمادو کہ میں اس پر تم سے معاوضہ طلب نہیں کرتا صرف رشتہ داری کے حقوق کے حوالے سے محبت کاطلب گار ہوں۔" تو سعید بن جبیر نے کہا:اس سے مراد نبی اکرمﷺ کے قریبی رشتےدار ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا:تم نے جلد بازی سے کام لیاہے نبی اکرمﷺ کا قریش کی ہر شاخ کےساتھ کوئی نہ کوئی رشت تھا،تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:میرے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے تم اس کے حقوق کا خیال رکھو۔
ابْنُ عَبَّاسٍ: عَجِلْتَ، ← سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: قُرْبَى مُحَمَّدٍ؟ ← هَذِهِ الْآيَةِ {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: ← سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ← طَاوُسًا ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6262
