Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6819

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ لِتَكْرِمَةِ اللَّهِ هَذِهِ [ص:232] الْأُمَّةَ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتےہیں ، میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : " میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور یہ لوگ قیامت کے دن تک غالب رہیں گے پھر حضرت عیسیٰ بن مریم نزول کریں گے تو ان کا امیر کہے گا : آپ آگے بڑھیں اور ہمیں نما ز پڑھائیں وہ فرمائیں گے : جی نہیں تم لوگ ایک دوسرے کے امیر ہو ( نبی اکرمﷺ فرماتےہیں ) اللہ تعالیٰ اس امت کی عزت افزائی کےلئے ایسا کرےگا ۔"

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Hadith 6819

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6820

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، أَوْ لَيُثَنِّيَنَّهُمَا»

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "فج روحاء"کے مقام پر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام حج یا شاید عمرے یا شاید ان دونوں کا تلبیہ پڑھیں گے ( یہ شک راوی کو ہے ) "۔

«لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، أَوْ لَيُثَنِّيَنَّهُمَا» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 6820

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6821

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ كُلُّهُمْ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ إِنَّهُ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ نَازِلٌ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ، رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ بَيْنَ مُمَصَّرَيْنِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ، وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ، فَيُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ، وَيُهْلِكُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْأُسْدُ مَعَ الْإِبِلِ، وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِّئَابُ [ص:234] مَعَ الْغَنَمِ، وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ، لَا تَضُرُّهُمْ، فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يُتَوَفَّى، فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ»

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " تمام ا نبیاء علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں ان کا دین ایک ہے اور میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ عیسیٰ بن مریم کے قریب ہوں ، کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے وہ نزول کریں گے ، جب تم ا نہیں دیکھو گے تو انہیں پہچان لوگے وہ ایک ایسے شخص ہیں جن کا رنگ سرخ وسفید ہے ا نبی اکرمﷺ کا قددرمیانہ ہوگا ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہوں گے اگرچہ وہ گیلا نہیں ہوگا وہ اسلام کےلئےلوگوں کے ساتھ لڑائی کریں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو مار دیں گے جزیے کو ختم کر دیں گے اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کو ختم کر دےگا اور مسیح دجال کو ختم کر دے گا اور زمین میں امن قائم ہو جائے گا ، یہاں تک کہ شیر اونٹ کے ساتھ ، چیتا گائے کے ساتھ ، بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چر رہے ہوں گے ، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پنچائیں گے ۔ حضرت عیسیٰؑ زمین میں چالیس سال تک رہیں گے پھر ان کا انتقال ہو جائے گا مسلمان ان کا نماز جنازہ ادا کریں گے اللہ تعالیٰ کا درود ان پر نزول ہو ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 6821

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6822

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السِّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:235] عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ*، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ»؟ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ، قَالَ: «فَلَا تَبْكِينَ، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ أَكْفِيكُمُوهُ، وَإِنْ مُتُّ، فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ مَعَهُ الْيَهُودُ، فَيَسِيرُ حَتَّى يَنْزِلَ بِنَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا، فَيَنْطَلِقُ حَتَّى يَأْتِيَ لُدَّ، فَيَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يَلْبَثُ عِيسَى فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ قَرِيبًا مِنْ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لائے ، تو میں رو رہی تھی نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں رورہی ہو؟ سیدہ عائشہ ؓنے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کا ذکر کیا تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نہ روؤ کیوں کہ اگر وہ ایسے وقت میں نکلا جب میں زندہ ہوا تو میں سب کی جگہ اس کے مقابلے میں ہوں گا اور اگر میں مر گیا تو تمہارا پروردگار کانانہیں ہے وہ دجال جب نکلےگا ، تو اس کے ساتھ یہودی ہوں گے وہ چلتا ہوا مدینہ منورہ کے ایک کنارے پر پڑاؤ کرے گا اس زمانے میں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے جن میں سے ہر دروازے پر دو فرشتے تعینات ہوں گے مدینہ منورہ کے بدترین لوگ نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے پھر وہ وہاں سے روانہ ہوگا ، یہا ں تک کہ "لد" کے مقام پر آئے گا وہاں حضرت عیسیٰ بن مریم نزلو کریں گے وہ اسے قتل کر دیں گے پھر حضرت عیسیٰ ؑ چالیس سال تک زمین میں رہیں گے ( راوی کو کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) چالیس کے قریب تک رہیں گے وہ عادل حکمران انصاف کرنے والے حاکم کے طور پر ہیں گے ۔

دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ»؟ ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← [ص:235] عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ*، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ

Hadith 6822

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6823

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَمْتَلِئَ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا، ثُمَّ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي - أَوْ عِتْرَتِي - فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا»

حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : " قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین ظلم اور دشمنی سے بھرنہیں جاتی پھر میرے اہل بیت میں سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) میر ی اولاد میں سے ایک شخص نکلے گا ، جو زمین کو انصاف اور عدل سے بھر دے گا ، جس طرح یہ پہلے ظلم اور دشمنی سے بھری ہوئی تھی۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو الصِّدِّيقِ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 6823

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6824

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، [ص:237] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ النَّاسَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي، فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا وَعَدْلًا»

حضرت عبداللہ ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: " قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگوں کا حکمران میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نہیں بنے گا اس کانام میرے نام کے مطابق ہوگا اس کے والد کا نام میرے والد کے نام کے مطابق ہوگا وہ زمین کو انصاف اور عدل سے بھر دے گا ۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ، [ص:222] ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ،

Hadith 6824

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6825

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:238] عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ شُبْرُمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، وَخُلُقُهُ خُلُقِي، فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا»

حضرت عبداللہ ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: " میری امت میں سے ایک شخص نکلے گا ، جس کانام میرے نام کے مطابق ہوگا اس کے اخلاق میرے اخلاق کے مطابق ہوں گے وہ زمین کو انصاف اور عدل سے بھر دے گا ، جس طرح یہ پہلے ظلم وستم سے بھری ہوئی تھی۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← عُثْمَانُ بْنُ شُبْرُمَةَ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← [ص:238] عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Hadith 6825

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6826

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَبَّاسِ الْمَرْوَزِيُّ، بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي أَقْنَى، يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ قَبْلَهُ ظُلْمًا، يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ». [ص:239] أَبُو الصِّدِّيقِ اسْمُهُ بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ النَّاجِيُّ.

حضرت ابوسعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حکمران نہیں ہوگا وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا ، جس طرح اس سے پہلے یہ ظلم سےبھری ہوئی تھی وہ سات سال تک حکمران رہے گا ۔"

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← هاشم بن القاسم ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَبَّاسِ الْمَرْوَزِيُّ، بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 6826

chevron_left Previous
1…57585960
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr