Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6807

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: «لَفِتْنَةُ بَعْضِكُمْ أَخْوَفُ عِنْدِي مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، إِنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ فِتْنَةٍ صَغِيرَةٍ وَلَا كَبِيرَةٍ إِلَّا تَتَّضِعُ لِفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، فَمَنْ نَجَا مِنْ فِتْنَةِ مَا قَبْلَهَا نَجَا مِنْهَا، وَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ مُسْلِمًا مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، مُهَجَّاةٌ كَ، فَ، رَ»

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھے، نبی اکرمﷺ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تمہارا ( آپس کا اختلاف ) میرے نزدیک دجال کے فتنے سے زیادہ خوف زدہ کرنے والا ہے ، ہر چھوٹا اور بڑا فتنہ دجال کے فتنے کا پیش خیمہ ہوگا جو شخص اس سے پہلے کے فتنے سے نجات پالے گا وہ اس سے بھی نجات پالے گا اور یہ کسی مسلمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ، کیونکہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان میں "ک ف ر "(یعنی کافر) لکھا ہو ا ہوگا۔

الدَّجَّالِ، ← كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ ← حُذَيْفَةَ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 6807

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6808

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدِمَ مِنْهُمْ سَبْيٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ عَلَى بَعْضِهِمْ رَقَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ»، وَجَاءَتْهُ صَدَقَاتُ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا»، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ» *

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی تین باتیں سنی ہیں اس کے بعد میں ہمیشہ بنو تمیم سے محبت کرتا ہوں ایک مرتبہ ان کے کچھ لوگ قیدی ہو کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں لائے گئے ان میں سے ایک قیدی بنو اسمٰعیل سے تعلق رکھتا تھا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے آزاد کردو جو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے ، پھر ایک مرتبہ بنو تمیم کے صدقات آئے ، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں اور میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے : میری امت میں دجال کے خلاف سب سےزیادہ سخت یہ لوگ ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 6808

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6809

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْدُونَ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تُقَاتِلُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ، فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، وَتُقَاتِلُونَ فَارِسَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ»

حضرت نافع بن عتبہ ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "تم لوگ جزیرہ عر ب کےساتھ جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اسے فتح کر دے گا تم لوگ اہل فارس کے ساتھ جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس فتح کر دے گا پھر تم لوگ دجال کے ساتھ جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر فتح نصیب کرے گا ۔"

نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْدُونَ بْنِ هِشَامٍ،

Hadith 6809

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6810

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةَ، حَتَّى يَنْزِلَ عِنْدَ أُحُدٍ، ثُمَّ يَغْدُو قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَاكَ يَهْلِكُ»

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرت ہیں : " دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اس کا ارادہ مدینہ منورہ کا ہوگا ، یہاں تک کہ جب وہ احد پہاڑ کے قریب پڑاؤ کرے گا ، تو پھر وہ شام کی طرف روانہ ہو جائے گا اور وہاں وہ ہلاکت کا شکار ہو گا ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 6810

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6811

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ [ص:222] ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي مُجَمِّعَ بْنَ جَارِيَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ»

حضرت مجمع بن جاریہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : " حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دجال کو " باب لد" کے قریب قتل کردیں گے ۔"

«يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَمِّي مُجَمِّعَ بْنَ جَارِيَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ [ص:222] ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيَّ ← ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 6811

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6812

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ*، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: أُحَدِّثُكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: «إِنَّ الْأَعْوَرَ الدَّجَّالَ مَسِيحَ الضَّلَالَةِ يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فِي زَمَانِ اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ، وَفُرْقَةٍ، فَيَبْلُغُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الْأَرْضِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا، اللَّهُ أَعْلَمُ مَا مِقْدَارُهَا، اللَّهُ أَعْلَمُ مَا مِقْدَارُهَا - مَرَّتَيْنِ - وَيُنَزِّلُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَؤُمُّهُمْ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَتَلَ اللَّهُ الدَّجَّالَ، وَأَظْهَرَ الْمُؤْمِنِينَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ: «فَيَؤُمُّهُمْ» أَرَادَ بِهِ فَيَأْمُرُهُمْ بِالْإِمَامَةِ، إِذِ الْعَرَبُ تَنْسُبُ الْفِعْلَ إِلَى الْآمِرِ، كَمَا تَنْسُبُهُ إِلَى الْفَاعِلِ، كَمَا ذَكَرْنَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں : میں تم لوگوں کو وہ بات بتاتا ہوں ، جو میں نے حضرت صادق صدوق ؓ کی زبانی سنی ہے: حضرت ابوالقاسم صادق وصدوق ؓ نے ہمیں یہ بات بتائی : کانا دجال جو گمراہی کو لے کر چلنے والا ہے وہ لوگوں کے اختلاف کے زمانے مں مشرق کی طرف سے ظہور کرے گا اور چالیس دن میں جتنا اللہ کو منظور ہوگا زمین کے اس حصے تک پہنچ جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس کی مقدار کے بارے میں بہتر جانتا ہے یہ بات آپﷺ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو نازل کرے گا وہ ان لوگوں کی ( یعنی مسلمانوں کی) امامت کریں گے) ، جب وہ رکوع سے سر اٹھائیں گے تو یہ کہیں گے : اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی حمد کو سن لیا ، جس نے اس کی حمد بیان کی ، پھر اللہ تعالیٰ دجال کو قتل کروا دے گا اور مومنوں کو غلبہ عطا کرے گا ۔ ( امام بن حبان ؒ فرماتےہیں :) اس روایت میں یہ بات مذکورہ ہے وہ ان کی امامت کریں گے اس کے ذریعے مراد یہ ہے : وہ انہیں امامت کا حکم دیں ، کیونکہ عرب بعض اوقات فعل کی نسبت حکم دینےوالے کی طرف بھی کر دیتے ہیں ، جس طرح وہ اس کی نسبت کام کرنے والے کی طرف کرتے ہیں جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر یہ بات ذکر کر چکےہیں ۔

أُحَدِّثُكُمْ مَا ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 6812

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6813

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ، أَوْ بِدَابِقَ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، هُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ، فَإِذَا تَصَافُّوا، قَالَتِ الرُّومُ: خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا، فَيُقَاتِلُونَهُمْ، فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا، ثُمَّ يُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ وَهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ، وَيَفْتَتِحُ ثُلُثٌ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْسِمُونَ الْغَنَائِمَ، قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ، إِذْ صَاحَ فِيهِمُ الشَّيْطَانُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْالِيكُمْ، فَيَخْرُجُونَ، وَذَلِكَ بَاطِلٌ، فَإِذَا جَاؤُوا الشَّامَ [ص:225] خَرَجَ - يَعْنِي الدَّجَّالَ - فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ، وَيُسَوُّونَ الصُّفُوفَ، إِذْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ يَذُوبُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ، وَلَوْ تَرَكُوهُ لَذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ، وَلَكِنَّهُ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، فَيُرِيهِمْ دَمَهُ بِحَرْبَتِهِ»

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اہل روم اعماق ( راوی کو شک ہے شاید ہی الفاظ ہیں ) دابق کےمقام پر پڑاؤ نہیں کریں گے اہل مدینہ میں سے ایک لشکر نکل کر ان کی طرف جائے گا وہ اس وقت میں روئے زمین کے سب سے بہتر لوگ ہوں گے ، جب وہ صف بندی کرلیں گے تو رومی یہ کہیں گےہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہم میں سے بعض لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان کے ساتھ جنگ کریں گے تو مسلمان یہ کہیں گے جی نہیں اللہ کی قسم! ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کےدرمیان جگہ کو خالی نہیں کریں گے وہ ان کے ساتھ جنگ کریں گے اور ان میں سے ایک تہائی لوگ پسپاء ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ توبہ کبھی قبول نہیں کرے گا ایک تہائی لو گ شہید ہو جائیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنےوالے شہدا ء ہوں گے اور ایک تہائی لوگ فتح حاصل کرتے ہوئے قسطنطنیہ کو فتح کر لیں گے اب بھی وہ مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے اور اپنی تلواروں کو زیتون کے درختوں سے لٹکا رہے ہوں گے کہ اسی دوران شیطان ان کے رمیان چیخ کر اعلان کرے گا کہ دجال تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں تک پہنچ گیا ہے ہو لوگ نکلیں گے یہ بات جھوٹی ہوگی جب یہ لو گ شام آئیں گے تو دجال نکل آئے گا ابھی وہ لوگ جنگ کی تیاری کر رہے ہوں گے اور صفیں درست کر رہے ہوں گے اسی دوران نماز کےلئے اقامت کہی جائے گی پھر حضرت عیسیٰ بن مریم نزول کر لیں گے ، جب اللہ کا دشمن ( دجال) نہیں دیکھے گا ، تو یوں پگھلنا شروع ہوگا ، جس طرح نمک پگھلتا ہے ، اگر مسلمان اسے چھوڑ دیں ، تو وہ پھر بھی پگھل جائے گا، یہاں تک کہ مر جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے ان کے ہاتھ کے ذریعے ( یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم کے ہاتھ کے ذریعے ) قتل کرے گا اور وہ اپنے نیزے پر اس کا خون ان لوگوں کو دکھائیں گے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو ثَوْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 6813

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6814

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَاعْرِفُوهُ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَنْزِعُ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، كَأَنَّ رَأْسَهُ [ص:226] يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بِلَّةٌ، وَإِنَّهُ يَدُقُّ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيُفِيضُ الْمَالَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَإِنَّ اللَّهَ يَهْلِكُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا غَيْرَ الْإِسْلَامِ، وَيَهْلِكُ اللَّهُ الْمَسِيحَ الضَّالَّ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، وَيُلْقِي اللَّهُ الْأَمَنَةَ حَتَّى يَرْعَى الْأَسَدُ مَعَ الْإِبِلِ، وَالنَّمِرُ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ، وَيَلْعَبُ الصِّبْيَانُ مَعَ الْحَيَّاتِ، لَا يَضُرُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا»

حضر ت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "انبیاء کرام علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور میں تمام لوگوں میں عیسیٰ بن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں وہ نازل ہوں گےتو تم انہیں پہچان لو گے وہ ایک ایسے فرد ہیں جن کا رنگ سرخ اور سفید ہوگا اور ان کے سر یوں لگےگا جیسے پانی کے قطرے ان کے سر سے ٹپک رہےہیں ان کا سر گیلا نہیں ہوگا وہ صلیت کو توڑ دیں گے خنز یر کو مار دیں گے مال کو عام کر دیں گے جزیے کو ختم کردیں گے اللہ تعالیٰ ان کےزمانے میں اسلام کے علاوہ دین کو ختم کر دے گا اور اللہ تعالیٰ گمراہ اور کانے جھوٹے دجال کو بھی ہلاک کر دے گا پھر اللہ تعالیٰ امن وسکون القاء کرے گا ، یہاں تک کہ شیر اونٹ کے ساتھ چر رہا ہو گا اور چیتا گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چر رہا ہوگا ، بچے سابپوں کے ساتھ کھیلیں گے ان میں سے کوئی کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائے گا ۔"

«الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 6814

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6815

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ يَأْتِي قَوْمًا قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنَ الدَّجَّالِ، فَيَمْسَحُ وُجُوهَهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ»

حضرت نواس بن سمعان ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " حضر ت عیسیٰ بن مریم ایک قوم کے پاس آئیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نےدجال سے محفوظ رکھا ہوگا ، تو وہ لوگ جنت میں ان کے درجے کے حساب سے ان کے چہروں کو چھوئیں گے ۔"

النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ

Hadith 6815

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6816

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلًا، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ، وَلَتُتْرَكَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَاءُ وَالتَّبَاغُضُ وَالتَّحَاسُدُ، وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ»

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : " حضرت عیسیٰ بن مریم انصاف کرنےوالے عادل حکمران کے طور پر نازل کریں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو مار دیں گے جزیے کو ختم کر دیں گے اونٹیوں کو چھوڑ دیاجائے گا ، ( ان کی زکوٰۃ لینے ) کی کوشش نہیں کی جائے گی ۔ آپس کا کینہ بغض اور حسد ختم ہو جائے گا وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائیں گے ، لیکن کوئی اسےقبول نہیں کرے گا ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عمرو بن محمد العنقزي ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 6816

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6817

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى ابْنِ عَفْرَاءَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: {وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ} [الزخرف: 61]، قَالَ: «نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مِنْ قَبْلِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرمایا ہے : "بے شک وہ قیامت کی نشانی ہے "۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے : اس سے مراد قیامت سے پہلے حضرت موسیٰ بن مریم کا نزول ہے ۔

«نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مِنْ قَبْلِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ← النَّبِيِّ فِي قَوْلِهِ: {وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ} [الزخرف: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي يَحْيَى مَوْلَى ابْنِ عَفْرَاءَ، ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمٍ، ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Hadith 6817

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6818

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، يَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيُفِيضُ الْمَالَ حَتَّى لَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَمِعَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 6818

chevron_left Previous
1…57585960
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr