Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6795

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الدَّجَّالُ عَيْنُهُ خَضْرَاءُ كَزُجَاجَةٍ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''دجال کی آنکھیں شیشے کی طرح سبز ہوں گی تم لوگ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔''

«الدَّجَّالُ عَيْنُهُ خَضْرَاءُ كَزُجَاجَةٍ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، ← حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 6795

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6796

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: «أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ، كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ، أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، فَإِنْ هَلَكَ الْهُلَّكُ، فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: وہ کانا اور گورا چٹا ہو گا اس کا سر سانپ کی طرح چھوٹا ہو گا وہ لوگوں میں سے عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے خواہ کتنے ہی لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں لیکن بہر حال تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔

الدَّجَّالِ، ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ،

Hadith 6796

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6797

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ فِي الْجِبَالِ»، قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «هُمْ قَلِيلٌ»

سدیدہ شریک ؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : " کچھ لوگ دجال سے بھاگتے ہوئے پہاڑوں میں چلے جائیں گے سیدہ ام شریک ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اس دن عر ب کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: وہ تھوڑ ی تعداد میں ہوں گے ۔"

أُمُّ شَرِيكٍ: ← «لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ فِي الْجِبَالِ»، ← رَسُولِ اللَّهِ ← حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ، أَنَّهَا ← جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 6797

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6798

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَتْبَعُ الدَّجَّالَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ، عَلَيْهِمُ الطَّيَالِسَةُ»

حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: " اصیبان کے ستر یہودی دجال کے پیروکار ہوں گے جنہوں نے طیالسی ( مخصوص قسم کی چادریں ) لی ہوئی ہوں گی۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Hadith 6798

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6799

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: اجْتَمَعَ حُذَيْفَةَ، وَأَبُو مَسْعُودٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةَ: «أَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ، إِنَّ مَعَهُ نَهْرًا مِنْ نَارٍ، وَنَهْرًا مِنْ مَاءٍ، فَالَّذِي يَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ: مَاءٌ، وَالَّذِي يَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ: نَارٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَأَرَادَ الْمَاءَ، فَلْيَشْرَبْ مِنَ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ نَارٌ، فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَاءً». [ص:210] قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.

ربعی بن حراش بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ حضرت حذیفہ ؓ اور حضرت ابومسعود ؓ ایک جگہ اکٹھے ہوئے ، تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا میں یہ بات جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا چیز ہوگی اس کے ساتھ آگ کی ایک نہر ہوگی اور پانی کی ایک نہر ہوگی ، جسے لوگ یہ سمجھیں گے کہ وہ آگ ہے وہ درحقیقت پانی ہوگا اور جسے لوگ یہ سمجھیں گے کہ وہ پانی ہے وہ درحقیقت آگ ہوگی تم میں سے جو شخص ایسی صورت حال کو پائے اور وہ پانی پینا چاہتا ہو، تو وہ اس میں سے پئے جو اسے آگ لگ رہا ہو وہ پانی کو پا لے گا ۔

حُذَيْفَةَ ← اجْتَمَعَ حُذَيْفَةَ، وَأَبُو مَسْعُودٍ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 6799

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6800

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنِي أَنَّ مَعَ الدَّجَّالِ جِبَالُ الْخُبْزِ، وَأَنْهَارُ الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ»، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَكُنْتُ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ سُؤَالًا عَنْهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بِالَّذِي يَضُرُّكَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنْكَارُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بِأَنَّ مَعَ الدَّجَّالِ أَنْهَارُ الْمَاءِ لَيْسَ يُضَادُّ خَبَرَ أَبِي مَسْعُودٍ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، لِأَنَّهُ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ مَعَهُ نَهْرُ الْمَاءِ يَجْرِي، وَالَّذِي مَعَهُ يُرَى أَنَّهُ مَاءٌ وَلَا مَاءَ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا تَضَادٌّ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نےعرض کی: یا رسول اللہﷺ ! مجھ تک یہ بات پہنچی ہے دجال کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی بے حیثیت ہوگا۔ حضرت مغیرہؓ بیان کرتے ہیں : میں دجال کے بارے میں نبی اکرمﷺ سے بہت زیادہ سوالات کیا کرتا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) نبی اکرمﷺ کا حضرت مغیرہ ؓ پر انکار کرنا کہ دجال کے ساتھ پانی کی نہریں ہوں گی یہ روایت حضرت ابومسعود ؓ کے حوالے سے منقول روایت کی متضاد نہیں ہے ، جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ، کیونکہ وہ ایسا ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حقیر ہوگا کہ اس کے ساتھ بہتے ہوئے پانی کی نہر ہوگی اور جو شخص یہ دیکھے گا کہ وہ پانی ہے وہ پانی نہیں ہوگا اس طرح ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہوگا۔

قُلْتُ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 6800

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6801

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:212] عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الدَّجَّالِ، فَقَالَ فِيمَا حَدَّثَنَا: «يَأْتِي الدَّجَّالُ، وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ أَنْقَابَ الْمَدِينَةِ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ، وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ - أَوْ مِنْ خَيْرِهِمْ - فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ» فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ، أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيُسَلَّطُ عَلَيْهِ، فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ، فَيَقُولُ حِينَ يَحْيَى: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ بِأَشَدَّ بَصِيرَةً فِيكَ مِنِّي الْآنَ، فَيُرِيدُ قَتْلَهُ الثَّانِيَةَ، فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ [ص:213] قَالَ مُعْمَرٌ: يَرَوْنَ أَنَّ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي يَقْتُلُهُ الدَّجَّالُ ثُمَّ يُحْيِيهِ: الْخَضِرُ.

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ہمیں دجال کے بارے میں بتایا آپﷺ نے ہمیں اس کے بارے میں جو بتایا اس میں یہ تھا کہ دجال آئے گا اس کےلئے یہ بات ممنوع ہوگی کہ وہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں داخل ہو سکے ایک شخص نکل کر اس کے پاس جائے گا یہ اس دن سب سے بہتر ہوگا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ان لوگوں کے بہترین لوگوں میں سے ایک ہوگا وہ یہ کہے گا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم وہی دجال ہو جس کے بارے میں نبی اکرمﷺ نے ہمیں بتایا تھا تو دجال کہے گا تم لوگوں کا کیا خیال ہے ، اگر میں اسے قتل کر کے پھر زندہ کردوں ، تو کیا تمہیں اس معاملے کے بارے میں کوئی شک ہوگا وہ لوگ جوب دیں گے جی نہیں ، تو دجال کو اس شخص پر تسلط عطا کیا جائے گا وہ اسے قتل کر دے گا پھر وہ اسے زندہ کر ے گا وہ زندہ ہوگا ، تو یہ کہے گا ، تویہ کہے گا اللہ کی قسم! تمہارے بارے میں جتنی بصیرت مجھے اب حاصل ہے پہلے حاصل نہیں تھی پھر دجال دوبارہ اس شخص کو قتل کرنے کا ارادہ کرے گا لیکن اس پر قابو نہیں پاسکے گا ۔ معمر نامی راوی کہتے ہیں : لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ شخص جسے دجال قتل کرے گا اور پھر دوبارہ زندہ کرے گا وہ حضرت خضر ؑ ہیں ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 6801

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6802

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ أَبِي نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ، وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ»

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: " اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا ، جب حضرت عیسیٰ بن مریمؑ تمہارے درمیان نزول کریں گے اور امام تم میں سے ہوگا ۔"

أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ أَبِي نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 6802

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6803

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، لَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنْقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا، فَيَنْزِلُ السَّبَخَةَ، فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ يَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ»

حضر ت انس بن مالکؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا:

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 6803

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6804

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ [ص:216] الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا، فَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى»

حضرت انس ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "مدینہ کے قریب دجال آئے گا ، تو وہ فرشتوں کو پائے گا : وہ اس کی حفاظت کر رہے ہیں ، تو دجال مدینہ کے اندر داخل نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی طاعون داخل ہو سکے گا اگر اللہ نے چاہا ۔"

النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ،

Hadith 6804

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6805

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا، قَالَ: حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ، لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ»

حضرت ابوبکرؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "مدینہ میں دجال کا غلبہ داخل نہیں ہو سکے گا اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے ، جن میں سے ہر دروازے پر دو فرشتے تعینات ہوں گے ۔"

أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← أَبِي ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا،

Hadith 6805

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6806

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تُقَاتِلُكُمُ الْيَهُودُ، فَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ، وَرَائِي، فَاقْتُلْهُ»

سالم بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ۔ " یہودی تمہارے ساتھ جنگ کریں گے تم لوگ ان پر غالب آجاؤ گے ، یہاں تک کہ پتھر یہ کہے گا: اے مسلمان یہ میرے پیچھے یہودی موجود ہے تم اسے قتل کر دو ۔"

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 6806

chevron_left Previous
1…57585960
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr