Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6783

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً»، فَقَالَ: [ص:186] هُوَ الدَّخُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ»، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، قَالَ: «لَا إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا نبی اکرمﷺ کا گزرابن صیا د کے پاس سے ہوا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہارے لئے ایک بات ذہن میں سوچی ہے اس نے جواب دیا : وہ دخ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دفع ہو جاؤ تم اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکو گے ۔ راوی کہتےہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ ﷺ مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں اگر تو یہ وہی ہے ' جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو پھر تم اسے قتل نہیں کر سکو گے ۔

«لَا إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ» ← عُمَرُ دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، ← النَّبِيُّ «اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ»، ← [ص:186] هُوَ الدَّخُّ، ← النَّبِيُّ «إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً»، ← كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 6783

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6784

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَ: وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ »، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ»، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَى؟ »، قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ»، قَالَ: «انْظُرْ مَا تَرَى؟ »، قَالَ: أَرَى صَادِقِينَ وَكَاذِبِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لُبِسَ عَلَى نَفْسِهِ» فَدَعَاهُ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نےملاقات ابن صائد سے ہوئی نبی اکر م ﷺ کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے راو ی کہتے ہیں : ابن صائد اس وقت لڑکوں کے ساتھ (کھیل رہا تھا ) نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے دریافت کیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالی اور اس کے (حقیقی اور سچے ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیا دیکھتےہو اس نے جواب دیا : میں پانی پر تخت دیکھتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں سمندر پر ابلیس کا تخت نظر آتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا : میں کچھ سچے اور کچھ جھوٹے لوگوں کو دیکھتا ہوں ' تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :ا س کا معاملہ مشتبہ ہو چکا ہے ' پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے چھوڑ دیا ۔

أَرَى صَادِقِينَ وَكَاذِبِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «لُبِسَ عَلَى نَفْسِهِ» فَدَعَاهُ ← «انْظُرْ مَا تَرَى؟ ← أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ «تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ»، ← فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «مَا تَرَى؟ ← أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ»، ← وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ ← لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنَ صَائِدٍ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 6784

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6785

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ: [ص:188] أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنَ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ لِابْنِ صَيَّادٍ: «أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ »، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَرَفَصَهُ رَسُولُ اللَّهِ وَقَالَ: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ»، ثُمَّ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ: «مَاذَا تَرَى؟ »، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُلِطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ»، ثُمَّ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً»، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ»، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ: «إِنْ أَدْرَكْتَهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ تُدْرِكْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ سَالِمٌ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «لَوْ تَرَكْتِيهِ»، [ص:189] قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: «إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ کچھ لوگو ں سمیت ابن صیاد کی طرف گئے ' یہاں تک کہ ان حضرات نے اسے بنو مغالہ کی عمارت کے قریب دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا ان دنوں ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا اسے یہ پتہ نہیں چل سکا ' یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ نے اس کی پشت پر اپنا ہاتھ مارا پھر نبی اکرمﷺ نے ابن صیاد سے کہا : کیا تم اس بات کی گواہی دہتے ہو میں اللہ کا رسول ہوں ۔ ابن صیاد نے کہا : کیا آپ اسبات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہو ں ' تو نبی اکرم ﷺ نے اسے پرے کرتے ہوئے کہا میں اللہ اور ( اس کے سچے ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تم کیا چیز دیکھتے ہو ۔ابن صیا د نے کہا : میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے ۔نبی اکرمﷺنے اس سے فرمایا تم پر معاملہ خلط ملط ہو گیا ہے ' پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : میں نے تمہارے لئے ایک بات سوچی ہے ۔ ابن صیاد نے کہا : وہ دخ ہے ۔ نبی اکرم ﷺنے اس سے فرمایا تم دفع ہو جاؤ تم اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکو گے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا اگر تم اس تک پہنچ بھی گئے تو اس پر غالب نہیں آسکو گے اور اگر تم اس تک نہ پہنچے تو پھر اسے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ ابن شہاب کہتےہیں : سالم نے یہ بات بیان کی ہے میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کویہ بات ارشاد کرتے ہوئے سنا :ا س کے بعد نبی اکرم ﷺ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے اس باغ کی طرف تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد موجود تھا ۔ جب نبی اکرمﷺ کھجوروں کے باغ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کھجوروں کی شاخوں سے خود کو چھپانے کی کوشش کرنے لگے آپ یہ چاہتے تھے کہ ابن صیادکے آپﷺ کو دیکھنے سے پہلے آپ ﷺ اس کی طرف سے کوئی باس سن لیں ۔ جب نبی اکرمﷺ نے اسے دیکھا تو وہ بستر پر لیٹا ہو ا تھا اور اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ' جس میں سے بھنبھناہٹ کی آواز آرہی تھی جب ابن صیاد کی ماں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کھجوروں کی شاخوں کے پیچھے چھپنا چاہ رہے ہیں ' تو اس نے ابن صیاد سے کہا: (کہ نبی اکرم ﷺ یہاں موجود ہیں ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :ا گر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتی ( تو یہ زیادہ بہتر تھا )۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے اللہ تعالی کی شان کےمطابق اسکی حمدو ثنا ء بیان کی ' پھر آپ ﷺ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو اس سے ڈرا رہا ہوں ہر نبی نے اپنی قوم کو (اس سے ) ڈڑایا ہے ۔ حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے ' لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتا رہا ہوں جو کسی بھی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم لوگ یہ بات جان لو کہ و ہ کانا ہوگا اور بے شک اللہ تعالی کانا نہیں ہے۔

[ص:188] أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ← ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 6785

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6786

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، [ص:192] عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: هَاجَتْ رِيحٌ وَنَحْنُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ، فَغَضِبَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى عَرَفْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ وَقَالَ: عَدُوٌّ يَجْتَمِعُ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْ هَاهُنَا فَيَلْتَقُونَ، فَتُشْتَرَطُ شُرْطَةُ الْمَوْتِ: لَا تَرْجِعُ إِلَّا وَهِيَ غَالِبَةٌ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، وَكُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ تُشْتَرَطُ الْغَدَ شُرْطَةُ الْمَوْتِ: لَا تَرْجِعُ إِلَّا وَهِيَ غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، وَكُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ تُشْتَرَطُ الْغَدَ شُرْطَةُ الْمَوْتِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ: لَا تَرْجِعُ إِلَّا وَهِيَ غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسَ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، وَكُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتُفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ يَلْتَقُونَ فِي الْيَوْمِ الرَّابِعِ، فَيُقَاتِلُونَهُمْ وَيَهْزِمُونَهُمْ حَتَّى تَبْلُغَ الدِّمَاءُ نَحْرَ الْخَيْلِ، وَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى إِنَّ بَنِي الْأَبِ، كَانُوا يَتَعَادُّونَ عَلَى مِائَةٍ، فَيُقْتَلُونَ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْهُمْ رَجُلٌ وَاحِدٌ، فَأَيُّ مِيرَاثٍ يُقْسَمُ بَعْدَ هَذَا وَأَيُّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ بِهَا، ثُمَّ يَسْتَفْتِحُونَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْسِمُونَ الدَّنَانِيرَ بِالتَّرَسَةِ، إِذْ أَتَاهُمْ فَزَعٌ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ: إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ فِي ذَرَارِيِّكُمْ، [ص:193] فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ، وَيَبْعَثُونَ طَلِيعَةَ فَوَارِسَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمْ يَوْمَئِذٍ خَيْرُ فَوَارِسِ الْأَرْضِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ»

اسیر بن جابر بیان کرتے ہیں : تیز ہوا چل پڑی ہم اس وقت حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ غصہ میں آگئے یہاں تک کہ ہمیں ان کے چہرے پر غصہ کےآثار محسوس ہو گئے انہوں نے فرمایا تمہارا ستیا ناس ہو قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک وارثت کی تقسیم ختم نہیں ہو جاتی اور غنیمت کے ذریعے خوش نہیں ہوا جاتا ۔ پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے شام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : اس طرف دشمن مسلمانوں کے لئے اکٹھا ہو گا پھر ان کا آمنا سامنا بھی ہو گا اور یہ شرط عائد کی جائے گی کہ مر جایں گے (لیکن واپس نہیں جائیں گے) تو واپس وہی جائے گا ' جو غالب ہو گا یہ لوگ لڑائی کرتے رہے گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا ' تو یہ لوگ بھی واپس چلے جائیں گے وہ لوگ بھی واپس چلے جائیںگ کوئی بھی غالب نہیں آیا ہو گا اور شرط کا وقت بھی ختم ہو جائے گا پھر اگلے دن موت کی شرط رکھی جائے گی کہ وہی واپس آئے گا ' جو غالب ہو گا پھر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی واپس چلے جائیں گے دونوں میں سے کوئی بھی غالب نہیں آیا ہو گا اور شرط ختم ہو جائے گی پھر اس سے اگلے دن تیسرے دن موت کی شرط عائد کی جائے وہی واپس آئے گا' جو غالب ہو گا وہ لوگ لڑائی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا ۔ تو وہ گروہ بھی واپس چلا جائے گا یہ بھی واپس چلا جائے گا کوئی غالب نہیں آیا ہو گا پھر چوتھے دن ان کے درمیان لڑائی ہو گی تو یہ ان کےساتھ لڑائی کرتے ہوئے انہیں پسپاء کر دیں گے ' یہاں تک کہ خون گھوڑوں کی گردن تک پہنچ جائے گا اور لڑائی ہوتی رہے گی یہاں تک کہ ایک ہی باپ کے بیٹے ایک سو لوگوں کے ساتھ مقابلہ کریں گے ' تو وہ مارے جائیں گے یہاں تک کہ ان میں سے صرف ایک شخص باقی رہ جائے گا تو پھر اسکے بعد وراثت کیسے تقسیم ہو گی اور پھر کون سی غنیمت کے ہمراہ خوشی حاصل کی جائے گی پھر لوگ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے ابھی وہ دینار اور ڈھالیں تقسیم کر رہے ہوں گے کہ اسی دران بڑی پریشان کن چیز ان تک آ جائے گی دجال تمہاری اولادوں کے درمیان ظہور پذیر ہو گا رتو ان لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہو گا وہ اسے پھینکیں گے اور آجائیں گے وہ لوگ اپنے گھڑ سواروں کو بھیجیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: وہ اس دن روئے زمین کے سب سے بہترین سوار ہوں گے میں ان لوگوں کے نام ان کے آباء کے نام کے قبائل کے نام اور ان کے گھوڑو ں کے رنگوں سے بھی وقف ہو ں ۔

أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 6786

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6787

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ السِّكِّينِ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ، قَالَ: [ص:194] حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، أَنَّهُ، قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تُحَدِّثِينِي بِشَيْءٍ لَمْ تَسْمَعِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: نَعَمْ، نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ وَفَزِعُوا، قَالَتْ: فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: «إِنِّي لَمْ أَجْمَعْكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنْ حَدِيثٌ حَدَّثَنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، زَعَمَ أَنَّهُ رَكِبَ الْبَحْرَ فِي ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ، قَالَ: فَلَعِبَ بِنَا الْبَحْرُ - وَرُبَّمَا، قَالَ: لَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ - شَهْرًا ثُمَّ قَذَفَ بِنَا السَّفِينَةَ إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ، قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلَيْهَا فَلَقِيَتْنَا جَارِيَةٌ تَجُرُّ شَعْرَهَا، لَا نَدْرِي مُقْبِلَةٌ هِيَ أَمْ مُدْبِرَةٌ، قُلْنَا: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: أَخْبِرِينَا، قَالَتْ: عَلَيْكُمْ بِصَاحِبِ الدَّيْرِ، وَهُوَ يُخْبِرُكُمْ وَيَسْتَخْبِرُكُمْ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا رَجُلٌ - ذَكَرَ مِنْ عِظَمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ - وَهُوَ مُوثَقٌ إِلَى حَبَلٍ بِالْحَدِيدِ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَمَّا أَسْأَلُكُمْ عَنْهُ، قَالُوا: سَلْنَا، قَالَ: مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ، يُطْعَمُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: يُوشِكُ أَنْ لَا يُطْعَمَ، ثُمَّ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ، بِهَا مَاءٌ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: يُوشِكُ أَنْ لَا يَكُونَ بِهَا مَاءٌ، ثُمَّ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ هَذَا الرَّجُلِ، هَلْ خَرَجَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّهُ صَادِقٌ فَاتَّبِعُوهُ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ» قَالَ كَهْمَسٌ: فَذَكَرَ ابْنُ بُرَيْدَةَ شَيْئًا لَمْ أَحْفَظْهُ، إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ: «[ص:195] تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ، وَيَأْتِي عَلَى جَمِيعِهِنَّ فِي أَرْبَعِينَ صَبَاحًا»

یحییٰ بن معمر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ فاطمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے کہا : مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے نبی اکر ﷺ کی زبانی سنی ہو اور اپ مجھے کوئی ایسی بات نہ بتائیں جو آپ نے براہ راست نبی اکرم ﷺ کی زبانی نہ سنی ہو ۔ انہوں نے کہا " ٹھیک ہے یہ اعلانن کیا گیا اکھٹے ہو جاؤ تو لوگ اکٹھے ہو گئے لوگ گبھرا گئے ۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے آپﷺ نے اللہ تعالی کی حمدو ثنا بیا ن کی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : '' میں نےتم لوگوں کو کسی رغبت یا خوف کی وجہ سے جمع نہیں کیا ہے ' بلکہ ایک واقعہ پیش آیا ہے جو مجھے تمیم داری نے بیان کیا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ وہ تیس افرادجن کا تعلق لخم اور جذام قبیلے سے تھا وہ سمندر میں سفر کر رہے تھے اس نے یہ بیان کیا ہے کہ سمندر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) موجیں ہمارے ساتھ کھیل کرنے لگیں ایک ماہ تک ایس ہوتا رہا پھر ہماری کشتی سمندر میں موجود ایک جزیرے تک پہنچ گئی تمیم داری بیان کرتے ہیں :ہم لوگ نکل کر اس جزیرے کی طرف گئے تو وہاں ہماری ملاقات ایک لڑکی سی ہوئی جواپنے بال کھینچ رہی تھی ہمیں نہیں پتہ چلا کہ وہ آرہی ہے یا جا رہی ہے ہم نے دریافت کیا : تم کون ہو اس نے کہا : میں ''جساسہ'' ہوں ہم نے کہا تم ہمیں کچھ بتاؤ اس نے کہا تم لوگ گرجے میں موجود شخص کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں بتائے گا بھی اور تم سے اطلاعات حاصل بھی کرے گا ۔ تمیم داری بیان کرت ہیں :ہم لوگ اس کے پاس گئے تو وہ ایک ایسا شخص تھا اس کے بعد انہوں نے اس کے بڑے ہونے کا ذکر کیا وہ لوہے کی رسی کےساتھ بندھا ہو تھا ہم نے دریافت کیا : تم کون ہو اس نے کہا :پہلے تم مجھے اس چیز کے بارے میں بتاؤ جس کے بارے میں ' میں تم سے سوال کروں گا ان لوگوں نے کہا تم ہم اسے سوال کرو اس نے دریافت کیا : بیسا ن کے کھجوروں کے باغ کا کیا حال ہے کیا ا سکا اناج اب بھی کھایا جاتا ہے ہم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس نے کہا : عنقریب وہ نہیں کھایا جائے گا پھر اس نے دریافت کیا : تم مجھے زغرکے چشمے کے بارے میں بتاؤ کہ کیا اس میں پانی ہے ہم نے جوا ب دیا : جی ہا ں اس نے کہا ۔ عنقریب اس میں پابنی نہیں رہے گا پھر اس نے کہا : تم لوگ مجھے ان صاحب کے بارے میں بتاؤ ک یا ان کا ظہور ہو گیا ہے ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ' تو اس نے کہا : بے شک وہ سچے ہیں تم لوگ ان کی پیروی کرو ۔ ہم نے دریافت کیا : تم کون ہو اس نے کہا : میں دجا ل ہوں ۔'' کہمس بیان کرتے ہیں : ابن بریدہ نے یہاں کوئی چیز ذکر کی تھی جو مجھے یاد نہیں رہی تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ''اس لے لئے روئے زمین کو لپیٹ دیا جائے گا ' یہاں تک کہ وہ تمامم روئے زمین کا چکر چالیس دن میں لگا لےگا ۔''

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← أَبِي ← عون بن كهمس ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ← هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ، بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ،

Hadith 6787

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6788

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرْقُسَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُمِّيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، [ص:196] فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ، وَهُوَ كَائِنٌ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ، إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ، إِلَّا إِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ عَمٍّ لَهُ وَأَصْحَابَهُ رَكِبُوا بَحْرَ الشَّامِ، فَانْتَهَوْا إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِهِ، فَإِذَا هُمْ بِدَهْمَاءَ تَجُرُّ شَعْرَهَا، قَالُوا: مَا أَنْتِ؟، قَالَتْ: الْجَسَّاسَةُ أَوِ الَجَاسِسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا؟، قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ عَنْ شَيْءٍ، وَلَا سَائِلَتِكُمْ عَنْهُ، وَلَكِنِ ائْتُوا الدَّيْرَ، فَإِنَّ فِيهِ رَجُلًا بِالْأَشْوَاقِ إِلَى لِقَائِكُمْ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ، فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟ وَمَنْ أَنْتُمْ؟، قَالُوا: مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ: فَمَنْ أَنْتُمْ؟، قَالُوا: نَحْنُ الْعَرَبُ، قَالَ: فَمَا فَعَلْتِ الْعَرَبُ؟، قَالُوا: خَرَجَ فِيهِمْ نَبِيٌّ بِأَرْضِ تَيْمَاءَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ النَّاسُ؟، قَالُوا: فِيهِمْ مَنْ صَدَّقَهُ، وَفِيهِمْ مَنْ كَذَّبَهُ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ إِنْ يُصَدِّقُوهُ وَيَتَّبِعُوهُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ، قَالَ: مَا بُيُوتُكُمْ؟، قَالُوا: مِنْ شَعَرٍ وَصُوفٍ تَغْزِلُهُ نِسَاؤُنَا،، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ، قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ طَبَرِيَّةَ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ جَوَانِبُهَا يَصْدُرُ مَنْ أَتَاهَا، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ، قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟، قَالُوا: تَدَفَّقُ [ص:197] جَوَانِبُهَا يَصْدُرُ مَنْ أَتَاهَا، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ، قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ، قَالَ: مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟، قَالُوا: يُؤْتِي جَنَاهُ فِي كُلِّ عَامٍ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ، قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَوْ قَدْ حُلِلْتُ مِنْ وَثَاقِي هَذَا لَمْ يَبْقَ مَنْهَلٌ إِلَّا وَطِئْتُهُ إِلَّا مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي عَلَيْهِمَا سَبِيلٌ»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ طَيْبَةُ، حَرَّمْتُهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا فِيهَا نَقْبٌ فِي سَهْلٍ وَلَا جَبَلٍ إِلَّا وَعَلَيْهِ مَلَكَانِ شَاهِرَا السَّيْفِ يَمْنَعَانِ الدَّجَّالَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

امام شعبی بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدہ فاطمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے آپ ﷺ نے اللہ تعالی کی حمدو ثنا بیان کی ' پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو دجال سے ڈرا رہا ہوں مجھے سے پہلے ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا ہے ۔ اور وہ تمہارے درمیان ظہور پذیر ہو گا اے امت ! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی او ر امت نہیں ہے البتہ تمیم داری نے مجھے بتایا ہے کہ اس کے چچا زاد اور اس کے ساتھی شام کے سمندر میں سفر کر رہے تھے وہ کسی جزیرے تک پہنچ گئے وہاں ایک عورت تھی جو اپنے بال کھینچ رہی تھی ان لوگوں نے دریافت کیا : تم کون ہو اس نے کہا : جساسہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہی ں ) جاسسہ ۔ ان لوگوں نے کہا : تم ہمیں کسی چیز کے بارے پتاؤ ا س نے کہا : میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی اور نہ ہی کسی چیز کے بارے میں تم سے دریافت کروں گی لیکن تم لوگ عبادت خانے میں چلے جاؤ وہاں ایک شخص ہے جو تم سے ملاقات کا مشہتبہ ہے وہ لوگ عبادت خانے میں آئے ' تو وہا ں ایک شخص تھا ' جس کی آنکھ کانی تھی وہ لوہے کی زنجیر وں میں ستوں کے ساتھ بندھا ہوا تھا اس نے دریافت کیا : تم لوگ کہا ں سے آئے ہو تم لوگ کون ہو۔ ان لوگوں نے جواب دیا اہل شام سے ۔ اس نے دریافت کیا : تم لوگ کون ہو ۔ انہوں نے جواب دیا ہم عربی ہیں ۔ اس نے کہا عربوں کا کیا حال ہے ان لوگوں نے بتایا : ان میں ایک نبی کا ظہور ہوا ہے جو تیماء کی سر زمین سے تعلق رکھتے ہیں اس نے دریافت کیا :لوگوں کا کیا حال ہے انہوں نے بتایا : ان میں کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے ان کی تصدیق کی ہے اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہیں غلط قرار دیا ہے تو اس نے کہا :اگر و ہ ا ن کی تصدیق کر دیں اور ان کی پیروی کریں ' تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے اگر انہیں علم ہو پھر اس نے دریافت کیا: تمہارے گھر کس چیز کے ہیں ۔ ان لوگوں نے بتایا : بالوں کے اور اون کے بنے ہوئے ہ جنہیں ہماری عورتیں تیار کرتی ہیں ۔ راوی کہتےہیں تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے زانوں پر مارا پھر بولا یہی پھر اس سے دریافت کیا : بحیرہ طبریہ کا کیا حال ہے ۔انہوں نے بتایا : اس کے کنارے چلک رہے ہیں اس نے اپنے زانوں پر ہاتھ مارا پھر بولا جلدی کر و پھر اس نے دریافت کیا : زغرکے چشمے کا کیا حال ہے ان لوگوں نے بتایا :ا س کے کناے چھلکتے ہیں جو اس تک آتا ہے وہ سیر ہوتا ہے تو اس نے اپنے زانوں پر ہاتھ مارا اور پھر بولا جلدی کرو پھر اس نے دریافت کیا : بیسا ن کے نخلستان کا کیا حال ہے ان لوگوں نے کہا: اس کی ٹہنیاں سارا سال پھل دیتی ہیں اس نے پھر اپنے زانوں پر ہاتھ مارا اور بولا : جلدی کرو پھر اس نے کہا : اگر میں اپنی بیڑیوں سے آزاد ہو گیا تو کوئی چشمہ ایسا نہیں ہو گا ' جسے میں روند نہ دوں البتہ مکہ اور طیبہ (یعنی مدینہ منورہ ) کا معاملہ مختلف ہے 'کیونکہ میرے لئے وہاں جانے کی گنجائش نہیں ہے ۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ طیبہ ہے میں اسے اسی طرح حرم قرار دیتا ہوں جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عام زمین اور پہاڑوں میں اس میں داخلے کا جو بھی راستہ ہے اس پر دو فرشتے تعینات ہیں جنہوں نے تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور وہ قیامت کے دن تک دجال کو ( اس میں داخل ہونے سے ) روکنے کے لئے (تیار رہیں گے )

Hadith 6788

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6789

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ الصَّلَاةُ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ نَزَلَتْ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَقَذَفَتْهُمُ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ لَا يُدْرَى أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى مِنْ كَثْرَةِ الشَّعْرِ، فَقَالُوا: مَنْ أَنْتِ؟، قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا؟ قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ، وَلَا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ، وَلَكِنَّ هَاهُنَا مَنْ هُوَ فَقِيرٌ إِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ، وَإِلَى أَنْ يَسْتَخْبِرَكُمْ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ، فَإِذَا بِرَجُلٍ مَرِيرٍ مُصَفَّدٍ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْعَرَبُ، قَالَ: هَلْ بُعِثَ النَّبِيُّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تَبِعَتْهُ [ص:199] الْعَرَبُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ فَارِسُ؟ قَالُوا: لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهَا، ثُمَّ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ مَلْأَى، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ قَالُوا: قَدْ أَطْعَمَ أَوَائِلُهُ، فَوَثَبَ عَلَيْهِ وَثْبَةً، حَتَّى خَشِينَا أَنْ سَيَغْلِبَ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، أَمَا إِنِّي سَأَطَأُ الْأَرْضَ كُلَّهَا إِلَّا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، هَذِهِ طَيْبَةُ لَا يَدْخُلُهَا»

اما م شعبی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ تیزی سے تشریف لائے آپ ﷺ منبر پر چڑھے لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ اکٹھے ہوجا ؤ تو لوگ اکٹھے ہو گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو میں نے تمہیں کسی رغبت یا کسی پریشانی کے نازل ہونے کی وجہ سے نہیں بلایا ہے البتی تمیم داری جزیرے تک پہنچا دیا وہاں ایک جانور موجود تھا اس کا یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ مذکر ہے یا مونث کیونکہ اس کے جسم پر بال بہت زیادہ تھے تو میں نے دریافت کیا : تم کون ہے ، اس نے جوان دیا میں جساسہ ہو ان لوگؤں نے کہا : تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ تو اس نے کا میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی نہ ہی تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کروں گی البتہ وہاں ایک شخص ہے جو ا س بات کا محتاج ہے کہ وہ تمہیں کوئی اطلاع دے اور اس بات ا بھی ضرورت مند ہے کہ تم سےکسی چیز کے بارے میں معلوم کرے تو وہ اس عباد ت خانے تک آئے وہا ں ایک شخص تھا جو لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہو تھا ۔ اس نے دریافت کیا : تم کون لوگ ہو ۔ ان لوگوں نے جواب دیا ہم عرب ہیں ا س نے دریاگت کیا : کیا نبی اکرمﷺ مبعوث ہو گئے ہیں ۔ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس نے دریافت کیا کیا عربوں نے ان کی پیروی کر لی ہے۔ ان لوگوں نے جواب دیا جی ہاں اس نے کہا : یہ ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے ' پھر اس نے دریافت کیا : اہل فارس کا کیا حال ہے ان لوگوں نے بتایا وہ ابھی اس پر غالب نہیں آئے ، اس نے کہا : وہ عنقریب اہل فارس پر غالب آ جائیں گے پھر اس نے دریافت کیا : زغر کے چشمے کا کیا حال ہے ۔ ان لوگوں نے بتایا اس کے کنارے بھرے ہوئے ہیں ۔ اس نے دریافت کیا : بیسان کے نخلستان کا کیا حال ہے ان لوگوں نے بتایا : وہ پیداوار دے رہا ہے ' پھر وہ شخص اچھلا یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہو ا کہ وہ غالب آجائے گا (یعنی اپنے آپ کو چھڑا لے گ ا) ہم نے کہا : تم کون ہو ۔ اس نے کہا : میں دجال ہوں ' میں ساری روئے زمین کو روند دوں گا البتہ مکہ اور طیبہ (نہیں جا سکوں گا ) (راوی کہتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کے گروہ تمہیں خوشخبری ہے کہ یہ (مدینہ منورہ ) طیبہ ہے و ہ (دجال) اس میں داخل نہیں ہو گا ۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 6789

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6790

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَادِرُوا بِالْعَمَلِ سِتًّا: الدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، [ص:200] وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں "

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6790

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6791

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:201] إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُرَاتُ الْقَزَّازُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسيدٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ، وَنَحْنُ تَحْتَهَا إِذْ أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا تَتَذَاكَرُونَ؟ » قُلْنَا: نَذَكْرُ السَّاعَةَ، قَالَ: «فَإِنَّهَا لَا تَكُونُ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْهَا عَشَرُ آيَاتٍ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَالدُّخَانُ، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَالدَّابَّةُ، وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ مَوْضِعِ كَذَا»؟ قَالَ: أَحْسَبُهُ، قَالَ: «تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَنْزِلُ مَعَهُمْ حَيْثُ يَنْزِلُونَ» ، [ص:202] قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہی :ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ بالا خانہ میں موجود تھے ہم اس کے نیچےموجود تھے پھر اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے جھانک کر دریافت کیا : تم لوگ کس بارے میں بات چیت کر رہے ہو ۔ ہم نے عرض کی : ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نمودار نہیں ہوتیں سورج کا مغرب سے نکلنا ، دجال ، دھواں ۔، حضرت عیسی بن مریم ( کا نزول ) ، دابۃ الارض ، یاجوج وماجو کا نکلنا ، مشرق میں زمین میں دھنسنا ، مغرب میں زمین میں دھنسنا اور جزیرہ عرب میں زمین میں دھنسنا اور ایک آگ ہوگی ' جو فلاں مقام سے گی (راوی کہتےہیں : ) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : وہ ان لوگوں کے ساتھ آرام کرے گےجہاں وہ لوگ آرام کریں گے اور وہ ان کے ساتھ پڑاؤ کرے گی جہاں وہ لوگ پڑاؤ کریں گے ۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے تا ہم اس سند کے ساتھ مر فوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ← أَبَا الطُّفَيْلِ ← الفرات القزاز ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 6791

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6792

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَشَارَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ: «وَأَشَارَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ» أَرَادَ بِهِ الْبَحْرَيْنِ، لِأَنَّ الْبَحْرَيْنِ مَشْرِقُ الْمَدِينَةِ، وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ يَكُونُ مِنْ جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِهَا، لَا مِنْ خُرَاسَانَ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا أَنَّهُ مُوثَقٌ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، عَلَى مَا أَخْبَرَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، وَلَيْسَ بِخُرَاسَانَ بَحْرٌ وَلَا جَزِيرَةٌ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''دجال اس طرف سے نکلے گا نبی اکرم ﷺ نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی )'' (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) حضڑت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا : ۔۔ نبی اکرم ﷺ نے مشرق کی طرف اشارہ کیا '' اس کے ذریعے مراد بحرین ہے 'کیونکہ مدینہ منورہ کے مشرق میں ہے اور دجال کا ظہور بھی انہیں علاقوں میں سے ہو گا خراسان سے نہیں ہوگا اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے ۔ دجا ل سمندر کے کسی جزیرے میں بندھا ہوا ہے جیسا کی تمیم دار ی نے اس کے بارےمیں اطلاع دی ہے ' جبکہ خراسا ن میں نہ تو کوئی سمند ر ہے نہ ہی کوئی جزیرہ ہے۔

"يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ هَاهُنَا". وَأشَارَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← بلال بن أبي هريرة، ← الشَّعْبِيِّ، ← مُطَرِّفٍ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ،

Hadith 6792

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6793

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، [ص:204] أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى ابْنَ صَائِدٍ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَسَبَّهُ ابْنُ عُمَرَ، وَوَقَعَ فِيهِ، فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ، فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا، فَسَكَنَ حَتَّى عَادَ، فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ، فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا مَعَهُ، حَتَّى كَسَرَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ: مَا شَأْنُكَ وَشَأْنُهُ، مَا يُولِعُكَ بِهِ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رُؤْيَةُ حَفْصَةَ ابْنَ عُمَرَ، وَضَرْبَهُ [ص:205] حَيْثُ كَانَ يَضْرِبُ الْمَسِيحَ بِالْعَصَا، كَانَ ذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی کسی گلی میں ابن صائد کو دیکھا تو حضرت عبداللہ بن عمر نے اسے برا کہا اور اسے ڈانٹنے لگے تو وہ اتنا پھول گیا کہ اس نے راستہ بند کر دیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے عصاء کے ذریعے مارا تو اسے سکون آیا 'یہاں تک کہ وہ واپس اپنی اصل حالت میں آگیا پھر وہ پھو ل گیا 'یہاں تک کہ اس نے راستہ بند کر دیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود عصاپھر اسے مارا یہاں تک کہ اس پر ا سے توڑدیا تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تمہارے اور اس کا کیا واسطہ ہے یہ تمہیں کیوں غصہ دلادیتا ہےکیا تم نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوے نہیں سنا ۔ ''دجال اس غضب کی وجہ سے باہر آئے گا ' جو اسے لاحق ہو گا '' (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں : ) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے مارنے کو دیکھنا اس صورت میں تھا کہ حضرت عیسی ٰ ؑ بھی عصاء کے ذریعے ماریں گے یہ واقعہ نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں پیش آیا تھا ۔

أَيُّوبَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 6793

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6794

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَ فَ رَ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ مِنْ أُمِّيٍّ وَكَاتِبٍ - يَعْنِي الدَّجَّالَ -»

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''ا سکی دونوں آنکھوں کے درمیان ''ک ف ر'' لکھا ہو ا ہو گا ' جسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ وہ پڑھا لکھا ہو 'یا نہ ہو ۔'' (راوی کہتے ہیں : ) اس سےمراد دجال ہے (یعنی اس کی آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہو گا ۔)

أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6794

chevron_left Previous
1…5657585960
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr