Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6723

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِمَرْوَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنْهُمْ بَعْدَ إِذْ أَعْطَاهُمُوهُ وَلَكِنْ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، فَإِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا، يَسْتَفْتُونَهُمْ فَيُفْتُونَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَيُضِلُّونَ وَيَضِلُّونَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ''بے شک اللہ تعالی لوگوں سے علم کو یو جدا نہیں کرے گا کہ ان سے علم اٹھا لے ' جبکہ اس نے ان لوگوں کو علم عطا کیا ہو بلکہ وہ علماء ( کی روحوں) کو قبض کرنے کے ذریعے (علم کو اٹھائے گا ) ' یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا ' تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے وہ ان سے مسائل دریافت کریں گے تو وہ علم نہ ہونے کے باوجود جواب دیں گے وہ لوگ دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے اورخود بھی گمراہ ہوں گے۔''

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِمَرْوَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6723

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6724

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ الْيَشْكُرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مُوَائِمًا - أَوْ مُقَارِبًا - مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا فِي [ص:119] الْوِلْدَانِ وَالْقَدَرِ».

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے منبرپر یہ بات بیان کی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ''اس امت کا معاملہ ہمیشہ میانہ روہ کے ساتھ ( یہاں ایک لفظ کےبارے میں راوی کو شک ہے ) چلتا رہے گا ' جب تک وہ بچوں اور تقدیر کے بارے میں بحث کریں گے ۔'' (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہاں بچوں سے مراد مشرکین کے بچ ہیں (یعنی یہ بحث کہ آخرت میں ان کا انجا م کیا ہو گا )

عَلَى الْمِنْبَرِ:، ← ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ ← أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ الْيَشْكُرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6724

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6725

حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ وَفَاءِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَقْتَرِئُ، فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ، كِتَابُ اللَّهِ وَاحِدٌ، وَفِيكُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ، اقْرَؤُوهُ قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَهُ أَقْوَامٌ يُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ»

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم تلاوت کر رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمدوثنا ء اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے اللہ تعالی کی کتاب ایک ہی ہے تمہارے اندر سرخ ، سفید اور سیاہ لوگ موجود ہیں تم لوگ اس کی تلاوت کرتے رہو اس سے پہلے کہ وہ لوگ اس کو پڑھنا شروع کر دیں جو اس کی یوں قیمت لگائیں گے جس طرح حصے کی قیمت لگائی جاتی ہے۔

خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ نَقْتَرِئُ، ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← وفاء بن شريح ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6725

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6726

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ الْيَرْبُوعِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَأْتِيَنَّ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ: بِحَلَالٍ أَوْ حَرَامٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتےہیں ' نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ''عنقریب ایسا زمانہ آئے گا ' جب آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ اس نے کس طرح سے مال حاصل کیا ہے حلال طور پر یا حرام طور پر ۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ الْيَرْبُوعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6726

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6727

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ يَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ، وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ»

حضرت نعمان بن بشر رضی اللہ عنہ روایت کرتےہیں ' نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ''سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر ان کے بعد والے ہیں پھر ان کے بعد والے ہیں پھر وہ لوگ آئیں گے جن کی قسم گواہی سے پہلے ہوگی اور گواہ قسم سے پہلے ہو گی۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَاصِمٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6727

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6728

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي فِيكُمُ الْيَوْمَ، فَقَالَ: «أَحْسِنُوا إِلَى أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ، حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ عَلَى الْيَمِينِ لَا يُسْأَلُهَا، فَمَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِالْمَرْأَةِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ''جابیہ'' کے مقام پر ہمیں خطبہ دیتےہوئے ارشاد فرمایا : آج جس جگہ میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اسی طرح نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ ﷺ نےارشاد فرمایا : میرے ساتھیوں کےساتھ اچھا سلوک کرنا پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ ' پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ ' پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ ' پھر جھوٹ عام ہو جائے گا 'یہاں تک کہ آدمی ایسی قسم پر گواہی دے گا ' جس کے بارے میں اس سے مطالبہ نہیں کیا گیا ہو گا ' تو جو شخص جنت میں جانا چاہتا ہے وہ (مسلمانوں کی ) جماعت کو لازم پکڑے ' کیونکہ شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتاہے اور وہ دو آدمیوں سے زیادہ دور ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہر گز نہ رہے ' کیونکہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا اور جس شخص کو اچھائی اچھی لگتی ہو اور برائی بری لگتی ہو وہ مومن ہے۔

قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ مُقَامِي فِيكُمُ الْيَوْمَ، ← خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6728

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6729

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» - ثُمَّ اللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا - «ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ»

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ''میری امت میں سب سے بہتر وہ زمانہ ہے ' جس میں مجھے مبعوث کیا گیا پھر اس کے بعد والوں کا ہے (راوی کہتے ہیں : ) اللہ بہتر جانتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں کیا ( اور پھر فرمایا ) پھر ول لوگ آئیں گے کہ وہ گواہی دیں گے ' حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی اور وہ نذر مانیں گے ' لیکن اسے پورا نہیں کریں گے وہ خیانت کریں گے انہیں امین نہیں بنایا جائے گا اور ان کے درمیا ن موٹا پا عام ہو گا ۔''

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6729

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6730

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: [ص:125] حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو لَوْ بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ؟ »، قَالَ: وَذَاكَ مَا هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ذَاكَ إِذَا مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ، وَصَارُوا هَكَذَا» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: فَكَيْفَ بِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تَعْمَلُ بِمَا تَعْرِفُ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكِ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ''اے عبداللہ بن عمر و ! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ' جب تم بچے کھچے (یعنی کمینے) لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے انہو ں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہوں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب ان لوگوں کے عہداور ان کی امانتیں اختلاط کا شکار ہو جائیں گے اور وہ لوگ اس طرح ہو جائیں گ ۔نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے سے پیوست کر کے یہ بات ارشادفرمائی ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ! پھر مجھے کیا کرنا چاہئے ؟نبی اکر م ﷺ نے فرمایا : تم وہ کام کرو جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو چھوڑ د وجسے تم منکرقرار دو اور تم صرف اپنی ذات کے لئے کام کرو اور عام لوگوں کو ( ان کے حال پر) چھوڑدو۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← [ص:149] ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6730

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6731

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْيَهُودَ افْتَرَقَتْ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً - أَوِ اثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً - وَالنَّصَارَى عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، وَتَتَفَرَّقُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً»

''بے شک یہودی 71 فرقوں میں تقسیم ہوئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے اور عیسائی بھی اسی طرح ہوئے اور یہ قوم 73 فرقوں میں تقسیم ہوئی ۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6731

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6732

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ، مَرَّتْ بِبَعْضِ مِيَاهِ بَنِي عَامِرٍ طَرَقَتْهُمْ لَيْلًا، فَسَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ، فَقَالَتْ: أَيُّ مَاءٍ هَذَا؟ قَالُوا: مَاءُ الْحَوْأَبِ، قَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةً، قَالُوا: مَهْلًا يَرْحَمُكِ اللَّهُ، تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ، فَيُصْلِحُ اللَّهُ بِكِ، قَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةً، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ»

قیس بیان کرتے ہیں : جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ (عراق کی طرف ) آئیں تو نکا گزر بنو عامر کے پانی کے چشموں کے پاس سے ہوا انہوں نے رات کے وقت وہاں پڑاؤ کیا اور کتو ں کے بھونکنے کی آواز سنی تو انہوں نے دریافت کیا : یہ پانی کون سا ہے ۔ لوگوں نے بتایا : یہ آپ حواب ہے ' تو سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا خیال مجھے واپس چلے جانا چاہئے ۔ لوگوں نے کہا : ٹھہر جائیں اللہ تعالی آپ پر رحؐ کرے آپ آگ بڑھیں تا کہ مسلمان آپ کو دیکھ لیں اللہ تعالی آپ کی وجہ سے کوئی بہتر ی کیصورت پیدا کر دے گا ۔ سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا خیا ل ہے مجھے واپس چلے جانا چاہئے کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ''تم (یعنی ازواج مطہرات ) میں سے کسی ایک کا کیا عالم ہو گا 'جب اس پر ''خواب'' کے کتے بھونکیں گے۔''

«كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةً، إِنِّي ← مَهْلًا يَرْحَمُكِ اللَّهُ، تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ، فَيُصْلِحُ اللَّهُ بِكِ، ← مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةٌ، ← مَاءُ الْحَوْأَبِ ← أَيُّ مَاءٍ هَذَا؟ ← نُبَاحَ الْكِلَابِ، ← لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ، مَرَّتْ بِبَعْضِ مِيَاهِ بَنِي عَامِرٍ طَرَقَتْهُمْ لَيْلًا، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← وَكِيعٌ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6732

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6733

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ*، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ وَقَدْ وَضَعْتُ رِجْلَيَّ فِي الْغَرْزِ، وَأَنَا أُرِيدُ الْعِرَاقَ، لَا تَأْتِ أَهْلَ الْعِرَاقِ، فَإِنَّكَ إِنْ أَتَيْتَهُمْ أَصَابَكَ ذُبَابُ السَّيْفِ بِهَا، قَالَ عَلِيٌّ: «وَأَيْمُ اللَّهِ لَقَدْ قَالَهَا لِي رَسُولُ اللَّهِ» قَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا مُحَارِبًا يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمِثْلِ هَذَا

ابوا سوددؤلی بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے ی بات بیان کی جب میں اپنا پاؤں رکاب میں رکھا میں عراق جانا چاہتا تھا تو عبداللہ بن سلام نے مجھ سے کہا : آپ اہل عراق کے پاس نہ جائیں ' کیونکہ اگر آپ ان کے پاس جائیں گے تو وہاں تلوار کی دھار آپ کو بھی لگ سکتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہی بات نبی اکرمﷺ نے بھی مجھ سے ارشاد فرمائی تھی۔ ابو اسود کہتے ہیں : میں نے دل میں سوچا میں نے آج کے دن کی طر ح کا ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ' جو جنگ جو بھی ہو اور لوگوں کے ساتھ اس طرح بات چیت بھی کرتا ہو جس طرح یہ کرتے ہیں ( ان کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے)

لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ وَقَدْ وَضَعْتُ رِجْلَيَّ فِي الْغَرْزِ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← أبي حرب بن أبي الأسود الدؤلي ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6733

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6734

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ''قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو بڑے گروہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے ان کے درمیان ایک بڑی لڑائی ہو گی اور ان دونوں کو دعویٰ ایک ہی ہو گا

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6734

chevron_left Previous
1…515253…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr