صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6723
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِمَرْوَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنْهُمْ بَعْدَ إِذْ أَعْطَاهُمُوهُ وَلَكِنْ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، فَإِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا، يَسْتَفْتُونَهُمْ فَيُفْتُونَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَيُضِلُّونَ وَيَضِلُّونَ»
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ''بے شک اللہ تعالی لوگوں سے علم کو یو جدا نہیں کرے گا کہ ان سے علم اٹھا لے ' جبکہ اس نے ان لوگوں کو علم عطا کیا ہو بلکہ وہ علماء ( کی روحوں) کو قبض کرنے کے ذریعے (علم کو اٹھائے گا ) ' یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا ' تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے وہ ان سے مسائل دریافت کریں گے تو وہ علم نہ ہونے کے باوجود جواب دیں گے وہ لوگ دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے اورخود بھی گمراہ ہوں گے۔''
عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِمَرْوَ،
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6723
