Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6675

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَهُوَ فِي خِبَاءٍ مِنْ أَدَمٍ، فَجَلَسْتُ فِي فَنَاءِ الْخِبَاءِ، فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ، فَقَالَ: «ادْخُلْ يَا عَوْفُ»، فَقُلْتُ: كُلِّي؟ فَقَالَ: «كُلُّكَ»، فَدَخَلْتُ فَوَافَقْتُهُ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا، ثُمَّ، قَالَ: «يَا عَوْفُ، احْفَظْ خِلَالًا سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: إِحْدَاهُنَّ مَوْتِي»، قَالَ عَوْفٌ: فَوَجَمْتُ عِنْدَهَا وَجْمَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ: إِحْدَى»، فَقُلْتُ: إِحْدَى، ثُمَّ قَالَ: «فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ يَظْهَرُ فِيكُمْ دَاءٌ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ فِيكُمْ، حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِنْكُمْ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ حَتَّى لَا يَبْقَى بَيْتٌ مُؤْمِنٌ إِلَّا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ صُلْحٌ يَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ، فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ، فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةٍ تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا»

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ چمڑے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھے ۔ میں اس کنارے پر بیٹھ گیا ۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا ۔ آپ نے فرمایا : اے عوف اندر آجاؤ ۔ میں نے عرض کی: سارے کا سارا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سارے کا سارا ' میں اندر داخل ہو ا تو میں نے آپ کو ٹھہر ٹھہر کو وضو کرتے ہوئے پایا پھر آپ نے فرمایا : اے عوف چھ چیزوں کے بارے میں یاد رکھنا کہ جو قیامت سے پہلے ہو گی ۔ ان میں سے ایک میری موت ہے حضرت عوف بیان کرتے ہیں : یہ سن کر مجھے جھٹکا سا لگا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کہو : ایک میں نے کہا : ایک پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیت المقدس فتح ہو گا پھر تمہارے درمیان ایک بیماری پھوٹ پڑے گی تمہارے درمیان مال زیادہ ہو جائے گا یہاں تک کہ تم میں سے کسی ایک شخص ایک سو درہم دئیے جائیں گے' تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر تمہارے درمیان ایسا فتنہ نمودار ہو گا کہ کسی بھی مومن کا گھر باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ فتنہ اس میں داخل ہو جائے گا پھر تمہارے اور بنو اصفر ( یعنی اہل روم ) کے درمیان صلح ہو گی تو وہ تمہارے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے پھر وہ 80 جھنڈوں کےنیچے اکٹھے ہو کر تمہاری طرف (جنگ کرنے کے لئے ) چل پڑیں گے' جن کے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6675

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6676

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ [ص:68] يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ، فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا» [ص:69] قَالَ حَرْمَلَةُ: «يَعْنِي بِالْقِيرَاطِ: أَنَّ قِبْطَ مِصْرَ يُسَمُّونَ أَعْيَادَهُمْ، وَكُلَّ مَجْمَعٍ لَهُمُ الْقِيرَاطَ، يَقُولُونَ: نَشْهَدُ الْقِيرَاطَ

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ''عنقریب تم ایسی سر زمین کو فتح کرو گے جہاں قیراط کا ذکر کر لیا جائے گا تو تم لوگ وہاں کے رہنے والوں کے ساتھ بھلائی کی تلقین قبول کرو' کیونکہ وہ ذمی بھی ہوں گے ' اور ان کے ساتھ رشتہ داری کا تعلق بھی ہو گا ''۔ حرملہ نامی راوی کہتے ہیں : قیراط سے مراد یہ ہے : مصر کے رہنے والے قبطی اپنی اینٹ کے لئے یہ لفظ استعمال کرتے تھے اور اپنے ہر اجتماع کے لئے قیراط استعمال کرتے تھے وہ یہ کہتے تھے ہم لوگ قیراط میں شریک ہوئے۔

أَبَا ذَرٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ [ص:253] يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6676

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6677

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، وَعَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ، يَقُولَانِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَقْدِمُونَ عَلَى قَوْمٍ جَعْدٍ رُءُوسُهُمْ، فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ، فَإِنَّهُ قُوَّةٌ لَكُمْ وَبَلَاغٌ إِلَى عَدُوِّكُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ» - يَعْنِي قِبْطَ مِصْرَ

حضرت ابو عبدالرحمن حبلہ اور حضرت عمر و بن حریث بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''عقریب تم ایسی قو م کے پاس جاؤ گے' ج کے باپ گھنگر یاے ہوں گے ' تو تم ان کے بارے میں تلقین کو قبل کر و کیونکہ وہ تمہارے لئے قوت ہوں گے ' اور اللہ تعالی کے اذن کے تحت تمہیں دشمن تک پہنچائیں گے''۔ (راوی کہتے ہیں : ) اس سے مراد مصر کے قبطی ہیں

أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، وَعَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ، يَقُولَانِ: ← أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6677

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6678

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَصَدَّقُوا، فَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ يَوْمٌ يَمُرُّ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ، فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا، يَقُولُ: فَهَلَّا قَبْلَ الْيَوْمِ، فَأَمَّا الْيَوْمُ، فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا»

حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''تم لوگ صدقہ کرو عنقریب تم پر ایسا دن آئے گا جب کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر جائے گا تو اسے کوئی ایساشخص نہیں ملے گا 'جو اس سے صدقے کو قبول کر لے وہ شخص کہے گا تم آج سے پہلے کیوں نہیں آئے ۔ آج تو مجھے اس صدقے کی کوئی ضرورت نہیں ہے''۔

حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، ← معبد بن خالد، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6678

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6679

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، [ص:72] عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ*، قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِي لَا آتِيهِ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ بُعِثَ، فَكَرِهْتُهُ أَشَدَّ مَا كَرِهْتُ شَيْئًا قَطُّ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَقْصَى الْأَرْضِ مِمَّا يَلِيَ الرُّومَ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا اتَّبَعْتُهُ، فَأَقْبَلْتُ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَ لِي النَّاسُ، وَقَالُوا: جَاءَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، جَاءَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي: «يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ»، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ لِي دِينًا، قَالَ: «أَنَا أَعْلَمُ بِدِينِكَ مِنْكَ - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - أَلَسْتَ تَرْأَسُ قَوْمَكَ»؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «أَلَسْتَ تَأْكُلُ الْمِرْبَاعَ»؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لَكَ فِي دِينِكَ»، قَالَ: فَتَضَعْضَعْتُ لِذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ فَإِنِّي قَدْ أَظُنُّ - أَوْ قَدْ أَرَى أَوْ كَمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُسْلِمَ خَصَاصَةٌ تَرَاهَا مِنْ حَوْلِي [فَإِنَّكَ تَرَى النَّاسَ عَلَينَا إِلْباً واحِداً»، قَالَ: هَلْ أَتَيْتَ الحِيرَة؟، قُلْتُ: لَمْ آتِهَا وَقَدْ عَلِمْتُ مَكَانَهَا، قَالَ] * وَتُوشِكُ الظَّعِينَةُ أَنْ تَرْحَلَ مِنَ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ، وَلَتُفْتَحَنَّ عَلَيْنَا كُنُوزُ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ [قُلْتُ: كِسْرَى بْنُ هُرْمُز؟ قَالَ: كِسْرَى بْنُ هُرْمُز - مَرَّتَينِ -] *، وَلَيَفِيضَنَّ الْمَالُ - أَوْ لَيَفِيضُ - حَتَّى يُهِمَّ الرَّجُلَ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ مَالَهُ صَدَقَةً»، قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: فَقَدْ رَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْحَلُ مِنَ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ [ص:73] جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ، وَكُنْتُ فِي أَوَّلِ خَيْلٍ أَغَارَتْ عَلَى الْمَدَائِنِ عَلَى كُنُوزِ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَتَجِيئَنَّ الثَّالِثَةُ إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي

ابو عبیدہ بن حذیفہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں دریافت کر رہا تھا ۔ وہ میر ے پہلو میں موجود تھے ۔میں نے ان کے پاس جا کر ان سے دریافت نہیں کیا پھر میں ان کے پاس گیا ۔ ان سے دریافت کیا : تو انہوں نے بتایا جب نبی اکرم ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو میں آپ کو سب سے زیادہ نا پسند کرتا تھا پھر میں روانہ ہوا یہاں تک کہ میں زمین کے دوردروازے کے حصے میں چلا گیا جو اہل روم (کے علاقے) کے قریب تھا ۔ میں نے سوچا اگر میں ان صاحب کے پاس جاؤں تو اگر تو یہ جھوٹے ہوئے تو یہ بات مجھ سے مخفی نہیں رہے گی اور اگر یہ سچے ہوئے تو میں ان کی پیروی کر لوں گا تو میں آگیا ۔ جب میں مدینہ منورہ آیا تو لوگ میری طرف جھانک کر دیکھنے لگے ۔ انہوں نے کہا : عدی بن حاتم آئے ہیں ۔ عد بن حاتم آئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : میں تمہارے دین کے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔ یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ ارشا د فرمائی پھر آپ نے فرمایا : کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو ۔ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تم مال غنیمت میں سے چوتھائی حصہ نہیں کھاتے ہو؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو تمہارے دین میں تو یہ تمہارے لئے جائز نہیں ہے۔حضرت عدی رضی اللہ عنہ کہتےہیں اس بات پر میں شرمندہ ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عدی بن حاتم تم اسلام قبول کر لو توم سلامت رہو گے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرا یہ گمان ہے( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) میں سمجھتا ہوں یا جیسا بھی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس لئے اسلام قبول نہیں کر رہے کہ تم میرے اردگرد ایسے لوگوں کو دیکھ رہے ہو جو ضرورت مند ہیں ۔ عنقریب کوئی عورت حبر ہ سے کسی کی پناہ لئے بغیر سوار ہو کر جائے گی یہاں تک کہ بیت اللہ کا طواف کرے گی اور ہمارے لئے کسریٰ بن ہر مز کے خزانے کھول دئیے جائیں گے اورمال عام ہو جائے گا ' یہاں تک کہ ایک شخص یہ آرزو کرے گا کہ کوئی شخص اس سے اس کا مال صدقہ کے طور پر قبول کر لے۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ حیرہ سے کسی کی پناہ کے بغیر سوار ہوئی ' یہاں تک کہ اس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور میں اس پہلے لشکر میں شامل تھا جس نے مدائن میں کسری ٰ بن ہرمز کے خزانوں پر حملہ کیا تھا اور میں اللہ کے نام کی قسم آٹھا کر کہتا ہوں کہ وہ تیسری بات بھی ضرور درست ثابت ہوگی جو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمائی تھی۔

أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6679

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6680

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:74] مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكْثُرَ فِيكُمُ الْأَمْوَالُ وَتَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ، وَحَتَّى يَعْرِضَهُ، وَيَقُولُ الَّذِي يُعْرَضُ عَلَيْهِ: لَا أَرَبَ لِي فِيهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی' جب تک تمہارے درمیان مال کی کثرت نہیں ہو گی۔ وہ عام نہیں ہو گا یہاں تک کہ ایک مال کا مالک شخص اس بات کا خواہش مند ہو گا کہ کوئی شخص اس سے اس کا صدقہ قبول کر لے یہاں تک کہ وہ کسی کے سامنے پیش کر ے گا تو جس کے سامنے پیش کیا گیا ہو گا وہ یہ کہے گا : اب مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے۔

الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6680

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6681

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ [ص:75] حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ، حَتَّى يُخْرِجَ الرَّجُلُ زَكَاةَ مَالِهِ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ''قیامت اس وقت تک قاہم نہیں ہو گی ' جب تک مال کی کثرت اور زیادتی نہیں ہو گی' یہاں تک کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا تو اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا ' جو اس سے قبول کر لے''۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6681

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6682

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ، قُلْنَا: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدْيٌ، قُلْنَا: مِنْ أَيٍّ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الرُّومِ؟ ثُمَّ أُسْكِتَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا، لَا يَعُدُّهُ عَدًّا»

ابو نضرہ بیان کرتے ہیں : ہم حضرت جابر بن عبداللہ کے پاس موجود تھے ۔ انہوں نے فرمایا: عنقریب عراق کی یہ صورت حال ہو گی کہ ان کی طرف (اناج کا) ایک قفیز یا ایک درہم بھی نہیں آئےگا ۔ ہم نے دریافت کیا : ایسا کس وجہ سے ہو گا انہوں نے فرمایا : یہ عجمیوں کی طرف سے ہو گا وہ اسے نہیں آنے دیں گے پھر انہوں نے فرمایا : عنقریب اہل شام کی یہ صورت حال ہو کی ان کی طرف ایک دینار اور ایک مد بھی نہیں آئے گا ۔ ہم نے دریافت کیا : یہ کس کی طرف سے ہوگا ۔ انہوں نے جواب دیا یہ اہل روم کی طر ف سے ہو گا ۔پھر تھوڑی دیر خاموش رہے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ''میری امت کے آخر میں ایسا خلیفہ ہو گا ' گنتی کے بغیر مٹھیاں بھر بھر کے مال دے گا ۔'

كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6682

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6683

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، [ص:77] سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جَابِرُ، أَنَكَحْتَ»؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا؟ »، قُلْتُ: أَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ؟ قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے فرمایا :ا ے جا بر کیا تم نے شاد ی کر لی ہے ۔ میں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا : کیا تم نے قالین استعمال کیا ۔ میں نے عرض کی : ہمارے پاس قالین کہاں سے آئے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عنقریب آجائیں گے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، [ص:77] ← سُفْيَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسَرَانِيُّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6683

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6684

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ لَهُ بِهَا - يَعْنِي - عَرِيفٌ، نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا عَرِيفٌ [ص:78] نَزَلَ الصُّفَّةَ، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ نَزَلَ الصُّفَّةَ، قَالَ: فَرَافَقْتُ رَجُلًا فَكَانَ يُجْرَى عَلَيْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الصَّلَاةِ، فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَحْرَقَ التَّمْرُ بُطُونَنَا، قَالَ: فَمَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مِنْبَرِهِ، فَصَعِدَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: حَتَّى مَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرُ - وَالْبَرِيرُ ثَمَرُ الْأَرَاكِ - فَقَدِمْنَا عَلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ وَعُظْمُ طَعَامِهِمُ التَّمْرُ، فَوَاسَوْنَا فِيهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَجِدُ لَكُمُ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ، لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ، وَلَكِنْ لَعَلَّكُمْ تُدْرِكُونَ زَمَانًا - أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ - يَلْبَسُونَ فِيهِ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، وَيُغْدَى عَلَيْهِمْ، وَيُرَاحُ بِالْجِفَانِ «

حضرت طلحہ بن عمر و رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے جب کوئی شخص مدینہ منورہ آتا ۔ اس کا وہاں کوئی دوست ہوتا تو وہ اپنے دوست کے ہاں پڑاؤ کرتا تھا اور اگر اس کا کوئی دوست نہ ہوتا تو وہ صفا کے چبوترے پر پڑاؤ کرتا ۔ راوی کہتے ہیں : میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے صفاء کے چبوترے ہر پڑاؤ کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی طرف سے روزانہ کھجوروں کا ایک مد ہماری طرف آیا کرتا تھا ۔ ایک دن نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیرا تم ہم نے اس ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! کھجوروں نے ہمارے پیٹو ں کو جلا دیا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ منبر کی طرف تشریف لے گئے آپ اس پر چڑھے آپ نے اللہ تعالی کی حمدو ثنا ء بیان کی ۔ پھر آپ نے اپنی قوم کی طرف سے پیش آنے والی (مشکلات ) کا ذکر کیا' یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: میرے اور میرے ساتھی پر دس سے زیادہ دن ایسے بھی گزرے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے صرف بریر ہوتا تھا ( راوی کہتے ہیں: ) بریر سے مراد پیلو کا پھل ہے۔ (نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے تو ان کی زیادہ تر خوراک کھجور ہوتی تھی ۔ انہوں نے اس بارے میں ہمارا ساتھ دیا۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھے تمہارے لئے روٹی اور گوشت ملے تو میں وہ بھ کھلاؤں گا اور عنقریب تمہیں ایک ایسا زمانہ ملے گا ۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم میں سے جو شخص اس زمانے تک پہنچے گا تو لوگ اس میں کعبہ کے پردوں جیسا (عمدہ لباس ) پہنیں گے' اور صبح شام ان کے پاس پیالوں میں (مختلف قسم کی کھانے کی چیزیں ) آئیں گی۔

طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6684

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6685

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، [ص:79] قَالَ: أَخْبَرَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا، وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى لَا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِلَى مَسْجِدِكَ، كَيْفَ تَصْنَعُ»؟:، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «تَعَفَّفْ»، قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ شَدِيدٌ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: » اصْبِرْ، يَا أَبَا ذَرٍّ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ - مَوْضِعٌ بِالْمَدِينَةِ - مِنَ الدِّمَاءِ، كَيْفَ تَصْنَعُ «؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: » اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ، وَأَغْلِقْ عَلَيْكَ بَابَكَ «، قَالَ: » أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أُتْرَكْ «؟ قَالَ: » فَائْتِ مَنْ أَنْتَ مِنْهُ، فَكُنْ فِيهِمْ «، قَالَ: فَآخُذُ سِلَاحِي؟ قَالَ: » إِذًا تُشَارِكُهُمْ فِيهِ، وَلَكِنْ إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَرُوعَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ «

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ گدھے پر سوارآئے ۔ آپ نے اپنے پیچھے مجھے بٹا لیا پھر آپ نے فرمایا: اے ابوذر تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں کو اتنی شدید بھوک لاحق ہو جائے کہ تم اس بات کی بھی استطاعت نہ رکھو کہ اپنے بستر سے اٹھ کر مسجد تک جا سکو تو پھر تم کیا کر و گے۔ حضرت ابوذر نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بچ کے رہنا پھر آپ نے فرمایا : اے ابوذر تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں کو ایسی زبر دست موت لاحق ہو یہاں تک کہ گھر بندے کے ساتھ ہو ' تو پھر تم کیا کرو گت حضرت ابوذر نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم صبر سے کام لینا ( پھر آپ نے فرمایا : ) اے ابوذر تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں ' یہاں تک کہ احجارزیت کی جگہ (خون سے ) بھر جائے ۔ (راوی کہتے ہیں ) یہ مدینہ منورہ میں ایک جگہ ہے تو پھر تم کیا کرو گے ۔ حضرت ابوذر نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے گھر میں بیٹھے رہنا اور اپنا دروازہ بند کر لینا ۔ حضرت ابو ذر ٖغفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ کی کیا رائے ہے۔ اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان کے پاس چلے جانا جن کے ساتھ تمہارا تعلق ہے ( یعنی اپنے قبیلے چلے جانا) اور ان کے درمیان رہنا حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا میں اپنا ہتھیار سنبھال لوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس صورت میں تم اس بارے میں ان لوگوں کے حصے دار بن جاؤ گے اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں خوف زدہ کر دے گی تو تم اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر رکھ لینا تو وہ شخص تمہارے اور اپنے گناہ کا وبال اٹھائے گا ( جو تمہیں قتل کر ے گا )

«يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ ← رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ حِمَارًا، وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ، ثُمَّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6685

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6686

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:80] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ وَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ، فَشَكَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي طَالِبٍ، فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: «يَا عَمِّ، إِنَّمَا أَرَدْتُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ»، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»، فَقَامُوا فَقَالُوا: أَجْعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا؟ قَالَ: وَنَزَلَتْ: {ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ} [ص: 1] إِلَى قَوْلِهِ {إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ} [ص: 5]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : جناب ابو طالب بیمار ہو گئے قریش ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرم ﷺ بھی ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس تشریف لائے ۔ ان کے سرہانے کے قریب ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی ۔ابو جہل اٹھا اور وہاں بیٹھ گیا ان لوگوں نے جناب ابو طالب کو نبی اکرمﷺ کی شکایت کی اور بولے آپ کے بھتیجے ! ہمارے مبعودوں پر تنقید کرتے ہیں ۔ جناب ابو طالب نے کہا : اے میرے بھتیجے کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم کے افراد آ پ کی شکایتیں لگا رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اے چا چا جان ! میں انہیں ایک کلمے پر اکٹھا کرنا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے عرب ان کے ماتحت ہوں گے ۔ عجمی انہیں جزیہ ادا کریں گے ۔انہوں نے دریافت کیا : وہ کو سا کلمہ ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لا الہ اللہ تو وہ لوگ کھڑے ہو گئے ۔ انہوں نے کہا : کیا تم مختلف معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنانا چاہتے ہو ۔ راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ''ص' قرآن کی قسم ہے' جو نصیحت کرنے والا ہے۔'' یہ آیت یہاں تک ہے''بے شک یہ بہت حیران کن چیز ہے۔''

أَتَاهُ النَّبِيُّ يَعُودُهُ ← مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6686

chevron_left Previous
1…474849…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr