صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6675
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَهُوَ فِي خِبَاءٍ مِنْ أَدَمٍ، فَجَلَسْتُ فِي فَنَاءِ الْخِبَاءِ، فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ، فَقَالَ: «ادْخُلْ يَا عَوْفُ»، فَقُلْتُ: كُلِّي؟ فَقَالَ: «كُلُّكَ»، فَدَخَلْتُ فَوَافَقْتُهُ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا، ثُمَّ، قَالَ: «يَا عَوْفُ، احْفَظْ خِلَالًا سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: إِحْدَاهُنَّ مَوْتِي»، قَالَ عَوْفٌ: فَوَجَمْتُ عِنْدَهَا وَجْمَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ: إِحْدَى»، فَقُلْتُ: إِحْدَى، ثُمَّ قَالَ: «فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ يَظْهَرُ فِيكُمْ دَاءٌ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ فِيكُمْ، حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِنْكُمْ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ حَتَّى لَا يَبْقَى بَيْتٌ مُؤْمِنٌ إِلَّا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ صُلْحٌ يَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ، فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ، فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةٍ تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا»
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ چمڑے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھے ۔ میں اس کنارے پر بیٹھ گیا ۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا ۔ آپ نے فرمایا : اے عوف اندر آجاؤ ۔ میں نے عرض کی: سارے کا سارا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سارے کا سارا ' میں اندر داخل ہو ا تو میں نے آپ کو ٹھہر ٹھہر کو وضو کرتے ہوئے پایا پھر آپ نے فرمایا : اے عوف چھ چیزوں کے بارے میں یاد رکھنا کہ جو قیامت سے پہلے ہو گی ۔ ان میں سے ایک میری موت ہے حضرت عوف بیان کرتے ہیں : یہ سن کر مجھے جھٹکا سا لگا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کہو : ایک میں نے کہا : ایک پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیت المقدس فتح ہو گا پھر تمہارے درمیان ایک بیماری پھوٹ پڑے گی تمہارے درمیان مال زیادہ ہو جائے گا یہاں تک کہ تم میں سے کسی ایک شخص ایک سو درہم دئیے جائیں گے' تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر تمہارے درمیان ایسا فتنہ نمودار ہو گا کہ کسی بھی مومن کا گھر باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ فتنہ اس میں داخل ہو جائے گا پھر تمہارے اور بنو اصفر ( یعنی اہل روم ) کے درمیان صلح ہو گی تو وہ تمہارے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے پھر وہ 80 جھنڈوں کےنیچے اکٹھے ہو کر تمہاری طرف (جنگ کرنے کے لئے ) چل پڑیں گے' جن کے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔
عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ،
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6675
