Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6663

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا، يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ عَلَيْهِ إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً». ، قَالَ: ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَصْمَتَنِيهَا النَّاسُ، فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا، قَالَ؟ [ص:46] قَالَ: «كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: '' یہ دین اس وقت تک غالب اور مظبوط رہے گا او ر اس کے دشمنوں کے خلاف اس کی مدد کی جاتی رہے گی ' جب تک بارہ خلفاء رہیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک بات ارشاد فرمائی جو لوگوں کی وجہ سے میں سن نہیں سکا تو میں نے اپنے والد سے دریافت کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے کیا فرمایا ہے۔ انہوں نے بتایا ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: ) ان سب کا تعلق قریش سے ہو گا ۔''

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6663

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6664

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ هَلَكُوا، فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ، وَإِنْ بَقُوا بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ سَبْعِينَ سَنَةً» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ شَنَّعَ بِهِ أَهْلُ الْبِدَعِ عَلَى أَئِمَّتِنَا، وَزَعَمُوا أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَشَوِيَّةٌ، يَرَوْنَ مَا يَدْفَعُهُ الْعِيَانُ وَالْحِسُّ وَيُصَحِّحُونَهُ، فَإِنْ سُئِلُوا عَنْ وَصْفِ ذَلِكَ قَالُوا: نُؤْمِنُ بِهِ وَلَا نُفَسِّرُهُ، [ص:48] وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ مِمَّا رُمِينَا بِهِ فِي شَيْءٍ بَلْ نَقُولُ: إِنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَاطَبَ أُمَّتَهُ قَطُّ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْقَلْ عَنْهُ، وَلَا فِي سُنَنِهِ شَيْءٌ لَا يُعْلَمُ مَعْنَاهُ، وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّنَنَ إِذَا صَحْتَ يَجِبُ أَنْ تُرْوَى وَيُؤْمَنَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ تُفَسَّرَ وَيُعْقَلَ مَعْنَاهَا فَقَدْ قَدَحَ فِي الرِّسَالَةِ، اللَّهُمَّ إِلَّا أَنْ تَكُونَ السُّنَنُ مِنَ الْأَخْبَارِ الَّتِي فِيهَا صِفَاتُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا الَّتِي لَا يَقَعُ فِيهَا التَّكْيِيفُ بَلْ عَلَى النَّاسِ الْإِيمَانُ بِهَا. وَمَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ عِنْدَنَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ اسْمَ الشَّيْءِ بِالْكُلِّيَةِ عَلَى بَعْضِ أَجْزَائِهِ وَتُطْلِقُ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ النِّهَايَةِ عَلَى بِدَايِتِهَا، وَاسْمَ الْبِدَايَةِ عَلَى نِهَايَتِهَا. أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ: «تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ زَوَالَ الْأَمْرِ عَنْ بَنِي هَاشِمٍ إِلَى بَنِي أُمَيَّةَ لِأَنَّ الْحُكْمَيْنِ كَانَ فِي آخِرِ سَنَةِ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ، فَلَمَّا تَلَعْثَمَ الْأَمْرُ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَشَارَكَهُمْ فِيهِ بَنُو أُمَيَّةَ أَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ نِهَايَةِ أَمْرِهِمْ عَلَى بِدَايَتِهِ، وَقَدْ ذَكَرْنَا اسْتِخْلَافَهُمْ وَاحِدًا وَاحِدًا إِلَى أَنْ مَاتَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَنَةَ إِحْدَى وَمِائَةٍ، وَبَايَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَتُوُفِّيَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِبَلْقَاءَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ شَعْبَانَ [ص:49] سَنَةَ خَمْسٍ وَمِائَةٍ، وَبَايَعَ النَّاسُ هِشَامَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَاهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَوَلَّى هِشَامٌ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيّ /63َ الْعِرَاقَ، وَعَزَلَ عُمَرَ بْنَ هُبَيْرَةَ فِي أَوَّلِ سَنَةِ سِتٍّ وَمِائَةٍ، وَظَهَرَتِ الدُّعَاةُ بِخُرَاسَانَ لِبَنِي الْعَبَّاسِ، وَبَايَعُوا سُلَيْمَانَ بْنَ كَثِيرٍ الْخُزَاعِيَّ الدَّاعِيَ إِلَى بَنِي هَاشِمٍ، فَخَرَجَ فِي سَنَةِ سِتٍّ وَمِائَةٍ إِلَى مَكَّةَ وَبَايَعَهُ النَّاسُ لِبَنِي هَاشِمٍ، فَكَانَ ذَلِكَ تَلَعْثُمَ أُمُورِ بَنِي أُمَيَّةَ حَيْثُ شَارَكَهُمْ فِيهِ بَنُو هَاشِمٍ، فَأَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ نِهَايَةِ أَمْرِهِمْ عَلَى بِدَايَتِهِ، وَقَالَ: » وَإِنْ بَقُوا بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ سَبْعِينَ سَنَةً «يُرِيدُ عَلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''35 سال تک اسلام کی چکی گھومتی رہے گی ۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) 36 سال تک ' اگر وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے تو اس طریقے کے مطابق ہوں گے جس طریقے سے ہلاکت کا شکار ہوئے اور اگر وہ باقی رہ گئے تو ان کا دین ستر سال تک ان کے لئے باقی رہے گا ''۔ (اما م حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ وہ روایت ہے جس کی وجہ سے اہل بدعت ہمارے آئمہ پر تنقید کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ محدثین خشویہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ ایسی چیز کو روایت کرتے ہیں جو غور و فکر اور محسوسات کے حوالے سے غلط ہوتی ہے اور محدثین اسے صحیح بھی قرار دیدیتے ہیں پھر ان سے اگر اس چیز کی صفت کے بارے میں دریافت کیا جائے تو آگے سے یہ کہہ دیتے ہیں : ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ہم اس کی وضاحت نہیں کرتے ۔ (امام ابن حبان کہتے ہیں ) اللہ تعالی کے فضل و کرم کے تحت ہم ایسے نہیں اور ویسے بھی نہیں ہیں ' جس طرح کا ہم پر الزام عائد کیا گیا ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو جن بھی امور کے بارے میں مخاطب کیا ہے ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی سمجھ نہ آسکے اور آپ کی سنتوں میں کوئی ایسی سنت نہیں ہے جس کے مفہوم کا علم نہ ہو سکے جو شخص یہ گما ن کرتا ہے کہ جب سنت مستند طور پر منقول ہو تو یہ بات لازم ہے کہ اسے روایت کر دیا جائے اور اس پر ایمان رکھا جائے ۔ با وجود یکہ اس کی وضاحت نہ کی جائے یا اس مفہوم کی سمجھ نہ آئے تو ایسا شخص رسالت میں نکتہ چینی کرتا ہے ۔ اے اللہ (تیری ہی مدد حاصل کی جا سکتی ہے) ویسے احادیث میں کچھ روایات وہ ہیں جن میں اللہ تعالی کی صفات کا ذکر ہے جن کی کیفیت کو بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن لوگوں پر ان صفات پر ایمان رکھنا لازم ہے۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے ' جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی چیز کے کسی ایک جزء کے لئے اس کا مکمل نام استعامل کر لیتے ہیں ۔ اس طرح عرب اپنے محاورے میں اختتام کا لفظ آغاز کے لئے استعمال کر لیتے ہیں ۔ آغاز کا لفظ اختتام کے لئے استعامل کرلیتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ''اسلام کی چکی 35 برس تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) 36 برس تک گھومتی رہے گی اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ حکومت بنو ہاشم سے بنو امیہ کی طرف منتقل ہو جائے گی کیو نکہ 36 ہجری کے آخر میں حکومت ان دونوں کی طرف چلی گئی تھی تو بنو ہاشم کے لئے یہ معاملہ خراب ہوا اور حکومت کےبارے میں بنو امیہ ان کے حصہ دار بن گئے تو نبی اکرم ﷺ نے حکومت کے اختتام کے لئے آغاز کا لفظ استعمال کیا ۔ اسی طرح ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں کہ اس طرح ان میں سے ہر ایک خلیفہ بنا ' یہاں تک کہ ایک سو ایک ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے یزید بن عبدالملک کی بعیت کر لی ۔ یزید بن عبدالملک کا انتقال شام کی سر زمین بلقاء کے مقام ہر جمعہ کے دن ہوا جو 25 شعبان ایک سو پانچ ہجری کی بات ہے تو لوگوں نے ہشام بن عبدالملک کے ہا تھ پر بیعت کر لی جو اس کا بھائی تھا یہ اسی دن ہوا پھر ہشام نےحالد بن عبداللہ قسری کو عراق کا امیر مقرر کیا ۔ اس نےعمر بن ہبیر کو ایک سو چھ ہجری کے آغاز میں معزول کر دیا تو خراسان میں بنو عباس کے داعی نمودار ہوئے ۔ انہوں نے سیلمان بن کثیر خزاعی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جو بنو ہاسم کی طرف دعوت دینے والا تھا ۔ اس نے ایک شو چھ ہجری میں مکہ کی طرف خروج کیا تو لوگوں نے بنو ہاشم کے لئے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ اس طرح بنو امیہ کی حکومت خرابی کا شکار ہو گئی اور بنو ہاشم پھر اس میں ان کےحصے دار بن گئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی حکومت کے اختتام کے لئے لفظ آغاز استعمال کیا ۔ نبی اکرم ﷺ کے یہ فرمایا اگر وہ باقی رہے تو ان کا دین ستر سال تک ان کے لئے باقی رہے گا ۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ جس صورت حال پر وہ اس سے پہلے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6664

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6665

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا»، قَالَتْ: فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيُّهُنَّ أَطْوَلُ، قَالَتْ: فَكَانَ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ، لِأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّقُ.

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ''میرے بعد مجھ سے' سب سے پہلے تم میں سے وہ خاتون آکر ملے گی' جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں تو تمام ازواج مطہرات نے اپنے ہاتھوں کو ناپا کہ کس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا تھا ' کیونکہ وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے کام کرتی تھیں اور (اس کی آمدن کو ) صدقہ کیا کرتی تھیں ۔

عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6665

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6666

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:51] سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالٌ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مَنْ صَاحَبَهُمْ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا : لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئےگا جس میں بہت سے لوگ جنگ میں شریک ہونے کے لئے آئیں گے تو یہ دریافت کیا جائے گا " کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے ' جو نبی اکرم ﷺ کا صحابی ہو تو جواب دیا : جائے گا جی ہاں تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہو گی پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں بہت سے لوگ جنگ کرنے کے لئے جائیں گے' تو دریافت کیا جائے گا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے' جو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کے ساتھ رہا ہو تو جواب دیا : جائے گا تو ان لوگوں کو بھی فتح نصیب ہو گی پھر ان لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا بہت سے لوگ جنگ میں حصہ لینے کے لئے جائیں گے تو دریافت کیا جائے گا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے جو صحابہ کے شاگردوں کے ساتھ رہاہو تو ان لوگوں کو بھی فتح نصیب ہو گی ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← [ص:180] سُفْيَانُ: ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6666

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6667

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَأَطْعَمَتْهُ، ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي، عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ - يَشُكُّ أَيُّهُمَا -»، قَالَتْ: [ص:52] فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي، عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ» كَمَا، قَالَ فِي الْأَوَّلِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ»، فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے جا یا کرتے تھے وہ آپ کی خدمت میں کھانا پیش کرتی تھیں ۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک دن ان کے ہاں تشریف لے گئے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا پھر نبی اکرم ﷺ کے سرس ے جوئیں نکالنے لگی اس دوران نبی اکرم ﷺ سو گئے ۔ جب آپ بیدا ر ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے ۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا جو اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے کے لئے جائیں گے ' اور وہ اس سمندر کی پشت پو یوں سوار ہوں گے جس طرح بادشاہ تخت پر بیٹھتے ہیں ۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ اللہ تعالی ٰ سے دعا کیجئے وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے دعا کر دی پھر آپ نے اپنا سر رکھا اور سو گئے پھر جب آپ بیدار ہوئے توآپ ہنس رہے تھے ۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ۔ میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری امت سے تعلق رکھنے ولے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لینے کے لئے جائیں گے اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے وہی کلمات ارشاد فرمائے جو پہلے ارشاد فرمائے تھے ۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ اللہ سے دعا کیجئے وہ مجھے ان میں شامل کر لے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پہلے والوں میں شامل ہو۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ) حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ سمندری سفر پر روانہ ہوئیں (جب وہ واپس تشریف لائیں ) تو وہ جب سمندر سے باہر آئیں اور اپنی سواری پر سوار ہوئیں تو اس سے نیچے گر گئیں اور ان کا انتقال ہو گیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6667

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6668

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: «أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا فِيهِ»؟ قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَبَتْنِي عَيْنِي، قَالَ: «فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهُ»؟ قُلْتُ: مَا أَصْنَعُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَضْرِبُ بِسَيْفِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ ذَلِكَ، وَأَقْرَبُ رُشْدًا؟ [ص:53] تَسْمَعُ وَتُطِيعُ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ»

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ۔ میں اس وقت مسجد نبوی میں سویا ہوا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے پاؤں کے ذریعے مجھے مارا اور ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں یہاں سویا ہوا دیکھ رہا ہو ں ۔ میں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ! میری آنکھ لگ گئی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تمہیں اس میں سے نکال دیا جائے گا ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اس وق مجھے کیا کرنا چاہئے ۔ کیا میں اپنی تلوار کے ذریعے لڑائی کروں ۔ نبی اکرم ﷺ فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو اور ہدایت کے زیادہ قریب ہو تم اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو اور وہ تمہیں جہاں جانے کے لئے کہیں تم وہاں چلے جاؤ۔

«أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا فِيهِ»؟ قُلْتُ: بَلَى ← نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، ← أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَمِّہٖ ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6668

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6669

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} [الطلاق: 3]، قَالَ: فَجَعَلَ يُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ، فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ»، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ»؟ قُلْتُ: إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ أَكُونُ حَمَامًا مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ، قَالَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ»؟ قُلْتُ: إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ، إِلَى أَرْضِ الشَّامِ، وَالْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، قَالَ: «فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا»؟ قُلْتُ: إِذًا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ آخُذُ سَيْفِي [ص:54] فَأَضَعُهُ عَلَى عَاتِقِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ، لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعٍ»

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہی: نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کرنا شروع کی۔ ''جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا ۔'' نبی اکرم ﷺ نے اس آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے اونگھ آگئی ۔ آپ نے فرمایا: اے ابوذر ! اگر تما م لوگ اسی کو اختیار کر لیں تو یہی ان کے لئے کافی ہے پھر آپ نے فرمایا: اے ابوذر تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے گا ۔ میں نے عرض کی : میں اپنی گنجائش کے مطابق یہ کوشش کروں گا کہ میں مکہ کا کبوتر بن جاؤں (یعنی مکہ منتقل ہو جاؤں ) نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں مکہ سے بھی نکال دیا جائے گا ۔ میں نے عرض کی : میں اپنی گنجائش اور حیثیت کے مطابق کوشش کروں گا کہ میں شام کی سر زمین کی طرف چلا جاؤ ں اور ارض مقدس کی طرف چلا جاؤں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں وہاں سے نکال دیا جائے گا ۔ میں نے عر ض کی : اس صورت میں اس بات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہےمیں اپنی تلوار پکڑوں گا اور اسے اپنی گردن میں لٹکا لوں گا (ا ور ان لوگوں سے لڑنا شروع کر دوں گا ) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا اس سے زیادہ صحیح یہ نہیں ہے کہ تم ناک کان کٹے ہوئے اس حبشی غلام کی اطاعت و فرمانبردار ی کرو( جو حاکم وقت ہو گا )

"يَا أَبَا ذرٍّ، لَوْ أنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ ثُم ← فَجَعَلَ يُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ، ← أَبُو ذَرٍّ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ ← أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نَقِيرٍ الْقَيْسِيِّ ← کَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6669

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6670

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْأَشْتَرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ، قَالَتْ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ بَكَيْتُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقُلْتُ: مَا لِي لَا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا،، قَالَ: فَلَا تَبْكِي وَأَبْشِرِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ: «لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ»، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِلَّا وَقَدْ هَلَكَ فِي قَرْيَةِ جَمَاعَةٍ، وَأَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلَاةٍ، وَاللَّهِ [ص:58] مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، فَأَبْصِرِي الطَّرِيقَ، قَالَتْ: وَأَنَّى وَقَدْ ذَهَبَ الْحَاجُّ وَانْقَطَعَتِ الطُّرُقُ، قَالَ: اذْهَبِي فَتَبَصَّرِي، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَجِيءُ إِلَى كَثِيبٍ، فَأَتَبَصَّرُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَيْهِ فَأُمَرِّضُهُ، فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ إِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَى رِحَالِهِمْ، كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى وَقَفُوا عَلَيَّ وَقَالُوا: مَا لَكِ أَمَةَ اللَّهِ؟ قُلْتُ لَهُمُ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمُوتُ، تُكَفِّنُونَهُ؟ قَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَقُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ، قَالُوا: صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَفَدَّوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَأَسْرَعُوا إِلَيْهِ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَرَحَّبَ بِهِمْ، وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ: «لَيَمُوتَنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِلَّا هَلَكَ فِي قَرْيَةٍ وَجَمَاعَةٍ، وَأَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلَاةٍ أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِنَّهُ لَوْ كَانَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُنِي كَفَنًا لِي أَوْ لِامْرَأَتِي، لَمْ أُكَفَّنْ إِلَّا فِي ثَوْبٍ لِي أَوْ لَهَا، أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنْ يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا أَوْ نَقِيبًا، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا قَارَفَ بَعْضَ ذَلِكَ إِلَّا فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا عَمِّ، أَنَا أُكَفِّنُكَ لَمْ أُصِبْ مِمَّا ذَكَرْتَ شَيْئًا، [ص:59] أُكَفِّنُكَ فِي رِدَائِي هَذَا، وَفِي ثَوْبَيْنِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي حَاكَتْهُمَا لِي، فَكَفَّنَهُ الْأَنْصَارِيُّ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ شَهِدُوهُ مِنْهُمْ حُجْرُ بْنُ الْأَدْبَرِ، وَمَالِكُ بْنُ الْأَشْتَرِ فِي نَفَرٍ كُلُّهُمْ يَمَانٍ

سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کاوقت قریب آیا تو میں رونے لگی۔ انہوں نے دریافت کیا : تم کیو رو رہی ہو۔ میں نے کہا : میں کیوں نہ روؤں ؟ جبکہ آپ ایک ویرانے میں فوت ہونے لگے ہیں ۔ میرے پاس اتنا کپڑا انہیں ہے 'جو آپ کے کفن کے لئے کافی ہو تو حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نہ روؤ تمہارے لئے خوشخبری ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ' کچھ لوگوں کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جن میں ' میں موجود تھا ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) تم لوگوں میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ویرانے میں ہو گا لیکن اس کی نما جنازہ میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہوگا ۔ (حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ان لوگوں میں سے ہر ایک شخص کا انتقال آبادی میں ہوا ۔ صرف میں ویرانے میں مرنے لگا ہوں ۔ اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کہ گئی ہے تم راستے کا جائزہ لیتی رہو۔ سیدہ ام ذر نے عرض کی: اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں اور راستے منقطع ہو چکے ہیں حضرت ابوذرغفاری نے فرمایا : تم جاؤ اور جا کے جائزہ لو سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں تیلے کی طرف آئی میں نے جائزہ لیا پھر میں انکےپاس واپس آئی اور ان کی تیمارداری کرنے لگی۔ ابھی میں ان کی تیمار داری کی رہی تھی کہ اس دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر وہاں آگئے ۔ یو ں لگتا تھا جیسے وہ پرندے ہوں ۔ وہ لوگ آئے اور میرے پاس آکر ٹھہر گئے ۔ انہوں نے دریافت کیا : اے اللہ کی کنیز تمہارا کیا معاملہ ہے میں نے ان سے کہا ایک مسلمان شخص فوت ہونے لگا ہے کیاتم لوگ اسے کفن دو گے۔ ان لوگوں نے دریافت کیا : وہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا : حضرت ابوذر غفاری ، انہوں نے دریافت کیا : وہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ۔ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں تو ان لوگوں نے یہ کہا ہمارے ماں باپ ان پر قربان ہوں پھر وہ تیزی سے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا ۔ یہ بات بتائی میں نے نبی اکرم ﷺ کو کچھ لوگوں کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ان لوگوں میں 'میں بھی موجود تھا ۔ ''تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ویرانے میں ہو گا لیکن اس کے جنازے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔'' (حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا ) ان تمام لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی میں یا لوگوں کے اجتماع میں ہوا ۔ صرف میں ویرانے میں مرنے لگا ہوں تم لوگ یہ بات سن لو کہ اگرمیرے پاس اتنا کپڑا ہوا جو میرے کفن کے لئے کافی ہوا یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہو تو مجھے صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں کفن دیا جائے تم لوگ یہ بات سن لو کہ میں تم لوگوں کو گواہ بنا کے یہ بات کہہ ہوں کہ تم میں سے وہ شخص مجھے کفن دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید یو یا نقیب ہو (یعنی کسی نہ کسی عہدے یا مرتبے پر فائز ہو ) (راوی بیان کرتے ہیں ) وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں تھا جو کسی نہ کسی عہدے پر نہ رہا ہو ۔ صرف ایک انصاری نوجوان تھا ۔ اس نے کہا : اے چچا جان میں آپ کو وہ کفن دوں گا اور وہ چیز شامل نہیں کروں گا جس کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور ان دو کپڑوں میں دوں گا ' جو میں نے نیچے پہنے ہوئے ہیں جنہیں میری امی نے میرے لئے اپنے ہاتھوں سے کات کر دیا تھا تو اس انصاری نے ان لوگوں کی موجودگی میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو کفنا یا جو لوگ وہاں موجود تھے ان میں حضرت حجر بن ادبر اور مالک بن اشتر بن شامل تھے یہ تمام لوگ یمن سے تعلق رکھتے تھے۔

أُمِّ ذَرٍّ، ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن الأشتر ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6670

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6671

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْأَشْتَرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ، قَالَتْ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ بَكَيْتُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقُلْتُ: وَمَا لِيَ لَا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا، وَلَا يَدَانِ لِي فِي تَغْيِيبِكَ، قَالَ: أَبْشِرِي وَلَا تَبْكِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَمُوتُ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثٌ، فَيَصْبِرَانِ وَيَحْتَسِبَانِ فَيَرَيَانِ النَّارَ أَبَدًا»، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ: «لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ»، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِلَّا وَقَدْ مَاتَ فِي قَرْيَةٍ وَجَمَاعَةٍ، فَأَنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، فَأَبْصِرِي الطَّرِيقَ، فَقُلْتُ: أَنَّى وَقَدْ ذَهَبَتِ الْحَاجُّ وَتَقَطَّعَتِ الطُّرُقُ، فَقَالَ: اذْهَبِي فَتَبَصَّرِي، قَالَتْ: فَكُنْتُ [ص:61] أَشْتَدُّ إِلَى الْكَثِيبِ أَتَبَصَّرُ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَأُمَرِّضُهُ، فَبَيْنَمَا هُوَ وَأَنَا كَذَلِكَ إِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَى رَحْلِهِمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ تَخُبُّ بِهِمْ رَوَاحِلُهُمْ، قَالَتْ: فَأَسْرَعُوا إِلَيَّ حِينَ وَقَفُوا عَلَيَّ، فَقَالُوا: يَا أَمَةَ اللَّهِ، مَا لَكِ؟ قُلْتُ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمُوتُ فَتُكَفِّنُونَهُ؟ قَالُوا: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَتْ: أَبُو ذَرٍّ، قَالُوا: صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَفَدَّوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَأَسْرَعُوا إِلَيْهِ حَتَّى دَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: أَبْشِرُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ: «لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ»، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ هَلَكَ فِي جَمَاعَةٍ، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ إِنَّهُ لَوْ كَانَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُنِي كَفَنًا لِي أَوْ لِامْرَأَتِي، لَمْ أُكَفَّنْ إِلَّا فِي ثَوْبٍ هُوَ لِي أَوْ لَهَا، إِنِّي أُنْشِدُكُمُ اللَّهَ أَنْ لَا يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا أَوْ نَقِيبًا، فَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِلَّا وَقَدْ قَارَفَ بَعْضَ مَا، قَالَ إِلَّا فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: أَنَا أُكَفِّنُكَ يَا عَمِّ، أُكَفِّنُكَ فِي رِدَائِي هَذَا، وَفِي ثَوْبَيْنِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي، قَالَ: أَنْتَ فَكَفِّنْنِي، فَكَفَّنَهُ الْأَنْصَارِيُّ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ حَضَرُوا، وَقَامُوا عَلَيْهِ وَدَفَنُوهُ فِي نَفَرٍ كُلُّهُمْ يَمَانٍ

سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی انہوں نے دریافت کیا : تم کیو رو رہی ہو ۔ میں نے کہا : میں کیوں نہ روؤں جبکہ آپ ایک ویرانے میں مرنے لگے ہیں ۔ میرے پاس اتنا کپڑا بھہ نہیں ہے ' جو آپ کے کفن کے لئے کافہ ہو اور آپ کی عدم موجودگی میں میرے لئے رہنا ممکن نہیں ہے۔ تو حضرت ابوذر غفاری نے فرمایا : تمہارے لئے خوشخبری ہے تم نہ روؤ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: '' جن بھی دو مسلمان (میاں بیوی ) کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں اوروہ دونوں صبر سے کام لیں اور ثواب کی امید رکھیں تو وہ کبھی بھی آگ کو نہیں دیکھیں گے'' (یعنی جہنم میں نہیں جائیں گے) (حضرت ابوذر غفاری نے یہ بتایا ) میں نے نبی اکرمﷺ کو تین آدمیوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا : جن میں 'میں بھی موجود تھا ۔ ''تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ضرور ویرانے میں ہو گا لیکن اس کی نماز جنازہ میں اہل ایما ن کا ایک گروہ شریک ہو گا ۔'' (حضرت ابو ذر غفاری نے فرمایا : ) ان لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی یا لوگوں کے درمیان ہوا میں ان میں سے ایک شخص باقی رہ گیا ہوں ۔ اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے غلط بیان کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے تم راستے کا جائزہ لیتی رہو( سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ) میں کہا : اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں ۔ راستے منقطع ہو چکے ہیں تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ اور جا کہ جائز ہ لو سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں تیزی سے چلتی ہوئی ٹیلے کی طرف گئی اور اس بات کا جائزہ لیا اور واپس آکر ان کی تیمار دار کرنے لگی ۔ ابھی میں اور وہ اسی حالت میں تھے اسے دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر آئے ۔ یوں وہ پرندے ہوں ۔ ان کی سواریاں انہیں لے کر آئیں تھیں ۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب وہ لوگ میرے ٹھہرے تو تیزی سے میری طر ف آئے انہوں نے کہا : اے اللہ کی کنیز تمہارا کیا معاملہ ہے میں نے کہا : ایک مسلمان شخص کا انتقال ہونے لگا ہے۔ کیا آپ لوگ اسے کفن دیں گے ۔ انہوں نے جواب دیا : وہ کون شخص ہے اس خاتون نے جواب دیا : حضرت ابوذر ان لوگؤں نے کہا : وہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں میں نے جواب دیا : جی ہاں تو انہوں نے کہا : میرے ماں باپ ان پر قربان ہو ں پھر وہ تیزی سے چلتے ہوئے حضرت ابوذر غفاری کے پاس آگئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو ذر غٖاری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا تم لوگوں کے لئے خوشخبری ہے ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو کچھ لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا : جن میں 'میں موجود تھا '' تم میں سے ایک شخص ویرانے میں انتقال کرے گا اور اس کے جناز ے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا ۔'' پھر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( میرے علاوہ ) ان میں سے ہر ایک شخص کا انتقال لوگوں کے درمیان ہوا ( اب صرف میں باقی رہ گیا ہوں ) اللہ کی قسم ! میں نے نہ تو غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ۔ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہو ا جو میرے کفن کےلئے کافی ہو یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہو ا تو صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں مجھے کفن دیا جائے میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی سرکاری اہل کار ہو ) تو وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو ان میں سے کسی عہدے ہر فائز ہو البتہ ایک انصاری نوجوان تھا اس نے کہا : اے چچا جان ! میں آپ کو کفن دوں گا ۔ میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور اپنے ان دو کپڑوں میں دوں گا ' جو میری والدہ نے میرے لئے تیار کئے تھے تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے کفن دینا تو اس انصاری نے وہاں موجود حاضرین کی موجودگی میں حضرت ابوذر غفاری کو کفن دیا اور ان کے (غسل وغیرہ) کے معاملات کی دیکھ بھال کی اور انہی لوگو ں نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دفن کیا ۔ ان سب کا تعلق یمن سے تھا ۔

أُمِّ ذَرٍّ، ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن الأشتر ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6671

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6672

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ نَافِعَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الدَّجَّالَ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَغْرِبِ أَتَوْهُ لِيُسْلِمُوا عَلَيْهِ، وَعَلَيْهِمُ الصُّوفُ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ تَغْزُونَ فَارِسَ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ، فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حجرت نافع بن عتبہ بن ابی وقاص سے دریافت کیا ۔ میں نے کہا : آپ مجھے یہ بات بتائیں کہ آپ نے نبی اکرم ﷺ کو دجال کاذکر کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس وقت اہل مغرب میں سب کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر تھے ۔ وہ اسلام قبول کرنے کے لئے آپ کے پاس آئے تھے انہوں نے اونی لباس پہنا ہوا تھا جب میں نبی اکرمﷺ کے قریب ہوا تو میں نےآپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ''تم لوگ جزیرہ عرب کے ساتھ لڑائی کرو گے ' تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لئے فتح کر دے گا تم اہل فارس کے ساتھ لڑائی کرو گے تو اللہ تعالی اسے تمہارے لئے فتح کر دے گا پھر تم اہل روم کے ساتھ لڑائی کر و گے تو اللہ تعالی اسے تمہارے لئے فتح کر دے گا پھر تم لوگ دجا ل کے ساتھ لڑائی کرو گے تو اللہ تعالی تمہیں اس پر فتح عطا کرے گا ''۔

هَلْ ← سَأَلْتُ نَافِعَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قُلْتُ: ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6672

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6673

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَتُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ فَيَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ فَيَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ». قَالَ الشَّيْخُ: يَبُسُّونَ: أَيْ يَنْسِلُونَ

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت سفیان بن ابو زہیر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ میں نے نبی اکرم رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے:

سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6673

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6674

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُثِّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلَابِ، وَإِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا»، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: هَبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةَ بُقَيْلَةَ، فَقَالَ: «هِيَ لَكَ»، فَأَعْطُوهُ إِيَّاهَا فَجَاءَ أَبُوهَا فَقَالَ: أَتَبِيعُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بِكُمْ؟ احْتَكِمْ مَا شِئْتَ، قَالَ: بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، قَالَ: قَدْ أَخَذْتَهَا، فَقِيلَ لَهُ: لَوْ قُلْتَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا؟ قَالَ: وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ

''حیرہ میرے سامنے کتے کے دانتوں کی طرح کی شکل میں پیش کیا گیا تم لوگ عنقریب اسے فتح لر لو گے ایک صاحب کھڑے ہوئےانہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! بقیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کر دیجئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ تمہاری ہوئی ۔ لوگوں نے وہ لڑکی اس شخص کو دیدی پھر اس لڑکی کا باپ آیا اور بولا کیا تم اسے فروخت کر و گے ۔اس نے جواب دیا : جی ہاں ا س لڑکی کے باپ نے دریافت کیا :کتنے کے عوض میں اس سے کہا تم جو چاہو فیصلہ کر دو لڑکی کے باپ نے کہا :ایک ہزار درہم کے عوض میں اس شخص نے کہا : ٹھیک ہے (بعد میں ) اس شخص سے کہا گیا اگر تم تیس ہزار درہم ہم کہہ دیتے ( تو یہ مناسب تھا ) اس نے کہا : کیا ایک ہزار سے زیادہ بھی کوئی عدد ہو تا ہے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6674

chevron_left Previous
1…464748…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr