Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6627

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَقَ بِهِ أَصْحَابُهُ، وَشَكُّوا فِي غُسْلِهِ، وَقَالُوا: نُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ [ص:596] كَيْفَ نَصْنَعُ؟ فَأَرْسَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا عَلَيْهِمْ سِنَةً، فَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي مِنَ الْبَيْتِ - لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ - أَنِ اغْسِلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابَهُ، قَالَتْ: فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَهُ غَيْرُ نِسَائِهِ.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو آپ کے اصحاب کو غم نے گھیر لیا اور نبی اور نبی اکرم ﷺ کو غسل دینے کے بارے میں ان کے درمیان سوچ پیدا ہو ئی ۔ انہوں نے کہا:کیا ہم نبی اکر م ﷺ کے کپڑے بھی اسی طرح اتاریں گے جس طرح ہم اپنے مرحومین کے کپڑے اتارتے ہیں یا پھر ہمیں کیا کرنا چاہئے تو اللہ تعالی نے ان پر نیند طاری کی ان میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہا جس نے اپنا سر اٹھایا ہو ا ہو (یعنی ہر شخص اونگھ رہا تھا ) اسی دوران گھرمیں سے کسی منادی نے یہ پکار کر کہا ۔لوگوں کو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کون تھا (ا س نے یہ کہا) تم لوگ نبی اکرم ﷺ کو آپ کے کپڑے سمیت غسل دو ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو غسل دیا جبکہ آپ کی قمیض آپکی آپ کے جسم پر موجود تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں مجھے بعد جس بات کا خیال آیا اگر وہ پہلے آجاتا تو نبی اکرم ﷺ کو غسل صرف آپ کی ازواج دیتیں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ أَبُو تُمَيْلَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6627

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6628

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا اجْتَمَعُوا لِغُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:597] اخْتَلَفُوا بَيْنَهُمْ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا، أَوْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ حَتَّى إِنَّ مِنْهُمْ مِنْ رَجُلٍ إِلَّا ذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ نَادَى مُنَادٍ مِنْ جَانِبِ الْبَيْتِ - مَا يَدْرُونَ مَا هُوَ - أَنِ اغْسِلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، قَالَ: فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَيُدَلِّكُونَهُ مِنْ وَرَاءِ الْقَمِيصِ، وَكَانَ الَّذِي أَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَسْنَدَهُ إِلَى صَدْرِهِ، قَالَتْ: «فَمَا رُئِيَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ مِمَّا يُرَى مِنَ الْمَيِّتِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب لوگ نبی اکرم ﷺ کو غسل دینے کے لئے اکٹھے ہوئے تو ان کا اختلاف ہو گیا انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہم نبی اکرم ﷺ کے کپڑے بھی اسی طرح اتاریں جس طرح اپنے مرحومین کے کپڑے اتارتے ہیں یا پھر آپ کے جسم پر کپڑے رہنے کے ہمراہ آپ کو غسل دیدیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں تو اللہ تعالی نے ان لوگوں پر نیند طاری کی یہاں تک کہ ان میں سے موجود ہر شخص کی تھوڑی اس کے سینے سے جا لگی پھر گھر کے کسی کنارے سے کسی منادی نے کہا : لوگوں کو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کون ہے۔ (اس نے کہا) تم لوگ نبی اکر م ﷺ کو غسل دو یہاں تک کہ آپ کی قمیض آپ کے جسم پر موجود ہو ۔ راوی کہتے ہیں : تو ان سب لوگوں کاا س بات پر اتفاق ہوا ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو ایسی حالت میں غسل دیا کہ نبی اکرم ﷺ کی قمیض آپ کے جسم پر موجود تھی ۔ وہ نبی اکرم ﷺ پر پانی انڈیلتے رہے اور قمیض کے نیچے سے آپ کے جسم کو ملتے رہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6628

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6629

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا [ص:598] عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «غُطِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ يَمَنِيَّةٍ كَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ نُزِعَتْ مِنْهُ، فَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولٍ يَمَانِيَةٍ لَيْسَ فِيهَا عِمَامَةٌ وَلَا قَمِيصٌ، فَنَزَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ، وَقَالَ: أُكَفَّنُ فِيهَا، ثُمَّ قَالَ: لَمْ يُكَفَّنْ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُكَفَّنُ فِيهَا، فَتَصَدَّقَ بِهَا»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ کو ایک یمنی حلے میں لپیٹ دیا گیا جو حضرت عبداللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کا تھا پھر اسے آپ کے جسم سے الگ کر دیا گیا اور نبی اکرم ﷺ کو تین یمانی سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا جس میں عمامہ اور قمیض شامل نہیں تھے عبداللہ نے وہ حلہ اتار لیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا : مجھے اس حلے میں کفن دیا جائے پھر بعد میں انہوں نے کہا : جس کپڑے میں نبی اکرم ﷺ کو کفن نہیں دیا گیا ۔ اس میں مجھے کیسے کفن دیا جا سکتا ہے تو انہوں نے اس کپڑے کو صدقہ کر دیا تھا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6629

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6630

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ*، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَعِمْرَانُ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَوْبٍ نَجْرَانِيٍّ، [ص:599] وَرَيْطَتَيْنِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو ایک نجرانی کپڑے اور دو چادروں میں کفن دیا گیا

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ، وَعِمْرَانُ، جَمِيعًا ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقَّامُ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6630

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6631

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَغُنْدَرٌ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّهُ وُضِعَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک میں ایک سرخ چادر رکھی گئی تھی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّهُ وُضِعَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ» ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، وَغُنْدَرٌ، كِلَاهُمَا ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6631

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6632

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَةٍ، وَلُحِدَ لَهُ، وَنُصِبَ اللَّبِنُ عَلَيْهِ نَصْبًا»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا آپ کے لئے لحد بنائی گئی اور اس پر کچی اینٹیں نصب کی گئیں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6632

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6633

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ [ص:601] مُوسَى، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «دَخَلَ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسُ، وَعَلِيٌّ وَالْفَضْلُ، وَسَوَّى لَحْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ الَّذِي سَوَّى لُحُودَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ بَدْرٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبا س رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فضل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی قبر میں داخل ہوئے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ کی لحد تیار کی یہ وہی شخص تھا جس نے غزوہ بدر کے دن شہداء کی لحدیں تیار کی تھیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ، ← زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← مُجَاهِدُ بْنُ [ص:601] مُوسَى، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6633

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6634

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَمَا نَفَضْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِي، وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وہ دن تھا جس دن نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تو اس دن ہر چیز روشن ہو گئی تھی ' جب وہ دن آیا جس میں نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو ا ۔ اس دن ہر چیز تاریک ہو گئی تھی ابھی ہم نے اپنے ہاتھوں کو نبی اکرم ﷺ سے جد ا نہیں کیا تھا اور آپ کو دفن کر رہے تھے کہ اس دوران ہمیں اپنے قلوب کی کیفیت تبدیل ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6634

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6635

أَخْبَرَنَا السِّخْتِيَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْحِدَ وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصَبًا، وَرُفِعَ قَبْرُهُ مِنَ الْأَرْضِ نَحْوًا مِنْ شِبْرٍ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے لئے لحد بنائی گئی تھی اور اس پر کچھی اینٹیں نسب کی گئی تھیں نبی اکرم ﷺ کی قبر مبار ک کو زمین سے تقریباً ایک بالشت اونچا رکھا گیا تھا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← السِّخْتِيَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6635

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6636

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ إِلَّا حَدَّثَ بِهِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَاءِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ الرَّجُلُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيَهُ، فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ، فَإِذَا رَآهُ عَرَفَهُ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے اپنے اس قیام کے دوران قیامت تک ہونے والی کسی بھی چیز کو نہیں چھوڑا ہر چیز کے بارے میں گفتگو کی جس نے اسے یاد رکھنا تھا اس نے اسے یاد رکھا اور جس نے بھولنا تھا وہ بھول گیا میرے ساتھی بھی یہ بات جانتے ہیں ان میں سے کوئی شخص بات بھول چکاہو گا لیکن جب میں اسے دیکھوں گا تو مجھے یاد آجائے گا جس طرح کوئی شخص کسی غیر موجود شخص کے چہرے کو یاد کرتا ہے لیکن جب وہ اسے دیکھتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے۔

حُذَيْفَةَ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6636

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6637

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا، فَحَدَّثَنَا مَا هُوَ كَائِنٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ السَّاعَةِ، مَا بِي أَقُولُ لَكُمْ: إِنِّي كُنْتُ وَحْدِي، لَقَدْ كَانَ مَعِي غَيْرِي، حَفِظَ ذَاكَ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں : نبی اکر م ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے ہم سے لے کر قیامت تک جو کچھ موجود ہونا تھا ۔ اس کے بارے میں ہمیں بتا دیا (حضرت حذیفہ کہتے ہیں : ) میں تم لوگوں سے یہ نہیں کہہ رہا کہ میں صرف تنہا تھا میرے ساتھ دوسرے لوگ بھی تھے ۔ ان میں سے جس نے اسے یاد رکھنا رتھا اس نے یاد رکھا اور جس نے بھول جانا تھا اس نے بھلا دیا ۔

«لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ مَقَامًا، ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6637

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6638

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَدَ الْيَشْكُرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ، قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَ حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَحَدَّثَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ، فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا»

حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ جن کا نام عمر و بن اخطب ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ منبر پر چڑھے ۔ آپ نے خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا پھر آپ منبر سے نیچے اترے آپ نے نماز ادا کی پھر آپ منبر پر چڑھے آپ نے ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا پھر آپ منبر سے نیچے اترے ۔ آپ نےنماز ادا کی پھر آپ منبر پر چڑھے ۔ آپ نے ہمیں خطبہ دیا ' یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ نے ہمیں بتایا : جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہو گا تو جس شخص نے اس بات کو مجھ سے زیادہ یاد رکھا وہ ہم میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا ۔

أَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ، ← عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمد الْيَشْكُرِيُّ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6638

chevron_left Previous
1…434445…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr