Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6615

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ: أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَمُوتَ فِيهِ، فَمَاتَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ عَشِيَّةً، وَدُفِنَ لَيْلًا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کا وصال کس دن ہوا تھا ۔ میں نے جواب دیا : پیر کے دن تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ میرا نتقال بھی اسی دن ہو گا تو حجرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا انتقال پیر کی شا م ہو گیا اور انہیں رات کے وقت دفن کر دیا گیا ۔

إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَمُوتَ فِيهِ، فَمَاتَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ عَشِيَّةً، وَدُفِنَ لَيْلًا ← لِي أَبُو بَكْرٍ: أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ قُلْتُ: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ الْحَكَمِ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6615

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6616

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، [ص:584] حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ، دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَمْضَغُ، فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ، ثُمَّ سَنَنْتُهُ»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ کا وصال میرے گھر میں میر ی بارے کے مخصوص دن میں میرے سینے اور گردن کے درمیان (ٹیک لگائے ہوئے ) ہوا اللہ تعالیٰ نےمیرے لعاب دہن اور آپ ﷺ کے لعاب دہن کو اکٹھا کر دیا تھا (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے صاحبزاے) عبدالرحمن گھر میں داخل ہوئے ان کے پاس مسواک تھی ' جسے وہ چبا رہے تھے میں نے اس مسواک کو لیا ۔ اس چبایا اور نبی اکرم ﷺ کے دانتوں پر پھیرا

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ [ص:130]، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6616

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6617

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِي بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَلَيْهِ وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةً، فَأَخَذْتُهُ، فَمَضَغْتُهُ، وَقَضَمْتُهُ، وَطَيَّبْتُهُ، فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا، ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُ فَسَقَطَ، فَأَخَذْتُ أَدْعُو اللَّهَ بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ جِبْرِيلُ أَوْ يَدْعُو بِهِ إِذَا [ص:585] مَرِضَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: «بَلِ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ» ثَلَاثًا، وَفَاضَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ کا وصال میری باری کے مخصوص دن میں میرے سینے اور گردن کے درمیان ہوا ۔ حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا مجھے اندازہ ہو گیا کہ نبی اکرم ﷺ کی مسواک کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے میں نے اسے لیا اور چبایا اسے نرم کیا اسے اچھا کیا تو نبی اکرم ﷺ نے بڑے عمدہ طریقے سے مسواک کی پھر آپ اٹھنےلگے لیکن گر گئے میں نے اللہ تعالی سے دو دعا مانگنا شروع کی جو نبی اکرم ﷺ کی بیماری کے وقت حضرت جبرا ئیل مانگتے تھے یا نبی اکرم ﷺ خود مانگتے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے یہ کہنا شروع کیا ۔ ''بلکہ جنت میں رفیق اعلی ٰ ( کا میں طلب گار رہوں ) یہ آپ نے تین مرتبہ کہا پھر آپکی سانس رۃک گئی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کے دنیا کے آخری دن میں میرے اور نبی اکرم ﷺ کے لعاب دہن کو جمع کر دیا ۔

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6617

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6618

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، وَهِيَ مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِهَا، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ کے وصال سے پہلے انہوں نے کان لگا کر نبی اکرم ﷺ کا سنا نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے سینے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی اور آپ یہ کہہ رہے تھے۔ ''اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم کر اور مجھ رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔''

«اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى» ← النَّبِيَّ وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، وَهِيَ مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِهَا، ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6618

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6619

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ جَعَلَ يُلْقِي عَلَى وَجْهِهِ طَرَفَ خَمِيصَةٍ، فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ». قَالَ: تَقُولُ عَائِشَةُ: يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیا کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی وفات کا وقت قریب آیا تو نبی اکرم ﷺ نے چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لیا جب آپ کو اس سے گھٹن محسوس ہوئی تو اپ نے اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیا اور آ پ نے فرمایا۔ ''اللہ تعالی یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔'' سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں آپ لوگوں کا سار طرز عمل اختیار کرنے سے منع کرنا چاہ رہے تھے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، أَخْبَرَاهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6619

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6620

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: «أَنَّ الْمُسْلِمِينَ بَيْنَا هُمْ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِهِمْ، لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي صَلَاتِهِمْ، ثُمَّ تَبَسَّمَ فَضَحِكَ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبِهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ. قَالَ أَنَسٌ: وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلَاتِهِمْ فَرَحًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ [ص:588] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اقْضُوا صَلَاتَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ الْحُجْرَةَ، وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، وَتُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْيَوْمَ» قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّهُ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي النَّاسِ خَطِيبًا، فَقَالَ: «لَا أَسْمَعَنَّ أَحَدًا يَقُولُ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنْ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَبُّهُ كَمَا أَرْسَلَ إِلَى مُوسَى، فَلَبِثَ عَنْ قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً» قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يُقَطِّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْدِي رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَاتَ» قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: «أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَتَيَمَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدَةَ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ، وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمُوتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا» قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ، فَقَالَ: اجْلِسْ، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ، فَقَالَ: اجْلِسْ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ، فَتَشَهَّدَ أَبُو بَكْرٍ، فَمَالَ النَّاسُ إِلَيْهِ، [ص:589] وَتَرَكُوا عُمَرَ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ. قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ} [آل عمران: 144] قَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا أَنْزَلَ هَذِهِ الْآيَةَ إِلَّا حِينَ تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ، فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَلَمْ تَسْمَعْ بَشَرًا إِلَّا يَتْلُوهَا. قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: «وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلَاهَا عُقِرْتُ حَتَّى مَا تُقِلُّنِي رِجْلَايَ، وَأَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، وَعَرَفْتُ حِينَ سَمِعْتُهُ تَلَاهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ» قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنَ الْغَدِ حِينَ بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوَى أَبُو بَكْرٍ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عُمَرُ، فَتَشَهَّدَ قَبْلَ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ قُلْتُ لَكُمْ أَمْسِ مَقَالَةً لَمْ تَكُنْ، كَمَا قُلْتُ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهَا فِي كِتَابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ، وَلَا فِي عَهْدٍ [ص:590] عَهِدَهُ إِلَيَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَدْبُرَنَا - يَقُولُ حَتَّى يَكُونَ آخِرَنَا - فَاخْتَارَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عِنْدَهُ عَلَى الَّذِي عِنْدَكُمْ، وَهَذَا كِتَابُ اللَّهِ هَدَى اللَّهُ بِهِ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخُذُوا بِهِ تَهْتَدُوا بِمَا هَدَى اللَّهُ بِهِ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ لوگ پیر کے دن فجر کی نماز ادا کر رہے تھے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے اچانک نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرے کے پردے کو ہٹایا ۔ آپ نے لوگوں کی طرف دیکھا وہ نماز میں صفیں بنائے ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ مسکرادئیے پھر آپ ہنس پڑے ۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ الٹے قدموں پیچھے ہٹ کر صف میں شامل ہونے لگے ۔ انہوں نے یی گمان کیا کہ شاید نبی اکرم ﷺ نماز کے لئے تشریف لائیں گے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی نماز کے بارے میں آزمائش کا شکا ہو جائیں ۔ یعنی نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی خوشی میں (اپنی نماز کو توڑ دیں ) تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو اشارہ کیا تم لوگ اپنی نماز کو مکمل کر لو پھر آپ حجرے کے اند ر تشریف لے گئے ۔ آپ نے اپنے اور لوگوں کے درمیان پردے کو گرا دیا۔ اسی ن نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوگیا۔ زہری بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا : جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہو گیا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا : میں کسی بھی شخص کو یہ کہتے ہوئے ہرگز نہ سنوں کہ حضرت محمد ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کا نتقال نہیں ہو ابلکہ ا ن کے پرور دگار نے ان کو بلایا ہے جس طرح اس نے حضرت موسیٰ رضی اللہ عنہ کو بلایا تھا وہ چالیس دن تک اپنی قوم سے دور رہے تھے۔ زہری بیان کرتے سعد بن مسیب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں یہ بھی کہا مجھے یہ امید ہے کہ اللہ کے رسول ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیں گے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ہے۔ زہری بیان کرتے ہیں : ابو سلمہ بن عبدا لرحمن نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ''سخ'' میں موجود اپنے گھڑے سے گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لائے وہ اس سے نیچے اترے ۔ مسجد میں داخل ہوئے ۔ انہوں نے کسی کے ساتھ کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے اندر آئے وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھے نبی اکرم ﷺ کو ا س وقت یمنی چادر کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا تھا ۔ انہوں نے نبی اکر م ﷺ کے چہرے سے کپڑے کو ہٹایا ۔آپ پر جھکے ' آپ کا بوسہ لیا اور رونے لھے پھر انہوں نے کہا : میرے والد آ پ پر قربان ہوں ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالی آپ پر کبھی دو موتیں جمع نہیں کرے گا جہاں تک اس موت کا تعلق تھا جو آپ پر لازم کی گئی تھی وہ موت آپ کو آگئی ہے۔ زہری بیان کرتے ہیں : ابو سلمہ نے یہ بات بیان کی ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ باہر آئے ۔ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : بیٹھ جاؤ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار دکر دیا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹھ جاؤ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا تو لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑا دیا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ''اے لوگ ! تم میں جو شخص حضرت محمد ﷺ کی عبادت کرتا ہے تو بے شک اللہ تعالی زندہ ہے اسے موت نہیں آئے گی۔'' اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ''محمد رسول ہیں ان سےپہلے بھی رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ انتقال کر جائیں یا نہیں شہید کر دیا جائے تو تم اپنی ایڑھیوں کے بل پلٹ جاؤ گے جو شخص اپنی ایڑھیوںکے بل پلٹ جائے گا ۔ وہ اللہ تعالی ٰ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ تعالی شکر کرنے والوں کو عنقریب جزاء عطا کرے گا ''۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! یوں لگتا تھا جیسے لوگوں کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی ناز ل کی ہے۔ انہیں اس بات کا علم اس وقت ہوا جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت کی تو سب لوگوں نے ان سے یہ آیت سیکھ لی اور ہر شخص اس کی تلاوت کر رہا تھا ۔ زہری بیان کرتے ہیں : سعید بن مسیب نے مجھے بتایا : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا اللہ کی قسم ! جب میں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو میرے پاؤں کا ٹ دئیے گئے یہاں تک کہ میری ٹانگیں میر ا وزن بر داشت نہیں کر رہی تھیں ' یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھک گیا جب میں نے انہیں یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو مجھے یقین ہو گیا کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو چکا ہے۔ زہری بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا اگلے دن جب نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی جانے لگی تو انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ۔ اس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے منبر پر بیٹھ چکے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پہلے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ کہا اما بعد کل میں نے آپ لوگوں میں سے جو بات کہی تھی ویسا نہیں تھا جس طرح میں نے کہا ےتھا : اللہ کی قسم ! میں نے نہ تو یہ بات اللہ کی کتاب میں پائی ہے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ نے اس بارے میں ہمیں کوئی ہدایت کی تھی لیکن مجھے یہ امید تھی کہ نبی اکرم ﷺ اتنے عرصے تک زندہ رہیں گے کہ آپ کا وصال ہم سب کے بعد ہو گا ( یہاں الفاظ میں راوی کو شک ہے) لیکن اللہ تعالی نے اپنے رسول کے لئے اپنی بارگاہ کو اختیار کیا ۔ اس چیز کے مقابلے میں جو تمہارے پاس ہے تو یہ اللہ کی کتاب ہے اس کے مطابق اللہ نے اپنے سول کو ہدایت دی تم اسے حاصل کر لو اور تم اس چیز کے زریعے ہدایت حاصل کر لو جس کے ذریعے اللہ تعالہ نے اپنے رسول کو ہدایت دی تھی۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ وَيُونُسُ: ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أحمد بن جميل المروزي ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6620

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6621

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، يَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ، يَا أَبَتَاهُ جُنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ (کے وصال ) پر رونے لگیں انہوں نے کہا: ''اے اباجان آپ کو اپنے پروردگا ر کی بارگا ہ میں کتنا قرب صاصل ہے اے ابا جان ہم حضرت جبرائیل کو آپ کے وصال کی اطلاع دیتے ہیں ۔ اے ابا جان جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے۔''

أَنَسٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6621

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6622

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا تَغَشَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرْبُ كَانَ رَأْسُهُ فِي حِجْرِ فَاطِمَةَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: وَاكَرْبَاهُ لِكَرْبِكَ الْيَوْمَ يَا أَبَتَاهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «لَا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ يَا فَاطِمَةُ»، فَلَمَّا تُوُفِّيَ قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ، وَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، وَا أَبَتَاهُ إِلَى جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ، وَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ، قَالَ أَنَسٌ: «فَلَمَّا دَفَنَّاهُ مَرَرْتُ بِمَنْزِلِ فَاطِمَةَ، فَقَالَتْ: يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ؟! »

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی تکلیف زیادہ ہوگئی تو آپ کا سر اس وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ابا جان آپ کو آج کتنی تکلیف ہو رہی ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا : اے فاطمہ ! آج کے بعد تمہارے باپ کو کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ''ہائے ابا جان آپ نے اپنے پرور دگار کی پکار پر لبیک کہا ہائے ابا جان آپ کو زپنے پروردگار کی بار گاہ میں کتنا قرب حاصل تھا ہائے ابا جان جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے ۔ ہائے ابا جان حضرت جبرائیل ؑ کو ہم آپ کے وصال کی اطلاع دیتے ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نے نبی اکرم ﷺ کو دفن کر دیا تو میرا گزر سید فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے ہوا'انہوں نے فرمایا : اے انس تم نے کیسے یہ برداشر کیا کہ تم اللہ کے رسول پر مٹی ڈالو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6622

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6623

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِمَّا يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ، فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ»

ابو بردہ بیان کرتے ہیں ۔ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو اتو انہوں نے ایک موٹا تہبند نکالا جو یمن میں بنایا جاتا تھا اور ایک چادر نکالی جسے ملبدہ کہا جاتا تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہا کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال ان دو کپڑوں میں ہوا تھا ۔

أَبِي بُرْدَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6623

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6624

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: [ص:594] أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا مُلَبَّدًا، وَكِسَاءً غَلِيظًا، فَقَالَتْ: «فِي هَذَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ابو بردہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے ایک ملبد تہبند اور ایک موٹی چادر نکالی اور یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال ان کپڑوں میں ہوا تھا ۔

«فِي هَذَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ← [ص:594] أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا مُلَبَّدًا، وَكِسَاءً غَلِيظًا، ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6624

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6625

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُجِّيَ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ کو یمنی چادر میں ڈھانپ دیا گیا ۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6625

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6626

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ [ص:595] بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ، ثُمَّ أُخِّرَ عَنْهُ». قَالَ الْقَاسِمُ: «إِنَّ بَقَايَا ذَلِكَ الثَّوْبِ لَعِنْدَنَا بَعْدُ»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ کو یمنی چادرمیں لپیٹ دیا گیا پھر اسے آپ سے الگ کر دیا گیا۔ قاسم بیان کرتے ہیں : اس کپڑے کا باقی حصہ بعد میں بھی ہمارے پا س موجود رہا ۔

الْقَاسِمُ: «إِنَّ بَقَايَا ذَلِكَ الثَّوْبِ لَعِنْدَنَا بَعْدُ» ← «أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ، ثُمَّ أُخِّرَ عَنْهُ». ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ [ص:595] بْنُ حُرَيْثٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6626

chevron_left Previous
1…424344…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr