Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6189

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَصْبَحَ إِبْلِيسُ بَثَّ جُنُودَهُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَضَلَّ الْيَوْمَ مُسْلِمًا أَلْبَسْتُهُ التَّاجَ، قَالَ: فَيَخْرُجُ هَذَا، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَيَقُولُ: أَوْشَكَ أَنْ يَتَزَوَّجَ، وَيَجِيءُ هَذَا فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عَقَّ وَالِدَيْهِ، فَيَقُولُ: أَوْشَكَ أَنْ يَبَرَّ، وَيَجِيءُ هَذَا، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى أَشْرَكَ فَيَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ، وَيَجِيءُ، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى زَنَى فَيَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ، وَيَجِيءُ هَذَا، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى قَتَلَ فَيَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ، وَيُلْبِسُهُ التَّاجَ»

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: "جب صبح ہوتی ہے، تو شیطان اپنا لشکر پھیلا دیتا ہے اور یہ کہتا ہےآج جو شخص کسی مسلمان کو گمراہ کرے گا میں اسے تاج پہناؤں گا۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :ان میں سے ایک شخص آتا ہے اور یہ کہتا ہے میں نے آج پوری کوشش کی ،یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی شیطان کہتا ہے ہو سکتا ہے وہ شخص دوسری شادی کرلے پھر دوسرا شخص آتا ہے اور کہتا ہے میں نے آج پوری کوشش کی ، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کی شیطان کہتا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ بعد میں فرمانبردار بن جائے ایک اور شیطان آتا ہے وہ یہ کہتا ہے میں نے آج پوری کوشش کی کہ ایک آدمی نے شرک کرلیا شیطان کہتا ہے کہ تم واقعی تم ہو پھر ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے میں نے پوری کوشش کی ،یہاں تک کہ ایک آدمی نے زنا کر لیا شیطان کہتاہے تم نے واقعی کام کیا ہے ایک اور آتا ہے وہ یہ کہتاہے میں نے آج پوری آج پوری کوشش کی ، یہاں تک کہ ایک آدمی نے قتل کر دیا ، تو شیطان کہتاہے تم نے واقعی ہی کام کیاہے پھر وہ اپنا تاج اسے پہنا دیتا ہے۔

أَنْتَ أَنْتَ، وَيُلْبِسُهُ التَّاجَ» ← لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى قَتَلَ ← أَنْتَ أَنْتَ، وَيَجِيءُ هَذَا، ← لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى زَنَى ← أَنْتَ أَنْتَ، وَيَجِيءُ، ← لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى أَشْرَكَ ← أَوْشَكَ أَنْ يَبَرَّ، وَيَجِيءُ هَذَا، ← لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عَقَّ وَالِدَيْهِ، ← أَوْشَكَ أَنْ يَتَزَوَّجَ، وَيَجِيءُ هَذَا ← لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ← فَيَخْرُجُ هَذَا، ← مَنْ أَضَلَّ الْيَوْمَ مُسْلِمًا أَلْبَسْتُهُ التَّاجَ، ← «إِذَا أَصْبَحَ إِبْلِيسُ بَثَّ جُنُودَهُ، ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6189

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6604

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ، لَمْ يُعَمِّمْ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً، إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا، فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبَةً: «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، لَعَنَ اللَّهِ مَنْ آوَى مُحْدِثًا» «مَنَارُ الْأَرْضِ: عَلَامَةٌ بَيْنَ أَرَضِينَ»، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ

ابو طفیل بیان کرتے ہیں : حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : کیا نبی اکرم ﷺ نے آپ کو بطور خا ص کوئی چیز عطا کی تھی۔ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرمﷺ نے ہمیں بطور خاص کوئی چیز نہیں عطا کی تھی جو دیگر لوگوں کو عمومی طور پر نہ کی ہو' البتہ میری اس تلوار کے درمیان میں موجود کچھ چیزیں ہیں پھر انہوں نے ایک صحیفہ لکھا ہو ا نکالا ۔ (جس میں یہ تحریر تھا ) ''اللہ تعالی اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے نام پر (جانور کو ) ذبح کرتا ہے۔ اللہ تعالی اس شخص پر لعنت کرے جو زمین کی حدود کے نشانات چوری کرتا ہے ۔ (یعنی انہیں بگاڑ دیتا ہے) اللہ تعالی اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے ماں باپ پر لعنت کرے اللہ تعالی ٰ اس شخص پر لعنت کرے جو کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے۔'' (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) من الارض سے مراد دو آدمیوں کی زمین کے درمیان موجود علامت ہے یہ بات امام ابو حاتم نے بیان کی ہے۔

سُئِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ بِشَيْءٍ؟ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6604

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6605

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، [ص:571] عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ آخِرُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُغَرْغِرُ بِهَا فِي صَدْرِهِ، وَمَا كَانَ يُفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ: «الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانَكُمْ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کیرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے آخری وصیت جو آپ نے اس وقت کی جب آپ کے سینے میں سانس اٹک رہی تھی اور آپ کی زبان سے بات ادا نہیں ہو پا ری تھی (ا س وقت کی گئی آپ کی آخری وصیت ) یہ تھی نماز کا خیال رکھنا نماز کا خیال رکھنا اور اپنے زیر ملکیت (غلاموں اور کنیزوں ) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ، [ص:402] ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← جَرِيرٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6605

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6606

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَصْفَهَانِيُّ، بِالْكَرْخِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ بْنَ حُرَيْثٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «تَسْأَلُونِي عَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ»

زر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم ﷺ کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : تم مجھے سے نبی اکرمﷺ کی وراثت کے بارے میں دریافت کر رہے ہو نبی اکرم ﷺ نے وراثت میں کوئی دینار یا درہم یا بکر ی یا اونٹ نہیں چھوڑا ' او ر نہ ہی آپ نے کسی چیز کے بارے میں وصیت کی ۔

تَسْاَلُوْنِیْ ← مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ بْنَ حُرَيْثٍ الْقَطَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَصْفَهَانِيُّ، بِالْكَرْخِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6606

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6607

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكَ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّا لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ»، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، وَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ اسْتَنْكَرَ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ، وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا مَعَكَ [ص:574] أَحَدٌ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَحْضُرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ: وَاللَّهِ، لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا عَسَى أَنْ يَفْعَلُوا بِي وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهِمْ، فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَقَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرِ فَضِيلَتَكَ، وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَلَمْ أَنْفَسْ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى أَنَّ لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرِ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصِلَ أَهْلِي وَقَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ، فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِأَبِي بَكْرٍ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ ذَكَرَ شَأْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ، وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ، وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ، وَحُرْمَتَهُ، وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ، وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا بِهِ، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ، وَقَالُوا: أَصَبْتَ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ «

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے نبی اکرم ﷺ کی اس وراثت کا مطالبہ کیا جو نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالی ٰ نے مدینہ میں مال فے کے طور پر عطا کیا تھا اور خیبر کے خمس میں سے کچھ باقی بچتا تھا ( اس میں سے وراثت کا مطالبہ کیا) تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6607

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6608

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ، بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ الْمَدِينَةَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَإِنَّا قَدْ أَمَرْنَا لَهُمْ بِرَضْخٍ، فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مُرْ بِذَلِكَ غَيْرِي، فَقَالَ: اقْبِضْ أَيُّهَا الْمَرْءُ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ مَوْلَاهُ يَرْفَأُ، فَقَالَ: هَذَا عُثْمَانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ طَلْحَةً أَمْ لَا، يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ، قَالَ: ائْذَنْ لَهُمْ، قَالَ: ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: الْعَبَّاسُ، وَعَلِيٌّ يَسْتَأْذِنَانِ عَلَيْكَ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُمَا، فَلَمَّا دَخَلَ الْعَبَّاسُ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا - هُمَا حِينَئِذٍ يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ - فَقَالَ الْقَوْمُ: اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَرِحْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ، فَقَدْ طَالَتْ خُصُومَتُهُمَا، [ص:576] فَقَالَ عُمَرُ: أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»، قَالُوا: قَدْ قَالَ ذَاكَ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أُخْبِرُكُمْ عَنْ هَذَا الْفَيْءِ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا خَصَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ غَيْرَهُ، فَقَالَ: {وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ} [الحشر: 6]، فَكَانَتْ هَذِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، وَاللَّهِ مَا حَازَهَا دُونَكُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ قَسَمَهَا بَيْنَكُمْ، وَبَثَّهَا فِيكُمْ [ص:577] حَتَّى بَقِيَ مَا بَقِيَ مِنَ الْمَالِ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ سَنَةً، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ: يَحْبِسُ مِنْهَا قُوتَ أَهْلِهِ سَنَةً، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَلَمَّا قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَوْلَى بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ، أَعْمَلُ فِيهَا مَا كَانَ يَعْمَلُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ، وَالْعَبَّاسِ قَالَ: وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ كَانَ فِيهَا ظَالِمًا فَاجِرًا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ وُلِّيتُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي، فَعَمِلْتُ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنِّي فِيهَا ظَالِمٌ فَاجِرٌ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي، جَاءَنِي هَذَا - يَعْنِي الْعَبَّاسَ - يَبْتَغِي مِيرَاثَهُ مِنِ ابْنِ أَخِيهِ، وَجَاءَنِي هَذَا - يَعْنِي عَلِيًّا - يَسْأَلُنِي مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ، فَقُلْتُ لَكُمَا: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا، فَأَخَذْتُ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلَانِ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَأَنَا مَا وُلِّيتُهَا، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهَا إِلَيْنَا عَلَى ذَلِكَ، تُرِيدَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ هَذَا، وَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا فِيهَا بِقَضَاءٍ غَيْرِ هَذَا، إِنْ كُنْتُمَا عَجَزْتُمَا عَنْهَا، فَادْفَعَاهَا إِلَيَّ، قَالَ فَغَلَبَ عَلِيٌّ عَلَيْهَا، فَكَانَتْ فِي يَدِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ثُمَّ بِيَدِ [ص:578] حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: ثُمَّ كَانَتْ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ

حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام بھیجا تمہاری قوم کے کچھ گھرانوں کے لوگ مدینہ منورہ آئے ہوئے ہیں ۔ ہم نے ان کے لئے کچھ عطیات دینے کا حکم دیا ہے تم وہ ان کے درمیان تقسیم کر دو میں نے عرض کی : اےامیر المومنین آپ میری بجائے کسی اور کو یہ ہدایت کر دیجئے ۔ا نہوں نے فرمایا : ا ے آدمی تم اسے اپنے قبضے میں لو ۔ راوی کہتے ہیں : میں وہاں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ اسی دران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غلا م یرفا آیا اسنے کہا : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقا ص رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ تشریف لائے ہیں (راوی بیان کرتےہیں )مجھے یاد نہیں ہے کہ اس نےحضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تھا یا نہیں کیا تھا ۔ وہ لوگ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ حب حضرت عباس رضی اللہ عنہ اندر آنے تو انہوں نے کہا : اے امیر المومنین آپ میرے اور ا ن صاحب کے درمیان فیصلہ کر دیجئے ان دونوں صاحبان کا اس وقت اس چیز کے بارے میں اختلاف ہو گیا تھا جو اللہ تعالی نے بنو نضیر کے اموال میں سے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کیا تھا ۔حاضرین نے کہا : اے امیر المومنین آپ ان دونوں صاحبان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے ۔ اور ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے مطمئن کر دیجئے کیو نکہ ان کا اختلاف طویل ہو چکا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ دونوں کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے حکم کے تحت آسمان اور زمین قائم ہیں ۔ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ با ت ارشاد فرمائی ہے: ''ہماری وراثت نہیں ہوتی ہم جو چھوڑ کے جائیں گے وہ صدقی ہوتا ہے۔'' انہوں نے کہا نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے یہی کلمہ کہا تو ان دونوں نے یہی جواب دیا : جی ہاں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ لوگوں کو اس مال فے کے بارے میں بتاتا ہوں جو اللہ تعالی نے بطور خاص اپنے نبی کر عطا کیا تھا وہ اس نے اپنے نبی کے سوا کسی کو عطا نہیں کیا ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ''اور و ہ چیز اللہ تعالی نے اپنے رسول کو مالِ فے کے طور پر عطا کی ہے اس کے بارے میں تم نے اپنے گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائی ہیں ۔'' تو یہ چیز نبی اکرم ﷺ کے لئے مخصو ص تھی ۔ اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ نے تم کو چھوڑ کا اسے اپنے لئے نہیں رکھا اور نہ ہی اس کے بارے میں آپ لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس چیز کو آپ کے درمیان تقسیم کیا ۔ اسے آپ کے درمیان پھیلا یا یہاں تک اس مال میں سے یہ تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے اپنے گھر والوں کے لئے سال بھر کی خورا ک کا انتظام کرتے تھے۔ بعض اوقات معمر نامی راوی نے یہاں یہ لفط نقل کئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ اس میں سے اپنے گھر والوں کی سال بھر کی خواک کو روک کر رکھتے تھے اور جو مال باقی بچ جاتا تھا اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے تھے۔ جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : نبی اکرم ﷺ کے بعد میں نبی اکرم ﷺ کی پیروی کرنے کا سب سے زیاد ہ حق دار ہوں ۔ میں اس بارے میں وہ کروں گا ' جو نبی اکرم ﷺ کرتے رہے ۔ پھر حضرت عمر 'حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے آپ دونوں صاحبان یہ گمان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس بارے میں ظلم کرنے والے اور گناہ کرنے والے تھے حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے تھے نیکی کرنے والے تھے حق کے پیرو کار تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے اسکا نگران بنایا گیا ۔ یہ میری حکومت کے دو سال کے عرصے کی بات ہے میں نے بھی اس کے بارے میں وہی کچھ کیا جو نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں کرتے رہے۔ آپ دونوں صاحبان کا یہ گمان تھا کہ میں اس کے بارے میں ظلم کرنے والا اور گناہ کرنے والا ہوں حالانکہ اللہ تعالی یہ با ت جانتا ہے کہ میں اس کے بارے میں سچا تھا نیکو کار تھا ۔ حق کی پیریوی کرنے والا تھا پھرآپ دونوں صاحبان میرے پاس آئے ۔ یہ صاحب یعنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے یہ اپنے بھتیجے کی وراثت کے طلبگار تھے اور یہ صاحب یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور یہ اپنی بیوی کی وراثت کا مجھ سے مطالبہ کر رہے تھے تو میں نے آپ دونوں سے کہا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ''ہم لوگوں کی ورثت نہیں ہوتی ہم جو چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہو تا ہے۔'' (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اس کے بعد مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اسے آپ دونوں کے سپر د کر دوں ۔ میں نے آپ دونوں سے اللہ کے نام کا عہد اور پختہ وعدہ لیا کہ آپ اس کے بارے میں وہی عمل کرتے رہیں گے جو اس میں نبی اکرم ﷺ نے کیا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا ار خلیفہ بننے کے بعد میں نے کیا تو آپ دونوں صاحبان نے یہ کہا کہ آپ اس شرط پر ہمارے سپر د کر دیں ۔ اب آپ دونوں کے درمیان اس بارے میں اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں دوں گا اگر آپ دونوں اس کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو آپ یہ میرے سپرد کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد حضر ت علی رضی اللہ عنہ کے پاس وہ زمین آگئیں پھر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں پھر حضرت حسن بن حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں پھر حضرت زید بن حسن کے پاس رہیں معمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں پھر حضرت عبداللہ بن حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی۔

أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6608

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6609

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقْسِمُ وَرَثَتِي بَعْدِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ عِيَالِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي صَدَقَةٌ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ 'نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''میرے ورثا ء میرے بعد دینار تقسیم نہیں کریں گے اپنے گھر والوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کے معاوضے کے بعد جو کچھ میں چھوڑ کر جاؤں وہ صدقہ شمار ہوگا ۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6609

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6610

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ' نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ''میرے ورثا ء دینار تقسیم نہیں کریں گے اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کے معاوضے کے بعد جو کچھ میں چھوڑ کر جاؤں وہ صدقہ شمار ہو گا ۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6610

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6611

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ [ص:581] اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو ا تو آپ کی ازواج نے یہ ارادہ کیا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں تا کہ نبی اکرم ﷺکی طرف سے ملنے والی اپنی وراثت کا مطالبہ کریں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا کیا نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6611

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6612

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «وَاللَّهِ لَا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ مِنْ شَيْءٍ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: '' اللہ کی قسم! میرے ورثا ء دینار تقسیم نہیں کریں گے۔اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کے معاوضے کے بعد جو کچھ میں چھوڑ وں گا وہ صدقہ شمار ہوگا ۔''

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6612

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6613

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَوْتُ، قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَاكَرْبَاهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہائے کتنی تکلیف ہو رہی ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آج کے بعد تمہارے باپ کو کبھی تکلیف نہیں ہوگی۔

فَاطِمَةُ: وَاكَرْبَاهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «لَا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ» ← لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ الْمَوْتُ، ← أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6613

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6614

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نِسَاؤُهُ: انْظُرْ حَيْثُ تُحِبُّ أَنْ تَكُونَ فِيهِ، فَنَحْنُ نَأْتِيكَ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَكُلُّكُنَّ عَلَى [ص:583] ذَلِكَ؟ »، قَالَتْ: نَعَمْ، فَانْتَقَلَ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، فَمَاتَ فِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے تو آپ کی ازواج نے کہا: آپ دیکھ لیں آپ جہاں رہنا چاہتے ہیں (وہان منتقل ہو جائیں ) ہم آپ کی خدمت میں خاضر ہو جایا کریں گی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو کیا تم سب لوگ اس بات پر متفق ہو۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں تو نبی اکرم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو گئے اور وہیں آپ کا انتقال ہوا ۔

نَعَمْ، فَانْتَقَلَ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، فَمَاتَ فِيهِ ← «أَوَكُلُّكُنَّ عَلَى [ص:583] ذَلِكَ؟ ← نِسَاؤُهُ: انْظُرْ حَيْثُ تُحِبُّ أَنْ تَكُونَ فِيهِ، فَنَحْنُ نَأْتِيكَ، ← اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← أَبُو الْعَنْبَسِ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6614

chevron_left Previous
1…414243…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr