صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6177
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ، فَحَدَّثَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ [ص:53] وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا، وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ ذَكَرٌ أَمْ أُثْنَى؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ وَيُكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَجَلُهُ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ وَيَكْتُبُهُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ رِزْقُهُ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ، فَيَأْخُذُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ فَلَا يُزَادُ فِي أَمْرٍ وَلَا يُنْقَصُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » خَلَقَ سَمْعَهَا «مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ لَا أَنَّ الْمَلَكَ يَخْلُقُ»
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتےہیں :بدبخت شخص وہ ہوتا ہے ، جو ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو نیک بخت وہ ہوتا ہے ،جسے دوسرے کے ذریعے نصیحت کی جاسکے۔نبی اکرمﷺ کے صحاب میںسے ایک صاحب تشریف لائے ان کا نام حضرت حذیفہ بن اوسید غفاری ؓ تھا نہیں یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے قول کے طور پر بتائی گئی ،تو انہوں نے بتای میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشادفرماتےہوئے سنا ہے۔ "جب نطقے کو بیالیس (42)دن گزر جاتےہیں ،تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتےکو بھیجتا ہےجو اس کی شکل و صورت متعین کرتاہے اس کی سماعت وبصارت ، اس کی کھال ، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے پھر وہ دریافت کرتاہے اے پروردگار !کیا یہ لڑکا ہوگا یا لڑکی ہوگی ، تو تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ سن دیتاہے فرشتہ اسے نوٹ کرلیتاہے پھر وہ دریافت کرتاہے پروردگار اس کی موت کاوقت کیا ہوگا تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتاہے فیصلہ سنا دیتاہے فرشہ اسے نوٹ کرلیتاہے پھر وہ عرض کرتاہے پروردگار اس کا رزق کتنا ہوگا ، تو تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتاہے وہ فیصلہ سنا دیتاہے ، توفرشتہ وہ صحیفہ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اب اس معاملے میں کوئی اضافہ یاکمہ نہیں ہوسکتی۔" (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :)نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : "اس نےاس کی سماعت کوپیدا کیا " یہ الفاظ لوگوں کے محاورے کے اعتبار سے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہےکہ فرشتہ اس چیز کو پیدا کرتاہے۔
أَبِي الزبير المكي ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ
Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6177
