Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6177

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ، فَحَدَّثَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ [ص:53] وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا، وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ ذَكَرٌ أَمْ أُثْنَى؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ وَيُكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَجَلُهُ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ وَيَكْتُبُهُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ رِزْقُهُ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ، فَيَأْخُذُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ فَلَا يُزَادُ فِي أَمْرٍ وَلَا يُنْقَصُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » خَلَقَ سَمْعَهَا «مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ لَا أَنَّ الْمَلَكَ يَخْلُقُ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتےہیں :بدبخت شخص وہ ہوتا ہے ، جو ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو نیک بخت وہ ہوتا ہے ،جسے دوسرے کے ذریعے نصیحت کی جاسکے۔نبی اکرمﷺ کے صحاب میںسے ایک صاحب تشریف لائے ان کا نام حضرت حذیفہ بن اوسید غفاری ؓ تھا نہیں یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے قول کے طور پر بتائی گئی ،تو انہوں نے بتای میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشادفرماتےہوئے سنا ہے۔ "جب نطقے کو بیالیس (42)دن گزر جاتےہیں ،تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتےکو بھیجتا ہےجو اس کی شکل و صورت متعین کرتاہے اس کی سماعت وبصارت ، اس کی کھال ، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے پھر وہ دریافت کرتاہے اے پروردگار !کیا یہ لڑکا ہوگا یا لڑکی ہوگی ، تو تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ سن دیتاہے فرشتہ اسے نوٹ کرلیتاہے پھر وہ دریافت کرتاہے پروردگار اس کی موت کاوقت کیا ہوگا تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتاہے فیصلہ سنا دیتاہے فرشہ اسے نوٹ کرلیتاہے پھر وہ عرض کرتاہے پروردگار اس کا رزق کتنا ہوگا ، تو تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتاہے وہ فیصلہ سنا دیتاہے ، توفرشتہ وہ صحیفہ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اب اس معاملے میں کوئی اضافہ یاکمہ نہیں ہوسکتی۔" (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :)نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : "اس نےاس کی سماعت کوپیدا کیا " یہ الفاظ لوگوں کے محاورے کے اعتبار سے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہےکہ فرشتہ اس چیز کو پیدا کرتاہے۔

أَبِي الزبير المكي ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6177

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6178

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُنَيْدَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ نَسَمَةً، قَالَ مَلَكُ الْأَرْحَامِ مُعْرِضًا: يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ، ثُمَّ يَكْتُبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَا هُوَ لَاقٍ حَتَّى النَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ کسی جان کو پیداکرنا چاہتاہے ،تو رحم سے متعلق فرشتہ عرض کرتا ہے اے پروردگار !یہ لڑکا ہوگا یا لڑکی ،تو اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے کو سنا دیتا ہے پھر وہ عرض کرتا ہے پروردگار یہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت ہوگا ، تواللہ تعالیٰ اس بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے پھر وہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان وہ سب چیزیں تحریر کر دیتاہے ، جس کا وہ شخص (بڑا ہو کر ) سامنا کرےگا، یہاں تک کہ اسے جوٹھوکر لگے گی (وہ بھی تحریر کر دی جاتی ہے) "۔

أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُنَيْدَةَ ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6178

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6179

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَغْوَيْتَ النَّاسَ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ تَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ عَمِلْتُهُ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ؟ قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى»

حضرت ابوہریرہؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "حضرت آدم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کے درمیان بحث ہوگی حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :آپ وہ حضرت آدم ؑ ہیں ، جہنیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا آپ اپنی روح کو پھونکا ،لیکن آپ نےلوگوں کو گمراہ کردیا اور انہیں منتخب کیا آپ مجھے ایک ایسے عمل کے بارے میں ملامت کررہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کی تخلیق سے پہلے ہی میرے حوالے سے لکھ دیا تھا۔" نبی اکرمﷺ فرماتےہیں ،توحضرت آدم ؑ حضرت موسیٰ ؑ پر غالب آگئے۔

"احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى". ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6179

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6180

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بَأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى»

حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتےہیں :انہیں نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کاپتہ چلا ہے : ایک مرتبہ حضرت آدم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کےدرمیان بحث ہوگئی حضرت موسیٰ ﷺ نے کہا: اے (حضرت )آدم (ؑ)آپ ہمارے جدامجد ہیں آپ نےہمیں رسوائی کا شکار کیا اور ہمیں جنت سے نکلوادیا ۔ حضرت آدم ؑ نے ان سے فرمایا:اے موسیٰ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کےلیے تمہیں منتخب کیا اور اپنے دست قدرت کے ذریعے تمہارے لیے (تورات کو) تحریر کیا تم ایک ایسے مسئلے کے بارے میں مجھے ملامت کررہےہو ، جو میری تخلیق سے چالیس سال پہلے میرے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں ،تو حضرت آدم ؑ حضرت موسیٰ ؑ پر غالب آگئے حضرت آدم ؑ حضرت موسیٰ ؑپر غالب آگئے حضرت آدم ؑ حضرت موسیٰ پر غالب آگئے۔

"احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى". ← أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ الصَّیْرَفِیُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6180

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6181

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مِنْ أَدِيمِ الْأَرْضِ كُلِّهَا، فَخَرَجَتْ ذُرِّيَّتُهُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ فَمِنْهُمُ الْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَصْفَرُ، وَمِنْهُمْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَالْخَبِيثُ وَالطِّيبُ»

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو تمام روئے زمین سے پیدا کیا ہے ، تو ان کی ذریت اسی حساب سے ہوگی ان میں سے کچھ لوگ سیاہ ہیں کچھ سفید ہیں کچھ سرخ ہیں کچھ زرد ہیں کچھ ان کے درمیان ہیں کوئی آسان ہے کوئی غمگین ہے کوئی خراب ہے کوئی عمدہ ہے۔"

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6181

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6182

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ، بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: [ص:61] قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: يَا أَبَا الْأَسْوَدِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتُّخِذَتْ بِهِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَيَكُونُ ذَلِكَ ظُلْمًا؟ قَالَ: فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا، فَقُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ إِلَّا خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ، مَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يَسْأَلُونَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: سَدَّدَكَ اللَّهُ أَوْ وَفَّقَكَ اللَّهُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُكَ إِلَّا لِأَحْزِرَ عَقْلَكَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ، أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَاتُّخِذَتْ عَلَيْهِمْ بِهِ الْحُجَّةُ؟ فَقَالَ: «بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ»، قَالَ: فَلِمَ نَعْمَلُ إِذًا؟ قَالَ: «مَنْ كَانَ اللَّهُ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ فَهُوَ يُسْتَعْمَلُ لَهَا، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: {وَنَفَسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا} [الشمس: 8]»

ابو اسود دیلی بیان کرتےہیں :حضرت عمران بن حصین ؓ نے مجھ سے فرمایا:اے ابو اسود تمہاری کیا رائے ہے آج لوگ جو عمل کررہے ہیں اور اس بارے میں جو کوشش کررہے ہیں کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے ، جس کے بارے میں ان کے لیے فیصلہ ہوچکا ہے اور سب کچھ طے ہو چکا ہے یا پھر وہ نئے سرے سے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں جو نبی اکرمﷺ ان کے پاس تعلیمات لے کے آئے تھے کیا اس وجہ سے ان کے خلاف پیش کی جاسکتی ہے؟ میں نےکہا :بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے ،جس کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے ، جو پہلے گزرچکا ہے ۔حضرت عمران ؓ نےکہا :پھر ،تو یہ ظلم ہوگا ۔راوی کہتےہیں: میں اس بات پر بہت گھبرگیا میں نے کہا :ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کی بادشاہی کے دست قدرت میں ہے اس سے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا جو وہ کرتا ہے ، البتہ لوگون سے یہ سوال کیا جائے گا ، تو حضرت عمران ؓنے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک رکھا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے ۔ اللہ کی قسم ! میں نے تم سے یہ سوال صرف اس لیے کیا تھا ،تاکہ تمہاری عقل کے بارے میں اندازہ لگا سکوں (پھر انہوں نے بتایا)

أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6182

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6183

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "نو مولود بچہ اس وقت چیخ کرروتاہے ،جب شیطان اسے ٹھوکر مارتاہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6183

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6184

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، [ص:63] قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ»، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ: وَيَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، وَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا كَانَ مِنْهُ الشَّبَهُ»

حضرت انس ؓبیان کرتےہیں :سیدہ ام سلیم ؓ نے نبی اکرمﷺ سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے ، جو مرد دیکھتا ہے(یعنی اس خاتون کو احتلام ہو جاتا ہے) نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا: اے ام سلیم جب عورت یہ چیز دیکھے ،تو اسے غسل کرنا چاہئے ۔ سیدہ اُمّ سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں : مجھے اس بات سے شرم آگئی (میں نے عرض کی )یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا ایسا بھی ہوتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی ہاں مردکا مادہ تولید گاڑھا اور سفید ہوتا ہے ، جب کہ عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتاہے ان میں سے جو سبقت لےجائے (راوی کو شک ہے یہ الفاظ ہیں غالب آجائے ،بچے کی مشابہت اسی سے ہوتی ہے۔

أُمُّ سَلَمَةَ، وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ: وَيَكُونُ ذَلِكَ ← النَّبِيُّ لَهَا: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ»، ← الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، ← أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، [ص:63] ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6184

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6185

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ كَانَ الشَّبَهُ»

حضرت انس ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "مرد کا مادہ تولید گاڑھا اور سفید ہوتا ہے ، جبکہ عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتاہے ان میں سے جو سبقت لے جائے (بچے کی ) مشابہت )اسی کے ساتھ ہوتی ہے) "۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6185

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6186

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:64] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ آدَمَ لَمَّا أُهْبِطَ إِلَى الْأَرْضِ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: أَيْ رَبِّ {أَتَجْعَلُ فِيهَا مِنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [البقرة: 30]، قَالُوا: رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ، قَالَ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلَانِ، قَالُوا: رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ، قَالَ: فَاهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ: فَمُثِّلَتْ لَهُمُ الزَّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَاءَاهَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ، قَالَا: وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ، فَقَالَا: لَا وَاللَّهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحٍ مِنْ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ فَشَرِبَا فَسَكِرَا فَوَقَعَا عَلَيْهَا وَقَتَلَا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَفَاقَا، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا مِنْ شَيْءٍ أَثِيمًا إِلَّا فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا، فَخُيِّرَا عِنْدَ ذَلِكَ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الزَّهْرَةُ هَذِهِ امْرَأَةٌ كَانَتْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، لَا أَنَّهَا الزَّهْرَةُ الَّتِي هِيَ فِي السَّمَاءِ الَّتِي هِيَ مِنَ الْخُنَّسِ»

ٖرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتےہیں:میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے ،جب حضرت آدم ؑ کو زمین پر اتار اگیا ، تو فرشتوں نےکہا :اے پروردگار ! "کیا تواس میں اسے (اپنا خلیفہ ) بنا رہا ہے ،جو اس میں فساد کرےگا ار خون بہائے گا جب کہ ہم تیری حمد کے ہمراہ تسبیح بیان کرتےہیں اور تیری پاکی بیان کرتےہیں"۔ تو پروردگار نے فرمایا: میں وہ علم رکھتا ہو ں جو تم نہیں جانتے"ان فرشتوں نے عرض کی :ہم اولاد آدم کے مقابلے میں تیرے زیادہ فرمانبردار ہیں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایاتم فرشتون میں سے کوئی سے دو فرشتے لے آؤ تو ہم اس بات کو ظاہر کردیں گے کہ وہ کیا عمل کرتےہیں ان لوگوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ہاروت اور ماروت (بیش خدمت ہیں ) ،تو پروردگار نے فرمایا: تم دونوں زمین پر اتر جاؤ۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :ان کے سامنے زہرہ نام کی ایک خوبصورت ترین عورت آئی وہ دونوں اس کےپاس آئے انہوں نے اس سے زنا کی خواہش کا اظہار کیا ،تو اس نےکہا :جی نہیں ۔اللہ کی قسم! جب تک تم لوگ یہ شرکیہ کلمہ نہیں کہو گے (میں تمہارے ساتھ زنا نہیں کروں گی ) ان دونوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم کبھی بھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں قرار دیں گے وہ ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی پھر وہ ایک بچے کو گود میں اٹھا کر واپس آئی ان دونوں نے پھر اس نے سامنے زنا کی خواہش کا اظہار کیا ،تو اس نے کہا :جی نہیں اللہ کی قسم ! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرتے(میں تمہاری بات نہیں مانوں گی ) ان دونوں نے کہا : جی نہیں اللہ کی قسم ! ہم کبھی قتل نہیں کریں گے وہ پھر چلی گئی پھر وہ شراب کا پیالہ اٹھا کر چلی آئی پھر ان دونوں نے اس سے خواہش کا اظہار کیا اس نے کہا :جی نہیں ۔اللہ کی قسم !جب تک تم یہ شراب نہیں پیتے (میں تمہاری خواہش پوری نہیں کروں گی ) ان دونوں نے شراب پی لی دو دونوں مدہوش ہو گئے انہوں نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس بچے کو قتل بھی کر دیا جب انہیں ہوش آیا ،تو اس عورت نے کہا :اللہ کی قسم! تم نے ہر گناہ اسی وقت کیا جب تم دونوں مدہوش ہوگئے تھے ۔ (نبی اکرم ﷺ فرماتےہیں ) پھر ان دونوں کو اس وقت دنیاوی عذاب اور آخرت کے عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا ،تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کرلیا۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں:) ایک عورت تھی جو اس زمانے میں موجود تھی اس سے مرادزہرہ نامی ستارہ نہیں ہے ،جو آسمان میں ہوتا ہے ، جو خنس (چھپنے والے ستاروں ) میں سے ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6186

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6187

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ [ص:67] أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتےہیں :میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتےہوئے سناہے ۔ "ابلیس کا تخت پانی پر ہوتا ہے پھر وہ اپنی مہم روانہ کرتا ہے ان میں سے اس کے نزدیک زیادہ عظیم وہ ہوتا ہے ، جو زیادہ فتنہ پیدا کرے۔"

«عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ [ص:67] أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً» ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6187

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6188

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُورِ بْنِ سَيَّارٍ بِأَرْغِيَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَجِدُ فِي صَدْرِيَ الشَّيْءَ لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتےہیں :ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی :یارسول اللہ(ﷺ)! مجھے اپنے ذہن میں ایساخیال محسوس ہوتاہے کہ میں جل کر کوئلہ ہوجاؤں گا یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس خیال کے بارے میں کوئی بات کروں ،تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ اکبر ،الل اکبر، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کےلیے مخصوص ہے، جس نے اس معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُورِ بْنِ سَيَّارٍ بِأَرْغِيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6188

chevron_left Previous
1…404142…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr