Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6226

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَكَ الْعَيْنُ، وَنَقَهَتْ لَكَ النَّفْسُ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ [ص:119] مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ، إِنَّ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى»

حضرت عبداللہ بن عمروؓبیان کرتےہیں:نبی اکرمﷺ نےمجھ سے فرمایامجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھتےہو اور رات بھر نفل پڑھتےرہتےہو تم اس طرح کروگے ۔تو تمہاری آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اورتمہارا جسم کمزور ہوجائےگا،جو شخص روزانہ نفلی روزہ رکھتاہے اس نے درحقیقت روزہ نہیں رکھا ہر مہینے کے تین روزے رکھنا پورامہینہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے ۔ حضرت داؤد ؑ ایک دن روزہ رکھا کرتےتھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھا کرتےتھے اور وہ جب دشمن کا سامنا کرتے تھے ،تو فرار اختیار نہیں کرتےتھے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← ابا العباس ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 6226

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6227

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ دَاوُدُ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمِلِ يَدِهِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓروایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "حضرت داؤد ؑ اپنےہاتھ سے کام کر کے (اس کی کمائی) کھایا کرتے تھے۔"

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «كَانَ دَاوُدُ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمِلِ يَدِهِ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 6227

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6228

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ فَقَالَ: «الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى»، قُلْتُ: فَكَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ سَنَةً، ثُمَّ حَيْثُ مَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ، فَصَلِّ، فَهُوَ لَكَ مَسْجِدٌ»

حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتےہیں :میں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا:مسجد حرام میں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! پھر کون سی بنائی گئی آپ نے فرمایا:مسجد اقصیٰ میں نے دریافتر کیا ان کے درمیان کتنی مدت ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: چالیس سال (پھر آپ نے فرمایا)تمہیں جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے وہاں نماز اداکر لو وہ تمہارے لئے مسجد ہی ہو گی۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 6228

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6229

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:121] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا أُمْطِرَ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ: يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أُغْنِكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَا غِنَى لِي عَنْ رَحْمَتِكَ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "ایک مرتبہ حضرت ایوبؑ برہنہ ہو کر غسل کررہے تھے ۔اسی دوران ان پر سونے کی بنی ٹڈیوں کی بارش ہوئی ۔ حضرت ایوب ؑ نے انہیں اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنا شروع کردیا ۔ ان کے پروردگار نے انہیں پکار ا اے ایوب ؑ کیا میں تمہیں اس چیز سے بے نیاز نہیں کیا جو تم دیکھ رہے ہو ۔ انہوں نے عرض کی :جی ہاں ، لیکن میں تیری رحمت سے بے نیاز نہیں ہوں ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:24] ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6229

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6230

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أُمْطِرَ عَلَى أَيُّوبَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَأْخُذُهُ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى لِي عَنْ فَضْلِكَ»

حضرت ابوہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "حضرت ایوبؑ پر سونے کے بنے ہوئے پتنگوں کی بارش ہوئی ۔ انہوں نے انہیں پکڑنا شروع کردیا ۔اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل کی کیا میں نے تمہیں وسعت عطا نہیں کی :جی ہاں اے میرے پروردگار ،لیکن میں تیرے فضل سےبے نیاز نہیں ہوسکتا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَزْدِيُّ،

Hadith 6230

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6231

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ، قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً، مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ [ص:123] قَطَطٍ أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيَمِينِ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "گزشتہ رات میں نے خود کو خانہ کعبہ کے پاس دیکھا میں نے گندمی رنگ کےایک شخص کو دیکھا جو اتنے خوبصورت تھے جو تم نے گندمی رنگ کے سب سے زیادہ خوبصورت آدمی کو دیکھا ہو ان کے لمبے بال تھے ۔تم نے سب سے خوبصورت بال جو بھی دیکھیں ہوں (وہ ویسے ہی تھے) انہوں نے ان بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور اس میں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے وہ آدمیوں (راوی کو شک ہے شاید الفاظ ہیں ) دو آدمیوں کے کندھوں پر ٹیک لگا کر بیت اللہ کا طواف کررہے تھے۔ میں نے دریافت کیا یہ کون صاحب ہیں،تو لوگوں نے بتایا یہ حضرت عیسیٰ بن مریم ہےپھر میں نے گھنگھریالے بالوں والے ایک شخص کو دیکھا جس کی دائیں آنکھ کانی تھی ۔ اس کی آنکھ پر پھولے ہوئے انگور کی طرح تھی ۔میں نے دریافت کیا یہ کون شخص ہے، تو لوگوں نے بتایا:یہ دجال ہے۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 6231

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6232

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، [ص:124] عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ، فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ وَأَشَدُّهُ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَرَأَيْتُ أَقْرَبَ النَّاسِ شَبَهًا صَاحِبَكُمْ، يَعْنِي نَفْسَهُ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ وَأَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ»

حضرت جاجرؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "میرے سامنے انبیاء کو پیش کیا گیا ،تو حضرت موسیٰ ؑ ایسے شخص تھے جیسے ان کا تعلق شنودۂ قبیلے سے ہو پھر میں نے حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کو دیکھا ،تو وہ عروہ بن مسعود کی شکل سے مشابہت رکھتے تھے پھر میں نے حضرت ابراہیم کو دیکھا تو وہ تمہارے آقا کے ساتھ مشابہت رکھتےتھے ۔(راوی کہتےہیں : نبی اکرمﷺ کی مراد آپ کی اپنی ذات تھی ) میں نے جبرائیل کو دیکھا ،تو ان کی شکل وصورت "وحیہ " جیسی تھی۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 6232

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6233

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ زَيْدًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْحَارِثَ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ يَعْمَلُ بِهِنَّ، وَيَأْمُرُ بَنِي إِسْرَائِيلِ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، وَإِنَّ عِيسَى قَالَ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَرَكَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ تَعْمَلُ بِهِنَّ وَتَأْمُرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، فَإِمَّا أَنْ تَأْمُرَهُمْ، وَإِمَّا أَنْ آمُرَهُمْ، قَالَ: [ص:125] فَجَمَعَ النَّاسَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلَأَتْ وَجَلَسُوا عَلَى الشَّرُفَاتِ فَوَعَظَهُمْ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَعْمَلُ بِهِنَّ وَآمُرُكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ: أَوَّلُهُنَّ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَمَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا بِخَالِصِ مَالِهِ بِذَهَبٍ أَوْ وَرَقٍ، وَقَالَ لَهُ: هَذِهِ دَارِي، وَهَذَا عَمَلِي فَجَعَلَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي إِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ، فَأَيُّكُمْ يَسُرُّهُ أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ هَكَذَا، وَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ، فَاعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَآمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَلَا تَلْتَفِتُوا فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَمْ يَلْتَفِتِ اسْتَقْبَلَهُ جَلَّ وَعَلَا بِوَجْهِهِ، وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَهُ صُرَّةٌ فِيهَا مِسْكٌ، وَعِنْدَهُ عِصَابَةٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَجِدُوا رِيحَهَا، فَإِنَّ الصِّيَامَ عِنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ، وَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُو فَأَوْثَقُوا يَدَهُ إِلَى عُنُقِهِ، وَأَرَادُوا أَنْ يَضْرِبُوا عُنُقَهُ، فَقَالَ: هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْدِيَ نَفْسِي فَجَعَلَ يُعْطِيهِمُ الْقَلِيلَ وَالْكَثِيرَ لِيَفُكَّ نَفْسَهُ مِنْهُمْ، وَآمُرُكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ، فَأَتَى عَلَى حُصَيْنٍ، فَأَحْرَزَ نَفْسَهُ فِيهِ، فَكَذَلِكَ الْعَبْدُ لَا يُحْرِزُ نَفْسَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ»، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ أَمَرَنِي اللَّهُ بِهَا: بِالْجَمَاعَةِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالْهِجْرَةِ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، [ص:126] فَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبَقَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يُرَاجِعَ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ»، قَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى؟ قَالَ: «وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى، فَادْعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْأَمْرُ بِالْجَمَاعَةِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ الْخَاصُّ، لِأَنَّ الْجَمَاعَةَ هِيَ إِجْمَاعُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ [ص:127] لَزِمَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ وَشَذَّ عَنْ مَنْ بَعْدَهُمْ لَمْ يَكُنْ بِشَاقٍّ لِلْجَمَاعَةِ، وَلَا مُفَارِقٍ لَهَا، وَمَنْ شَذَّ عَنْهُمْ وَتَبِعَ مَنْ بَعْدَهُمْ كَانَ شَاقًّا لِلْجَمَاعَةِ، وَالْجَمَاعَةُ بَعْدَ الصَّحَابَةِ هُمْ أَقْوَامٌ اجْتَمَعَ فِيهِمُ الدِّينُ وَالْعَقْلُ وَالْعِلْمُ، وَلَزِمُوا تَرْكَ الْهَوَى فِيمَا هُمْ فِيهِ، وَإِنْ قَلَّتْ أَعْدَادُهُمْ، لَا أَوْبَاشُ النَّاسِ وَرِعَاعُهُمْ، وَإِنْ كَثُرُوا، وَالْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ هَذَا: هُوَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ، اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ مَالِكٍ، مِنْ سَاكِنِي الشَّامِ»

حضرت حارث اشعریؓ روایت کرتےہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ بن زکریا کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی اس بات کی ہدایت کریں کہ وہ لوگ ان پر عمل کریں حضرت عیسیٰ نے ان سے کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ باتوں کا حکم دیا ہے ۔آپ ان پر عمل کریں ۔ بنی اسرائیل کو بھی ہدایت کریں کہ وہ ان پر عمل کریں یا ،تو آپ بنی اسرائیل کو ان کا حکم دیدیں ، یا پھر میں حکم دیدیتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ کہتےہیں :انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا ،یہاں تک کہ وہ بھر گیا اور لوگ اس کے بالا خانوں میں بھی بیٹھ گئے ۔ انہوں نے ان لوگوں کو وعظ کرنا شروع کیا اور یہ کہا بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کاحکم دیا ہے کہ میں ان پر عمل کروں اور تم لوگوں کو بھی اس بات کی ہدایت کروں کہ تم ان پر عمل کرو ۔ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اورکسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ۔اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے ، جو خاص اپنے مال میں سے سونے یا چاندی کے عوض میں کوئی غلام خرید تاہے اور اسے کہتا ہے کہ میرا گھر یہ میرا کام ہے ، لیکن وہ غلام کام کرکے اپنا آقا کی بجائے کسی اور کے حوالےکردیتا ہے ،تو تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ اس کاغلام اس طرح کاہو بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو پیدا کیاہے ۔ اس نے تمہیں رزق عطا کیا ہے تم اسی کی عبادت کرواور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ میں تمہیں نماز پڑھنے کی بھی ہدایت کرتاہوں جب تم نماز پڑھو ،تو اِدھر اُدھر توجہ نہ کرو کیونکہ بندہ جب (نماز پڑھ رہا ہوتا ہے )اور وہ ادھر ادھر توجہ نہیں کرتا ، تو اس کا پروردگار اس کے سامنے ہوتاہے اور میں تمہیں روزہ رکھنے کاحکم دیتا ہوں ۔اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ،جس کے پاس ایک ایسی تھیلی ہو،جس میں مشک موجود ہوا اور اس کے پاس کچھ لوگ موجود ہوں، جنہیں یہ بات پسند ہو کہ وہ اس خوشبو کو حاصل کریں ،تو روزہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مشکوک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔میں تمہیں صدقہ کرنے کاحکم کرتاہوں ۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ،جسے دشمن قید کرلیتےہیں اور اس کے ہاتھ اس کی گردن پر باندھ دیتے ہیں ۔وہ اس کی گردن اڑانے کاارادہ کرتےہیں وہ شخص یہ کہتا ہے کیا میں تمہیں اپنی ذات کا فدیہ دے دوں ، تو وہ انہیں تھوڑا اورزیادہ (فدیہ دینے کی پیشکش) کرتاہے ،تاکہ ان لوگوں سے اپنے آپ کو چھڑٓ لے ۔ میں تمہیں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیتاہوں کیونکہ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جس کے پیچھے دشمن تیز رفتار ی سے لگا ہوا ہو اور پھر وہ شخص ایک قلعہ کے پاس آجائے اور اپنے آپ کو اس میں داخل کرکے محفوظ کرلے ۔ اسی طرح بندہ اپنے آپ کو شیطان سے صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے ہی محفوظ کرسکتا ہے ۔ اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا:میں تمہیں پانچ باتوں کے ذکر کا حکم دیتا ہو ں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نےمجھے حکم دیا ہے کہ مسلمانوں کی (جماعت کے ساتھ رہنا) حاکم وقت کی اطاعت وفرمانبرداری کرنا ہجرت کرنا اللہ کی راہ میں جہان کرنا جو شخص (مسلمانوں کی )جماعت سے ایک بالشت الگ ہوتا ہے وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دیتاہے ۔ اس وقت تک ، جب تک وہ واپس نہیں آجاتا اور جو شخص زمانہ جاہلیت کا سادعویٰ کرتا ہے وہ جہنم میں روئے گا ۔ ایک شخص نے عرض کی :اگر چہ وہ روزہ رکھتا ہو نماز پڑھتاہو۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو تم لوگ (ایک دوسرے کو)اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ نام کے ذریعے بلاؤ اس نے تمہیں مسلمان اورمومن کانام دیا ہے اے اللہ کے بندو! (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں ) جماعت کے ساتھ رہنےکا حکم الفاظ کے عموم کے ذریعے ہے ، لیکن اس کے ذریعے خاص مفہوم مراد ہےکیونکہ جماعت سے مراد نبی اکرمﷺ کے صحاب کا متفق ہونا ہے، تو جو شخص اس چیز کو لازم پکڑے جس پر صحابہ کرامؓ کا اتفاق تھا اور ان کے بعد آنے والے لوگوں سے مختلف رائے اختیار کرے وہ جماعت سے علیحدہ ہونے والا یا اس کو ترک کرنے والا شمار نہیں ہوگا ، لیکن جو شخص صحابہ کی جماعت سے علیحدہ ہوجائے اور ان کے بعد میں آنے والوں میں سے کسی کی پیروی کرے وہ جماعت سے الگ ہونےوالا شمار ہوگا ۔ صحابہ کرام ؓ کےبعد جماعت مختلف قسم کے لوگ ہیں جن میں دین عقل اور علم کا اتفاق ہوا اور ان لوگوں نے خواہش نفس کی پیروی کو ترک کیا ۔ اگرچہ ان کی تعداد بہت تھوڑی سی ہے ۔ اس سے مراد عام اور فضول لوگ نہیں ہیں اگرچہ ان کی تعداد زیادہ ہے۔ حارث اشعری نامی راوی حضرت ابو مالک اشعری ؓ ہیں ان کانام حارث بن مالک ہے اور یہ شام میں رہائش پذیر تھے۔

أَنَّ الْحَارِثَ الْأَشْعَرِيَّ ← أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ زَيْدًا، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 6233

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6234

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ»

حضرت ابو ہریرہؓ ،نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتےہیں: "اولاد آدم میں سے جس (بچے کو )اس کی والدہ جہنم دیتی ہے تو شیطان اسےمس کرتا ہے ۔ صرف سیّدہ مریم ؓ اور ان کے صاحب زادے حضرت عیسیٰ ؑ کا معاملہ ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 6234

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6235

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا إِلَّا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ وَابْنَهَا، إِنْ شِئْتُمُ اقْرَءُوا: {إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ} [آل عمران: 36]»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے شیطان اسے مس کرتاہے ،جس کی وجہ سے وہ بلند آواز میں روتا ہے صرف عمران کی صاحب زادی بی بی مریم اور ان کے صاحب زادے (حضرت عیسی ٰ) کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اگر تم چاہو ،تو یہ آیت تلاوت کرلو۔ "بے شک میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان (کے شر سے ) تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 6235

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6236

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ دَاوُدَ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِهِ، فَمَا فُتِنُوا وَلَا بَدَّلُوا، وَلَقَدْ مَكَثَ أَصْحَابُ الْمَسِيحِ عَلَى سُنَّتِهِ وَهَدْيِهِ مِائَتَيْ سَنَةٍ»

حضرت ابودرداء ؓروایت کرتےہیں،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کے ساتھیوں کے درمیان ان کی روح کو قبض کرلیا ،تو وہ آزمائش میں مبتلا نہیں ہوئے اور انہوں نے (دین کے احکام میں ) تبدیلی نہیں کی حضرت عیسی ٰؑ کے ساتھی دوسو سال تک ان کی سنت اور ہدایت پرکار بند رہے۔"

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ← الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو هَمَّامٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 6236

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6237

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، [ص:131] عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ»

حضرت ابو سعید خدری ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: "انبیاء کے درمیان کسی ایک کو دوسرے سے بہتر قرار نہ دو۔"

«لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ، [ص:184] ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 6237

chevron_left Previous
12345…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr