Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6153

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ؟ »، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «فَإِنَّهَا تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرَّ سَاجِدَةً، فَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ فَتَطْلُعُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجِيءُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرَّ سَاجِدَةً، فَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ، فَتَطْلُعُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجِيءُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرَّ سَاجِدَةً فَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ [ص:22] فَتَرْجِعُ فَتَطْلُعُ مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجْرِي لَا يَسْتَنْكِرُ النَّاسُ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّى تَنْتَهِي إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَيُقَالُ لَهَا: ارْتَفِعِي فَاطْلُعِي مِنْ مَغْرِبِكِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَدْرُونَ مَتَى ذَلِكَ؟ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَكَذَا قَالَ إِسْحَاقُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، وَالْمَشْهُورُ هَذَا الْخَبَرُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ»

حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتےہیں:نبی اکرمﷺ نےفرمایا:کیا تم لوگ جانتےہو سورج کہاں جاتا ہے ۔ لوگوں نے عرض کی :اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتےہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:یہ چلتا رہتا ہے ،یہاں تک کہ یہ عرش کے نیچے اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچ جاتا ہے ،تو سجدے میں گر جاتا ہے اس کے بعد یہ اسی حالت میں رہتا ہے ،یہاں تک کہ اسے یہ کہا جاتا ہے تم اپنے سر کو اٹھا ؤ اور وہاں چلےجاؤ جہاں سے تم آئےہو ،تو واپس آتا ہے اور اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے پھر وہ آتا ہے ،یہان تک کہ اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچ جاتا ہے ،جو عرش کے نیچے ہے پھر وہ سجدے میں چلا جاتا ہے اور سجدے کی حالت میں رہتا ہے ،یہاں تک کہ اسے یہ کہا جاتا ہے اپنا سر اٹھاؤ اور واپس چلے جاؤ جہاں سے آئے ہو ،تو وہ واپس آجاتا ہے اور اپنے مخصوص مقام سے طلوع ہوتا ہے پھر وہ آتا ہے اور عرش کے نیچے اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچ جاتا ہے اور سجدے میں چلا جاتا ہے پھر وہ اسی حالت میں رہتا ہے ، یہاں تک کہ اسے یہ کہا جاتا ہے تم اپنے سرکو اٹھاؤ اور جہاں سے آئے ہو وہاں واپس چلے جاؤ وہ واپس چلا جاتا ہے اور اپنے مخصوص مقام سے طلوع ہوتا ہے پھر وہ چلتا رہتا ہے ۔لوگوں کو اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی ،یہاں تک کہ ایک مرتبہ وہ عرش کے نیچے اپنے مخصوص ٹھکانےتک پہنچے گا،تو اسے کہا جائے گا تم سر کو اٹھاؤ اور مغرب کی اطراف سے طلوع ہوجاؤ ،تو وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا :کیا تم لوگ جانتےہو ایسا کب ہوگا؟ اس وقت جب کسی ایسے شخص کو ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا ،جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا جس نے اپنے ایمان میں بھلائی نہیں کمائی تھی ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6153

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6154

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ؟ »، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «تَذْهَبُ حَتَّى تَنْتَهِيَ تَحْتَ الْعَرْشِ عِنْدَ رَبِّهَا، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ، فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَتُوشِكُ أَنْ تَسْتَأْذِنَ فَلَا يُؤْذَنُ لَهَا، وَتَسْتَشْفِعَ وَتَطْلُبَ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ قِيلَ لَهَا: اطْلَعِي مِنْ مَكَانِكِ، فَهُوَ قَوْلُهُ {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ [ص:25] الْعَلِيمِ} [يس: 38]»

حضرت ابو ذرغفاری ؓبیان کرتےہیں :سورج غروب ہونے کے قریب ،میں نبی اکرمﷺ کےساتھ مسجد میں موجود تھا آپ ﷺ نے دریافت کیا:کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی :اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتےہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :یہ جاتا ہے ،یہاں تک کہ یہ عرش کے نیچے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے پھر اجازت مانگتا ہے ،تو اسے اجازت ملتی ہے عنقریب ایسا وقت آئے گا یہ اجازت مانگے گا ،تو اسے اجازت نہیں ملے گی وہ اس سے سفارش طلب کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے ،جب اس طرح کی صورت حال ہوتی ہے ، تو اسے کہا جاتا ہے تم اپنی جگہ سے طلوع ہو جاؤ ۔اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: "سورج اپنے مخصوص راستے پر چلتا ہے یہ غالب اور علم رکھنے والی ذات کا مقرر کردہ (نظام ) ہے"۔

«أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ؟ فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. ← كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← الْمُلَائِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6154

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6155

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا قَدْ وُصِفَ لَكُمْ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "فرشتوں کو نور سے پیدا کیاگیا ہے جنات کو آگ سے پیداکیا گیا ہےاور انسانوں کو اس چیز سے پیدا کیاگیا ہے، جس کے بارے میں تمہیں بتایاگیا ہے۔"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6155

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6156

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْجِنُّ عَلَى ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: صِنْفٌ كِلَابٌ وَحَيَّاتٌ، وَصِنْفٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ، وَصِنْفٌ يَحُلُّونَ وَيَظْعَنُونَ»

حضرت ابو لثلبہ حشنی ؓ بیان کرتےہیں ،میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے:

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرِ بْنِ كُرَيْبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6156

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6157

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ صَيْفِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، مَوْلَى الْأَنْصَارِ أَخْبَرَ بِهِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ، عِنْدَهُ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ، فَقُمْتُ. فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَيَّةٌ هَاهُنَا. قَالَ: فَتُرِيدُ مَاذَا؟ قُلْتُ: أُرِيدُ قَتْلَهَا. قَالَ: فَأَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي دَارٍ فَعَايَنْتُهُ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَى أَهْلِهِ، وَكَانَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ، فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ، فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ. فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي، فَدَخَلَ الْبَيْتَ، فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ، فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ. فَقَالَ: لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَمِ الْحَيَّةُ، فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا، فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ». ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ بِالْمَدِينَةِ قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلَاثِ»

ابو سائب بیان کرتےہیں: میں حضرت ابو سعید خدری ؓکی خدمت میں حاضر ہوا میں ان کے پاس بیٹھا ہو اتھا اسی دوران مجھے ان کے پلنگ کے نیچے کسی چیز حرکت کرنے کی آواز محسوس ہوئی میں نے جائزہ لیا، تو وہاںسانپ موجود تھا،توحضرت ابو سعید خدری ؓ نے دریافت کیا ہو اہے میں نے کہا:یہاں سانپ موجود ہے۔ انہوں نے دریافت کیا تم کیا کرنا چاہتےہو ۔ میں نے جواب دیا :میں اسے مارنا چاہتاہوں ،تو حضرت ابو سعید خدری ؓ نے اس محلے میں موجود ایک گھر کی طرف اشارہ کیا جو مجھے نظر آرہا تھا ۔ انہوں نے فرماہا:میرا چچا زاد اس گھر میں رہتا تھا غزوۂ احزاب کے موقع پر اس نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگی اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی نبی اکرمﷺ نے اسے اجازت دیدی ۔ آپﷺ نے اسے ہدایت کی کہ وہ اپنے ہتھیارساتھ لے کر جائے جب وہ اپنا محلّہ میں آیا ،تو اس نے اپنی بیوی کو گھر کے دروازے پر کھڑا ہوا پایا اس نے نیزے کے ذریعے اس عورت کی طرف اشارہ کیا اس عورت نے کہا :آپ میرے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیجئے پہلے اس بات کا جائزہ لیں میں کیوں باہر آئی ہوں ۔ وہ شخص گھر کے اندر گیا وہاں ایک عجیب وغریب سانپ موجود تھا اس نے اپنے نیزے سے سانپ کو مارا اور پھر اسے اس نیزے میں پررو کر باہر لے آیا وہ سانپ ہل جل رہا تھا ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتےہیں :مجھے نہیں پتہ کہ ان دونوں میں سے کون جلدی مرا؟ وہ آدمی یا سانپ ۔ اس کی قوم کے افراد نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے ساتھی کو واپس کر دے ۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: تم اپنے ساتھی کےلیے دعا مغفرت کرو پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :کچھ جنات مدینہ منورہ میں رہتے ہین جو اسلام قبول کر چکے ہیں جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو ،تو تین مرتبہ ڈراؤ پھر وہ تمہارے سامنے آجائے ، تو تم اسے قتل کرو تم تین مرتبہ (اسے ڈرانے کے بعد )پھر قتل کرنا۔

أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَيَّةٌ هَاهُنَا. ← تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ، فَقُمْتُ. ← جَالِسٌ، عِنْدَهُ ← أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَبَيْنَا ← أَبِي السَّائِبِ ← صَيْفِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، مَوْلَى الْأَنْصَارِ أَخْبَرَ بِهِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6157

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6158

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ: «لَقِيدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ لَهُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: " اللہ کی قسم ! جنت میں کسی شخص کے کوڑا رکھنے کی جگہ اس کےلیے آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہر چیز سے زیادہ بہتر ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6158

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6159

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ، أَخَا بَنِي فِهْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَضَعُ أَحَدُكُمْ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ»

مستور دجن کاتعلق بنو فہر سے ہے وبیان کرتےہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے۔ "آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال اس طرح ہے ، جس طرح کوئی شخص اپنی شہادت کی انگلی کو سمندر میں داخؒ کرے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ وہ کس چیز (یعنی کتنے پانے) کے ہمراہ واپس آئی ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← المستورد أخا بني فهر ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6159

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6160

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، سَمِعَ قَسَامَةَ بْنَ زُهَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ، مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَصْفَرُ، وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَالْخَبِيثُ وَالطِّيبُ»

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، ← قَسَامَةَ بْنَ زُهَيْرٍ، أَنَّهُ ← عَوْفٌ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6160

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6161

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَقَالَ: «خَلَقَ اللَّهُ تَعَالَى التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ آخِرِ الْخَلْقِ مِنْ آخِرِ السَّاعَةِ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ»

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا۔ "اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن مٹی کو (یعنی زمین کو) پیدا کیا، اتوار کے دن اس نے زمین میں پہاڑ بنائے ، پیر کے دن درخت پیدا کیے ، منگل کے دن ناپسندیدہ چیز کو پیدا کیا ،بدھ کے دن نور کو پیدا کیا ، جمعرات کے دن زمین میں جانور پھیلادئیے اور حضرت آدم ؑ کو جمعہ کے دن عصر کے بعد پیداکیا اس نے آخری مخلوق کو جمعہ کی آخری گھڑی میں پیدا کیا "۔

أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ بِيَدِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ ← أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6161

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6162

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ وَطُولِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلْقَهُ قَالَ: اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفْرِ، وَهُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. قَالَ: فَذَهَبَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَمْ، فَزَادُوهُ: وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَ: فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الْآنَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا الْخَبَرُ تَعَلَّقَ بِهِ مَنْ لَمْ يُحْكِمُ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ وَأَخَذَ يُشَنِّعُ عَلَى أَهْلِ الْحَدِيثِ الَّذِينَ يَنْتَحِلُونَ السُّنَنَ، [ص:34] وَيَذُبُّونَ عَنْهَا، وَيَقْمَعُونَ مَنْ خَالَفَهَا بِأَنْ قَالَ: لَيْسَتْ تَخْلُو هَذِهِ الْهَاءُ مِنْ أَنْ تُنْسَبَ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى آدَمَ، فَإِنْ نُسِبَتْ إِلَى اللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كُفْرًا، إِذْ {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ} [الشورى: 11]، وَإِنْ نُسِبَتْ إِلَى آدَمَ تَعَرَّى الْخَبَرُ عَنِ الْفَائِدَةِ، لِأَنَّهُ لَا شَكَّ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ خُلِقَ عَلَى صُورَتِهِ لَا عَلَى صُورَةِ غَيْرِهِ، وَلَوْ تَمَلَّقَ قَائِلُ هَذَا إِلَى بَارِئِهِ فِي الْخَلْوَةِ، وَسَأَلَهُ التَّوْفِيقَ لِإِصَابَةِ الْحَقِّ وَالْهِدَايَةِ لِلطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ فِي لُزُومِ سُنَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ أَوْلَى بِهِ مِنَ الْقَدْحِ فِي مُنْتَحِلِي السُّنَنِ بِمَا يَجْهَلُ مَعْنَاهُ، وَلَيْسَ جَهْلُ الْإِنْسَانِ بِالشَّيْءِ دَالًا عَلَى نَفْيِ الْحَقِّ عَنْهُ لِجَهْلِهِ بِهِ. وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَحَّتْ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ لَا تَتَضَادَّ، وَلَا تَتَهَاتَرُ، وَلَا تَنْسَخُ الْقُرْآنَ بَلْ لِكُلِّ خَبَرٍ مَعْنًى مَعْلُومٌ يُعْلَمُ، وَفَصْلٌ صَحِيحٌ يُعْقَلُ، يَعْقِلُهُ الْعَالِمُونَ. فَمَعْنَى الْخَبَرِ عِنْدَنَا بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ «: إِبَانَةُ فَضْلِ آدَمَ عَلَى سَائِرِ الْخَلْقِ، وَالْهَاءُ رَاجِعَةٌ إِلَى آدَمَ، وَالْفَائِدَةُ مِنْ رُجُوعِ الْهَاءِ إِلَى آدَمَ دُونَ إِضَافَتِهَا إِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلَا - جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ أَنْ يُشَبَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ - أَنَّهُ جَلَّ وَعَلَا جَعَلَ سَبَبَ الْخَلْقِ الَّذِي هُوَ الْمُتَحَرِّكُ النَّامِي بِذَاتِهِ اجْتِمَاعَ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، ثُمَّ زَوَالَ الْمَاءِ عَنْ قَرَارِ الذَّكَرِ إِلَى رَحِمِ الْأُنْثَى، ثُمَّ تَغَيُّرَ ذَلِكَ إِلَى [ص:35] الْعَلَقَةِ بَعْدَ مُدَّةٍ، ثُمَّ إِلَى الْمُضْغَةِ، ثُمَّ إِلَى الصُّورَةِ، ثُمَّ إِلَى الْوَقْتِ الْمَمْدُودِ فِيهِ، ثُمَّ الْخُرُوجِ مِنْ قَرَارِهِ، ثُمَّ الرَّضَاعِ، ثُمَّ الْفِطَامِ، ثُمَّ الْمَرَاتِبِ الْأُخَرِ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَا إِلَى حُلُولِ الْمَنِيَّةِ بِهِ. هَذَا وَصْفُ الْمُتَحَرِّكِ النَّامِي بِذَاتِهِ مِنْ خَلْقِهِ وَخَلْقِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَّا آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خَلْقَهُ عَلَيْهَا، وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَكُونَ تَقْدُمُهُ اجْتِمَاعُ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، أَوْ زَوَالُ الْمَاءِ، أَوْ قَرَارُهُ، أَوْ تَغْيِيرُ الْمَاءِ عَلَقَةً أَوْ مُضْغَةً، أَوْ تَجْسِيمُهُ بَعْدَهُ، فَأَبَانَ اللَّهُ بِهَذَا فَضْلَهُ عَلَى سَائِرِ مَنْ ذَكَرْنَا مِنْ خَلْقِهِ، بِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نُطْفَةً فَعَلَقَةً، وَلَا عَلَقَةً فَمُضْغَةً، وَلَا مُضْغَةً فَرَضِيعًا، وَلَا رَضِيعًا فَفَطِيمًا، وَلَا فَطِيمًا فَشَابًّا كَمَا كَانَتْ هَذِهِ حَالَةُ غَيْرِهِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَشْوِيَّةٌ يَرْوُونَ مَا لَا يَعْقِلُونَ وَيَحْتَجُّونَ بِمَا لَا يَدْرُونَ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنی صورت کے مطابق پیدا کیا ان کا قد 60گز تھا ،جب اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا فرمایا:کیاتو تم اجاؤ اور اس گروہ کو سلام کروں ۔ فرشتے تھے جو بیٹھے ہوئے تھے تم غور سے سننا کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام کرنے کا طریقہ ہوگا ۔نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :حضرت آدم ؑ گئے انہوں نے کہا :السلام علیکم ، تو فرشتوں نے جوا ب میں رحمت اللہ کا اضافہ کیا۔" نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :جنت میں جو شخص بھی داخل ہوگا حضرت آدم ؑ کی طرح اس کاقد60 گز ہوگا اس کے بعد مسلسل انسانوں کے قد کم ہوتے رہے، یہاں تک کہ یہ صورت حال آگئی۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں:)یہ وہ روایت ہے، جس کے ساتھ وہ شخص متعلق ہوا جو علم احادیث میں مہارت نہیں رکھتا اور اس نے اس روایت کی وجہ سے محد ثین پر اعتراضات کیے جو سنت کی خدمت کرتےہیں اور اس پر ہونے والے اعتراض کو پرے کرتےہیں اور جو شخص سنت کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اس کی بھر پور مخالفت کرتےہیں اس شخص نے یہ کہا کہ لفظ صورکہ میں ضمیر یا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوگی ،یاحضرت آدم ؑ کی طرف منسوب ہوگی اگراس کہ نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے ، تویہ چیز کفر ہوگر کیونکہ ارشادباری تعالیٰ ہے۔ "اس کی مانند کوئی چیز نہیں ہے۔" اگر اس کی نسبت حضرت آدم ؑ کی طرف کی جائے ،تو روایت میں فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے تمام انسانوں کی شکل وصورت حضرت آدم ؑ جیسی ہے کسی اور جیسی نہیں ہے۔ اگر اس بات کا قائل شخص تنہائی میں بیٹھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں التجا ء کرتا اور اس سے حق اور ہدایت کی توفیق کا سوال کرتا جو نبی اکرمﷺ کی سنتوں کو لازم پکڑنے کی صورت میں سیدھا راستہ ہے، تو پھر اس کےلیے مناسب یہ تھا کہ وہ جس حدیث کا مفہوم نہیں جانتا اس کےحوالے سے سنت کے خادمین پر اعتراض نہ کرتا اگرانسان کسی چیز کے بارے علم نہیں رکھتا،یہ چیز تو اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کی ناواقفیت کی وجہ سے حق کی نفی کردی جائے۔ ہم یہ کہتےہیں :نبی اکرمﷺ سےمنقول روایت جب نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو تو اس میں کوئی اعتراض اور اختلاف نہیں ہوگا اورنہ ہی وہ قرآن کو منسوخ کرےگا بلکہ ہر روات کا اپنا مخصوص مفہوم ہوتا ہے اور ہر روایت کا اپنا پس منظر ہوتاہے، جسے اہل علم سمجھ جاتےہیں ہمارے نزدیک نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے "اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنی صورت میں پیدا کیا " اس سا مقصد یہ ہےکہ حضرت آدم ؑ کی دیگر تمام مخلوق کی فضیلت کو ظاہر کیا جائے اور اس میں ضمیر حضرت آدم ؑ کی طرف راجع ہے اورضمیر کے حضرت آدم ؑ کی طرف راجع ہونے کا فائدہ یوں ہے کہ اس ضمر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی جاسکتی کیونکہ ہمارا پروردگار اس چیز سے بلند وبرتر ہےکہ اسے مخلوق میں سے کسی سے مشابہ قرار دیا جائے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کا سبب ایک ایسی چیز کو قرار دیا ہے ،جو حرکت بھی کرتی ہے اور جس کے وجود میں نشونما کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے یہ مذکور اور مؤ نث کے اجتماع کی صو رت میں (نشونما پاتی ہے) اس کے بعد مادہ تولید مذکر کے مخصوص کام سے مؤنث کے رحم کی طرف منتقل ہو جاتاہے اس کے بعد وہ ایک متعین مدت تک جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے پھر وہ لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر شکل وصورت بن جاتی ہےپھر ایک مخصوص وقت تک وہی رہتا ہے پھر وہ اپنی جگہ سے نکلتا ہے پھر دودھ پلانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دودھ چھڑانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دیگر مراتب ہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں ، یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے۔ تو حرکت کرنے والے اور اپنی ذات کے اعتبار سے نشونما کی صلاحیت رکھنے والے کی یہ صفت ہےاللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو ان کی صورت پر پیدا کیا ہے یعنی وہ تخلیق جواس اعتبار سے ہوئی تھی ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی ،لیکن ان سے پہلے کسی مذکور اور مؤ نث کا اجتماع نہیں ہوا ۔ مادہ تولید کسی جگہ زائل نہیں ہوا تھا کسی جگہ آکر ٹھہرا نہیں وہ مادہ جمے ہوئے خون یا گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں تبدیل نہیں ہوا اس نے بعد میں ، جسم کی شکل اختیار نہیں کی ، تواللہ تعالیٰ نے اس چیز کے ذریعے ان کی فضیلت کو واضح کر دیا جو وہ دیگر تمام مخلوق پر رکھتےہیں کہ وہ پہلے نطقے کی شکل میں نہیں تھے کہ پھر جما ہوا خون بن جاتے جما ہوا خون نہیں تھےکہ گوشت کا لوتھڑا بن جائے گوشت کا لوتھڑا نہیں تھے کہ دودھ پینےکی نوبت آتی دودھ پینے والے نہیں تھے کہ دودھ چھڑانے کی نوبت آتی دودھ چھڑانے والے نہیں تھے کہ بعد میں نوجوان ہو جاتے جیسا کہ حضر ت آدم ؑ کے علاوہ دیگر انسانوں کی صورت حال ہوتی ہے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہےکہ محدثین حثویہ فرقے کے سے نظریات رکھتےہیں وہ ایسی چیزیں روایت کر دیتےہیں جن کا فہم حاصل نہیں ہوسکتا اور وہ ایسی چیزوں کے ذ ریعے استدلال کرتےہیں جن کا انہیں پتہ نہیں ہوتا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6162

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6163

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ جَعَلَ إِبْلِيسَ يُطِيفُ بِهِ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ قَالَ: طَفِرْتُ بِهِ، خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ»

حضرت انس ؓ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: "جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا ،تو ابلیس ان کےجسم کے گرد چکر لگانے لگا جب اس نے انہیں اندر سے خالی دیکھا، تو بولا ۔"میں نے اس کو دیکھ لیا ہے ، یہ مخلوق قابو میں رہنے والی نہیں ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6163

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6164

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَطَسَ فَأَلْهَمَهُ رَبُّهُ أَنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَلِذَلِكَ سَبَقَتْ رَحْمَتُهُ غَضَبَهُ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا ،تو انہیں چھینک آگئی ان کے پروردگار نے انہیں یہ الہام کیا کہ وہ الحمداللہ کہے ،تو ان کے پروردگار نے ان سے فرمایا:اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6164

chevron_left Previous
1…383940…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr