صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6141
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، [ص:9] عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «هَلْ تَرَوْنَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ الْقَمَرَ أَوِ الشَّمْسَ بِغَيْرِ سَحَابٍ؟ »، قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «فَاللَّهُ أَعْظَمُ». قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ؟ قَالَ: «فِي عَمَاءٍ، مَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَمَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «وَهِمَ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ مِنْ حَيْثُ فِي غَمَامٍ إِنَّمَا هُوَ فِي عَمَاءٍ، يُرِيدُ بِهِ أَنَّ الْخَلْقَ لَا يَعْرِفُونَ خَالِقَهُمْ مِنْ حَيْثُ هُمْ، إِذْ كَانَ وَلَا زَمَانَ وَلَا مَكَانَ، وَمَنْ لَمْ يُعْرَفْ لَهُ زَمَانٌ، وَلَا مَكَانٌ وَلَا شَيْءٌ مَعَهُ، لِأَنَّهُ خَالِقُهَا، كَانَ مَعْرِفَةُ الْخَلْقِ إِيَّاهُ كَأَنَّهُ كَانَ فِي عَمَاءٍ عَنْ عِلْمِ الْخَلْقِ، لَا أَنَّ اللَّهَ كَانَ فِي عَمَاءٍ إِذْ هَذَا الْوَصْفُ شَبِيهٌ بِأَوْصَافِ الْمَخْلُوقِينَ»
حضرت ابورزین عقیلیؓ بیان کرتےہیں:میں نے عرض کی :یارسول اللہ(ﷺ)! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:کیا جب بادل نہ ہو ،تو تم چودھویں رات کے چاند کو یا سورج کو دیکھ سکتے ہو ۔لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:،تو اللہ تعالیٰ اس سےزیادہ عظیم ہے۔میں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! ہمار اپروردگار آسمان وزمین کو تخلیق کرنے سے پہلے کہا ں تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ مقام عماء میں تھا (یعنی اس کا ادراک حاصل نہیں کیا جاسکتا ) اس کے اوپر اس کے نیچے خلا تھی۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں:) ان الفاظ کو نقل کرنے میں حماد بن سلمہ نامی کو وہم ہو اانہوں نے لفظ غمام نقل کر دیا ہے، حالانکہ لفظ عماء ہے او ر اس کے ذریعے نبی اکرمﷺ کی مراد یہ ہے کہ مخلوق میں یہ صلاحیت نہیں ہےکہ اپنے خالق کا حقیقی فیم حاصل کر سکے کیونکہ ان کا پروردگا ر اس وقت بھی موجود تھا ، جب زمانہ اور مکان موجود نہیں تھے اور نہ ہی زمانے یا مکان یا کسی اور چیز کے ساتھ شناخت حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ وہ ، تو ان سب چیزوں کا پروردگار ہے ،تو اس کی ذات کے بارے میں مخلوق کی معرفت یوں ہو گی جیسے اس کی ذات مخلوق کے علم کے حوالے سے پردہ عماء میں ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ عماء کی کیفیت میں تھا کیونکہ یہ وہ صفت ہے جو مخلوق کے اوصاف سے مشابہت رکھتی ہے۔
قُلْتُ ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، ← وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، [ص:9] ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6141
