صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6598
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: «ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ، وَيَقُولُ أَنَا [ص:565] أَوْلَى وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ»
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا آخری وقت قریب آیا تو گھرمیں کچھ لوگ موجود تھے جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دیتا ہوں تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ پر تکلیف کا رنگ غالب ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے ہمارت لئے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے تو گھر میں موجود لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا وہ آپس میں اس بارے میں بحث کرنے لگے جب نبی اکرمﷺ کی موجودگی میں ان کی آوازیں اور گفتگو زیادہ ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اٹھ جاؤ ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6598
