Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6598

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: «ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ، وَيَقُولُ أَنَا [ص:565] أَوْلَى وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا آخری وقت قریب آیا تو گھرمیں کچھ لوگ موجود تھے جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دیتا ہوں تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ پر تکلیف کا رنگ غالب ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے ہمارت لئے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے تو گھر میں موجود لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا وہ آپس میں اس بارے میں بحث کرنے لگے جب نبی اکرمﷺ کی موجودگی میں ان کی آوازیں اور گفتگو زیادہ ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اٹھ جاؤ ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6598

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6599

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ: «صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ»، قَالَتْ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ، فَمَا زِلْنَا نَصُبُ عَلَيْهِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں اپنی بیماری کے دوران نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے والد ابو بکر کو میرے پاس بلواؤ تا کہ میں تحریر لکھ دوں کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی دوسرا شخص بھی (خلافت کا ) خواہش مند ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں اس کا زیادہ حق دار ہوں حالانکہ اللہ تعالی اور اہل ایمان صرف ابو بکر ( کو خلیفہ کے طور پر ) قبول کریں گے۔ 34۔ نبی اکرمﷺ کا اپنی اس بیماری کے دوران ' جس میں آپ ﷺ کا وصال ہوا ، ایسے پانی کے ذریعے غسل کرنے کا تذکرہ ' جسے مشکیزے میں ڈالنے کے بعد اسے استعمال نہ گیا گیا ہو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6599

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6600

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، وَعُمْرَةُ، أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ، فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ»، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ مِنْ نُحَاسٍ، فَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں' جس بیماری کے دورا ن نبی اکرم ﷺکا وصال ہوا اس میں آپ نے ارشا د فرمایا : مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کے ذریعے پانی بہاؤ جن کے منہ نہ کھولے گئے ہوں تا کہ مجھے کچھ سکون آئے اور میں لوگوں کو ہدایت کر سکوں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ہم نے نبی اکرم ﷺ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کے پیتل کے بنے ہوئے ٹب میں بٹھا یا ۔ ہم نے نبی اکر م ﷺ پر پان انڈیلا یہاں تک کہ آپ نے ہمیں اشارہ کرنا شروع کیا تم نے ایسا کر لیا ہے پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ، وَعُمْرَةُ، أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6600

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6601

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: وَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ [ص:567] مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ»، فَقُلْتُ مِثْلَهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ»، فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ، فَفَعَلَتْ حفْصَةُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ»، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ، قَالَتْ: فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَمَكَثَ مَكَانَهُ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِذَائِهِ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى الصَّلَاةَ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا : ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نمازپڑھا دے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تورونے کی وجہ سے لوگوں کو تلاوت نہیں سنا سکیں گے۔ آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیجئے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے میں پھر ویسی ہی بات کہی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے ۔ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ نبی اکرم ﷺ سے کہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے ' تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو تلاوت نہیں سنا سکیں گے۔ آپ حضر عمر رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیجئے ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کہا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ تم لوگ حضرت یوسف ؑ کے واقعہ والی خواتین کی طرح ہو۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے )کہا تمہاری طرف مجھے کبھی کوئی بھلائی دیکھنے کو نہیں ملی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کے لئے نکلے جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہہ لی تو نبی اکرمﷺ بھی تشریف لے گئے ۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے ' تو نبی اکرم ﷺ نے اشارہ کیا تم اپنی جگہ پر رہو تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر رہے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ آکر بیٹھ گئے ۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی پیروی میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کر رہے تھے ' یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کی۔

وَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ»، فَقُلْتُ: ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6601

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6602

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: [ص:568] دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟ »، فَقُلْتُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ»، فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُم أَفَاقَ، فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟ »، قُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِشَاءِ الْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا أَوْ رَفِيقًا -: يَا عُمَرُ، صَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَفَعَلَ وَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ، فَقَالَ لَهُمَا: «أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ»، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «لَمْ تُسَمِّ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ »، فَقُلْتُ: [ص:569] لَا، فَقَالَ: «هُوَ عَلِيٌّ»

عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خاضرہوا ۔ میں نے ان سے کہا آپ مجھے نبی اکرم ﷺ کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گے۔ انہوں نے فرمایا : جی ہاں نبی اکرم ﷺ بیمار ہو گئے ۔ آپ نے دریافت کیا: کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے میں نے عرض کی : جی نہیں ۔ یا رسول اللہ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے لئے کسی بڑے برتن میں پانی رکھو ہم نے ایسا ہی کیا نبی اکرم ﷺ نے غسل کیا پھر آپ آٹھنے لگے ' تو آپ پر بے ہوشہ طاری ہو گئی پھر آپ کو افاقہ ہوا توآپ نے دریافت کیا : کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ۔ ہم نے عرض کی : جی نہیں یا رسول اللہ ﷺ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں ۔ لوگ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے نبی اکرم ﷺ کا عشاء کی نماز کے لئے انتظار کر رہے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑ ھا دے۔ وہ پیغام ان کےپاس آیا اس نے ان سے کہا نبی اکرم ﷺ آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں حضرت ابو بکر ﷺ جو ایک نرم دل اور مہربان شخص تھے ۔ انہوں نے کہا : اے عمر آ پ لوگوں کو نماز پڑھا دیجئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں ۔ حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ۔ ان ایام میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نمازپڑھاتے رہے پھر نبی اکرم ﷺ کو اپنی طبیعت میں کچھ بہتری محسوس ہوئی تو آپ دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے ۔ ان میں سے ایک حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے ' نبی اکرم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں صاحبان سے کہا کہ مجھے ابوبکر کے پہلو میں بٹھا دو ان حضرات نے نبی اکرم ﷺ کو حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرنے لگے حالانکہ حضرت ابو بکر کھڑے ہوئے تھے اور لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے۔ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے۔ عبیدا للہ نامی راوی کہتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خاضر ہوا ' میں نے ان سے کہا : کیا میں آپ کے سامنے و ہ حدیث بیان نہ کروں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی اکرم ﷺ کی بیماری کے بارے میں بتائی ہے۔؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں تو میں نے نبی اکرم ﷺ کی بیماری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث انہیں سنائی ۔ انہوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکا ر نہیں کیا تا ہم انہوں نے یہ فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے تمہارے سامنے ا س دوسرے شخص کا نام نہیں لیا جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ میں نے جواب دیا جی نہیں تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا : وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔

«أَصَلَّى النَّاسُ؟ فَقُلْتُ: لَا ← بَلَى، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ ← مَرَضِ رَسُوْلِ اللہِ ← [ص:568] دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: أَلَا تُحَدِّثِينِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6602

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6603

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ، وَلَقَدْ دَعَا بِطَسْتٍ، فَبَالَ فِيهِ، وَإِنَّهُ لَعَلَى صَدْرِي، فَانْخَنَثَ، فَمَاتَ، وَمَا أَشْعُرُ بِهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکر م ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں وصیت کی تھی( نبی اکرم ﷺ کے بعد وہ خلیفہ ہوں گے) حالانکہ نبی اکرم ق نے طشت منگوایا آپ نے اسمیں پیشاب کیا ۔ آپ میرے سےنے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے پھر آپ ڈھلک گئے اور آپ کا وصال ہو گیا ' مجھے اس بات کا پتہ بھی نہیں چلا ۔

«يَزْعُمُونَ ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَزْهَرُ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6603

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6827

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي ذِئْبٍ يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَبَا قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ هَذَا الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ، فَلَا تَسَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَظْهَرُ الْحَبَشَةُ، فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَهُمُ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ»

سعید بن سمعان بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ کو حضرت ابوقتادہ ؓ سے یہ ذکر کرتے ہوئے سنا : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ایک شخص کی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان کی جائے گی اور یہ گھر صرف اسی کے لئے حلال ہوگا ، جو اس کا اہل ہو جب وہ اسےحلال قرار دیدیں گے تو پھر تم عربوں کی ہلاکت کے بارے میں نہ پوچھو ، حبشی ظاہر ہوں گےوہ اسے برباد کر دیں گے پھر اس کےبعد یہ کبھی آباد نہیں ہوگا اور وہی اس کا خزانہ بھی نکال لیں گے ۔

أَبَا قَتَادَةَ، ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، أَنَّهُ ← ابْنَ أَبِي ذِئْبٍ يَذْكُرُ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6827

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6828

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، [ص:241] عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَقَلُّ مَا يَتْرُكُ أَحَدُهُمْ لِصُلْبِهِ أَلْفًا مِنَ الذُّرِّيَّةِ، وَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ أُمَمًا ثَلَاثَةً: مِنْسَكٌ، وَتَأْوِيلٌ، وَتَارِيسٌ، لَا يَعْلَمُ عَدَدَهُمْ إِلَّا اللَّهُ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "بے شک یا جوج اور ماجوج میں سے سب سے کم تر وہ شخص ہوگا ، جس کی پشت سے اس کی اولاد ایک ہزار ہوگی اور ان کے بعد تین گروہ آئیں گے منسک ، تاویل اور تاریس ان کی تعداد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے ۔"

النَّبِيِّ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، [ص:241] ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6828

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6829

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ [ص:243] الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَحْفِرُونَ فِي كُلِّ يَوْمٍ حَتَّى يَكَادُوا أَنْ يَرَوْا شُعَاعَ الشَّمْسِ، فَيَقُولُونَ: نَرْجِعُ إِلَيْهِ غَدًا، فَيَرْجِعُونَ وَهُوَ أَشَدُّ مَا كَانَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ وَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ، قَالُوا: نَرْجِعُ إِلَيْهِ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَيَرْجِعُونَ إِلَيْهِ كَهَيْئَةِ مَا تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَهُ، فَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَيَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُمْ إِلَى حُصُونِهِمْ»

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " وہ لوگ روازانہ کھودتے ہیں ، یہاں تک کہ جب سورج کی شعاع کو دیکھتے ہیں ( کہ سورج غروب ہونے لگا ہے ) تو یہ کہتےہیں : کل ہمارے دوبارہ اس کی طرف آئیں گے پھر وہ لوٹ جاتے ہیں ، تو وہ ( دیوار ) پہلے سے زیادہ سخت ہو جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ جب ان کی مدت پوری ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں پر بھیجنے کا ارادہ کرے گا، تو وہ یہ کہیں گے کہ اگر اللہ نے چاہا تو کل ہم اس کی طرف واپس آئیں گے پھر جب وہ اس کی طرف واپس آئیں گے تو وہ اسی حالت میں ہوگی ، جس حالت میں اسے چھوڑ کر گئے تھے ، تو وہ اسے کھو ددیں گے اور نکل کر لوگوں پر آجائیں گے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تو لوگ ان سے ڈر کر بھاگتے ہوئے قلعوں کی طرف چلے جائیں گے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قتادة: أن أبا رافع ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6829

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6830

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الظَّفَرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، [ص:245] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «تُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، كَمَا، قَالَ اللَّهُ: {وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} [الأنبياء: 96]، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ، حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهْرِ، فَيَقُولُ: قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ، قَالَ قَائِلُهُمْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ، بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ، قَالَ: ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ، ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ إِلَيْهِمْ مُخَضَّبَةً دَمًا، لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ يَبْعَثُ اللَّهُ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى حَتَّى لَا يُسْمَعَ لَهُمْ حِسٌّ فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: أَلَا رَجُلٌ يَشْرِي لَنَا نَفْسَهُ، فَيَنْظُرُ مَا فَعَلَ هَؤُلَاءِ الْعَدُوُّ، فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِذَلِكَ مُحْتَسِبًا لِنَفْسِهِ عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ، فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيُنَادِي: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَلَا أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ فَيَخْرُجُونَ عَنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيُسَرِّحُونَ مَوَاشِيَهُمْ»

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتےہیں ، میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← محمود بن لبيد أحد بني عبد الأشهل ← عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6830

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6831

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتِ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ»، وَحَلَّقَ بِيَدِهِ عَشَرَةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ»

سیدہ ام حبیبہ ؓ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ بیدار ہوئے ، تو آپ ﷺیہ کہہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے عربوں کےلیے اس شر کی وجہ سے بربادی ہے ، جو قریب آچکا ہے ۔ آج یا جوج وماجوج کی دیوار کا اتنا حصہ کھل گیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے صفر کا حلقہ بنایا ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کیا ہم لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، جب کہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی موجود ہوں گے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں ! جب برائیاں بڑھ جائیں گی ( تو نیک لوگوں سمیت سب ہلاکت کا شکار ہوں گے )

اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ وَهُوَ ← أُمِّ حَبِيبَةَ، ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6831

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6832

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ، وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ»

حضرت ابوسعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "یاجوج وماجوج کے نکلنے کے بعد بھی اس بیت اللہ کا حج بھی کیا جائے گا اور عمرہ بھی کیا جائے گا ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6832

chevron_left Previous
1…343536…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr