صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6586
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنَ عُتْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جِنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ، وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهُ، قَالَ: «بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ، وَا رَأْسَاهُ»، ثُمَّ قَالَ: «وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، ثُمَّ دَفَنْتُكِ؟ »، قُلْتُ: لَكَأَنِّي بِكَ أَنْ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَدْ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي، فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بُدِئَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ
مسروق بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص کندہ میں حدیث بیان کر رہا تھا کہ قیامت کے دن دھواں آئے گا تو وہ منافقین کی سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے گا جبکہ مومن کو اس سے زکام کی سی کیفیت محسوس ہوگی ۔ راوی کہتے ہیں : ہم اس بات سے گھبرا گئے پھر حضرت عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوا ( انہیں یہ بات بتائی ) وہ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے وہ غصے میں آگئے ۔ پھر وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے کہا : اے لوگو! جو شخص کسی چیز کے بارے میں علم رکھتا ہو وہ اس کے مطابق بیان کر دے اور جو شخص علم نہ رکھتا ہو وہ یہ کہہ دے کہ اللہ تعالی زیادہ بہتر جانتا ہے کیونکہ علم ہونے میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی کو جس چیز کے بارے میں علم نہیں ہے وہ اس کے بارے میں یہ کہہ دے۔ میں نہیں جانتا ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے یہ فرمایا ہے۔ '' تم یہ فرما دو کہ میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں ۔'' (پھر حضرت عبداللہ نے وضا حت کی ) نبی اکرم ﷺ نے قریش کے خلاف دعائے ضر کی ۔ آپ نے دعا کی ۔ ''اے اللہ تو ان لوگوں کے خلاف میری مدد کر جو حضرت یوسف ؑ کے زمانے کی(قحط سالی کے) سات سالوں کے ذریعے ہو۔'' (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ) تو ان لوگوں کو قحط سالی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ' یہاں تک کہ وہ لوگ اس قحط سالی کے دوران ہلاکت کا شکارہونے لگے ۔ وہ مردار اور ہڈیاں تک کھانے لگے ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے دھوں محسوس ہوتا تھا ۔ ابو سفیان بن حرب نبی اکر م ﷺ کی خدمت میں خاضر ہوا ۔اس نے عرض کی: اے حضرت محمد ﷺ آپ صلہ رحمی کا حکم دینے کے لئے تشریف لائے ہیں جبکہ آپ کی قوم کے لوگ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں ۔ آپ اللہ تعالی سے دعا کیجئے تو نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ''تم اس دن کا انتظار کر و جب آسمان واضح دھواں لے کر آئے گا ' جو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور یہ درد ناک عذاب ہو گا ۔'' یہ آیت یہاں تک ہے۔ ''اگر ہم تھوڑا سا عذاب کم کر دیں تو تم لوگ دوبارہ لوٹ جاتے ہو۔'' جب وہ عذاب آیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں سے دور کر دیا تو وہ لوگ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مرا دہے۔ ''جس دن ہم بڑی گرفت کریں گے ۔''اس سے مراد غزوہ بدر ہے۔ ''تو عنقرین لزام ہو گا ''اس سے مراد غزوہ بدر ہے۔ (ارشاد باری تعالی ہے) ''الف لام میم رومی مغلوب ہوگئے زمین کے کچھ حصے میں' اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔'' پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) رومیوں والا معجزہ رونما ہو چکا ہے اور دیگر چار (معجزات بھی) گزر چکے ہیں ۔
يَا عَائِشَةُ، وَا رَأْسَاهُ»، ثُمَّ ← بَلْ ← أَقُولُ: وَا رَأْسَاهُ، ← أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، ← رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جِنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ، ← عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ الْحَرَّانِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6586
