Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6586

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنَ عُتْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جِنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ، وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهُ، قَالَ: «بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ، وَا رَأْسَاهُ»، ثُمَّ قَالَ: «وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، ثُمَّ دَفَنْتُكِ؟ »، قُلْتُ: لَكَأَنِّي بِكَ أَنْ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَدْ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي، فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بُدِئَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ

مسروق بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص کندہ میں حدیث بیان کر رہا تھا کہ قیامت کے دن دھواں آئے گا تو وہ منافقین کی سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے گا جبکہ مومن کو اس سے زکام کی سی کیفیت محسوس ہوگی ۔ راوی کہتے ہیں : ہم اس بات سے گھبرا گئے پھر حضرت عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوا ( انہیں یہ بات بتائی ) وہ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے وہ غصے میں آگئے ۔ پھر وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے کہا : اے لوگو! جو شخص کسی چیز کے بارے میں علم رکھتا ہو وہ اس کے مطابق بیان کر دے اور جو شخص علم نہ رکھتا ہو وہ یہ کہہ دے کہ اللہ تعالی زیادہ بہتر جانتا ہے کیونکہ علم ہونے میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی کو جس چیز کے بارے میں علم نہیں ہے وہ اس کے بارے میں یہ کہہ دے۔ میں نہیں جانتا ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے یہ فرمایا ہے۔ '' تم یہ فرما دو کہ میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں ۔'' (پھر حضرت عبداللہ نے وضا حت کی ) نبی اکرم ﷺ نے قریش کے خلاف دعائے ضر کی ۔ آپ نے دعا کی ۔ ''اے اللہ تو ان لوگوں کے خلاف میری مدد کر جو حضرت یوسف ؑ کے زمانے کی(قحط سالی کے) سات سالوں کے ذریعے ہو۔'' (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ) تو ان لوگوں کو قحط سالی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ' یہاں تک کہ وہ لوگ اس قحط سالی کے دوران ہلاکت کا شکارہونے لگے ۔ وہ مردار اور ہڈیاں تک کھانے لگے ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے دھوں محسوس ہوتا تھا ۔ ابو سفیان بن حرب نبی اکر م ﷺ کی خدمت میں خاضر ہوا ۔اس نے عرض کی: اے حضرت محمد ﷺ آپ صلہ رحمی کا حکم دینے کے لئے تشریف لائے ہیں جبکہ آپ کی قوم کے لوگ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں ۔ آپ اللہ تعالی سے دعا کیجئے تو نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ''تم اس دن کا انتظار کر و جب آسمان واضح دھواں لے کر آئے گا ' جو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور یہ درد ناک عذاب ہو گا ۔'' یہ آیت یہاں تک ہے۔ ''اگر ہم تھوڑا سا عذاب کم کر دیں تو تم لوگ دوبارہ لوٹ جاتے ہو۔'' جب وہ عذاب آیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں سے دور کر دیا تو وہ لوگ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مرا دہے۔ ''جس دن ہم بڑی گرفت کریں گے ۔''اس سے مراد غزوہ بدر ہے۔ ''تو عنقرین لزام ہو گا ''اس سے مراد غزوہ بدر ہے۔ (ارشاد باری تعالی ہے) ''الف لام میم رومی مغلوب ہوگئے زمین کے کچھ حصے میں' اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔'' پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) رومیوں والا معجزہ رونما ہو چکا ہے اور دیگر چار (معجزات بھی) گزر چکے ہیں ۔

يَا عَائِشَةُ، وَا رَأْسَاهُ»، ثُمَّ ← بَلْ ← أَقُولُ: وَا رَأْسَاهُ، ← أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، ← رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جِنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ، ← عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ الْحَرَّانِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6586

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6587

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ، قَالَ: وَتَشَاوَرُوا فِي لَدِّهِ، فَلَدُّوهُ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: «مَا هَذَا؟ أَفِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَ مِنْ هَاهُنَا»، وَأَشَارَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ، فَقَالُوا: كُنَّا نَتَّهِمُ بِكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِنْ كَانَ ذَلِكَ لَدَاءٌ [ص:553] مَا كَانَ اللَّهُ لِيَقْذِفَنِي بِهِ، لَا يَبْقِيَنَّ أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ إِلَّا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، يَعْنِي عَبَّاسًا، قَالَ: فَلَقَدِ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ، وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ لِعَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ایک دن نبی اکرم ﷺ بقیع میں جنازے میں شریک ہونے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے ۔ مجھے سر میں درد محسوس ہو رہی تھی ۔ میں نے کہا: ہائے میرا سر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : بلکہ مجھے یہ کہنا چاہئے اے عائشہ ! ہائےمیرا سر ' پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہیں تو کوئی نقصان نہیں ہے۔ اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہو جاتی ہو تو میں تمہیں غسل دوں گا ۔ میں تمہیں کفن دوں گا میں تمہاری نماز جنازہ ادا کروں گا پھر میں تمہیں دفن کروں گا ۔ میں نے عرض کی : جی ہاں جب آپ ایسا کر لیں گے ' تو اس کے بعد آپ میرے گھر واپس تشریف لے جائیں گے' اور وہاں اپنی نئی زوجہ محترمہ کے ساتھ رات گزاریں گے' تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دئیے۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کی اس بیماری کا آغاز ہوا جس میں آپ کو وصال ہوا۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6587

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6588

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ: «اشْتَكَى، فَعَلِقَ يَنْفُثُ، فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ بِنَفْثِ آكِلِ الزَّبِيبِ، قَالَتْ: وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ، فَلَمَّا ثَقُلَ اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي وَيَدُرْنَ عَلَيْهِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطَّانِ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ، أَحَدُهُمَا عَبَّاسٌ» قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لِي: «مَا أَخْبَرْتَكَ بِالْآخَرِ؟ [ص:554] قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ»

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ کی بیماری کا اغاز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہوا ۔نبی اکرم ﷺ کی بیماری شدید ہو گئی ' یہاں تک کہ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ۔

هُوَ عَلِيٌّ» ← لِي: «مَا أَخْبَرْتَكَ بِالْآخَرِ؟ [ص:554] قُلْتُ: لَا، ← بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، ← دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطَّانِ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ، أَحَدُهُمَا عَبَّاسٌ» ← وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ، فَلَمَّا ثَقُلَ اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي وَيَدُرْنَ عَلَيْهِ، ← «اشْتَكَى، فَعَلِقَ يَنْفُثُ، فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ بِنَفْثِ آكِلِ الزَّبِيبِ، ← مَرَضِ رَسُوْلِ اللہِ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ: أَخْبِرِينِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6588

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6589

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا: «لَا تَلُدُّونِي»، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: «أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِيَ؟ »، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ، فَقَالَ: «لَا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ»، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْهُمْ

عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا : آپ مجھےنبی اکرم ﷺ کی بیماری کے بارے میں بتایئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتایا نبی اکرم ﷺ بیمار ہو گئے ۔ آپ کی بلغم میں خون آنے لگا۔ ہم آپ کے نکلنے والے بلغم کو خشل انگور کھانے والے کے تھوک سے تشبیہ دیتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ بار ی باری اپنی تمام ازاج کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے جب آپ کی بیماری زیادہ ہو گئی تو آ پ نے ان خواتین سے اجازت طلب کی کہ آپ میرے ہاں رہیں اور وہ خواتین آپ کی خدمت میں خاضر ہو جایا کریں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ۔ جب نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو آپ دو آدمیوں کے درمیان پر زمین پر پاؤں گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے ۔ ان میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے ۔

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6589

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6590

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَيَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ، قَالَتْ: «فَلَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ طَفِقْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفُثُ بِهَا عَلَى نَفْسِهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ»

عبید اللہ بن عبداللہ ' سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں :ہم نے نبی اکرم ﷺ کی بیماری کے دوران آپ کے منہ میں دوائی ٹپکا دی تو آپ نے اشارہ کیا تم لوگ میرے منہ میں دوائی نہ ٹپکاؤ ہم نے سوچا جس طرح بیمار شخص دوا کو نا پسند کرتا ہے (یہ بھی اسی طرح ہے) جب نبی اکرم ﷺ کی طبیعت بہتر ہوئی تو آپ نے فرمایا : کیا میں نے تم لوگوں کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرے منہ میں دوائی نہ ٹپکاؤ ۔ ہم نے عرض کی : (ہم تو یہ سمجھے تھے) جس طرح بیمار شخص دوائی کو نا پسند کرتا ہے ( یہ بھی اس طرح کی صورت حال ہے) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : گھر میں موجود ہر شخص کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہی تھی کیو نکہ اس وقت وہ گھر میں موجود نہیں تھے(جب نبی اکر م ﷺ کے منہ میں دوائی ٹپکائی گئی تھی)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6590

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6591

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ فِي [ص:556] حِجْرِي، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ وَأَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بَلْ أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى مَعَ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وإِسْرَافِيلَ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم ﷺ بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر موذات پر ھ کر دم کیا کرتے تھے اور اپنا دست مبارک پھیر ا کرتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم ﷺ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا وصال ہوا تو میں معوذات پرھ کر آپ پر دم کرنا شروع کیا جنہیں پرھ کر آپ اپنے اوپر دم کرتے تھے اور میں نبی اکرم ﷺ کا دست مبارک آپ کے جسم پر پھیرتی رہی۔

عَائِشَةَ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6591

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6592

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَا يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، فَجَعَلَ يَقُولُ: «{مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا} [النساء: 69]»، قَالَتْ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ پر بے ہوشی طاری ہوئی ۔ آپ کا سر میری گود میں تھا میں نے آپ پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور آپ کے لئے شفا کی دعا مانگنا شروع کی جب نبی اکرم ﷺ کی طبعیت بہتر ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں : بلکہ میں اللہ تعالی ٰ سے رفیق اعلی مانگتا ہوں ۔ یعنی جبرائیل ، میکائیل اور اسرا فیل کا ستا تھ عطا کرے۔

كُنْتُ أَسْمَعُ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6592

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6593

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَهُوَ مَعْصُوبُ الرَّأْسِ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى قَامَ عَلَى [ص:558] الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: «إِنِّي السَّاعَةَ قَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ»، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ»، فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي، بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَوْلَادِنَا، قَالَ: ثُمَّ هَبَطَ مِنَ الْمِنْبَرِ، فَمَا رُئِيَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے یہ بات سن رکھی تھی کہ کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اسے دنیا میں رہنے یا آخرت میں (منتقل) کے درمیان اختیار نہیں دیا جاتا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکر م ﷺ کی اپنی ا س بیماری کے دوران جس میں آپ کا وصال ہو ا ' یہ کہتے ہوئے سنا حالانکہ اس وقت آپ کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ آپ یہ کہہ رہے تھے ۔ ''ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالی نے انعام کیا جو نبیوں صدیقین شہدا اور صدیقین کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ بہترین ساتھی ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6593

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6594

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ لِقَائِهِ، فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ»، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْكُتْ يَا أَبَا بَكْرٍ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنَ النَّاسِ لَاتَّخَذْتُ [ص:559] أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ، أَلَا لَا يَبْقِيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا سُدَّتْ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ» قَالَ أَبُو سَعِيدٍ، فَقُلْتُ: «الْعَجَبُ يُخْبِرُنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَهَذَا يَبْكِي، وَإِذَا الْمُخَيَّرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا الْبَاكِي أَبُو بَكْرٍ، وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمُنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے یہ اس بیماری کی بات ہے جس میں آپ کا وصال ہو ا ۔ آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ میں آپ کے پیچھے پیچھے آیا ' یہاں تک کہ آپ منبر پر آکر کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : میں گویا اس وقت بھی حوض کوثر پر کھڑا ہوں پھر آپ نے ارشاد فرمایا :ا یک بندے کے سامنے دنیا اور اس کی زیب و زینت پیش کی گئی تو اس بندے نےآخرت کو اختیار کر لیا ۔ حاضرین میں سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آئی ۔ ہم نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو ں ہم اپنے اموال اور اپنی جانیں اپنی اولاد آپ کے فدیے کے طور پر دیدیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اتر آئے ۔ اس کے بعد آپ کو نہیں دیکھا گیا ۔ (یعنی اس کے بعد آپ کا وصال ہو گیا ۔)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، ← سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6594

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6595

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَي عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَإِنِّي عَلَيْكُمْ لَشَهِيدٌ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، وَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا»، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا، وَكَانَتْ آخِرُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا

حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ اسے اللہ تعالی دنیا کی آرائش و زیبائش عطا کر دے یا اپنی بارگاہ میں حاضری عطا کر دے تو اس شخص نے اپنے پروردگار کی بارگا ہ میں حاضری کو اختیار کیا ' اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے عرض کی :ہم اپنے آباؤ اجدا د اور اپنی اولاد آپ کے فدیے کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابو بکر تم خاموش رہو پھر نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے ساتھ اور مال کے اعتبار سے لوگو ں میں میرے ساتھ اور مال کے اعتبار سے لوگوں میں میرے ساتھ سب سے اچھا سلوک ابو بکر نے کیا ۔ اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بنانا ہوتا تو میں ابو بکر کوبناتا ' البتہ اسلام کا بھائی چارہ اور محبت تو ہے ہی ' خبردار مسجدمیں موجو د ہر دروازہ بند کر دیاجائے ۔ صرف ابو بکر کا دروازہ کھلا رہے ۔ حضرت ابو سعید خدر ی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سوچا اس بات پر حیرانگی ہوتی ہے کہ نبی اکرم ﷺہمیں اس بات کی اطلاع دے رہے ہیں کہ ایک بندے کو اللہ تعالی نے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا ہے اور یہ صاحب (یعنی حضرت ابو بکر ) رو رہے ہیں ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ اختیار دئیے گئے شخص نبی اکرم ﷺ تھے اور رونے والے شخص حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے کیو نکہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6595

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6596

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السِّخْتِيَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَوْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ، فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے شہدا ء احد کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپ واپس تشریف لائے ۔ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے آپ نے اللہ تعالی ٰ کی حمدو ثنا ء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ''اےلوگو! میں تمہار ے آگے تمہارا پیشروہوں اور میں تم لوگوں کا گواہ ہوں گا ۔ اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے لیکن گزشتہ رات مجھے زمین اور آسمان کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئیں ۔ مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم ان میں دلچسپی لوگے پھر نبی اکرم ﷺ گھر کے اندر تشریف لے گئے پھر آپ اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے' یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کی روح کو قبض کر لیا ۔ یہ وہ آخری خطبہ تھا جو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : یہاں تک کہ اللہ تعالی نے (آپ کی روح مبارکہ کو ) قبض کر لیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، أَوْ عَمْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6596

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6597

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا»، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ، قَالَ: فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ، وَاخْتَصَمُوا لَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالْأَحَادِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا»، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ [ص:563] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کے ذریعے پانی بہاؤ جن کے منہ کھولے گئے ہوں تا کہ مجھے تھوڑا سا سکون آئے تا کہ میں لوگوں کو ئی ہدایت کر سکوں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں ہم نے نبی اکرم ﷺ کا تانبے کے بنے ہوئے سیدہ حٖفصہ رضی اللہ عنہ کے بڑے برتن میں بٹھا دیا ۔ ہم نے آپ پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگوں نے کام پورا کر دیا ہے ۔ پھر آ پ تشریف لے گئے ۔ آپ نے اللہ تعالی کی حمد وثنا ء بیا ن کی ۔ آ پ نے ان شہدا ء کے بارے میں دعائے مغفرت کی جو غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔

عُمَرَ، ← «أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا»، ← لَمَّا حَضَرَ النَّبِيُّ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6597

chevron_left Previous
1…333435…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr