Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6574

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ، وَشُجَّ وَجْهُهُ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: «كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ»، فَنَزَلَتْ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: 128]

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ۔ ہم چھ آدمی تھے ۔ مشرکین نے کہا : ان لوگوں کو اپنے سے دور کر دیں یہ ایسے لوگ ہیں اور ویسے لوگ ہیں (راوی کہتے ہیں ) میں تھا ' عبداللہ بن مسعود تھے ۔ ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص تھا بلا ل تھے اور دو آدمی اور تھے جن میں سے میں ایک کو بھول چکا ہوں ۔ راو ی کہتے ہیں : تو اس بازے میں جو اللہ کو منظور تھا وہ نبی اکرم ﷺ کےذہن میں خیال آیا اور آپ نے اسے اپنے ذہن میں اسے سوچا ( کہ ہم لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیتے ہیں ) تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی ۔ ''او ر تم ان لوگوں کو پرے نہ کرو' جو صبح و شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں اور وہ صرف اس کی رضا مندی چاہتے ہیں ''یہ آیت یہاں تک ہے ''ظلم کرنے والے ''۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← هُشَيْمٌ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6574

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6575

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ يَسْلُتُ الدَّمُ عَنْ وَجْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ»، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: 128]

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں " غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے سامنے کے دانت زخمی ہو گئے اور آپ ﷺ کا چہرہ زخمی ہو گیا ' یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے سے خون بہنے لگا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسی قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے' کو اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہےحالانکہ وہ ان کو ان کے پروردگار کی طرف دعوت دیتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی : ''تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے' خواہ اللہ تعالہ انہیں تو بہ کی توفیق دے ' یا انہیں عذاب دے' بے شک یہ لوگ ظلم کرنے والے ہیں

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6575

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6576

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ [ص:538] الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَى نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ حَتَّى أَدْمَوْا وَجْهَهُ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَيَقُولُ: «رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور یہ فر ما رہے تھے ۔ ایسی قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کو زخمی کر دیتی ہے او ان کے دانتوں کو زخمی کر دیتی ہے حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : '' تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔''

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6576

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6577

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، [ص:539] عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمِيَتْ أُصْبُعُهُ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَنْتَ إِلَّا أُصْبُعٌ دَمِيتِ ... وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : گویا کہ میں اس وقت بھی نبی اکرمﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک نبی کی حکایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قوم کے افراد نے انہیں اتنا مارا کہ ان کے چہرے کو زخمی کر دیا تو وہ نبی ﷺ اپنے چہرے سے خون کو بونچھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : اے میر ے پرور دگا ر ! تو میری قوم کی مغفرت کر دے کیونکہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے ۔

جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، [ص:539] ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6577

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6578

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ: بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ [ص:540] قَالَ: «مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي شَنَّةٍ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ الدَّمَ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ، فَأُحْرِقَ، فَدُووِيَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں : کسی جنگ میں نبی اکرم ﷺ کی انگلی زخمی ہو گئی تو آپ نے فرمایا : ''تم صرف ایک انگلی ہو' جس سے خون بہہ رہا ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔''

سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ: بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ [ص:540] ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6578

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6579

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ص:541] فَقَالَ: «جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْكُبُ الْمَاءَ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى إِذَا صَارَ رَمَادًا أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ»

ابو خازم بیان کرتے ہیں : لوگوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کے زخم پر کس چیز کے ذریعے دوا لگائی گئی تھی تو انہوں نے فرمایا : اب لوگوں میں کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہا جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ حضر ت علی رضی اللہ عنہ مشکیزے میں پانی لے کرآئے تھے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ خون کو دھو رہی تھیں پھر چٹائی لی گئی اسے جلایا گیا تو اسے (نبی اکرم ﷺ کے زخم پر ) لگا دیا گیا ۔

جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ [ص:541] ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6579

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6580

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَالِمٍ*، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْفَلْتَانِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِلَى رَجُلٍ يَمْشِي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «يَا فُلَانُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ »، قَالَ: لَا، قَالَ: «أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ؟ »، [ص:542] قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «وَالْإِنْجِيلَ؟ »، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «وَالْقُرْآنَ»، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ، قَالَ: ثُمَّ أُنْشِدَهُ، فَقَالَ: «تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ؟ »، قَالَ: نَجْدُ مِثْلَكَ، وَمَثَلَ أُمَّتِكَ، وَمَثَلَ مُخْرِجَكَ، وَكُنَّا نَرْجُو أَنْ تَكُونَ فِينَا، فَلَمَّا خَرَجْتَ تَخَوَّفْنَا أَنْ تَكُونَ أَنْتَ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا لَيْسَ أَنْتَ هُوَ، قَالَ: «وَلِمَ ذَاكَ؟ » قَالَ: إِنَّ مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعِينَ أَلْفًا، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ، وَلَا عِقَابَ، وَإِنَّ مَا مَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ، قَالَ: «فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنَا هُوَ، وَإِنَّهَا لَأُمَّتِي، وَإِنَّهُمْ لَأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا»

ابو حازم کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم ﷺ کے زخمی ہونے کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپ کے سامنے کے دانت زخمی ہو گئے تھے اور خود نبی اکرم ﷺ کے سر پر لگا تھا نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ خون کو دھو رہی تھیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ڈھال کے ذریعے اس پر پانی بہار ہے تھے جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ پانی ڈالنے کے نتیجے میں خون زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا اور اسے جلا یا ۔ یہاں تک کہ جب وہ راکھ بن گئی تو انہوں نے وہ راکھ اس زخم پر لگادی تو خون رک گیا

الفلتان بن عاصم ← أَبِي ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَالِمٍ*، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6580

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6581

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا وَعَلَيْهِ إِكَافٌ وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ، فَرَكِبَ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي بَنِي الْحَارِثِ فِي الْخَزْرَجِ، وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَعَبْدَةُ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودُ، وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ: أَيُّهَا الْمَرْءُ، لَأَحْسَنُ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا، فَلَا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا، وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ، فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: بَلِ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا، فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَثُورُوا، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا، ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ، فَدَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعَ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ؟ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبِيٍّ، قَالَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ [ص:544] اعْفُ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ تَوِّجُوهُ بِالْعِصَابَةِ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ، شَرِقَ بِذَلِكَ، فَذَلِكَ الَّذِي عَمِلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ، فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی طرف دیکھا جو مسجد میں چل رہا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں اس نے جواب دیا : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم تو رات کی تلاوت کرتے ہو۔ اس نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکر م ﷺ نے دریافت کیا : انجیل کی اس نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : قرآن کی۔ اس نے کہا : اس کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ۔ اگر میں چاہوں ' تو اس کا علم بھی حاصل کر لوں ۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرمایا : میں تمہیں خدا کا واسطہ دے کر دیافت کرتا ہوں کیا تم نے میرا ذکر تورات اور انجیل میں پایا ہے تو اس نے بتایا ہمیں (تورات میں ) آپ کا اپ کی امت کا اپ کے نکلنے کا (یا ہجرت کے مقام کا ) ذکر ملتا ہے اور ہمیں یہ امید تھی کہ آپ ہمار ے درمیان (یعنی یہودیوں کے درمیان ) مبعوث ہوں گے لیکن جب آپ کا ظہور ہوا تو ہمیں یہ اندیشہ ہو ا کہ وہ آپ نہ ہوں لیکن جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو وہ آپ ﷺ نہیں ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نبی کے ہمراہ ان کی امت کےستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے ' جن پر کوئی حساب نہیں ہو گا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا' جب کہ آپ کے ساتھ تو بہت تھوڑے سے لوگ ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ (نبی جس کا ذکر تورات اور انجیل میں ہے) وہ میں ہی ہوں اور یہ میری امت ہے اور (اس کے جنت میں داخل ہونے والے لوگوں کی تعداد (ستر ہزار اور مزید ستر ہزار اور مزید ستر ہزار سے بھی زیادہ ہو گی۔

أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ: ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6581

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6582

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، [ص:545] عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، قَالَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، فَقَالَ: «مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟ »، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: «دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ»، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ: قَدْ فَعَلُوهَا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: «دَعْهُ، لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ».

حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان موجود تھا ' اور اس کے نیچے چادر تھی۔ آپ نےحضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا ۔ آپ حضرت سعد بن معا ذ رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے بنو حارث کے محلے کی طرف تشریف لے گئے ۔ یہ غزوہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ آپ کا گزر ان کی ایک محفل سے ہوا جس میں کچھ مسلمان اور مشرکین اور بتوں کے بچاری اور یہودی بیٹھے تھے ۔ ان میں عبداللہ بن اُبی بھی تھا ۔ا س محفل میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔جب اس جانور کے پاؤں کی غبار اس محفل تک پہنچی تو عبداللہ نے اپنی چادر اپنے ناک پر رکھ لی پھر اس نے کہا : ہم پر غبار نہ اڑائیں نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کا سلام کیا ان لوگوں کے پاس ٹھہر گئےآپ نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی تو عبداللہ بن اُبی نے کہا : اے صاحب آپ جو باتیں کررہے ہیں اگر وہ سچی ہیں تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ آپ ہمیں ہماری محفل میں تکلیف نہ پہنچائیں ۔ آپ اپنی رہائشی چگہ پر تشریف لے جائیں ۔ ہم میں سے جو شخص آپ کے پاس آیا کرے آپ اس کے سامنے یہ سب کچھ بیان کر دیا کریں ۔ اس پر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ آپ ہمارے ہاں ہماری محفل میں تشریف لایا کریں ۔ ہمیں یہ بات پسند ہے اس بات پرمسلمانوں مسرکین اور یہودیوں کے تو تکرار ہو گئی ' یہاں تک کہ ان لوگوں نے لڑنے کا رادہ کر لیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں مسلسل خاموش کروانے کی کوشش کرتے رہے ' یہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہو گئے تو نبی اکرم ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے آئے ۔ آپ نے فرمایا : کیا تم نے سنا کہ ابو حباب نے کیا کہا ہے۔نبی اکرم ﷺ کی مراد عبداللہ بن اُ بی تھا ۔ اس نے یہ یہ بات کہی ہے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول ﷺ آپ اس سے در گزر کیجئے ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالی ٰ نے آپ کو جو مرتبہ اور مقام عطا کیا ہے اس سے پہلے یہاں کے رہنے والے لوگوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ اسے یہاں کا بڑا سردار بنا دیں گے لیکن جب اللہ تعالی نے آپ کی تشریف آوری کے ذریعے اس کی یہ خواہش پوری نہیں کی تو وہ اس با ت پر جل بھن گیا اسی وجہ سے اس نے یہ طرز عمل اختیار کیا جو آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے (راوی کہتے ہیں : ) تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے در گزر گیا ۔

«مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟ ← النَّبِيُّ ذَلِكَ، ← الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ← الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، ← كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، [ص:135] ← سُفْيَانَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6582

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6583

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ حَتَّى كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ، وَمَا يَفْعَلُهُ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَشَعُرْتِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ [ص:546] وَعَلَا قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ، قَدْ جَاءَنِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَجَلَسَ الْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ، قَالَ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي بِئْرِ ذِي ذَرْوَانَ» قَالَ: فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ فَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا أَحْرَقْتَهُ أَوْ أَخْرَجْتَهُ؟، قَالَ: «أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَيْئًا»، فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مہاجر اور انصاری نے ایک دوسرے کی پٹائی کی۔ انصاری نے کہا : اے انصار (میری مدد کے لئے آؤ ) مہاجر نے کہا : اے مہاجر ین ( میری مدد کے لئے آؤ ) نبی اکرم ﷺ نے یہ بات سن لی ۔ آپ نے فرمایا : یہ زمانہ جاہلیت کی طرح پکارنے کا کیا معاملہ ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس چیز کو چھوڑ دو کیونکہ یہ بودار ہے۔ اس پر عبداللہ بن اُبی نے کہا : انہوں نے ایسا کیا ہے جب ہم مدینہ واپس جائیں گے ' تو ہم میں سے عزت دار لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے ' تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ !آپ مجھےموقع دیجئے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! ورنہ لوگ یہ کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں ۔ (اما ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ''یہ چیز بودار ہے'' اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اس میں قصاص نہیں ہو گا ۔ اسی طرح لوگوں کا یہ کہنا :''یہ چیز قابل مذمت ہے یا اس کی مانند جو دیگر الفاظ ہیں ( ان سے یہی مراد ہے)

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6583

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6584

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سُحِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَحَرَهُ رَجُلٌ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ فَعَلَ الشَّيْءَ، وَلَمْ يَفْعَلْهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ، قَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَشَعُرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ، أَتَانِي مَلَكَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ فَقَالَ الْآخَرُ: مَطْبُوبٌ، فَقَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ [ص:548] وَجُفِّ طَلْعِ نَخْلَةٍ ذَكَرٍ، قَالَ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ» قَالَتْ: وَأَتَاهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَكَأَنَّ رَأْسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا اسْتَخْرَجْتَهَا؟ قَالَ: «قَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنْهُ شَرًّا»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں بنوزریق سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی جس کانام لبید بن اعصم تھا ا س نے نبی اکر م ﷺ پر جادو کر دیا ' یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ دعا مانگتے رہے پھر دعا مانگتے رہے پھر آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! کیا تمہیں پتہ ہے اللہ تعالی نے مجھے اس چیز کا جواب دیدیا ہے۔ جس کے بارے میں 'میں نے اس سے دریافت کیا : تھا ۔ میرے پاس دوآدمی (یعنی دو فرشتے ) آئے ۔ ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا جو میر ے پاؤں کے قریب بیٹھا تھا اس نے میرے سرہانے موجود شخص سے دریافت کیا : ان صاحب کو کیا تکلیف ہے ۔ اس نے جواب دیا : ان پر جادو ہوا ہے اس نے دریافت کیا ۔ ان پر کس نے جادو کیا ہے۔ دوسرے نے جواب دیا : لبید بن اعصم نے پہلے نے دریافت کیا : کس چیز میں کیا ہے ۔ دوسرے نے جواب دیا : کنگھی میں سے کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے میں پہلے دریافت کیا :‍وہ کہاں ہے دوسرے نے جواب دیا : ذی زروان کے کنویں میں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کے ہمراہ کنویں کے پاس آئے جب آپ وہاں سے واپس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اس کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھول دی گئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سر شیطان کے سروں کی طرح تھے میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ! آپ نے اسے جلوا کیوں نہیں دیا ' یا نکلوا کیوں نہیں دیا : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :ا للہ تعالی نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کے حوالے سے لوگوں میں کوئی خرابی پیدا کروں ۔ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت ان چیزوں کو دفن کر دیا گیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6584

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6585

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، وَمَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي كِنْدَةَ قَالَ: يَجِيءُ دُخَانٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ وَأَبْصَارِهِمْ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، قَالَ: فَفَزِعْنَا، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَغَضِبَ، فَجَلَسَ، وَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ شَيْئًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لَمَّا لَا يَعْلَمُ: لَا أَعْلَمُ، فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ [ص:549] عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ} [ص: 86] إِنَّ قُرَيْشًا دَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسِنِي يُوسُفَ»، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى هَلَكُوا فِيهَا، فَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ، وَيَرَى الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، جِئْتَ تَأْمُرُ بِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَقَوْمُكَ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِيَ السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} [الدخان: 11]، إِلَى قَوْلِهِ: {إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ} [الدخان: 15]، فَيَكْشِفُ عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا جَاءَ، ثُمَّ عَادُوا إِلَى كُفْرِهِمْ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى} [الدخان: 16]، فَذَلِكَ يَوْمُ بَدْرٍ، {فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا} [الفرقان: 77] يَوْمَ بَدْرٍ، وَ {الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ} [الروم: 1]، وَالرُّومُ قَدْ مَضَى، وَقَدْ مَضَتِ الْأَرْبَعُ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ پر جادو کیر دیا گیا ۔ بنوزریق سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی شخص نے آپ پر جادو کیا ۔ اس شخص کا نام لبید بن اعصم تھا ' یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ یسے آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا ۔ ایک دن یہی حالت رہی پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! کیا تمہیں پتہ ہے میں نے اللہ تعالی سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا : اللہ تعالی نے مجھے اس کے بارے میں بتا دیا ہے ۔ میرے پاس دو فرشتے آئے ان میں اسے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤ ں کے قریب بیٹھ گیا ۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے نے جواب دیا : لبید بن اعصم نے پہلے نے دریافت کیا : کس چیز میں کیا ہے ۔ دوسرے نے جواب دیا : کنگھی میں اور کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے میں پہلے نے دریافت کیا : وہ کہاں ہے۔ دوسرے نے جواب دیا : ذروان کے کنویں میں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ اپنے چند صحابہ کرام کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے (واپس آکر ) نبی اکر م ﷺنے فرمایا : اے عائشہ ! اس کنویں کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندہ گھولی ہوئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سرے یوں تھے جیسے شیاطین کئے سرہوں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے اسے نکلوا کیوں نہیں دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اس کے حوالے سے مسلمانوں کے درمیان کوئی خرابی پھیلاؤں ۔

مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6585

chevron_left Previous
1…323334…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr