صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6562
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، [ص:518] أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا»، وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ، وَقَدْ أَدْمَى عُرْقُوبَيْهِ وَكَعْبَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تُطِيعُوهُ، فَإِنَّهُ كَذَّابٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قِيلَ: هَذَا غُلَامُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قُلْتُ: فَمَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ الْعُزَّى أَبُو لَهَبٍ قَالَ: فَلَمَّا ظَهَرَ الْإِسْلَامُ، خَرَجْنَا فِي ذَلِكَ حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ، وَمَعَنَا ظَعِينَةٌ لَنَا فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ إِذْ أَتَانَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: مِنَ الرَّبَذَةِ، قَالَ: وَمَعَنَا جَمَلٌ، قَالَ: أَتَبِيعُونَ هَذَا الْجَمَلَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: بِكَمْ؟ قُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَأَخَذَهُ، وَلَمْ يَسْتَنْقِصْنَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، ثُمَّ تَوَارَى بِحِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَتَلَاوَمْنَا فِيمَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: أَعْطَيْتُمْ جَمَلَكُمْ رَجُلًا لَا تَعْرِفُونَهُ؟ قَالَ: فَقَالَتِ الظَّعِينَةُ: لَا تَلَاوَمُوا، فَإِنِّي رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ لَمْ يَكُنْ لِيَحْقِرَكُمْ *، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مِنْ وَجْهِهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ أَتَانَا رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا حَتَّى تَشْبَعُوا، وَتَكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا» قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا وَاكْتَلْنَا حَتَّى اسْتَوْفَيْنَا، قَالَ: ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ مِنَ الْغَدِ، فَإِذَا رَسُولُ [ص:519] اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: «يَدُ الْمُعْطِي يَدُ الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ، أُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ»، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا مِنْهُ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَقَالَ: «أَلَا لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ، أَلَا لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ»
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی کیا آپ پر کوئی ایسا دن بھی آیا جو احد کے دن سے زیادہ سخت ہو ؟ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے تمہاری قوم کی طرف سے جس سب سے زیادہ تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا وہ عقبہ کے د ن تھی۔ جب میں نے ابن عبدیا لیل بن کلال کو ( اسلام کی ) دعوت دی تو میری جو خواہش تھی اس نے اس کے مطابق مجھے جواب نہیں دیا ۔ میں پریشانی کے عالم میں جارہا تھا میں نے اپنا سرا ٹھایا تو وہاں ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا ۔ جب میں نے جائزہ لیا تو اس میں حضرت جبرائیل ؑ موجود تھے ۔ انہوں نے مجھے بلند آواز میں کہا اور بولے آپ کی قوم نے جو آپ کو جواب دیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے اور انہوں نے جو رد عمل ظاہر کیا ہے ( وہ دیکھ لیا ہے ) اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ کی طرف بھیجا ہے ۔آپ ان لوگوں کے بارے میں اسے جو چاہیں حکم دیدیں نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : تو پہاڑوں کے فرشتے نےمجھے مخاطب کیا اس نے مجھ پر سلام بھیجا اور پھر بولا : اے حضرت محمد ؓ کی قوم نے آپ کو جو کہا ہے اللہ تعالیٰ نے اس سن لیا میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں ۔ آپ کے پروردگار نےمجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے اپنی مرضی کے مطابق حکم دیں اگر آپ چاہیں تو میں یہ پہاڑ ان پر الٹ دوں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ( جی نہیں ) مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں میں سے ان لوگوں کو پیدا کرے گا ، جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے ، اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔
طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6562
