Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6562

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، [ص:518] أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا»، وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ، وَقَدْ أَدْمَى عُرْقُوبَيْهِ وَكَعْبَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تُطِيعُوهُ، فَإِنَّهُ كَذَّابٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قِيلَ: هَذَا غُلَامُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قُلْتُ: فَمَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ الْعُزَّى أَبُو لَهَبٍ قَالَ: فَلَمَّا ظَهَرَ الْإِسْلَامُ، خَرَجْنَا فِي ذَلِكَ حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ، وَمَعَنَا ظَعِينَةٌ لَنَا فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ إِذْ أَتَانَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: مِنَ الرَّبَذَةِ، قَالَ: وَمَعَنَا جَمَلٌ، قَالَ: أَتَبِيعُونَ هَذَا الْجَمَلَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: بِكَمْ؟ قُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَأَخَذَهُ، وَلَمْ يَسْتَنْقِصْنَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، ثُمَّ تَوَارَى بِحِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَتَلَاوَمْنَا فِيمَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: أَعْطَيْتُمْ جَمَلَكُمْ رَجُلًا لَا تَعْرِفُونَهُ؟ قَالَ: فَقَالَتِ الظَّعِينَةُ: لَا تَلَاوَمُوا، فَإِنِّي رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ لَمْ يَكُنْ لِيَحْقِرَكُمْ *، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مِنْ وَجْهِهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ أَتَانَا رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا حَتَّى تَشْبَعُوا، وَتَكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا» قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا وَاكْتَلْنَا حَتَّى اسْتَوْفَيْنَا، قَالَ: ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ مِنَ الْغَدِ، فَإِذَا رَسُولُ [ص:519] اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: «يَدُ الْمُعْطِي يَدُ الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ، أُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ»، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا مِنْهُ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَقَالَ: «أَلَا لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ، أَلَا لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی کیا آپ پر کوئی ایسا دن بھی آیا جو احد کے دن سے زیادہ سخت ہو ؟ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے تمہاری قوم کی طرف سے جس سب سے زیادہ تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا وہ عقبہ کے د ن تھی۔ جب میں نے ابن عبدیا لیل بن کلال کو ( اسلام کی ) دعوت دی تو میری جو خواہش تھی اس نے اس کے مطابق مجھے جواب نہیں دیا ۔ میں پریشانی کے عالم میں جارہا تھا میں نے اپنا سرا ٹھایا تو وہاں ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا ۔ جب میں نے جائزہ لیا تو اس میں حضرت جبرائیل ؑ موجود تھے ۔ انہوں نے مجھے بلند آواز میں کہا اور بولے آپ کی قوم نے جو آپ کو جواب دیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے اور انہوں نے جو رد عمل ظاہر کیا ہے ( وہ دیکھ لیا ہے ) اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ کی طرف بھیجا ہے ۔آپ ان لوگوں کے بارے میں اسے جو چاہیں حکم دیدیں نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : تو پہاڑوں کے فرشتے نےمجھے مخاطب کیا اس نے مجھ پر سلام بھیجا اور پھر بولا : اے حضرت محمد ؓ کی قوم نے آپ کو جو کہا ہے اللہ تعالیٰ نے اس سن لیا میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں ۔ آپ کے پروردگار نےمجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے اپنی مرضی کے مطابق حکم دیں اگر آپ چاہیں تو میں یہ پہاڑ ان پر الٹ دوں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ( جی نہیں ) مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں میں سے ان لوگوں کو پیدا کرے گا ، جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے ، اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔

طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6562

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6563

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:521] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ مُتَوَارٍ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ وَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «{وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: 110]، فَتُسْمِعَ الْمُشْرِكِينَ، {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] عَنْ أَصْحَابِكَ، أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ، وَلَا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ، {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: 110] بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ»

حضرت طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا ۔ آپ نے سرخ حلہ پہنا ہو ا تھا ۔ آپ یہ فرما رہے تھے اے لوگو : لا الہ لا اللہُ پڑ ھ لو تم لوگ کامیاب ہو جا ؤگے۔ ایک شخص آپ کے پیچھے پیچھے آرہا تھا اور آ پ کو پتھر مار تا جا رہا تھا ۔ اس نے نبی اکرم ﷺ کی پنڈلیاں او ر ٹخنوں کا لہو لہان کر دیا تھا وہ یہ کہہ رہا تھا : اے لوگو ! تم اسکی بات نہ مانو یہ جھو ٹ بولتا ہے۔ (راوی کہتے ہیں ) میں نے دریافت کیا یہ کون صاحب ہیں تو بتایا گیا یہ بنو عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ہیں ۔ میں نے دریافت کیا : جو شخص ان کے پیچھے آکر انہیں پتھر ماررہا ہے وہ کون ہے تو اس نے بتایا یہ عبدالعزیٰ ابو لہب ہے ہمارے ساتھ ایک عورت بھی تھی ۔ ابھی ہم بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آیا اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اس نے سلام کیا اور دریافت کیا : آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں ۔ ہم نے جواب دیا : غبزہ ۔ ربذہ راوی کہتے ہیں : ہمارے ساتھ اونٹ بھی تھے ۔ اس شخص نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اس اونٹ کو فروخت کرو گے ۔ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس نے دریافت کیا : کتنے کے عوض میں ۔ ہم نے جواب دیا : کھجوروں کے اتنے اور اتنے صاع کے عوض میں ۔ راوی کہتے ہیں : اس شخص سے سودا طے کر لیا اور اس نے ہمیں قیمت کم کرنے کے لئے نہیں کہا ۔ وہ بولا میں یہ لے لیتا ہوں پھر وہ (اس اونٹ کو لے کر ) مدینہ کے اندر چلے گئے اور (ہم سے چھپ گئے ) ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنا شروع کی ۔ ہم نے کہا : تم نے اپنا اونٹ ایک ایسے شخص کو دیدیا ہے جس سے تم واقف ہی نہیں ہو۔راوی کہتے ہیں : تو اس عورت نے کہا : تم لوگ ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو کیونکہ میں نے ان صاحب کے چہرے پر ایک ایسی چیز دیکھی ہے کہ وہ تمہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے۔ میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو نا کے چہرے سے زیادہ چودھویں را ت کے چاند سے مشابہت رکھتی ہو۔ راوی کہتے ہیں : جب شام کا وقت ہوا تو ایک شخص ہمارے پا س آیا اس نے ہمیں سلام کیا اور بولا میں اللہ کے رسو ل کا پیغام رساں ہوں وہ یہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ تم اس طرح کھاؤ کہ سیر ہو جاؤ اور اتنا ماپ لوکہ پوری ادائیگی کر لو۔ راوی کہتے ہیں :ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے ۔ پھر ہم نے ماپ لیا 'یہاں تک کہ ہم نے پوری وصولی کر لہ ۔ پھر ہم اگلے دن مدینہ منورہ کے اند آئے تو نبی اکرم ﷺ اپنے منبر پر کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : ''دینے والا ہاتھ اور والا ہے اور تم اپنے زیر کفالت سے خرچ کا آغاز کرو، جو تمہاری ماں تمہارا باپ تمہاری بہن تمہارا بھائی ہے پھر درجہ بہ درجی قریبی لوگ ہیں پھر ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! بنو ثعلبہ بن یر بوع نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کر دیا تھا ۔ آپ ہمیں اس سے بدلہ دلوائیں تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے ' یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : خبر دار ! ماں بچے کی غلطی کی سزا نہیں بھگتے گی' خبردار ماں بچے کے جرم کا تاوان ادا نہیں کرے گی۔

اللَّهُ لِنَبِيِّهِ «{وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: فَتُسْمِعَ الْمُشْرِكِينَ، {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ← ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، ← نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ بِمَكَّةَ مُتَوَارٍ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ وَإِذَا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:98] ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6563

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6564

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: خَرَجَ جَيْشٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنَا أَمِيرُهُمْ، حَتَّى نَزَلْنَا الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ، فَقَالَ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَائِهِمُ: اخْرِجُوا إِلَيَّ رَجُلًا يُكَلِّمُنِي وَأُكَلِّمُهُ، فَقُلْتُ: لَا يَخْرُجُ إِلَيْهِ غَيْرِي، فَخَرَجْتُ وَمَعِي تُرْجُمَانِي وَمَعَهُ تُرْجُمَانَهُ حَتَّى وُضِعَ لَنَا مِنْبَرٌ، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ؟ فَقُلْتُ: «إِنَّا نَحْنُ الْعَرَبُ، وَنَحْنُ أَهْلُ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتِ اللَّهِ، كُنَّا أَضْيَقَ النَّاسِ أَرْضًا، وَأَشَدَّهُمْ عَيْشًا، نَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ، وَيَغِيرُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ بِأَشَدِّ عَيْشٍ عَاشَ بِهِ النَّاسُ، حَتَّى خَرَجَ فِينَا رَجُلٌ لَيْسَ بِأَعْظَمِنَا - يَوْمَئِذٍ - شَرَفًا، وَلَا أَكْثَرَنَا مَالًا، وَقَالَ: » أَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ «، يَأْمُرُنَا بِمَا لَا نَعْرِفُ، وَيَنْهَانَا عَمَّا كُنَّا عَلَيْهِ، وَكَانَتْ عَلَيْهِ آبَاؤُنَا، فَكَذَّبْنَاهُ، وَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ، حَتَّى خَرَجَ إِلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ غَيْرِنَا، فَقَالُوا: نَحْنُ نُصَدِّقُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَتَّبِعُكَ، وَنُقَاتِلُ مَنْ قَاتَلَكَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، وَخَرَجْنَا إِلَيْهِ، فَقَاتَلْنَاهُ، فَقَتَلْنَا، [ص:523] وَظَهَرَ عَلَيْنَا، وَغَلَبَنَا، وَتَنَاوَلَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهِمْ، فَلَوْ يَعْلَمُ مَنْ وَرَائِي مِنَ الْعَرَبِ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا جَاءَكُمْ حَتَّى يُشْرِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ»، فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَكُمْ قَدْ صَدَقَ، قَدْ جَاءَتْنَا رُسُلُنَا بِمِثْلِ الَّذِي جَاءَ بِهِ رَسُولُكُمْ، فَكُنَّا عَلَيْهِ حَتَّى ظَهَرَتْ فِينَا مُلُوكٌ، فَجَعَلُوا يَعْمَلُونَ بِأَهْوَائِهِمْ، وَيَتْرُكُونَ أَمْرَ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَخَذْتُمْ بِأَمْرِ نَبِيِّكُمْ لَمْ يُقَاتِلْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبْتُمُوهُ، وَلَمْ يُشَارِكْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ظَهَرْتُمْ عَلَيْهِ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْنَا، وَتَرَكْتُمْ أَمْرَ نَبِيِّكُمْ وَعَمِلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي عَمِلُوا بِأَهْوَائِهِمْ فَخَلَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ لَمْ تَكُونُوا أَكْثَرَ عَدَدًا مِنَّا، وَلَا أَشَدَّ مِنَّا قُوَّةً، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: «فَمَا كَلَّمْتُ رَجُلًا قَطُّ أَمْكَرَ مِنْهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ۔ ''اور تم اپنی نماز میں اپنی آواز کو زیادہ بلند بھی نہ کرو اور بالکل پست بھی نہ رکھو۔'' حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت نبی اکرم ﷺ مکہ میں پوشیدہ طو ر پر رہ رہے تھے جب آپ اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تھے تو بلندآواز میں تلاوت کرتے تھے جب مشرکین اس آواز کو سنتے تھے تو وہ قرآن کو اور اسے ناز ل کرنے والے کو برا کہتے تھے تو اللہ تعالی نے اپنے نبی پر یہ بات ناز ل کی ۔ ''تم بلند آواز میں نماز ادا نہ کرو(یعنی قرأت نہ کرو)'' یوں کہ تم مشرکین تک آواز پہنچا دو ۔ ''اور تم استے پست بھی نہ رکھو'' یعنی یہ کہ تمہارے ساتھیوں تک بھی آواز نہ جائے تم انہیں آواز پہنچاؤ لیکن زیادہ بلند آواز نہ کرو ''اور تم ان کے درمیان کا راستہ تلاش کرو'' یعنی زیادہ بلند اور پست کے درمیان کا راستہ تلاش کرو۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6564

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6565

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَائِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: [ص:524] سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ، يَقُولُ: «أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَدْ وُدِّعَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى} [الضحى: 3]»

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں : مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ ہوا میں ان لوگوں کا امیر تھا 'یہاں تک کہ ہم نے اسکندریہ میں پڑاؤ کیا تو ان کے رئیس نے یہ کہا ایک شخص کو میرے پاس بھیجو جومیرے ساتھ بات چیت کرے اور میں اس کے ساتھ بات چیت کروں تومیں نے کہا : اس کے پاس میرے علاوہ اور کوئی نہیں جائے گا ۔ میں وہاں سے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ میرا ترجمان تھا ۔ اس کے ساتھ اس کا ترجمان تھا ' یہاں تک کہ ہمارے لئے منبر رکھا گیا اس نے دریافت کیا : تم کون لوگ ہو ۔ میں نے جواب دیا : ہم عرب ہیں ہم کانٹو ں اور پتے والے ہیں (یعنی ہمارے علاقے میں سبزی اور ہریالی نہیں ہوتی) ہم اللہ کے گھر کے (پاس رہنے والے) لوگ ہیں ۔ ہماری زمین سب سے زیادہ تنگ تھی اور ہماری زندگی سب سے زیادہ سخت تھی۔ ہم مردار اور خون بھی کھا لیا کرتے تھے ۔ غرضیکہ ہم بد ترین حالت میں تھے یہا ں تک کہ ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا جو اس وقت قدرومنزلت کے اعتبار سے ہم سب سے زیادہ عظیم نہیں تھے۔ یاور نہ ہی مال ودولت کے اعتبارر سے زیادہ مال والے تھے۔ انہوں نے یہ کہا میں اللہ کا رسول ہوں جو تمہاری طرف آیا ہوں ۔ انہو ں نے ہمیں ان باتوں کو حکم دیاجن سے ہم آشنا نہیں تھے اور انہوں نے ہمیں ان چیزوں سے منع کیا جن پر ہم عمل پیر ا ہوتے تھے اور جن پر ہمارے باپ داد چلتے تھے ۔ ہم نےان کی تکذیب کی ہم نے انکی بات کو مسترد کر دیا ' یہاں تک کہ ان کے پاس ایک قوم آئی جو ہم سے تعلق نہیں رکھتی تھی ۔ انہوں نے کہا : ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں ۔ ہم آپ پر ایمان لاتے ہیں ہم آپ کی پیروی کرتےہیں اور جو شخص آپ کے ساتھ لڑائی کرے گا ہم اس کے ساتھ لڑیں گے' تو وہ رسو ل ان کی طرف تشریف لے گئے پھر ہم ان کی طرف جانے کے لئے نکلے ہم ان کے ساتھ جنگ کی ۔ انہوں نے ہمیں قتل کیا اور ہم ہم پر غالب آگئے ۔ اس کے بعد وہ آس پاس کے دیگر عرب قبائل کی طرف بڑھے ۔ انہوں نے ان کے ساتھ جنگیں کیں 'یہاں تک کہ ان پر بھی غلاب آگئے اگر میرے پیچھے موجود عربوں کو اس با ت کا پتہ چل جائے کہ تم لوگ کس طرح کی نازو نعمت والی زندگی گزار رہے ہو تو وہاں موجود ہر شخص تمہارے پاس آجائے گا اور تم لوگ جس نازو نعمت میں ہو اس بارے میں تمہارا حصہ دار بن جائے گا ۔اس پروہ (یعنی کفار کا امیر ) ہنس پڑا پھر وہ بولا : تمہارے رسول نے سچ کہا ہے ہمارے پاس بھی اسی طرح رسو ل آئے تھے جس طرح تمہارے رسول تشریف لائے ۔ ہم بھی ان کی ہدایت پر گامزن رہے ' یہا تک کہ ہمار ے درمیان بادشاہوں نے غلبہ حاصل کر لیا ۔ انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور انبیاء کےاحکام کو ترک کر دیا تو تم لوگ جب تک اپنے نبی کے حکم پر کار بند رہو گے تمہارے ساتھ جوبھی لڑے گا تم اس پر غالب آجاؤ گے'اور جو شخص تمہارا حصہ دار بننے کی کوشش کرے گا تم اس پر غالب آجاؤ گے۔ اور جب تم لوگ وہ طرز عمل اختیار کرو گے جو ہم نے کیا اور تم لوگ نبی کے حکم کو ترک کر دو گے ' اور تم لوگ وہ عمل کرو گے جو ان لوگوں نے عمل کیا تھا جنہوں نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی تھی تو پھر تم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکو گے کیونکہ عددی اعتبار ست تم ہم سے زیادہ نہیں ہو۔ قوت کے اعتبار سے تم ہم سے زیادہ زبر دست نہیں ہو۔

«أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ ← جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ ← [ص:149] ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدٌ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَائِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6565

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6566

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا، يَقُولُ: «اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِلَّا قَدْ تَرَكَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى} [الضحى: 2]»

حضرت جندب بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ کچھ عرصے تک نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے تو مشرکین نے کہنا شروع کر دیا انہیں چھوڑ دیا گیا ہے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی۔ ''نہ تو تمہارے پروردگار نے تمہیں چھوڑا ہے اور نہ ہی نا پسند کیا ہے۔''

«اشْتَكَى النَّبِيُّ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، ← جُنْدُبًا ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حُمَيْدٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6566

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6567

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ*، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ؟ قَالَ: قَدْ حَضَرْتُهُمْ وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ فِي الْحِجْرِ، فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ، سَفَّهَ أَحْلَامَنَا، وَشَتَمَ آبَاءَنَا، وَعَابَ دِينَنَا، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَسَبَّ آلِهَتَنَا، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ [ص:526] عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ، أَوْ كَمَا قَالُوا، فَبَيْنَا هُمْ فِي ذَلِكَ، إِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، فَمَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ الْقَوْلِ، قَالَ: وَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ مَضَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ مَضَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ، غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا، ثُمَّ قَالَ: «أَتَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ» قَالَ: فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا لَكَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ، حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَطْأَةً قَبْلَ ذَلِكَ يَتَوَقَّاهُ بِأَحْسَنِ مَا يُجِيبُ مِنَ الْقَوْلِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ: انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، انْصَرِفْ رَاشِدًا، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ، وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ، حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ، وَبَيْنَا هُمْ فِي ذَلِكَ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، وَأَحَاطُوا بِهِ، يَقُولُونَ لَهُ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا - لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ؟ قَالَ: «نَعَمْ، أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ» قَالَ: فَلَقَدْ [ص:527] رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ، وَقَالَ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي: أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ؟، ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشُدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ

حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ بیمار ہو گئے ۔ آپ ایک یا دو رات تک کھڑے نہیں ہو سکے ۔(یعنی باہر تشریف نہیں لائے ) تو ایک خاتون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ اس نے عر ض کی : اے حضرت محمد ﷺ میرا خیال ہے آپ کے شیطا ن نے آپ کو چھوڑ دیا ہے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ''چاشت کے وقت کی قسم ہے اور رات کی قسم ہے جب وہ چھا جائے تمہارے پروردگار نے نہ تو تمہیں چھوڑا ہے اور نہ ہی نہ پسند کیا ہے۔''

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← يَحْيَی بْنِ عُرْوَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6567

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6568

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:528] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ، فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ، فَقَالَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَهُ عَلَى يَدَيَّ، قَالَ: فَلَقِيَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ، وَإِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَى يَدَيَّ مَنْ شَاءَ فَهَلْ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلٌّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ»، فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَذِهِ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ، وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَى قَوْمِكَ؟ »، فَقَالَ: وَعَلَى قَوْمِي، قَالَ: فَبَايَعَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ، فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ: هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلَاءِ شَيْئًا؟ فَقَالُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً، قَالَ: رُدُّوهَا، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ ضِمَادٍ

یحیی ٰ بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں ان کے والد کہتے ہیں میں نے دریافت کیا : قریش نےنبی اکرم ﷺ سے اپنی عداوت کے اظہار کے لئے جو کچھ کیا اس میں آپ نے سب سے زیاد ہ (شدت والی) کیا زچیز دیکھی؟ تو حضرت عبداللہ نے بتایا : ایک مرتبہ میں ان لوگوں کے ساتھ موجود تھا ان کے معززین حطیم میں موجود تھے انہو ں نے نبی اکرم ﷺ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہم نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر ہمیں اتنا صبر سے کام لینا پڑا ہو جتنا انصاف کے حوالے سے لینا پڑرہا ہے ۔ انہوں نے سمجھ دار لوگوں کو بے وقوف قرار دیا ۔ کیا ہمارے آباؤ اجداد کو بر ا کہا۔ ہمارے دین کو غلط قرار دیا ۔ ہماری اجتماعیت کے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہمارے معبودں کو بر ا کہا ہم نے ان کی طرف سےایک بڑے معاملے پر صبر سےکام لیا ہے جیسے بھی انہوں نے کہا : ابھی وہ لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺ چلتے ہوئے تشریف لائےآپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر آپ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے جب آپ ان کے پا س سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ پر آوازے کسے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر ( نا پسند یدگی ) کا اندازہ ہو گیا ' لیکن نبی اکرم ﷺ چلتے رہے جب آپ دوسرے مرتبہ ا ن کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر آپ پر آواز ے کسے ' جس کے (ملال ) کا انداز ہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر ہو گیا لیکن نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، جب آپ تیسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو ان لوگوں نے پھر اسی طرح کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے قریش کے گروہ اس ذا ت کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میں تمہارے پاس ذبح کے ہمراہ آیا ہوں ۔ (یعنی تم سارے لوگ مارے جاؤ گے) یہ سن کر انہیں سانپ سونگھ گیا ' یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک شخص کی یہ حالت ہو گئی جیسے اس کے سر پر پرندہ بیٹھا ہوا ہے حالانکہ نبی اکرم ﷺ کو ان کی طرف سے اس سے پہلے بھی شدید صورت حال کا سامنا کرنا پڑ ا تھا لیکن آپ ہمیشہ نرمی سے جواب دیا کرتے تھے ۔ (اتنا سخت جواب سن کر ) انہوں نے یہ کہا اے ابو القاسم آپ تشریف لے جائیے ۔ آپ ایسی حالت میں تشریف لے جائیے کہ آپ رہنمائی کرنے والے ہوں ۔ اللہ کی قسم ! آپ تو جہالت کا مطاہرہ نہیں کرتے تھے ۔ (یعنی کلام میں شدت کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے) تو نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا تو وہ لوگ پر حطیم میں اکٹھے ہوئے ۔ میں بھی ان کے ساتھ ان میں سے ایک نے دوسرے سےکہا تمہیں یاد ہے تم نے انہیں کیا بات کہی تھی اور انہوں نے تمہیں کیا بات کہی تھی ' یہاں تک کہ جب انہوں نے تمہارے سامنے ایک چیز کو ظاہر کیا جو تمہیں پسند نہیں آئی تو پھر تم نے انہیں چھوڑا ابھی یی لوگ یہی باتیں کر رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے تو وہ سب مل کر نبی اکرمﷺ کی طرف بڑھے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو گھیر لیا ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سےدریافت کیا آپ نے یہ بات کہی تھی اور یہ بات کہی تھی یعنی وہ باتیں جو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے پہنچی تھیں کی آپ ان کےمعبودوں اور ان کے دین کو ٖغلط قرار دیتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہاں میں نبے یہ بات ہی تھی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کی چادر کو پکڑا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے آگے کھڑے ہوئے ' وہ رو رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : کیا تم ایک ایسے شخص کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہو ؟ جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) قریش کے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ برے سلوک کی یہ سب سے سخت صورت حال تھی جو میں نے دیکھی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6568

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6569

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ*، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَرَادُوا قَتْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا يَوْمًا رأيتهم * وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْمَقَامِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَجَعَلَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ، ثُمَّ جَذَبَهُ حَتَّى وَجَبَ لِرُكْبَتَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَصَايَحَ النَّاسُ، فَظُنُّوا أَنَّهُ مَقْتُولٌ، قَالَ: وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْتَدُّ حَتَّى أَخَذَ بِضَبْعَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَائِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ، ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ مَرَّ بِهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِلَّا بِالذَّبْحِ»، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى حَلْقِهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ: يَا مُحَمَّدُ، مَا كُنْتَ جَهُولًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ مِنْهُمْ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے ضماد نامی جس کا تعلق ازدشنوءہ سے تھا وہ مکہ آیا وہ ہوا (یعنی ذہنی خرابی) کا دم کیا کرتا تھا ۔ اہل مکہ کے بے وقوف لوگ یہ کہتے تھے : حضرت محمد کو جنون لاحق ہو گیا ہے اس شخص نے کہا : اگر میں اس شخس کو دیکھ لوں تو ہو سکتا ہے اللہ تعالی اسے میرت ذریعے شفا دیدے ۔ راوی کہتے ہیں : اس کی ملاقات نبی اکرمﷺ سے ہوئی ' اس نے کہا : اے حضرت محمد ﷺ میں اس ہوا (یعنی ذہنی توازن خراب ہونے) کا دم کرتا ہوں اور اللہ تعالی جسے چاہتا ہے میرے ذریعے شفا دیدیتاہے تو کیا آپ کو اس میں کوئی دلچسپی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : '' بے شک ہر طرح کی حمد اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے ۔ ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں ' اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں جس شخص کو اللہ تعالہی ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ رہنے دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اسکا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اما بعد '' اس شخص نے کہا: آپ اپنے یہ کلمات میے سامنے دوبارہ دہرائیے تو نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ یہ کلمات اس کے سامنے دوہرادئیے ۔ اس شخص نے کہا : میں نے کاہنوں کا کلام سنا ہے جادو گروں کو کلام سنا ہے شاعروں کا کلام سنا ہے لیکن میں نے آپ کے ان کلمات کی مانند کوئی کلام نہیں سنا ۔ آپ اپنا ہاتھ آگے کیجئے تا کہ میں آپ کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت کروں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہاری قوم بھی کرے گی؟ اس نے کہا: میری قوم بھی کرے گی۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے بیعت لے لی پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم روانہ کی۔ ان لوگؤں کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو اس لشکر کےامیر نے اپنے لشکر سے کہا کیا تم ان لوگوں سے کوئی چیز لی ہے تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا : میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے تو امیر نے کہا : تم وہ انہیں واپس کر دو کیونکہ یہ ضماد کی قوم کے افراد ہیں ۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6569

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6570

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلُهُ نَاسٌ، إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ، فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ»، شَكَّ شُعْبَةُ، قَالَ: «فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ وَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ، غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ، فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ»

حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کہتےہیں میں نے قریش کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے نبی اکر م ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہو ۔ صرف ایک دن ایسا ہوا میں نے انہیںدیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم ﷺ مقام ابرا ہیم کے پاس نماز ادا کر رہے تھے تو عقبہ بن ابو معیط اٹھ کر نبی اکرم ﷺ کی طرف گیا ۔ اس نے نبی اکرم ﷺ کی چادر آپ کی گردن میں ڈالی اور پھر اسے کھینچا ' یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ گھٹنوں کے بل گر پڑے ۔ لوگوں نے چیخنا شروع کر دیا ۔ وہ یہ سمجھے کہ شاید آپ شہید ہو گئے ہیں راوی کہتے ہیں : اسی دوران حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پیچھے سے دونوں بازوؤ ں سے پکڑا وہ یہ کہہ رہے تھے کیا تم ایک ایسے شخص کو مارنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے میرا پروردگا اللہ تعالی ٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکر م ﷺ کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے جب نبی اکرم ﷺ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ ان لوگوں کے پاس سے گزر ے ۔ وہ لوگ اس وقت کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے قریش کے گروہ مجھے تمہاری طرف ذبح کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے(یعنی تم سب لو گ میرے ساتھ جنگ کرتے ہو ئے مارے جاؤ گے) نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبار ک کے ذریعے اپنےحلق کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی تو ابو جہل نےنبی اکرم ﷺ سے کہا اے ابو حضرت محمد ﷺ آپ تو سختی سے جواب دینے والے نہیں ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم بھی ان میں شامل ہو گے(یعنی جو لوگ ان میں مارے جائیں گے)

عَبْدُ اللَّهِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبَا إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6570

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6571

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، [ص:533] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، فَبِالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ، قَالَ: فَمَا فَجَأَهُمْ إِلَّا أَنَّهُ يَتَّقِي بِيَدِهِ، وَيَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ، فَأَتَوْهُ، فَقَالُوا: مَا لَكَ يَا أَبَا الْحَكَمِ؟ قَالَ: إِنَّا بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً، قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {أَرَأَيْتَ الَّذِيَ يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى} [العلق: 10] إِلَى آخِرِهِ {فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ} [العلق: 17]، قَالَ قَوْمُهُ: {سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ} [العلق: 18] قَالَ الْمَلَائِكَةُ: {لَا تُطِعْهُ} [العلق: 19]، ثُمَّ أَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ مِنَ السُّجُودِ فِي آخِرِ السُّورَةِ، قَالَ: فَبَلَغَنِي عَنِ الْمُعْتَمِرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ دَنَا مِنِّي لَاخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سجدے کی حالت میں تھے آپ کے اردگرد کچھ لوگ موجود تھے ۔ اسی دوران عقبہ بن ابو معیط ایک (اونٹ کی ) اوجھ لے کر آیا اور اسے نبی اکرمﷺ کی پشت پر رکھ دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر نہیں اٹھایا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ آئیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی پشت سے اسے ہٹایا اور جس نے ایسا کیا تھا اس کے خلاف دعا ئے ضر رک کی نبی اکرم ﷺ نے دعا کی۔ ''اے اللہ قریش کے کچھ افراد کو اپنی گرفت میں لے ۔ ابو جہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، عقبہ بن ابو معیط ،امیہ بن خلف ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اُبی بن خلف ''یہ شک شعبہ نامی راوی کہ ہے''۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے مو قع پر میں نے ان سب لوگوں کو دیکھا ہ ان کی (لاشوں کو ) ایک کنویں میں ڈال دیا گیا ۔ صرف امیہ کو نہیں ڈالا گیا کیونکہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے ۔ اسے کنویں میں نہیں ڈالا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← أَبِيهِ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6571

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6572

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ مَكَّةَ أَتَوْهُ، فَقَالُوا: نَحْنُ أَهْلُ السِّقَايَةِ وَالسِّدَانَةِ، وَأَنْتَ سَيِّدُ أَهْلِ يَثْرِبَ، فَنَحْنُ خَيْرٌ أَمْ هَذَا الصُّنَيْبِيرُ الْمُنْبَتِرُ مِنْ قَوْمِهِ، يَزْعُمُ أَنَّهُ خَيْرٌ مِنَّا، فَقَالَ: أَنْتُمْ خَيْرٌ مِنْهُ، فَنَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «{إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} [الكوثر: 3]، وَنَزَلَتْ: {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا} [النساء: 51]»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : ابو جہل نے کہا : کیا تم لوگوں کے درمیان حضرت محمد ﷺ اپنے چہرے کو بچا سکتے ہیں ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے اگر میں نے انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف آیا تا کہ آپ کی گردن پر پاؤ ں رکھے ۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تھوڑی ہی دیر کے بعد یوں لگا جیسے وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے کسی چیز سے بچنا چاہتے ہیں اور وہ الٹے قدموں واپس مڑ گیا ۔ دوسرے لوگ اس کے پا س آئے اور انہوں نے دریافت کیا : اے ابو الحکم آپ کا کیا ہوا ہے اس نے کہا : میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق تھی اور ہولناکی تھی اور پر تھے ۔ (یعنی غیر مرئی مخلوق تھی) ابو معتمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں تو اللہ تعالی نے یہ آیت ناز ل کی ۔ ''کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو اس بندےکو روک رہا تھا جو نماز ادا کر رہا تھا ۔''یہ آیت آخر تک ہے۔ ''تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی نادی کو بلالے''یعنی اپنی قوم کو بلا لے۔ ''ہم زبانیہ کو بلالیں گے''یعنی فرشتوں کو ''تم اس کی بات نہ مانو۔'' اس کے بعد اللہ تعالی ٰ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم دیا کہ اس سورت کے آخر میں سجدہ تلاوت کرنا ہے۔ راوی کہتے ہیں : معتمر کے حوالے سے یہ روایت بھی ہم تک پہنچی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''اگر وہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے ۔''

لَمَّا قَدِمَ كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ مَكَّةَ أَتَوْهُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6572

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6573

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: اطْرُدْ هَؤُلَاءِ عَنْكَ، فَإِنَّهُمْ وَإِنَّهُمْ، وَكُنْتُ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ، وَبِلَالٌ، وَرَجُلَانِ نَسِيتُ أَحَدُهُمَا، قَالَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ [ص:536] وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ} [الأنعام: 52] إِلَى قَوْلِهِ: {الظَّالِمِينَ} [الأنعام: 52] «

حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب (یہودیوں کا سردار ) کعب بن اشرف مکہ آیا تو لوگ اس کے پاس آئے اور بولے ہم سقایہ کو سدانہ کی خدمات سر انجام دیتے ہیں اور آپ اہل یثرب کے سردار ہیں ۔ ہم زیادہ بہتر ہیں یا یہ صاحب زیادہ بہتر ہیں جو اپنی قوم سے لا تعلق ہو چکے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے بہتر ہیں تو کعب بن اشرف نے کہا : تم لوگ ان سے بہتر ہو تو اللہ تعالی نے اپنے رسول پر یہ آیت نازل کی۔ '' بے شک تمارے دشمن کا نام و نشان نہیں رہے گا۔'' اور یہ آیت نازل ہوئی: ''کیا تم نے ان لوگوں کی طرف دیکھا جنہیں کتاب میں حصہ دیا گیا لیکن وہ پھر بھی جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں سے کہتے ہیں کہ وہ لوگ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو ایمان لائے ۔''

وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ، وَبِلَالٌ، وَرَجُلَانِ نَسِيتُ أَحَدُهُمَا، ← الْمُشْرِكُونَ: اطْرُدْ هَؤُلَاءِ عَنْكَ، فَإِنَّهُمْ وَإِنَّهُمْ، وَكُنْتُ ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ، ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6573

chevron_left Previous
1…313233…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr