Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6550

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:487] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، قَالَ: وَهُنَّ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الصَّفَا، فَصَعِدَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَادَى: «يَا صَبَاحَاهُ»، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَبَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ، وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي، يَا بَنِي أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَصَدَّقْتُمُونِي؟ »، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ»، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَمَا دَعَوْتُمُونَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ، فَنَزَلَتْ: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد: 1]، وَقَدْ تُبَّ، وَقَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا

سعید بن مسیب اور ابو سلمہ نے یہ بات بیان کی ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں : جب نبی اکرمﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : "اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔" تو نبی اکرمﷺ نے ارشا دفرمایا: اے قریش اللہ تعالیٰ سے اپنی جانیں خرید لو میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا ۔ اے بنو عبدالمطلب میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا ۔ اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا ۔ اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہیں آسکتا ۔ اے محمد کی صاحبزادی فاطمہؓ تم جو چاہو مجھ سے مانگ لو لیکن میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6550

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6551

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ*، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ الْأَشْعَرِيُّ: «لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214]، وَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَرَفَعَ صَوْتَهُ، وَقَالَ: » يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ «، ثُمَّ سَاقَ الْخَبَرَ *

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی: " اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔" حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں یہ الفاظ بھی ہیں "اور ان میں سے اپنےمخلص گروہ کو ( ڈراؤ)"۔ تو نبی اکرمﷺ باہر تشریف لائے ۔ آپ صفا پہاڑ کے پاس آئے ۔ آپ اوپر چڑھ گئے پھر آپ نے پکارا "خطرہ ہے "۔ لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہوگئے ۔ کوئی شخص خود آگیا ۔ کسی نے اپنے قاصد کو بھیج دیا ۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: اے بنو عبدالمطلب اے بنو فہر! اے بنو مناف! اے بنو(فلاں) ! اے بنو(فلاں)! تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں اس بات کی اطلاع دوں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک لشکر ہے ، جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تو میں شدید عذاب سے پہلے تمہیں ڈرا رہا ہوں ۔ اس پر ابولہب نے کہا:تم ہمیشہ کےلئے برباد ہوجاؤ کیا تم نے ہمیں صرف اس کام کےلئے بلا یا تھا پھر وہ اٹھ کر کھڑ ا ہوگیا ۔ ( اور چلا گیا ) اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: "ابو لہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں ۔"تو برباد ہوگیا۔   البتہ دوسرے لوگوں نے یہ کہا تھا ہمیں آپ کی طرف سے کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔

يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ثُمَّ سَاقَ الْخَبَرَ ← الْأَشْعَرِيُّ: «لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ وَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَرَفَعَ صَوْتَهُ، ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← عَوْفٌ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بشر بن آدم ابن بنت أزهر السمان، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6551

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6552

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ يَوْمًا فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: «طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ، وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ، فَاسْتُغْضِبَ، فَجَعَلَتْ أَعْجَبُ، مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مُحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ، لَا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ كَانَ يَكُونُ فِيهِ، وَاللَّهِ، لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ، وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ، أَوَلَا تَحْمَدُونَ اللَّهَ، إِذْ أَخْرَجَكُمْ تَعْرِفُونَ رَبَّكُمْ، مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ كُفِيتُمُ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ؟ وَاللَّهِ، لَقَدْ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، وَفَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دَيْنًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَّقَ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ حَتَّى [ص:490] إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَلَدَهُ أَوْ وَالِدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا، وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ، فَلَا تَقَرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ، وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ: {الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ} [الفرقان: 74] الْآيَةَ»

حضرت اشعریؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: "تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔" تو نبی اکرمﷺ نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں رکھیں اور بلند آواز میں کہا! اے بنو عبدمناف ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث بیان کی ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6552

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6553

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ، بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى، وَقَيْصَرَ، وَأُكَيْدِرَ دُومَةَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى»

عبدالرحمٰن بن جبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک دن ہم لوگ حضرت مقدار بن اسود کے پا س بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک شخص ان کے پا سے گزرا اور بولا ان د و آنکھوں کےلئے مبارک ہے جنہوں نے نبی اکرمﷺ کی زیارت کی ہے اللہ کی قسم! ہماری تو یہ خواہشد ہے کہ جن کی زیارت آپ نے کی ہے ہم نے بھی ان کی زیارت کی ہوتی جن کے ساتھ آپ رہے ہیں ہم بھی ان کے ساتھ رہے ہوتے تو اس پرو ہ غصے میں آگئے ۔ میں اس پر بہت حیران ہوا کیونکہ اس شخص نے تو اچھی بات کہی تھی ۔ حضرت مقدار بن اسود اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے کسی شخص کو کون سی بات اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اس صورت حال کے رونما ہونے کی آرزو کرے ، جسے اللہ تعالیٰ نے اس سے پوشیدہ رکھا ہے ۔ یہ شخص نہیں جانتا کہ اگر یہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ موجود ہوتا تو اس کی کیا صورت حال ہوتی ۔ اللہ کی قسم! کچھ لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے لیکن اللہ تعالیٰ انہیں نتھنوں کے بل جہنم میں داخل کرے گا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی اکرمﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کیا ۔ آپ کی تصدیق نہیں کی ۔ کیا تم لوگ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرتے کہ اس نے جب تمہیں پیدا کیا تو تم اپنے پروردگار کی معرفت رکھتے ہو ۔ تمہارے نبی جو کچھ لے کہ آئے تم لوگ اس کی تصدیق کرتے ہو اور تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں کو آزمائش میں مبتلاکیا گیا ۔ اللہ کی قسم! جب نبی اکرمﷺ کو مبعوث کیا گیا تو کسی بھی نبی کو ایسی شدید صورت حال میں مبعوث نہیں کیا گیا جیسی صورت حال میں آپ کو کیا گیا ۔ ( انبیاء کی آمد کے درمیان ) وقفہ آچکا تھا ۔ جاہلیت کا زمانہ تھا لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بتوں کی عبادت کرنے سے بہتر دین اور کوئی نہیں ہے پھر فرق کرنے والی ( کتاب یا اسلام ) آیا جس نے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا۔ اس نے باپ اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی کروا دی ، یہاں تک کہ ایک شخص اپنی اولاد یا اپنے والد یا اپنے بھائی کو کافر سمجھتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو ایمان کےلئے کھول دیا تھا ۔ وہ یہ بات جانتا تھا کہ اگر ( اس کا قریبی رشتہ دار) ہلاکت کا شکار ہوا وت جہنم میں جائے گا ۔ اس بات پر اس کی آنکھ ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی جب کہ وہ یہ بات جانتا تھا کہ اس کی محبوب ہستی جہنم میں جائے گی ۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا۔ " وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ہمارے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک رکھ دے ۔"

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَخِيهِ ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ، بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6553

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6554

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى، وَقَيْصَرَ، وَأُكَيْدِرَ دُومَةَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا»

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے کسریٰ ، قیصر اور دومہ ( کے حکمران ) اکیدر کو مکتوبات بھجوائے ۔ آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف ( آنے کی ) دعوت دی ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← اَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ الْحَافِظُ، بِتُسْتَرَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6554

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6555

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، مِنْ فِيهِ إِلَى فِي قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّامِ إِذْ جِيءَ بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ، جَاءَ بِهِ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ، فَقَالَ هِرَقْلُ: [ص:493] هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ، فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَقُلْتُ: أَنَا، فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي، ثُمَّ دَعَا تُرْجُمَانَهُ، فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلُ هَذَا الرَّجُلِ عَنْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِنْ كَذَّبَنِي فَكَذِّبُوهُ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَاللَّهِ، لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي الْكَذِبَ لَكَذَبْتُهُ، ثُمَّ قَالَ لِتُرْجُمَانِهِ: سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ، قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَهَلْ أَنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: مَنْ تَبِعَهُ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ، قَالَ: فَهَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ، قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: تَكُونُ الْحَرْبُ سِجَالًا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، يُصِيبُ مِنَّا، وَنُصِيبُ مِنْهُ، قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ أَوْ قَالَ: هُدْنَةٍ، لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا، مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ، قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، [ص:494] ثُمَّ قَالَ لِتُرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فِيكُمْ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ، فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ، فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ، قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ: أَضُعَفَاءُ النَّاسِ أَمْ أَشْرَافُهُمْ؟ فَقُلْتَ: بَلْ، ضُعَفَاؤُهُمْ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ: أَنْ لَا، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَهُ بَشَاشَةُ الْقُلُوبِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ الْحَرْبَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالٌ، تَنَالُونَ مِنْهُ، وَيَنَالُ مِنْكَ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَغْدِرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْأَنْبِيَاءُ لَا تَغْدِرُ، [ص:495] وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ، قُلْتُ: رَجُلٌ يَأْتَمُّ بِقَوْلٍ قَبْلَ قَوْلِهِ، قَالَ: ثُمَّ مَا يَأْمُرُكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ، قَالَ: إِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا، فَإِنَّهُ نَبِيٌّ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَمْ أَظُنَّ أَنَّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ فَإِذَا فِيهِ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَّامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ: {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ} [آل عمران: 64] إِلَى قَوْلِهِ: اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ»، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ، وَكَثُرَ اللَّغَطُ، فَأُمِرَ بِنَا، فَأُخْرِجْنَا، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا: لَقَدْ جَلَّ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ [ص:496] مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے کسریٰ ، قیصر اور دومہ ( کے حکمران اکید کو خط لکھے ۔ آپ نےانہیں اللہ تعالیٰ کی طرف آنے کی دعوت دی۔

بِالشَّامِ ← انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ فَبَيْنَا ← أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، مِنْ فِيهِ إِلَى فِي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6555

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6556

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ*، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سِوَارٍ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى حَبْرِ تَيْمَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ»

حضر ت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتےہیں : حضرت ابوسفیان بن حرب بذات خود مجھے یہ بات بتائی ۔ وہ کہتےہیں، جس عرصے میں ہمارے اور نبی اکرمﷺ کے درمیان صلح کا معاہدہ چل رہا تھا ۔ اس دوران میں شام گیا ۔ ابھی میں شام میں موجود تھا کہ اسی دوران نبی اکرمﷺ کا مکتوب ( وہاں کے حکمران ) ہرقل کے نام آیا دحیہ کلبی وہ مکتوب لے کر آئے تھے ۔ انہوں نے وہ مکتوب بصریٰ کے گورنر کے سپرد کیا ۔ بصریٰ کے گورنر نے وہ خط حرقل کو بھجوادیا حرقل نے دریافت کیا: کیا یہاں ان صاحب کی قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ، جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں ۔ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ( ابو سفیان کہتے ہیں :) تو مجھے قریش کے کچھ افراد سمیت بلا لیا گیا جب ہم لوگ حرقل کے پاس آئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا ۔ اس نے دریافت کیا: یہ صاحب جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں ، تم میں سے نسبی طور پر کون ان کے سب سے زیادہ قریب ہے ۔ حضر ت ابوسفیان کہتے ہیں میں نے جواب دیا : میں ، تو اس نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلوایا اور کہا تم ان سے کہہ دو کہ میں اس شخص سے ان صاحب کے بارے میں دریافت کرنے لگا ہوں ۔ جویہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں اگر یہ شخص میرے ساتھ غلط بیانی کرے تو تم لوگ اسے جھوٹا قرار دیدینا ۔ ابوسفیان کہتے ہیں اللہ کی قسم! اگر مجھے ا س بات کا اندیشہ نہ ہو تا کہ میری کسی بات کو جھٹلایا جاسکتا ہے تو میں وہاں غلط بیانی کر دیتا پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا تم اس شخص سے دریافت کرو کہ تمہارے درمیان ان صاحب کا حسب کیسا ہے ۔ ابوسفیان کہتےہیں میں نے جواب دیا: وہ ہمارے درمیان صاحب حسب شمار ہوتے ہیں ۔ قیصر نے دریافت کیا : کیا ان کے آباؤاجداد میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے ۔ میں نے جواب دیا : جی نہیں اس نے دریافت کیا: ان صاحب کے یہ دعویٰ کرنے سے پہلے تم نے کبھی ان پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا میں نے جواب دیا: جی نہیں ۔ اس نے دریافت کیا: ان کےپیروہ کار کون لوگ ہیں ۔ معزز افراد ہیں یا کمزور لوگ ہیں میں جواب دیا: بلکہ کمزور لوگ ہیں۔ اس نے دیافت کیا: کیا ان میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا: ان میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس نے دریافت یا: کیا ان لوگوں میں سے کوئی شخص ایک دین کو چھوڑ کر مرتد بھی ہوا یعنی اس میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض ہو کر ( اس نے اپنے دین کو چھوڑا ہو) ابو سفیان کہتے ہیں میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ قیصر نے دریافت کیا: کیا تم نے ان کے ساتھ کوئی جنگ بھی کی ہوئی ہے۔ میں نے جواب دیا:جی ہاں اس نے دریافت کیا : تمہاری ان کے ساتھ جنگ کا نتیجہ کیا رہا ۔ میں نے کہا: جنگ ہمارے اور ان کے درمیان برابر رہی ۔ انہیں ہماری طرف سے نقصان کا سامناکرنا پڑا ۔ہمیں ان کی طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ قیصر نے دریافت کیا: کیا انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ میں نے جواب دیا: جی نہیں ۔ ہمارا اور ان کا طے شدہ مدت تک معاہدہ ہے ہمیں نہیں معلوم وہ آگے چل کر اس بارے میں کیا کریں گے ۔ ( حضرت ابوسفیان کہتے ہیں:) صرف میں کلمہ غلط بیانی کے طور پر شامل کر سکا ۔ قیصر نے دریافت کیا: کیا ان سے پہلے کسی اور شخص نے بھی اس بات کا دعویٰ کیا۔ میں نے جواب دیا: جی نہیں ۔ پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا تم اس سے کہو کہ میں نے تم سے ان صاحب کے حسب کے بارے میں دریافت کیا: وہ تمہارے درمیان کیسا ہے تو تم نے یہ بیان کیا کہ وہ تمہارے درمیان صاحب حسب شمار ہوتے ہیں ۔ رسول اسی طرح ہوتے ہیں ۔ انہیں اپنی قوم کے صاحب حسب لوگوں میں معوث کیا جاتا ہے ۔ میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا ان کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے ۔ تو تم نے جواب دیا: جی نہیں تو میں نے اندازہ لگا یا کہ اگر ان کے آباؤ اجداد میں اگر کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو پھر میں یہ کہہ سکتا تھا یہ صاحب اپنے آباؤ اجدا د کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتے ہیں پھر میں نے تم سے ان کے پیرو کاروں کے بارے میں دریافت کیا: کیا وہ کمزور لوگ ہیں یا معزز افراد ہیں تو تم نے کہا: وہ کمزور لوگ ہیں ۔ رسولون کے پیروکار ایسے ہی ہوتے ہیں میں نے تم سے سوال کیا ان کے یہ دعویٰ کرنے سے پہلے کیا تم نے ان پر ( جھوٹا ہونے کا ) الزام عائد کیا تو تم نے جواب دیا: جی نہیں ۔ اس سے مجھے یہ اندازہ ہوگیا کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کیسے غلط بیانی کر سکتا ہے پھر میں نے تم سے سوال کیا کیا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض ہو کر ان کے دین کو چھوڑ کر مرتد بھی ہوا تم نے جواب دیا: جی نہیں۔ ایمان ایسا ہی ہوتا ہے جب اس کے اندر دل کی بشاشت مل جائے ( یا س کی بشاشت دل میں گھر کر جائے ) میں نے تم سے سوال کیا کیا ان لوگوں میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی ہو رہی ہے تو تم نے جواب دیا : اضافہ ہور ہا ہے ۔ ایمان اسی طرح ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے ۔ میں نے تم سے سوال کیا کیا تم لوگوں نے ان کے ساتھ کوئی جنگ بھی کی تو تم نے جواب دیا: تمہارے اور ان کےد رمیان جنگ کا نتیجہ برابر رہا ۔ تمہیں ان کی طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں تمہاری طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ رسولوں کو اسی طرح آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے لیکن انجام کا ر انہی کےحق میں ( صورت حال ہوتی ہے ) میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا نہوں نے کبھی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو تم نے جواب دیا : جی نہیں انبیاء اسی طرح ہوئے ہیں ۔ وہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے ۔ میں نے تم سے سوال کیا کیا ان سے پہلے بھی کسی شخص نے یہ دعویٰ کیا تو تم نے جواب دیا: جی نہیں میں نے سوچا اگر ان سے پہلے کسی اور شخص نے یہ دعویٰ کیا ہوتا تو میں یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص کسی دوسرے کے قول کی پیروی کر رہا ہے پھر قیصر نے دریافت کیا: وہ تمہیں کیا حکم دیتے ہیں تو میں نے جواب دیا: وہ ہمیں نماز پڑھنے کا زکوٰۃ ادا کرنے کا رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنے کا اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں ۔ قیصر نےکہا: تم نےان کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اگر تویہ واقع سچ ہے تو پھر وہ واقع نبی ہیں ۔ مجھے اس بات کا علم تھا کہ ان میں ظہور ہونے والا ہے لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا ظہور تم میں ہوگا اگر مجھے اس بات کا علم ہوتا کہ میں ان تک پہنچ سکتا ہوں ، تو میں ان سے ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس موجود تو میں ان کے پاؤں دھوتا کیونکہ عنقریب ان کی بادشاہی میرے ان پاؤں کے نیچے تک پہنچ جائے گی ۔ حضرت ابوسفیان ؓ بیان کرتے ہیں : پھر اس نے نبی اکرمﷺ کا مکتوب منگوایا اور اسے پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا۔ "اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتے ہیں جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ یہ اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے روم کے حکمران حرقل کے نام ہے ۔ وہ شخص سلامت رہے ، جو ہدایت کی پیروی کر لے ۔ اما بعد میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں تم اسلام قبول کر لو سلامت رہو گے تم اسلام قبول کر لو اللہ تعالیٰ تمہیں دگنا اجر عطا کر ے گا اور اگرتم منہ موڑ لیتے ہو تو اریسیوں گناہ بھی تمہارے سر ہوگا ۔( ارشاد باری تعالیٰ ہے ) "اے اہل کتاب آگے آؤ !اس بات کی طر ف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں گے ۔" یہ آیت یہاں تک ہے "تم گواہ ہو جاؤ کہ ہم مسلمان ہیں " جب قیصر وہ مکتوب پڑھ کر فارغ ہو ا تو اس کے آس پاس آوازیں بلند ہوگئیں اور شور شرابہ ہوا ۔ اس کے حکم کے تحت ہمیں وہاں سے نکال دیا گیا جب ہم وہاں سے باہر آئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ابن ابو کبشہ ( یعنی نبی اکرمﷺ ) کا معاملہ اتنا زبردست ہوگیا ہے کہ بنو اصفر کا حکمران بھی ان سے خوف کھاتا ہے ۔ حضرت ابوسفیان بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرمﷺ کے معاملے میں مجھے اس بات کا یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اسے غالب کر دے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی دولت سے نوازا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ*، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6556

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6557

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: كُنَّا بِالْمِرْبَدِ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ أَشْعَثَ الرَّأْسِ بِيَدِهِ قِطْعَةُ أَدِيمٍ، فَقُلْنَا لَهُ: كَأَنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ؟ قَالَ: أَجَلْ، فَقُلْنَا لَهُ: نَاوِلْنَا هَذِهِ الْقِطْعَةَ الْأَدِيمِ الَّتِي فِي يَدِكَ، فَأَخْذَنَاهَا، فَقَرَأْنَا مَا فِيهَا، فَإِذَا فِيهَا: «[ص:498] مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى بَنِي زُهَيْرٍ، أَعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيِّ وَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ» قَالَ: فَقُلْنَا: مَنْ كَتَبَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: مَا سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصُّدُورِ» فَقُلْنَا لَهُ: أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: أَلَا أَرَاكُمْ تَتَّهِمُونِي، فَوَاللَّهِ لَا أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ، ثُمَّ ذَهَبَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا النَّمِرُ بْنُ تَوْلَبٍ الشَّاعِرُ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے تیماء کے یہودی عالم کی طرف خط لکھا ( اور اس خط میں ) اسے سلام بھیجا ۔

أَبُو الْعَلَاءِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6557

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6558

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: «مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ أَنْ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا» قَالَ: فَمَا قَرَأَهُ إِلَّا رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ، فَهُمْ يُسَمَّوْنَ بَنِي الْكَاتِبِ

حضرت یزید بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ کھجور سکھانے کی جگہ پر موجود تھے ۔ وہاں ایک شخص آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھ ۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ۔ ہم نے اس سے کہا تم کوئی دیہاتی محسوس ہوتے ہو ۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں ہم نے اس سے کہا یہ چمڑے کا ٹکڑا ہمیں پکڑاؤ جو تمہارے ہاتھ میں ہے ۔ ہم نے اسے حاصل کیا اور اس میں موجود عبارت کو پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا ۔ "( یہ مکتوب ) اللہ کے رسول حضرت محمد کی طرف سے بنو زہیر کی طرف ہے تم لوگ مال غنیمت میں سے خمس ادا کرو اور نبی اکرمﷺ کا مخصوص حصہ اور خاص حصہ ادا کرو ، تم لوگ اللہ او ر اس کے رسول کی امان کے مطابق امن میں رہو گے ۔" راوی کہتے ہیں : ہم نے ( اس دیہاتی سے ) دریافت کیا: یہ خط تمہیں کس نے لکھ کر دیا تھا؟ اس نے جواب دیا : اللہ کے رسول نے، ہم نے دریافت کیا: کیا تم نے نبی اکرمﷺ کی زبانی بھی کوئی بات سنی ہے ؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں میں نے نبی اکرمﷺکو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : "صبر کے مہینے ( یعنی رمضان کے مہینے ) کے روزے رکھنا اور ہر مہینے میں تین دن روزے رکھنا ، سینوں کے غضب ( یا کینے ) کو رخصت کر دیتا ہے ۔" ہم نے اس شخص سے دریافت کیا: کیا تم نے خود نبی اکرمﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ۔ اس نے کہا: تم لوگوں کے بارے میں ، میں یہ گمان نہیں کر رہا تھا کہ تم مجھ پر الزام عائد کرو گے ۔ اللہ کی قسم!اب میں تمہیں کوئی حدیث نہیں سناؤں گا پھر وہ شخص چلا گیا ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) وہ شخص نمبر بن تولب تھا جو شاعر تھا ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6558

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6559

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى، وَحَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ، وَهَذِهِ نُسْخَتُهَا: «[بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم] * مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، قِيلَ ذِي رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ وَهَمْدَانَ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ رَجَعَ رَسُولُكُمْ، وَأُعْطِيتُمْ مِنَ الْغَنَائِمِ خُمُسَ اللَّهِ، وَمَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْعُشْرِ فِي الْعَقَارِ، وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ كَانَ سَيْحًا أَوْ بَعْلًا، فَفِيهِ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ [ص:502] أَوْسُقٍ، وَمَا سُقِيَ بِالرَّشَاءِ، وَالدَّالِيَةِ، فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ سَائِمَةً شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ عَلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ، ذَكَرٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسَةً وَسَبْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى تِسْعِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَمَا زَادَ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ [ص:503] لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةً طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَاقُورَةُ بَقَرَةٍ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً سَائِمَةً شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِئَتَانِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، فَثَلَاثَةُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَ مِائَةٍ، فَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ، وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا عَجْفَاءُ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خِيفَةَ الصَّدَقَةَ، وَمَا أُخِذَ مِنَ الْخَلِيطَيْنِ، فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمٍ، فَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ فِيهَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارٌ، وَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِهِ، وَإِنَّمَا هِيَ الزَّكَاةُ تُزَكَّى بِهَا أَنْفُسُهُمْ فِي فُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، [ص:504] وَلَيْسَ فِي رَقِيقٍ وَلَا مَزْرَعَةٍ وَلَا عُمَّالِهَا شَيْءٌ، إِذَا كَانَتْ تُؤَدَّى صَدَقُتُهَا مِنَ الْعُشْرِ، وَلَيْسَ فِي عَبْدِ الْمُسْلِمِ وَلَا فَرَسِهِ شَيْءٌ، وَإِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ بِغَيْرِ الْحَقِّ، وَالْفِرَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَرَمْيُ الْمُحْصَنَةِ، وَتَعَلُّمُ السَّحَرِ، وَأَكَلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَإِنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الْأَصْغَرِ، وَلَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ، وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ إِمْلَاكٍ، وَلَا عِتْقَ حَتَّى يُبْتَاعَ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَلَا يَحْتَبِيَنَّ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشِقُّهُ بَادٍ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ عَاقِصًا شَعْرَهُ، وَإِنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ، فَهُوَ قَوَدٌ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَإِنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي [ص:508] الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنَ الْأَصَابِعِ مِنَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ [ص:510] بِالْمَرْأَةِ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ» لَفْظُ الْخَبَرِ لِحَامِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ. [ص:515] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ هَذَا هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيُّ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ لَا شَيْءَ، وَجَمِيعًا يَرْوِيَانِ عَنِ الزُّهْرِيِّ»

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے بکر بن وائل کو خط لکھا ۔ "محمد جو اللہ کے رسول ہیں ان کی طر ف سے بکر بن وائل کی طرف ( یہ خط ہے ) تم لوگ اسلام قبول کر لو تم لوگ سلامت رہو گے ۔" راوی بیان کرتے ہیں : تو یہ خط ان میں سے ایک شخص نے پڑھا جس کا تعلق بنو ضبیعہ سے تھا ۔ اسی لئے ان کا نام بنو کاتب ہے ( یعنی وہ پڑھنا لکھنا جانتے تھے )

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى، وَحَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ فِي آخَرِينَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6559

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6560

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ [ص:516] ثَلَاثٌ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَمَا لِي طَعَامٌ إِلَّا مَا وَارَاهُ إِبِطُ بِلَالٍ»

ابوبکر محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے داد ا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے اہل یمن کو ایک مکتوب بھجوایا جس میں فرائض سنن اور دیت کے مطلق کچھ احکام تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے حضرعمرو بن حزم کے ذریعے وہ مکتوب وفد بھجوایا تھا وہ اہل یمن کے سامنے پڑھا گیا اس کا نسخہ یہ ہے ( یعنی اس میں یہ تحریر تھا) "یہ محمدؓ نبی کی طرف سے شرجیل بن عبد کلال ، حارث بن عبدکلال ، نعیم بن عبدکلال کی طرف ہے ۔" اما بعد ! تمہارے پیغام رساں واپس جا چکا ہے تمہیں جو غنیمت عطا کی گئی اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کےلئے مخصوص ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر زمین ے عشر کے حوالے سے لازم قرار دیا ہے ( وہ تمہیں بھی ادا کرنا ہوگا ) جو زمین بارش کے ذریعے سیراب ہوتی ہے یا بہتے ہوئے پانی کے ذریعے سیراب ہوتی ہے یا اس کی جڑیں زمین سے پانی کھینچ لیتی ہیں ، اس میں عشر کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ جب ( اس کی پیداوار ) پانچ وسق تک پہنچ جائے اور جسے ڈول کے ذریعے یا مصنوعی طورپر سیراب کیا جائے اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہوگی جب ( اس کی پیداوار ) پانچ وسق ہو جائے ہر پانچ سائمہ انٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی ، یہاں تک کہ ان کی تعداد چوبیس ہو جائے جب وہ چوبیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ۔ تو ان میں بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہوگی اگر بنت مخاض نہیں ملتی تو ابن لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہوگی ، یہاں تک کہ ان کی تعداد ۳۵ وہ جائے جب وہ ۳۵ سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ، یہاں تک کہ وہ ۴۵ ہوجائیں جب وہ ۴۵ سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں حقہ کی ادائیگی لازم ہوگی جو جفتی کے قابل ہو ،یہاں تک کہ ان کی تعداد ۶۰ ہوجائے جب ان اونٹوں کی تعداد ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہوگی ، یہاں تک کہ ان کی تعداد ۷۵ ہو جائے جب وہ ۷۵ سے ایک بھی زیادہ ہوجائیں تو ان میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ، یہاں تک کہ وہ ۹۰ تک پہنچ جائیں جب وہ ۹۰ سےایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان دو حقہ کی ادائیگی لازم ہوگی جو جفتی کے قابل ہوں کی ادائیگی کی جائے گی ہر ۳۰ میں باقورہ ہوگا ہر ۴۰ سائمہ بکریوں میں سے ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی ، یہاں تک کہ ان کی تعداد ۱۲۰ ہوجائے ۔ جب وہ ۱۲۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں ۲ بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ، یہاں تک کہ ان کی تعداد ۲۰۰ ہو جائے اور اگر ایک بھی زیادہ ہو تو تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ، یہاں تک کہ وہ ۳۰۰ تک پہنچ جائیں تو اگر وہ زائد ہوں ، تو ہر ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی۔ زکوٰۃ میں بوڑھا ، کانا اور عیب والا جانور وصول نہیں کیا جائے گا اور زکوٰۃ سے بچنے کےلئے متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا ۔ دو شراکت داروں سے جو کچھ وصول کیا جائے گا تو اس کی ادائیگی ان دونوں سے برابری کی بنیاد کی جائے گی اور پانچ اوقیہ چاندی میں پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہوگی جو اس سے زیادہ ہر ۴۰ درہم میں ایک درہم کی ادائیگی لازم ہوگی لیکن پانچ اوقیہ سے کم میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوگی ہر ۴۰ دینا ر میں ایک دینا ر کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ بے شک صدقہ ( یعنی زکوٰۃ) محمد اور ان کے گھر والوں کےلئے حلال نہیں ہے یہ وہ زکوٰۃ ہے جس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پاک کر لو گے ۔ یہ اہل ایمان کے غریب لوگوں کو دی جائے گی ۔ اللہ کی راہ میں دی جائے گی ۔ غلام میں کھیت میں اور وہاں کام کرنے والوں میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوگی جب کہ ( کھیت ) کا عشر ادا کر دیا گیا ہو اور مسلمان کے غلام میں اور اس کے گھوڑے میں کوئی چیز لازم نہیں ہوتی ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ کسی کو اللہ کاشریک ٹھہرانا کسی مومن شخص کو ناحق طور پر قتل کرنا جنگ کے دن اللہ کی راہ میں ( جہاد کرتے ہوئے ) فرار اختیار کرنا ، والدین کی نافرمانی ، پاک دامن عورتوں پر الزام لگانا ، جادو سیکھنا ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ( شامل ہیں ) عمرہ چھوٹا حج ہے قرآن کو صرف پاک شخص ہاتھ لگائے اور مالک ہونے سے پہلے طلاق نہیں دی جاسکتی اور ( غلام کو ) اس وقت تک آزاد نہیں کیا جاسکتا جب تک اسے خرید نہ لیا جائے اور کوئی بھی شخص ا یک کپڑا پہن کر ہر گز نماز ادا نہ کرے کہ اس کے کندھے پر کوئی چیز نہ ہو اور کوئی بھی ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر اس طرح نہ لپیٹے کے اس کے اور آسمان کےدرمیان کوئی چیز نہ ہو ) یعنی اس کی شرمگاہ پر پردہ نہ ہو ) کوئی بھی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز ہرگز ادا نہ کرے کہ اس کا ایک پہلو ظاہر ہو رہا ہو اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ہرگز ادا نہ کرے کہ اس نے اپنے بالوں کا جوڑا بنایا ہو اور جو شخص کسی مومن کو قتل کرنے کے جرم میں پکڑا جاتا ہے اور ثبوت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا ، البتہ اگر مقتول کے ورثاء راضی ہوں ( تو حکم مختلف ہو گا) "بے شک جان کی دیت ۱۰۰ اونٹ ہے جب ناک کو مکمل طور پر کاٹ دیا جائے تو ا س میں بھی دیت کی ادائیگی لازم ہوگی زبان ( کاٹنے میں ) دیت کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ دونوں ہونٹوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ دونوں آنکھوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ شرم گاہ میں دیت کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ پشت میں دیت کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ دونوں آنکھوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہوگی ایک ٹانگ میں نصف دیت کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ مومومہ ( زخم میں ) ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہوگی جائفہ ( زخم میں) ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہوگی منقلہ ( زخم میں) پندرہ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ ہاتھ اور پاؤں کی ہر انگلی میں دس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ دانت میں پانچ انٹوں کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ موضحہ زخم میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ آدمی کو عورت کے بدلے میں قتل کر دیا جائے گا سونے کا لین دین کرنے والوں میں ( دیت کی شکل میں) ایک ہزار دینار کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ روایت کے الفاظ حامد بن محمد بن شعیب کے نقل کر دہ ہیں ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) سلیمان بن داؤد نامی راوی سلیمان بن داؤد خولانی ہیں ۔ یہ اہل دمشق سے تعلق رکھتےہیں یہ ثقہ اور مامون ہیں جب کہ سلیمان بن داؤد یمامی نامی راوی کو کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ان دونوں راویوں نے زہری کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6560

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ کُتُبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6561

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ عَلَيْكَ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟ قَالَ: «لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمَكِ، وَكَانَ أَشَدُّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَنَادَانِي، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكُ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَ بِمَا شِئْتَ [ص:517] فِيهِمْ، قَالَ: فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْنِ»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»

ضرت انسؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "مجھے اللہ کی راہ میں جتنی اذیت دی گئی اتنی اذیت کسی کو نہیں دی گئی اور مجھے اللہ کی راہ میں جتنا ڈرانے کی کوشش کی گئی اتنا کسی کو بھی نہیں ڈرایا گیا ۔ مجھ پر تین دن ایسے بھی آئے کہ میرے پاس کھانے کےلئے صرف وہ چیز تھی جو بلال کی بغل میں آجاتی تھی ۔"

عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6561

chevron_left Previous
1…303132…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr