صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6538
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ غَيْرُ فَضْلَةٍ، فَجُعِلَ فِي إِنَاءٍ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَدْخَلَ يَدَهُ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَقَالَ: «حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ»، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْفَجِرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ نَاسٌ، وَشَرِبُوا، قَالَ: فَجَعَلْتُ [ص:477] لَا آلُو مَا جَعَلْتُ فِي بَطْنِي مِنْهُ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ بَرَكَةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ
حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے ۔ نبی اکرمﷺ ظہر اور عصر کی نماز جبکہ مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کر تے رہے ۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن نبی اکرمﷺ نے نماز کو مؤخر کیا پھر آپ ( اپنی قیام گاہ سے ) باہر تشریف لائے ۔ آپ نے ظہر اور عصر کی نما ز ایک ساتھ ادا کی پھر آپ ( قیام گاہ کے اندر تشریف لے گئے پھر آپ باہر تشریف لے آئے ) پھر آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازین ایک ساتھ ادا کیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ نے چاہا تو کل تم لوگ تبوک کے چشمے تک پہنچ جاأ گے تم اس کے پاس اسقوت پہنچو گے جب دن چڑھ چکا ہوگا، جو شخص وہاں آئے وہ اس کے پانی میں سے اس وقت تک کچھ حاصل نہ کرے جب تک میں نہیں آجاتا ۔ راوی کہتے ہیں : جب ہم وہاں پہنچے تو وہ آدمی وہاں پہلے پہنچ چکے تھے ۔ وہ چشمہ تسمے کی طرح ( باریک ) تھا جس میں سے تھوڑا سا پانی نکل رہا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے ان دونوں سے دریافت کیا:تم نے اس کے پانی کو استعمال کیا ہے ۔ ان دونوں نے جواب دیا : جی ہاں تو نبی اکرمﷺ نے ان دونوں پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ ان دونوں سے کہا پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اس چشمے میں سے تھوڑا سا پانی حاصل کیا ، یہاں تک کہ وہ پانی کسی چیز میں اکٹھا ہوگیا تو نبی اکرمﷺ نے اس برتن میں اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ۔ پھر آپ نے دوہ پانی دوبارہ اس چشمے میں ڈال دیا تو اس سے بہت سا پانی جاری ہوگیا اور لوگوں نے وہ پانی پیا پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے معاذ عنقریب تمہاری زندگی لمبی ہوگی اور تم دیکھو گے ( کہ اس پانی کی وجہ سے ) یہاں بہت سے باغات ہوں گے ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6538
