Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6538

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ غَيْرُ فَضْلَةٍ، فَجُعِلَ فِي إِنَاءٍ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَدْخَلَ يَدَهُ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَقَالَ: «حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ»، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْفَجِرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ نَاسٌ، وَشَرِبُوا، قَالَ: فَجَعَلْتُ [ص:477] لَا آلُو مَا جَعَلْتُ فِي بَطْنِي مِنْهُ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ بَرَكَةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ

حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے ۔ نبی اکرمﷺ ظہر اور عصر کی نماز جبکہ مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کر تے رہے ۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن نبی اکرمﷺ نے نماز کو مؤخر کیا پھر آپ ( اپنی قیام گاہ سے ) باہر تشریف لائے ۔ آپ نے ظہر اور عصر کی نما ز ایک ساتھ ادا کی پھر آپ ( قیام گاہ کے اندر تشریف لے گئے پھر آپ باہر تشریف لے آئے ) پھر آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازین ایک ساتھ ادا کیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ نے چاہا تو کل تم لوگ تبوک کے چشمے تک پہنچ جاأ گے تم اس کے پاس اسقوت پہنچو گے جب دن چڑھ چکا ہوگا، جو شخص وہاں آئے وہ اس کے پانی میں سے اس وقت تک کچھ حاصل نہ کرے جب تک میں نہیں آجاتا ۔ راوی کہتے ہیں : جب ہم وہاں پہنچے تو وہ آدمی وہاں پہلے پہنچ چکے تھے ۔ وہ چشمہ تسمے کی طرح ( باریک ) تھا جس میں سے تھوڑا سا پانی نکل رہا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے ان دونوں سے دریافت کیا:تم نے اس کے پانی کو استعمال کیا ہے ۔ ان دونوں نے جواب دیا : جی ہاں تو نبی اکرمﷺ نے ان دونوں پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ ان دونوں سے کہا پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اس چشمے میں سے تھوڑا سا پانی حاصل کیا ، یہاں تک کہ وہ پانی کسی چیز میں اکٹھا ہوگیا تو نبی اکرمﷺ نے اس برتن میں اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ۔ پھر آپ نے دوہ پانی دوبارہ اس چشمے میں ڈال دیا تو اس سے بہت سا پانی جاری ہوگیا اور لوگوں نے وہ پانی پیا پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے معاذ عنقریب تمہاری زندگی لمبی ہوگی اور تم دیکھو گے ( کہ اس پانی کی وجہ سے ) یہاں بہت سے باغات ہوں گے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6538

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6539

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ، فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھا عص کی نماز کا وقت ہوگیا ۔ ہمارے پاس پانی نہیں تھا صرف بچا ہوا) تھوڑا سا ) پانی تھا ۔ اسے ایک برتن میں ڈال دیا گیا پھر وہ برتن نبی اکرمﷺ کے پاس لا یا گیا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک اس کے اندر داخل کیا ۔ آپ نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا اور ارشاد فرمایا: وضو کے پانی کی طرف آجاؤ ۔ برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو میں نے نبی اکرمﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کو پھو ٹتے ہوئے دیکھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو لوگوں نے وضو کیا اور انہوں نے پانی پیا بھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اس بات کی بھرپور کوشش کی کہ وہ پانی زیادہ سے زیادہ اپنے پیٹ میں ڈال سکوں کیو نکہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ یہ برکت والا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت جابر ؓ سے دریافت کیا: اس دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ ایک ہزار چار سو ( افراد تھے )

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6539

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6540

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَأُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِيهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْفَجِرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: «حَيَّ عَلَى أَهْلِ الطَّهُورِ، وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ». قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: «أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو دیکھا کہ عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اور لوگ وضو کےلئے پانی تلاش کر رہے تھے لیکن پانی نہیں ملا پھر وضو کا کچھ پانی لایا گیا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک اس برتن میں رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کرنا شروع کریں تو میں نے نبی اکرمﷺ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی کو پھوٹتے ہوئے دیکھا ۔ لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے وضو کر لیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6540

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6541

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «أَصَابَ النَّاسُ عَطَشٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَجَهِشَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي مَاءٍ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ مِثْلَ الْعُيُونِ». قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: لَوْ كُنَّا ثَلَاثَ آلَافٍ لَكَفَانَا، وَكُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔ لوگوں کو پانی نہیں ملا پانی کا ایک پیالہ لایا گیا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک اس کے اندر داخل کیا تو میں نے نبی اکرمﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کو پھوٹتے ہوئے دیکھا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: طہارت کے حصول کے ذریعے کی طرف آجاؤ برکت اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ہے ۔ اعمش نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے سالم نے مجھے یہ بات بتائی ہے ۔ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے دریافت کیا: آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ ایک ہزار پانچ سو( لوگ تھے)

جَابِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنٍ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6541

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6542

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا، إِذَا جَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ: «مَا لَكُمْ؟ »، فَقَالُوا: مَا لَنَا لَا نَتَوَضَّأُ بِهِ، وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ، قَالَ: فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الرَّكْوَةِ، وَدَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، قَالَ: فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْثَالَ الْعُيُونِ، قَالَ: فَشَرِبْنَا، وَتَوَضَّأْنَا، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا خَمْسَ [ص:481] عَشْرَةَ مِائَةً، وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لاحق ہوگئی ۔ لوگوں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں گزارش کی تو نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک پانی میں رکھا تو وہ پانی چشموں کی طرح ہوگیا ۔ راوی کہتےہیں : میں نے دریافت کیا : آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی ۔ انہوں نے فرمایا: اگر ہم تین ہزار بھی ہوتے تو وہ ہمارے لئے کفایت کر جاتا ویسے ہماری تعدا د پندرہ سو تھی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6542

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6543

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ لَا نُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ أَتَى الْمَقَاعِدَ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ، فَقَعَدَ عَلَيْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بِلَالٌ، فَنَادَى بِالْعَصْرِ، فَقَامَ مَنْ لَهُ أَهْلٌ بِالْمَدِينَةِ، فَتَوَضَّئُوا، وَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ، وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَا أَهْلَ لَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَوَضَعَ أَصَابِعُهُ فِي الْقَدَحِ، فَمَا وَسِعَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، فَوَضَعَ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةَ، وَقَالَ: «هَلُمُّوا فَتَوَضَّئُوا أَجْمَعِينَ» قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ «. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: » الْجَمْعُ بَيْنَ هَذِهِ الْأَخْبَارِ أَنَّ هَذَا الْفِعْلَ كَانَ مِنَ الْمُصْطَفَى كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَرْبَعِ مَوَاضِعَ مُخْتَلِفَةٍ، مَرَّةً كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ أَلْفٍ وَأَرْبَعِ مِائَةٍ إِلَى أَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةٍ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي تَوْرٍ، وَالْمَرَّةُ الثَّانِيَةُ كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي رَكْوَةٍ، وَالْمَرَّةُ الثَّالِثَةُ كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي قَدَحٍ رَحْرَاحٍ، وَالْمَرَّةُ الرَّابِعَةُ كَانَ الْقَوْمُ ثَلَاثَ مِائَةٍ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي قَعْبٍ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتِرٌ «

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتےہیں : غزوہ حدیبیہ کے موقع پر لوگ پیاس کا شکار ہوگئے ۔ نبی اکرمﷺ کے سامنے ایک پیالہ رکھا تھا جس سے آپ وضو کرتے تھے ۔ جب لوگوں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی تو آپ نے فرمایا: تمہارا کیا معاملہ ہے ۔ لوگوں نے عرض کی: ہمارے پاس وضو کرنے کےلئے ( پانی ) نہیں ہے اور پینے کےلئے بھی نہیں ہے ۔ صرف وہ پانی ہے ، جو آپ کے سامنے ہے ۔ راوی کہتےہیں: تو نبی اکرمﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اس پیالے پر رکھے اور پھر جو اللہ کو منظور تھا وہ دعا کی روای کہتے ہیں : تو پھر نبی اکرمﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی مانند پانی پھٹنا شروع ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : تو ہم نے اسے پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔

غَيْرِكَ ← بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ لَا نُحَدِّثُهُ ← قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6543

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6544

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ؟ »، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: «تَوَضَّئُوا بِاسْمِ اللَّهِ»، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَجْرِي مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّئُوا حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ. قَالَ ثَابِتٌ [ص:483] لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ

ثابت بیان کرتے ہیں : میں نے حضر ت انس بن مالک ؓ سے کہا آپ ہمیں کسی ایسی حیران کن چیز کے بارے میں بتائیے جسے ہم آپ کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے روایت نہ کر سکیں تو حضرت انس نے بتایا ایک دن نبی اکرمﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ اس جگہ تشیف لے آئے ۔ جہان حضرت جبرائیل آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ نبی اکرمﷺ وہاں تشریف فرما ہوئے ۔ حضر ت بلال ؓ آئے انہوں نے عصر کےلئے اذان دی تو جس بھی شخص کا مدینہ منورہ میں گھر با ر تھا وہ گھر گیا ۔ اس نے قضائے حاجت کی مہاجرین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ باقی رہ گئے جن کے اہل خانہ مدینہ میں نہیں تھے ۔ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا جس میں پانی موجود تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی انگلیاں اس پیالے میں داخل کیں تو آپ کے تمام انگلیاں اس پیالے میں نہیں آسکیں ۔ نبی اکرمﷺ نے یہ چار انگلیاں اس پیالے میں رکھیں اور پھر فرمایا آگے آؤ اور تم سب لوگ وضو کرلو۔ راوی کہتےہیں : میں نے حضرت انسؓ سے دریافت کیا: آپ کے خیال میں ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی تو انہوں نے جواب دیا : ستر سے لے کر اسی تک تھی ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) ان تمام روایات میں اس طرح مطابقت ہو سکتی ہے کہ یہ معجزہ نبی اکرمﷺ سے کئی مرتبہ صادر ہوا ۔ یہ آپ سے چار مرتبہ مختلف موقعوں پر صادر ہوا ۔ ایک مرتبہ لوگوں کی تعداد چودہ سو سے لے کر پندرہ سو تک تھی اور اس وقت پانی ( پتھر کے بنے ہوئے پیالے میں تھا ) دوسری مرتبہ لوگوں کی چودہ سو سے لے کر پندرہ سو تک تھی اس وقت پانی رکابی میں تھا ۔ تیسری مرتبہ لوگوں کی تعداد ساٹھ سے لے کر اسی تک تھی ۔ اس وقت پانی گہرے پیالے میں تھا ۔ چوتھی مرتبہ لوگوں کی تعداد تین سو تھی۔ اس وقت پانی بڑے پیالے میں تھا ۔ اس طرح ان روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔

أَنَسٍ، ← ثابت وقتادة ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6544

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6545

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِلَى أَهْلِهِ، فَتَوَضَّأَ، وَبَقِيَ قَوْمٌ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ عَنْ أَنْ يُمْلَأَ فِيهِ كَفَّهُ، فَضَمَّ أَصَابِعَهُ فَوَضَعَهَا فِي الْمِخْضَبِ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ جَمِيعًا»، فَقُلْنَا: كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: ثَمَانِينَ رَجُلًا

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے بعض اصحاب نے وضو کےلئے پانی تلاش کیا ( وہ انہیں نہیں ملا) تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے پھر نبی اکرمﷺنے اپنا دست مبارک اس پانی میں رکھا اور پھر فرمایا اللہ کے نام لے کر وضو کرنا شروع کرو۔ ( راوی کہتے ہیں :) تو میں نے نبی اکرمﷺ کی انگلیوں کے درمیان سےپانی کو جاری ہوتے ہوئے دیکھا ان لوگوں نے وضو کر لیا ، یہاں تک کہ وہاں موجود ہر فر د نے وضو کر لیا۔ ثابت نے حضرت انس ؓ سے کہا ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی ؟ تو حضرت انس ؓ نے جواب دیا : تقریباً ستر لوگ تھے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6545

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6546

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، [ص:484] عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ». قَالَ: «فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نماز کا وقت ہوگیا جس شخص کا گھر وہاں قریب تھا اس نے ( اپنے گھر جا کر ) وضو کر لیا کچھ لوگ باقی رہ گئے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پتھر کا بنا ہوا ایک برتن لایا گیا جس میں پانی موجود تھا ۔ اس برتن میں اتنا پانی بھی نہیں تھا کہ وہ ہتھیلی بھر کر آسکے ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی انگلیاں ملائیں اور اس پیالے میں رکھ دیں تو وہاں موجود تمام لوگوں نے وضو کر لیا۔ ( راوی کہتے ہیں :) ہم نے دریافت کیا: ان کی تعداد کتنی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا: ۸۰ افراد تھے

أَنَسٍ، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6546

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6547

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِالْمَدِينَةِ أَوْ بِالزَّوْرَاءِ، فَأَرَادَ الْوَضُوءَ، فَأُتِيَ بِقَعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يَسِيرٌ، فَوَضَعَ كَفَّهُ عَلَى الْقَعْبِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ». قَالَ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے پانی منگوایا تو ایک گہرے پیالے میں پانی لایا گیا ۔ لوگوں نے وضو کرنا شروع کیا ، میں نے انہیں شمار کیا تو ان کی تعداد ۶۰ سے لے کر ۸۰ تک تھی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دیکھا کہ پانی نبی اکرمﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6547

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6548

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214]، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ»

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ منورہ میں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) زوراء میں موجود تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی ہتھیلی اس پیالے پر رکھی تو نبی اکرمﷺ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹنے لگا، یہاں تک کہ تمام لوگوں نے وضو کر لیا۔ راوی نے دریافت کیا : آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی ؟ تو حضرت انسؓ نے جواب دیا۔۳۰۰ لے لگ بھگ تھی۔

لَمَّا نَزَلَتْ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعٌ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6548

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6549

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214]، قَالَ: «يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی : "اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔" تو نبی اکرمﷺکھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا: اے محمد ﷺکی صاحبزادی فاطمہ ؓ اے عبدالمطلب کی صاحبزادی صفیہ اے عبدالمطلب کی اولاد میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ، البتہ تم میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔

سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6549

chevron_left Previous
1…293031…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr