Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6214

أَخْبَرَنَا حُبَيْشُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النِّيلِيُّ، بِوَاسِطٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «لَيْسَ الْمُعَايِنُ كَالْمُخْبَرِ، أَخْبَرَ اللَّهُ مُوسَى أَنَّ قَوْمَهُ فُتِنُوا فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ، فَلَمَّا رَآهُمْ أَلْقَى الْأَلْوَاحَ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "براہ راست دیکھنا سننے کی طرح نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو یہ اطلاع دی کہ تمہاری قوم کوآزمائش میں مبتلا کردیا گیا ہے، لیکن انہوں نےپھر بھی الواح کو نہیں پھینکا ،لیکن جب انہوں نےلوگوں کی صورت حال خوددیکھی ،تو انہوں الواح کو پھینک دیا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، ← حُبَيْشُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النِّيلِيُّ، بِوَاسِطٍ،

Hadith 6214

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6215

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:98] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرمﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتےہٰیں آپ ﷺ نے ارشادفرمایاہے: "حضرت جبرائیل ؑ فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہے تھے اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ نہ پڑھ لے۔"

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ← «إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:98] ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 6215

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6216

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، بِمَنْبِجَ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، شَيْخَانِ صَالِحَانِ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مُوسَى سَأَلَ رَبَّهُ: أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً؟ قَالَ: رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا يَدْخُلُ - يَعْنِي أَهْلَ الْجَنَّةِ - الْجَنَّةَ فَيُقَالُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: كَيْفَ أَدْخَلُ الْجَنَّةَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ؟ فَيَقُولُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِنَ الْجَنَّةِ مِثْلُ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ: لَكَ هَذَا وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، رَضِيتُ، فَيُقَالُ لَهُ: إِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، رَضِيتُ، فَيُقَالُ لَهُ: لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، وَسَأَلَ رَبَّهُ: أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ، غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، [ص:100] وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: 17]» الْآيَةَ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نےمنبر پر نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کیا :حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے پروردگار سے سوال کیا اہل جنت کا کون سا فرد جنت میں سب سے کم تر درجے میں ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے بتایا: وہ ایک ایسا شخص ہوگا ، جو اہل جنت کے جنت میں داخل ہوجانے کے بعد آئے گا اوراس سے کہا جائے گا تم جنت میں داخل ہو جاؤ وہ عرض کرےگا میں کیسے جنت میں داخل ہوں گا جب کہ لوگ اپنی جگہوں پر پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے اپنے حصے کی جگہ حاصل کی لی ہے ،تو پروردگار اس سے دریافت کرے گا :کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہیں جنت میں اتنی جگہ دیددی جائے جتنی دنیا وی بادشاہ کے پاس ہوتی تھی وہ کہے گا جی ہاں اےمیرے پروردگار (میں راضی ہوں ) ،تو یہ کہاجائے گا تمہیں یہ بھی ملتی ہے اور اس کی مانند مزید اور اس کی مانند اس کی مانند مزید (یعنی تین گنا اورملتی ہے)،تو وہ عرض کرے گا :اے میرے پروردگار میں راضی ہوں ، تو اس سے کہا جائےگا تمہیں اس کی دس گنا مزید ملتی ہے وہ عرض کرے گا :اے میرے پروردگار میں راضی ہوگیا۔ تو اس سے کہا جائے گا تمہیں اس کےہمراہ وہ چیز بھی ملتی ہے ، جس کی تمہارے نفس کی خواہش تھی یا جو تمہاری آنکھوں کو لذت فراہم کرے گی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے پروردگار سے دریافت کیا اہل جنت میں سب سے زیادم بلند مرتبہ کس شخص کا ہوگا۔ پروردگار نے فرمایا:میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں میں نے اپنےدست قدرت کے ذریعے ان کی عزت افزائی کی ہے اس پر مہر لگادی ہے (انہیں ایسی نعمتیں ملیں گی ) جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں کسی کان نے ان کے بارے میں سنا نہیں اورکسی انسان کے ذہن میں ان کا خیال تک نہیں آیا ہوگا۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب میں (ان الفاظ میں ) موجود ہے۔ "کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھیں کی ٹھنڈک کےلیے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے۔"

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، شَيْخَانِ صَالِحَانِ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، ← مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Hadith 6216

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6217

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، حَدَّثَنَا [ص:101] حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ، حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ عَنْ سِتِّ خِصَالٍ، كَانَ يَظُنُّ أَنَّهَا لَهُ خَالِصَةً، وَالسَّابِعَةُ لَمْ يَكُنْ مُوسَى يُحِبُّهَا، قَالَ: يَا رَبِّ أَيُّ عِبَادِكَ أَتْقَى؟ قَالَ: الَّذِي يَذْكُرُ وَلَا يَنْسَى، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَهْدَى؟ قَالَ: الَّذِي يَتْبَعُ* الْهُدَى، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَحْكُمُ؟ قَالَ: الَّذِي يَحْكُمُ لِلنَّاسِ كَمَا يَحْكُمُ لِنَفْسِهِ، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَعْلَمُ؟ قَالَ: عَالِمٌ لَا يَشْبَعُ مِنَ الْعِلْمِ، يَجْمَعُ عِلْمَ النَّاسِ إِلَى عِلْمِهِ، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَعَزُّ؟ قَالَ: الَّذِي إِذَا قَدَرَ غَفَرَ، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَغْنَى؟ قَالَ: الَّذِي يَرْضَى بِمَا يُؤْتَى، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَفْقَرُ؟ قَالَ: صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ*»، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْغِنَى عَنْ ظَهْرٍ، إِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا جَعَلَ غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ وَتُقَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ شَرًّا جَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ قَوْلُهُ: «صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ». يُرِيدُ بِهِ: مَنْقُوصٌ حَالَتُهُ، يَسْتَقِلُّ مَا أُوتِيَ، وَيَطْلُبُ الْفَضْلَ «

حضرت ابوہریرہ ؓ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں :

صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ*»، ← فَأَيُّ عِبَادِكَ أَفْقَرُ؟ ← الَّذِي يَرْضَى بِمَا يُؤْتَى، ← فَأَيُّ عِبَادِكَ أَغْنَى؟ ← الَّذِي إِذَا قَدَرَ غَفَرَ، ← فَأَيُّ عِبَادِكَ أَعَزُّ؟ ← عَالِمٌ لَا يَشْبَعُ مِنَ الْعِلْمِ، يَجْمَعُ عِلْمَ النَّاسِ إِلَى عِلْمِهِ، ← فَأَيُّ عِبَادِكَ أَعْلَمُ؟ ← الَّذِي يَحْكُمُ لِلنَّاسِ كَمَا يَحْكُمُ لِنَفْسِهِ، ← فَأَيُّ عِبَادِكَ أَحْكُمُ؟ ← الَّذِي يَتْبَعُ* الْهُدَى، ← فَأَيُّ عِبَادِكَ أَهْدَى؟ ← الَّذِي يَذْكُرُ وَلَا يَنْسَى، ← يَا رَبِّ أَيُّ عِبَادِكَ أَتْقَى؟ ← سِتِّ خِصَالٍ، كَانَ يَظُنُّ أَنَّهَا لَهُ خَالِصَةً، وَالسَّابِعَةُ لَمْ يَكُنْ مُوسَى يُحِبُّهَا، ← «سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ حُجَیْرَۃَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← [ص:101] حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Hadith 6217

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6218

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «قَالَ مُوسَى: يَا رَبِّ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ، وَأَدْعُوكَ بِهِ، قَالَ: قُلْ يَا مُوسَى: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: يَا رَبِّ كُلُّ عِبَادِكَ يَقُولُ هَذَا، قَالَ: قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: إِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ، قَالَ: يَا مُوسَى لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعِ فِي كِفَّةٍ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ، مَالَتْ بِهِمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»

حضرت ابو سعید خدری ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کی :اے میرےپروردگار ،تو مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں تعلیم دے جس کےذریعے میں تیرا ذکر کروں ،جس کے ہمراہ میں تجھ سے دعا کروں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے موسیٰ تم یہ پڑھو ۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔حضرت موسیٰ ؑنےعرض کی : اے میرے پروردگار تیرے سارے بندے یہ کلمہ پڑھتےہیں، تو اللہ تعالی ٰ نے فرمایا:تم لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پڑھو حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کی:میں چاہتاہوں کہ کوئی ایسی چیز ہو جو میرےساتھ خاص ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے موسیٰ اگر سات آسمانوں کے رہنے والے اور سات زمینوں کے رہنے والے لوگ ایک پلڑے میں ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ دوسرے پلڑے میں ہو ،تو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ والا پلڑا جھک جائے گا،"

إِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ، ← قل: لَا إِلَه إِلَّا الله، ← ھَذَا ← يَا رَبِّ كُلُّ عِبَادِكَ ← قُلْ يَا مُوسَى: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ← مُوسَى: يَا رَبِّ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ، وَأَدْعُوكَ بِهِ، ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 6218

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6219

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى وَادِي الْأَزْرَقِ، فَقَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى مُنْهَبِطًا وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى رَبِّهِ بِالتَّلْبِيَةِ»، وَمَرَّ عَلَى ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟ »، قِيلَ: ثَنِيَّةُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، خِطَامُهَا مِنْ لِيفٍ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرم ﷺ وادی ازرق پہنچے ،تو آپ نے فرمایا: میں گویا اس وقت بھی حضرت موسیٰؑ کو دیکھ رہا ہوں جو بلندی سے نیچے کی طرف اتر رہے ہیں اور وہ تلبیہ کےذریعے اپنے پروردگار کی باگاہ میں مناجات کررہے ہیں پھر نبی اکرمﷺ کاگزر ایک گھاٹی سے ہوا ،تو آپ نے دریافت کیا یہ کون سی گھاٹی ہے ،تو بتایاگیا یہ فلاں فلاں گھاٹی ہے۔نبی اکرمﷺ نےفرمایا: میں گویا اس وقت بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں جو سرخ اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں مار رہے ہیں۔اس اونٹنی کی لگام کھجور کی چھال سے بنی ہوئی ہےاور حضر ت موسیٰ ؑ نے اونی جبہ پہنا ہوا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 6219

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6220

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَيْسَ بِصَاحِبِ الْخَضِرِ، إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، قَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «قَامَ مُوسَى [ص:105] فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ خَطِيبًا، فَقِيلَ لَهُ: أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ قَالَ: أَنَا، قَالَ: فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: عَبْدٌ لِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ فَكَيْفَ لِي بِهِ، قَالَ: تَأْخُذُ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ، فَحَيْثُ مَا فَقَدْتَ الْحُوتَ، فَهُوَ ثَمَّ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحُوتَ فَجَعَلَهُ فِي الْمِكْتَلِ، فَدَفَعَهُ إِلَى فَتَاهُ، فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَرَقَدَ مُوسَى فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ، فَخَرَجَ فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ، فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَلَيْهِ جَرْيَةَ الْمَاءِ، فَصَارَ مِثْلَ الطَّاقِ، فَكَانَ الْبَحْرُ لِلْحُوتِ سَرَبًا، وَلِمُوسَى وَلِفَتَاهُ عَجَبًا، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ وَجَدَ مُوسَى النَّصَبَ، فَقَالَ: {آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا} [الكهف: 62]. قَالَ: وَلَمْ يَجِدِ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا، فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ: {أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ} [الكهف: 63]. قَالَ: {ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا} [الكهف: 64]، فَجَعَلَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ: [ص:106] مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: يَا مُوسَى، إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لَا تَعْلَمُهُ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ لَا أَعْلَمُهُ. قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَّبِعَكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عَلِمْتَ رُشْدًا، {قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تَحُطْ بِهِ خُبْرًا قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا} [الكهف: 68]. قَالَ: فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ، فَمَرَّتْ بِهِ سَفِينَةٌ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُ بِغَيْرِ نَوْلٍ. قَالَ: فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَى إِلَّا وَهُوَ يُنْزِلُ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: مَا صَنَعْتَ قَوْمٌ حَمَلُوكَ بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا {لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا} [الكهف: 71] قَالَ: فَكَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا. قَالَ: وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ فَنَقَرَ بِمِنْقَارِهِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِمُوسَى: مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعَلَّمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ. قَالَ: وَمَرُّوا عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِغُلَامٍ مِنْهُمْ [ص:107] بِيَدِهِ هَكَذَا، فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: {أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا} [الكهف: 74]، قَالَ: فَأَتَيَا {أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ} [الكهف: 77]، فَقَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَقَامَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: اسْتَطْعَمْنَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا، وَاسْتَضَفْنَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُونَا، عَمَدْتَ إِلَى حَائِطِهِمْ فَأَقَمْتَهُ {لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا} [الكهف: 77]، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » وَدِدْنَا أَنْ مُوسَى كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمْ «، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ: وَأَمَّا الْغُلَامُ كَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ، وَيَقْرَأُ: وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا»

حضرت سعید بن جبیر بیان کرتےہیں :میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے کہا نوف بکالی یہ کہتا ہے: حضرت موسیٰؑ وہ والے حضرت موسیٰ ؑ نہیں ہے جن کی حضرت خضر ؑ سے ملاقات ہوئی تھی (حضرت خضرؑ سے ملنے والے حضرت موسیٰ ؑ)دوسرے تھے ،تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا:اللہ کے دشمن نے غلط کیا ہے۔ حضرت ابی بن کعب نے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: ایک مرتبہ حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ دے رہے تھے ان سے دریافت کیا گیا کون شخص سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ حضرت موسیٰ ؑ نے جواب دیا :میں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ انہوں نے اس بات کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:دوردریاؤں کے ملنے کی جگہ پر میرا ایک بندہ ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے حضرت موسیٰؑ نے عرض کی:اے میرے پروردگار میں اس سے کیسے مل سکتا ہوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم ایک مچھلی لے کر اسے ایک برتن میں رکھو جس جگہ تم مچھلی کو گم کردوگے وہ بندہ وہاں ہوگا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں :حضرت موسیٰ ﷺ نے مچھلی لی اور اسے ایک برتن میں رکھ دیا۔ وہ برتن انہوں نے اپنے ساتھی کے سپرد کردیا یہ دونوں حضرات روانہ ہوگئے،یہاں تک کہ یہ دونوں چٹان کے پاس آئے وہاں حضرت موسیٰؑ سو گئے مچھلی نے برتن میں حرکت کی اس سے باہر نکلی اور دریا میں چلی گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ طاق کی مانند ہوگیا ہے ۔ حضرت موسیٰؑ اور ان کے ساتھی نوجوان حیران ہوئے۔ یہ دونوں حضرات پھر آگے روانہ ہوگئے ۔ اگلے دن حضرت موسیٰؑ کو تھکاوٹ محسوس ہویئ ، تو انہوں نے کہا : ہمارا کھانا لے کر آؤ۔ ہمیں اس سفر میں تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :انہیں تھکاوٹ اس وقت تک محسوس نہیں ہوئے ہوئے تھی ، جب تک وہ اس مقام سے آگے نہیں گزر گئے تھے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا ان کے ساتھی نے ان سے کہا :کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا:ہم چٹان کی پناہ میں گئے تھے ، تو میں مچھلی کو بھول گیا تھا اور مجھےشیطان نے یہ بات بھلادی کہ میں اس کا ذکر کرتااس پر حضرت موسیٰ ؑ نے کہا:ہم وہی جگہ ،تو چاہتے تھے پھر یہ دونوں حضرات الٹے قدموں واپس آئے یہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس آئے، یہاںتک کہ اس چٹان تک آگئے۔ وہاں ایک شخص اپنے اوپر چادر اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔ حضرت موسیٰؑ نے اسے سلام کیا ، تواس شخص نے کہا: اس جگہ پر سلام کہاں سے آگیا ۔حضرت موسیٰؑ نے فرمایا: میں موسیٰ ہوں۔ اس نے دریافت کیا بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے موسیَٰ؟ حضرت موسیٰ ؑنے جواب دیا ۔ جی ہاں اس نے کہا:اے موسیٰ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم ملا ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے آپ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم ملا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ حضرت موسیؑ نے کہا :میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اس چیز کی تعلیم دیں جو آپ کو ہدایت کا علم عطاکیا گیا ہے ، تو اس شخص نے کہا :آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لے سکیں گے ، اور آپ اس چیز پر کیسے صبر کر سکتےہیں ، جس کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہے ۔حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :اگر اللہ نے چاہا،تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے ،میں اس معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت خضر ؑ نے کہا: اگر آپ میری پیروں کرنا چاہتےہیں ، تو پھر آپ نے مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں اس وقت تک دریافت نہیں کرنا ، جب تک میں خود اس بارے میں آپ کےسامنے ذکر نہیں کر دیتا۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :پھر یہ دونوں حضرات دریا کے کنارے روانہ ہوگئے ۔وہاں سے ایک کشتی گزری ان لوگوں نے حضرت خضر ؑ کو پہچان لیا اور کسی معاوضے کے بغیر انہیں کشتی میں سوار کرلیاکچھ ہی دیر بعد حضرت خضرؑ نے اس کشتی کی ایک تختی توڑ دی حضرت موسیٰؑ نے ان سے کہا یہ آپ نے کیا کیا ہے ؟ انہوں نے کسی معاضے کے بغیر آپ کو سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی کی تختی توڑ دی ہے ،تاکہ کشتی والے ڈوب جائیں آپ نے غلط کام کیا ہے حضرت خضر ؑ نے کہا :میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لیں گے ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :میں جو بات بھول گیاتھا۔آپ اس بارے میں مجھ سے موخذہ نہ کریں اور میرے معاملے کو تنگی کا شکار نہ کریں ۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں:یہ حضرت موسیٰؑ کی طرف سے پہلی (خلاف ورزی تھی) جو بھولنے کی وجہ سے تھی۔ نبی اکرمﷺفرماتےہیں :اسی دورا ن ایک چڑیا آئی اور اس کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی چونچ پانی میں ڈالی ،تو حضرت خضرؑنے حضرت موسیٰؑ سے کہا:میرا علم اور آپ کا علم ، اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں وہ حیثیت بھی نہیں رکھتے جو اس چڑیا نے اپنی چونچ کے ذریعے سمندر کے پانی میں کمی کی ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :ان حضرات کا گزر کچھ لڑکوں کے پاس سے ہواجو کھیل رہے تھے حضرت خضر ؑ نےان میں وے ایک غلام کو اپنے ہاتھ کے ذریعے قتل کردیا حضرت موسیٰؑ نے ان سے کہا:آپ نے ایک پاکیزہ جان کو کسی جان کے بغیر قتل کر دیا ہے آپ نے قابل انکار حرکت کی ہے ، تو حضرت خضر ؑ نے کہا :کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا،تو آپ میرے ساتھ نہ رہیں گے۔ آپ کو یہ میری طرف سے عذر پہنچ گیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :یہ دونوں حضرات ایک بستی میں آئے اور وہاں کے رہنے والوں سے کھانے کے لیے مانگا ،تو انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ ان دونوں حضرات نے اس بستی میں ایک دیوار پائی جو گرنے کے قریب تھی۔ حضرت خضرؑ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے سہارا دے کر اسے سیدھا کردیا ، تو حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے کہا ہم نے ان لوگوں سے کھانا کھانے کےلیے مانگا ۔ انہوں نے ہمیں کھلانے سے انکار کردیا۔ہم نے انہیں مہمان نوازی کے لیے کہا ، تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا جب کہ آپ نے ان لوگوں نے دیوار ٹھیک کر دی ہے اگر آپ چاہیں ان سے اس کا معاوضہ لے سکتے ہیں ۔ حضرت خضر ؑ نے کہا:یہ میرے اور آپ کے درمیان فرق ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت کے بارے میں بتاتاہوں جن پر آپ صبر سےکام نہیں لے سکے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:ہماری خواہش تھی کہ حضرت موسیٰ ؑ صبر سے کام لیتے تاکہ ان حضرات کے واقعہ کے بارے میں مزید چیزیں ہمارے سامنےجاتیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ یوں تلاوت کیا کرتےتھے ۔ "جہاں تک لڑکے کا تعلق ہے وہ کافر تھا اور اس کے مان باپ مومن تھے۔" اور وہ یوں تلاوت کیا کرتےتھے ۔ "اور ان سے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ٹھیک کشتی کو غضب کر لیتا تھا۔"

قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حفظته من عمرو بن دينار ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 6220

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6221

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ قَالَ،: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا»

حضرت ابی بن کعب ؓروایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "وہ لڑکے جسے حضرت خضر ؑ نے قتل کیا تھا وہ فطری طور پر کافر پیدا ہو ا تھا۔"

نَبِيُّ اللَّهِ «إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا» ← أَبِي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← رَقَبَةَ، ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6221

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6222

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ*، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:109] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا سُمَيَّ الْخَضِرُ خَضِرًا لِأَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ، فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ تَحْتَهُ خَضْرَاءَ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "حضرت خضرؑ کانام خضر اس لئےہے اگر وہ کسی سفید بنجر زمین پر بیٹھ جائیں ،تو ان کے نیچے سبزہ لہلہانے لگتا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:24] ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6222

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6223

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:113] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ فَلَطَمَهُ مُوسَى فَفَقَأَ عَيْنَهُ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: يَا رَبِّ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ: إِنْ شِئْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ يَا رَبِّ، قَالَ: فَسَأَلَ اللَّهُ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةَ حَجَرٍ»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ ثَمَّتَ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ قَبْرِهِ إِلَى جَانِبِ الطُّورِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ» [ص:114] قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: » إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا بَعَثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ فَأَنْزَلَهُ مَوْضِعَ الْإِبَانَةِ عَنْ مُرَادِهِ، فَبَلَّغَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِسَالَتَهُ، وَبَيَّنَ عَنْ آيَاتِهِ بِأَلْفَاظٍ مُجْمَلَةٍ وَمُفَسَّرَةٍ عَقَلَهَا عَنْهُ أَصْحَابُهُ أَوْ بَعْضُهُمْ، وَهَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْأخْبَارِ الَّتِي يُدْرِكُ مَعْنَاهُ مَنْ لَمْ يَحْرُمِ التَّوْفِيقَ لِإِصَابَةِ الْحَقِّ. وَذَاكَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا أَرْسَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى رِسَالَةَ ابْتِلَاءٍ وَاخْتِبَارٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ، أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلَاءٍ لَا أَمْرًا يُرِيدُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا إِمْضَاءَهْ كَمَا أَمَرَ خَلِيلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ بِذِبْحِ ابْنِهِ أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلَاءٍ، دُونَ الْأَمْرِ الَّذِي أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا إِمْضَاءَهُ، فَلَمَّا عَزَمَ عَلَى ذَبْحِ ابْنِهِ وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ فَدَاهُ بِالذَّبْحِ الْعَظِيمِ، وَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا الْمَلَائِكَةَ إِلَى رُسُلِهِ فِي صُوَرٍ لَا يَعْرِفُونَهَا كَدُخُولِ الْمَلَائِكَةِ عَلَى رَسُولِهِ إِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ يَعْرِفْهُمْ [ص:115] حَتَّى أَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً، وَكَمَجِيءِ جِبْرِيلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُؤَالِهِ إِيَّاهُ عَنِ الْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَلَّى، فَكَانَ مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَى غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي كَانَ يَعْرِفُهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَيْهَا، وَكَانَ مُوسَى غَيُورًا فَرَأَى فِي دَارِهِ رَجُلًا لَمْ يَعْرِفْهُ، فَشَالَ يَدَهُ فَلَطَمَهُ فَأَتَتْ لَطْمَتُهُ عَلَى فَقْءِ عَيْنِهِ الَّتِي فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَتَصَوَّرُ بِهَا لَا الصُّورَةِ الَّتِي خَلْقَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا، وَلَمَّا كَانَ الْمُصَرَّحُ عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَيْثُ قَالَ: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ»، فَذَكَرَ الْخَبَرَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «هَذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ»: كَانَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ أَنَّ بَعْضَ شَرَائِعِنَا قَدْ تَتَّفِقُ بِبَعْضِ شَرَائِعِ مَنْ قَبْلَنَا مِنَ الْأُمَمِ، وَلَمَّا كَانَ مِنْ شَرِيعَتِنَا أَنَّ مَنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَوِ النَّاظِرِ إِلَى بَيْتِهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِ جُنَاحٌ عَلَى فَاعِلِهِ، وَلَا حَرَجٍ عَلَى مُرْتَكِبِهِ، لِلْأَخْبَارِ الْجَمَّةِ الْوَارِدَةِ فِيهِ الَّتِي أَمْلَيْنَاهَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا: كَانَ جَائِزًا اتِّفَاقُ هَذِهِ الشَّرِيعَةِ بِشَرِيعَةِ مُوسَى، بِإِسْقَاطِ الْحَرَجِ عَمَّنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَكَانَ اسْتِعْمَالُ مُوسَى هَذَا الْفِعْلِ مُبَاحًا لَهُ وَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِي فِعْلِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى رَبِّهِ، وَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ مُوسَى فِيهِ، أَمَرَهُ ثَانِيًا بِأَمْرِ آخَرَ أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلَاءٍ. كَمَا ذَكَرْنَا قَبْلُ، إِذْ قَالَ اللَّهُ لَهُ: قُلْ لَهُ: إِنْ شِئْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، فَلَمَّا عَلِمَ مُوسَى كَلِيمُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ وَأَنَّهُ جَاءَهُ بِالرِّسَالَةِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، طَابَتْ نَفْسُهُ بِالْمَوْتِ، وَلَمْ يَسْتَمْهِلْ، وَقَالَ: فَالْآنَ. فَلَوْ كَانَتِ الْمَرَّةُ الْأُولَى عَرَفَهُ مُوسَى أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، لَاسْتَعْمَلَ مَا اسْتَعْمَلَ فِي الْمَرَّةِ الْأُخْرَى عِنْدَ تَيَقُّنِهِ وَعِلْمِهِ بِهِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ، وَرُعَاةُ اللَّيْلِ يَجْمَعُونَ مَا لَا يَنْتَفِعُونَ بِهِ، وَيَرْوُونَ مَا لَا يُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ، وَيَقُولُونَ بِمَا يُبْطِلُهُ الْإِسْلَامُ جَهْلًا مِنْهُ لِمَعَانِي الْأَخْبَارِ، وَتَرْكَ التَّفَقُّهِ فِي الْآثَارِ مُعْتَمِدًا مِنْهُ عَلَى رَأْيِهِ الْمَنْكُوسِ وَقِيَاسِهِ الْمَعْكُوسِ «

حضرت ابوہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتےہیں : "ملک الموت کو حضرت موسیٰ ؑ کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ جوان کی روح قبض کرلے حضرت موسیٰ ؑ نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑدی نبی اکرمﷺ فرماتےہیں: وہ اپنے پروردگا ر کی بارگاہ میں گیا اور عرض کی ،تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے ،جو مرنا نہیں چاہتا پروردگار نے فرمایا:تم اس کے پاس واپس جاؤ اس سے کہو اگر تم چاہو ،توکسی بیل کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھو ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ۔ ان میں سے ہر ایک بال کے عوض تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے فرشتے سے دریافت کیا پھر کیا ہوگا ۔ اس نے کہا :پھر موت آجائے گی ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :اے میرے پروردگار پھر ابھی (میں فوت ہوجاتاہوں ) " نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ وہ انہیں مرض مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور پتھر جا کر گرتاہے۔ نبی اکرمﷺ ارشادفرماتےہیں :اگر میں وہاں ہوتا تو میں حضرت موسیٰ ؑ کی قبر دکھاتا، جو کوہ طور کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے نیچے تھی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :)بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺکو اپنی مخلوق کا معلم بنا کر بھیجا ہے اور انہیں (اپنے احکام کی ) مراد واضح کرنے کا مقام عطاکیا ہے،تو نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے رسالت کی تبلیغ کی اور اس کی آیات کےمجمل الفاظ کو بیان کیا اور اس کی تفسیر کی ،جسے آپ سے آپ کے اصحاب نے سیکھا، یا ان میں سے بعض افراد نے سیکھا یہ روایت بھی ان روایات میں شامل ہے،جس کا مفہوم وہ شخص جان سکتا ہے ،جو حق تک پہنچنے کی توفیق سے محروم نہ ہو اور وہ یوں کہ اللہ تعالی نے ملک الموت کو حضرت موسیٰ ؑ علیہ السلام کی طرف بھیجا تاکہ آزمائش کو ظاہر کرے اور خبر کو ظاہر کرے اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ ان سے یہ کہےکہ وہ اپنے پرووردگار کے بلاوے پر لبیک کہیں ، تو یہ ایک ایسا حکم تھا جو خبر جاننے کےلئے اور آزمائش کےلئے تھا۔ یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے جاری کرنا اللہ تعالیٰ کی مراد ہوتی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو یہ حکم دیاکہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کردیں ،تو یہ خبر معلوم کرنےکےلئے اورآزمائش کے طور پر تھا یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے اللہ تعالیٰ برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا ،تو جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ،تو اللہ تعالیٰ نے اس کاوفد یہ عظیم صورت میں دیا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے (مختلف موقعوں پر ) فرشتوں کو اپنے رسول کی طرف ایسی شکل وصورت میں بھیجا کہ وہ رسول انہیں پہچان نہیں سکے جس طرح کچھ فرشتے اللہ کے رسول حضرت ابرہیم ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو حضرت ابراہیم ؑ انہیں پہچان نہیں سکے ،یہاں تک کہ انہیں ان کی طرف سے خوف محسوس ہوا ۔اسی طرح حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے ایمان اور اسلام کے بارے میں سوالات کئے ،لیکن نبی اکرمﷺ انہیں اس وقت انہیں پہچانے جب وہ واپس چلے گئے تھے، تو جب ملک الموت حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا ،تو وہ اس سے مختلف صورت میں تھا جس صورت میں حضرت موسیٰ ؑ اس سے ناواقف تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ مزاج کے تیز تھے ۔ انہیں اپنے گھر میں ایک ایسا شخص نظر آیا جس سے وہ واقف نہیں تھے ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسے طمانچہ رسید کیا۔ طمانچے کے نتیجے میں ملک الموت کی وہ آنکھ پھوٹ گئی جو اس کی اس شکل کے مطابق جس شکل کو اختیار کرکے وہ آیا تھا ۔ اس سےمراد وہ شکل نہیں ہے ،جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیاہے۔ حضرت عبدالل بن عباسؓ کے حوالےسے منقول روایت میں ہمارے نبی کی طرف سےاس بات کی صراحت آئی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی "۔اس کے بعد پوری روایت ہے ،جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : "یہ آپ کا اور آپ سے پہلے کے انبیاء کا وقت ہے" تو اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ بعض شرعی احکام میں ہماری شریعت کاوہی حکم ہے،جو پہلی اُمتوں کی شریعت کا تھا۔ تو جب ہماری شریعت کا یہ حکم ہے کہ جو شخص اجازت لئے بغیر اپنے گھر میں داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، توایسا کرنے والے شخص پر کرئی گناہ نہیں ہوگا ۔ اس بارے میں بہت سی روایات منقول ہے ،جنہیں ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر املاکرواچکے ہیں ،تو یہ بات بھی جائز ہوگی کہ اس بارے میں اس شریعت اورحضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کا حکم متفق ہوکہ جو شخص اپنے گھر میں اجازت کے بغیر داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے اسے گناہ نہیں ہوگا ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے یہ فعل کیا ۔ یہ ان کےلئے مباح تھا اور ایسا کرنے پر ان پر کوئی حرج لاحق نہیں ہوا ۔ جب ملک الموت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس گیا اور اسے حضرت موسیٰ ؑ کی طرف سے پیش آنے والی صورت حال کے بارے میں بتایا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ یہ حکم دیا کہ دوسری مرتبہ اطلاع حاصل کرنے کےلئے اور آزمائش کےلئے جائے جیسا کہ ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کرچکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تم اس سے کہو اگر تم چاہو ،تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھو ، تو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی جب حضرت موسیٰ ؑ کو اس بات کا پتہ چلا کہ یہ ملک الموت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لےکر آیا ہے ،تو حضرت موسیٰ ؑ ذہنی طور پر مرنے کےلئے تیار ہوگئے ۔ انہوں نے مزید مہلت نہیں مانگی ۔انہوں نے کہا :پھر ابھی ٹھیک ہے۔ اگر حضرت موسیٰؑ پہلی مرتبہ اسے پہچان لیتے کہ یہ موت کا فرشتہ ہے ،تو وہ وہی طرزِعمل اختیار کرتے جو دوسری مرتبہ اختیار کیا تھا، جب انہیں اس بارے میں یقین تھا۔ اس بارے میں علم بھی حاصل ہوچکا تھا۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے،جو یہ کہتاہے محدثین صرف لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتےہیں ۔ وہ روایت کے وقت بکریاں چراتےہیں وہ ایسی چیز جمع کرتےہیں جس کے ذریعے انہیں فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور ایسی چیز روایت کرتےہیں ،جس پر انہیں اجر نہیں دیا جائے گا اور وہ ایسے نظریات رکھتےہیں ، جو اسلام ، جنہیں باطل قرار دیتاہے یہ وہ شخص ہے ،جو احادیث کے معانی سے ناواقفیت کی وجہ سے اور روایات میں غور وفکر ترک کرنے کی وجہ سے (یہ نظریات رکھتاہے) اور یہ شخص اپنی کمزور رائے اور الٹے قیاس کی بنیاد پر یہ رائے رکھتاہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 6223

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6224

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ، فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَ عَيْنَهُ، فَرَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: يَا رَبِّ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي، فَرَدَّ اللَّهُ [ص:117] عَلَيْهِ عَيْنَهُ، فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ، فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْ يَدُكَ سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ، أَدْنِنِي مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ» قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذِهِ اللَّفْظَةُ» أَجِبْ رَبَّكَ «قَدْ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرْ فِي الْعِلْمِ أَنَّ التَّأْوِيلَ الَّذِي قُلْنَاهُ لِلْخَبَرِ مَدْخُولٌ، وَذَلِكَ فِي قَوْلِ مَلَكِ الْمَوْتِ لِمُوسَى» أَجِبْ رَبَّكَ «بَيَانٌ أَنَّهُ عَرَفَهُ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ لِأَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا شَالَ يَدَهُ وَلَطَمَهُ قَالَ لَهُ: » أَجِبْ رَبَّكَ «تَوَهَّمَ مُوسَى أَنَّهُ يَتَعَوَّذُ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ دُونَ أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللَّهِ إِلَيْهِ، فَكَانَ قَوْلُهُ: » أَجِبْ رَبَّكَ «الْكَشْفَ عَنْ قَصْدِ الْبِدَايَةِ فِي نَفْسِ الِابْتِلَاءِ، وَالِاخْتِبَارِ الَّذِي أُرِيدَ مِنْهُ»

حضرت ابوہریرہ ؓروایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "ملک الموت حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آیا تاکہ ان کی روح قبض کرلے اس نے ان سے کہا آپ اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیجئے ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے ملک الموت کی آنکھ پر طمانچہ مارکر اس کی آنکھ پھوڑ دی ملک الموت اپنے پروردگاہ کی بارگاہ میں واپس گیا اور بولا :اے میرے پروردگار کیا ،تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے ، جو مرنا نہیں چاہتا اس نے میری آنکھ پھوڑدی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو ٹھیک کردیا اور فرمایا تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے کہو کیا تم زندگی چاہتےہو اگر تم زندگی چاہتےہو ، تو اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے ہر ایک بال کےعوض میں ایک سال کی زندگی مل جائے گی ۔ (جب یہ بات حضرت موسیٰؑ کو بتائی گئی ) ،تو انہیں نے دریافت کیا پھر کیا ہوگا فرشتے نےکہا :پھر موت آجائےگی ،تو حضرت موسیٰؑ نے کہا(تو میں ابھی فوت ہوجاتاہوں )پھر حضرت موسیٰ ؑنے دعا کی :اے میرے پروردگار مجھے ارضِ مقدس کے اتنا قریب کردے جتنی دور کوئی پتھر جاکر گرتاہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :اگرمیں وہاں ہوتا ،تو میں تمہیں راستے کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :)روایت کے یہ الفاظ "آپ اپنے پروردگار کی دعوت قبول کیجئے "یہ اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتےہیں جوعلم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ یہ سمجھتا ہے)کہ وہ تاویل جو ہم نے اس روایت کی بیان کی ہے وہ درست نہیں ہے۔ وہ اس وجہ سے ملک الموت نے یہ کہا تھا آپ اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے ۔یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ حضرت موسیٰؑ ملک الموت کو پہچان گئے تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جب حضرت موسیٰؑ نے اپنا ہاتھ پھیلا کر طمانچہ مار دیاتھا ۔اس وقت فرشتے نے ان سے کہا تھا اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے ۔ حضرت موسیٰؑ یہ سمجھے وہ ان الفاظ کے ذریعے پناہ مانگ رہاہے۔حضرت موسیٰؑ کو یہ اندازہ نہیں ہوا ۔ یہ اللہ تعا لیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے ،تو اس میں اس کا یہ کہنا : "اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے"۔ یہ آزمائش اور اطلاع حاصل کرنے کے آغاز کے مقصد کو ظاہر کرتا ہے، جو اس کے ذریعے مراد لیاگیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 6224

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6225

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:118] أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقِرَاءَةُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ أَنْ تُسْرَجَ، فَيَفْرَغُ مِنْ قِرَاءَةِ الزَّبُورِ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ»

حضرت ابوہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتےہیں : "حضرت داؤد ؑ کے لئے تلاوت کو آسان کردیاگیا ۔وہ اپنے جانور کے بارے میں حکم دیتےتھے کہ اس پر زین رکھی جائے ،تو اس پر زین رکھی جانے سے پہلے وہ زبور کی تلاوت کر کے فارغ ہوجاتےتھے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:653] ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 6225

chevron_left Previous
1234…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr