Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6526

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ، وَمَا رَآهُمْ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ. قَالُوا: مَا ذَاكَ إِلَّا شَيْءٌ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ [ص:460] الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَمَرَّ النَّفْرُ الَّذِينَ أَخَذُوا نَحْوَ تِهَامَةَ - وَهُوَ بِنَخْلَةَ - وَهُمْ عَامِدُونَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ، قَالُوا: هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا} [الجن: 2]، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ} [الجن: 1]»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں : نصف رات کے وقت مسلمان نے نبی اکرم ﷺ کی پکار سنی ۔ آپ اس وقت بدر کے کنویں کے پاس موجود تھے اور بلند آواز میں فرما رہے تھے ۔ اے ابوجہل بن ہشام اے عتبہ بن ربیعہ اے شیبہ بن ربیعہ اے امیہ بن خلف تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچ پا لیا ہے ۔ مسلمانوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ!کیا آپ ایسی قوم کو مخاطب کر رہے ہیں جو مردار ہو چکے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جو کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے ، البتہ وہ لوگ اس بات کی استطاعت نہیں رکھتے کہ مجھے جواب دیں

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6526

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6527

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: فَقَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ: [ص:462] هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَهُ لَيْلَةً، فَفَقَدْنَاهُ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ، فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ»، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَرَانَا نِيرَانَهُمْ وَآثَارَهُمْ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الزَّادِ، فَقَالَ: «لَكُمْ كُلُّ عَظْمِ طَعَامٍ يُذْكَرُ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا، فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے جنات کے سامنے کوئی تلاوت نہیں کی اور نہ ہی آپ نے انہیں دیکھا ۔ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ اور آپ کے کچھ اصحاب عکاظ کے بازار کی طرف تشریف لے گئے ۔ یہ وہ وقت تھا ۔ جب شیاطین اور آسمان کی خبروں کےدرمیان رکاوٹ پڑ چکی ہے اور اب ہمارے اوپر شہاب ثاقب بھیجے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا: یہ کسی ایسی وجہ سےہوا ہوگا ، جو نئی رونما ہوئی ہے تم لوگ زمین کے مشرقی حصوں اور مغربی حصوں کا جائز ہ لو اور اس بات کا جائز ہ لو کہ وہ کون سی ایسی چیز ہے ، جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے تو وہ لوگ زمین کے مشرقی اور مغربی حصوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا گزر تہامہ کی طر ف سے ہوا ۔ نبی اکرمﷺ اس وقت ایک کھجور کے باغ میں موجود تھے ۔ یہ لوگ عکاظ کے بازار کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ( کھجور کے اس باغ میں تھے ) اور نبی اکرمﷺ انہیں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے جب ان جناب نے قرآنبی اکرمﷺ کی تلاوت سنی تو انہوں نے کہا: یہ وہ چیز ہے ، جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور انہوں نے یہ کہا۔ "ہم نے قرآنبی اکرمﷺ کو سنا ہے وہ بڑی حیران کن چیز ہے وہ ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم کسی کو اپنے پروردگار کا شریک قرار نہیں دیں گے ۔" تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف یہ بات وحی کی۔ " تم یہ فر ما دو کہ جب جنات کے ایک گروہ نے اسے غور سے سنا۔"

الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6527

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6528

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَقَالَ لِعُمَرَ: «انْطَلِقْ فَجَهِّزْهُمْ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ هِيَ إِلَّا آصُعٌ مِنْ تَمْرٍ، فَانْطَلَقَ، فَأَخْرَجَ مِفْتَاحًا مِنْ حُزْتِهِ فَفَتَحَ [ص:463] الْبَابَ، فَإِذَا شِبْهُ الْفَصِيلِ الرَّابِضِ مِنَ التَّمْرِ، فَأَخَذْنَا مِنْهُ حَاجَتَنَا، قَالَ: فَلَقَدِ الْتَفَتُّ إِلَيْهِ، وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِ أَصْحَابِي كَأَنَّا لَمْ نَرْزَأَهْ تَمْرَةً «

امام شعبی بیان کرتےہیں : میں نے علقمہ بن قیس سے قیس سے دریافت کیا: کیا جنات سے ملاقات کی رات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے تو علقمہ نے جواب دیا : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ سوال کیا کیا آپ ( یعنی صحابہ کرام) میں سے کوئی نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھا جب جنات سے ملاقات ہوئی تھی تو انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ ایک رات ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے ۔ ہم نے آپ کو غیر موجود پایا تو ہم نے وہ رات بدترین حالت میں گزاری ۔ صبح کے قریب نبی اکرمﷺ غار حرا کی طرف سے تشریف لائے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جنات کا پیغام رساں میرے پاس آیا تو میں اس کے ساتھ چلا گیا ۔ میں نے ان کے سامنے قرآنبی اکرمﷺ کی تلاوت کی پھر نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے پھر آپ نے ہمیں جنات کے آگ جلانے اور دیگر چیزوں کے نشانات ہمیں دکھائے ۔ ان جنات نے نبی اکرمﷺ سے زادراہ کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہر وہ کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کی ہر ہڈی جب تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو اس پر پہلے سے زیادہ گوشت لگا ہوا ہوگا اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چار ا ہوگی ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ان دو چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي رَكْبٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَقَالَ لِعُمَرَ: «انْطَلِقْ فَجَهِّزْهُمْ»، ← دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6528

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6529

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، [ص:464] عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ، فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ، فَتَعَاقَبُوهَا إِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ، يَقُومُ قَوْمٌ وَيَجْلِسُ آخَرُونَ، فَقَالَ رَجُلٌ لِسَمُرَةَ: أَكَانَ يُمَدُّ؟ فَقَالَ سَمُرَةُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَتَعَجَّبَ؟ مَا كَانَ يُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَا هُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ.

حضرت دکین بن سعید مزنی ؓ بیان کرتے ہیں : میں قبیلے کے کچھ سواروں کے ہمراہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرمﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا تم جاؤ اور ان کےلئے سازوسامان کا بندوبست کرو ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! صرف کھجوروں کے چند صاع ہیں پھر وہ چلے گئے ۔ انہوں نے اپنے ڈب میں سے چابی نکال کر دروازے کھولا تو وہ ڈھیر سار ی کھجوریں تھیں ۔ ہم نے اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں ۔ راوی کہتےہیں : جب میں نے مڑ کر اس کمرے کی طرف دیکھا تو میں وہاں سے نکلنے وال آخری فرد تھا لیکن یوں لگتا تھا جیسے ہم نےوہاں سےایک بھی کھجور نہیں لی ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، [ص:464] ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6529

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6530

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، شَكَّ الْأَعْمَشُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ [ص:465] اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا، فَأَكَلْنَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْعَلُوا»، فَجَاءَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا قَلَّ الظُّهْرُ، وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوِدَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَطْعٍ، فَبَسَطْتُهُ، ثُمَّ دَعَاهُمْ بِفَضْلِ أَزْوِدَتِهِمْ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ الذُّرَةِ، وَالْآخَرُ بِكَفِّ التَّمْرِ، وَالْآخَرُ بِكَسْرَةٍ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النَّطْعِ مِنْ ذَلِكَ يَسِيرٌ، قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: «خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ»، فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ، وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ مِنْهُ فَضْلَةً، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍ فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ»

حضرت سمرہ بن جند بؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ثرید کا پیالہ پیش کیا گیا وہ لوگوں کے سامنے رکھا گیا تو لوگ صبح سے لے کر دوپہر تک یکے بعد دیگرے اس کے پاس آتے رہے ۔ کچھ لوگ اٹھتے تو دوسرے آکر بیٹھ جاتے ۔ ایک شخص نے حضرت سمرہ ؓ سے دریافت کیا: کیا وہ بڑھ رہا تھا ؟ حضرت سمرہ ؓ نے فرمایا: تمہیں کس بات پر حیرانگی ہر رہی ہے ۔ وہ صرف اس طر ف سے بڑھ رہا تھا ۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

يَا رَسُولَ [ص:465] اللَّهِ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا، فَأَكَلْنَا، ← لَمَّا کَانَ غَزْوَةُ تَبُوکَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ ← أبي هريرة شك الأعمش ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6530

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6531

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانَ حِينَ صَالَحَ قُرَيْشًا بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقُولُ: إِنَّمَا يُبَايِعُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْفًا وَهَزْلًا، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْ نَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لُحُومِهَا وَشُحُومِهَا، وَحَسَوْنَا مِنَ الْمَرَقِ أَصْبَحْنَا غَدًا إِذَا غَدَوْنَا عَلَيْهِمْ وَبِنَا جَمَامٌ، قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ إِيتُونِي بِمَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِكُمْ»، فَبَسَطُوا أَنْطَاعًا، ثُمَّ صَبُّوا عَلَيْهَا مَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ، فَدَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ، فَأَكَلُوا حَتَّى تَضَلَّعُوا شِبَعًا، ثُمَّ كَفَئُوا مَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ فِي جُرُبِهِمْ، ثُمَّ غَدَوْا عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرَيْنَ غَمِيزَةً»، فَاضْطَبَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَرَمَلُوا ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَوْا أَرْبَعًا، وَالْمُشْرِكُونَ فِي الْحِجْرِ، وَعِنْدَ دَارِ النَّدْوَةِ، [ص:467] وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَغِيَّبُوا مِنْهُمْ بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيِّ وَالْأَسْوَدِ مَشَوْا، ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ، فَتَقُولُ قُرَيْشٌ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّهُمُ الْغِزْلَانُ، فَكَانَتْ سُنَّةً

حضرت ابو سعید خدری ؓ ( اعمش نامی راوی کو شک ہے شاید ) حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر لوگوں کوبھوک لاحق ہوگئی تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے اونٹ قربان کر کے انہیں کھا لیں ۔ نبی اکرمﷺنےان سے فرمایا تم لوگ ایسا کرلو حضرت عمر ﷺ ( نبی اکرمﷺ کی خدمت میں) حاضر ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اگر لوگوں نے ایسا کر لیا تو ان کے پاس سواری کے جانور کم ہو جائیں گے ۔ آپ انہیں کہیں کہ وہ اضافی بچ جانےوالا سازو سامان لے کر آئیں اور پھرآپ اس سامان پر برکت کی دعا کریں ۔ شاید اللہ تعالیٰ اس میں کوئی بہتری کی صورت پیدا کردے ۔ راوی کہتےہیں: تو نبی اکرمﷺ نے ایک دستر خوان منگوایا وہ پھیلا دیا گیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6531

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6532

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ قَدْ صَفَفْتُهُنَّ فِي يَدَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَدَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، وَقَالَ: «إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ شَيْئًا فَأَدْخِلْ يَدَكَ، وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «فَحَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكُنَّا نَطْعَمُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ، وَكَانَ فِي حِقْوِي حَتَّى انْقَطَعَ مِنِّي لَيَالِيَ عُثْمَانَ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرمﷺ نے قریش سے صلح کر لی ( اور آپ عمرہ کرنے کےلئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے ) تو جب آپ "مرا الظہر ان "کے مقام پر پہنچے تو نبی اکرمﷺ کے اصحاب کو یہ اطلاع ملی کہ قریش یہ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ پر ان کے ایسے اصحاب نے بیعت کی ہے ، جو کمزور ہیں تو نبی اکرمﷺ کے اصحاب نے عرض کی: اے اللہ کے نبی اگر ہم اپنی سواریوں کو قربان کر کے ان کا گوشت اور چربی کھائیں اور ان کا شوربا پئیں تو کل جب ہم ان کے سامنے جائیں گے ، تو ہماری حالت ایسی ہوگی کہ ہم طاقتور محسوس ہوں گے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جی نہیں تم لوگ میرے پاس اپنا بچ جانے والا ( کھانے پینے کا ) سامان لے کر آؤ ان لوگوں نے دستر خوان بچھا دئیے اور اس پر اپنا بچ جانے والا ( کھانے پینے کا ) سامان ڈال دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے ان کےلئے برکت کی دعا کی ۔ ان لوگوں نے اسے کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور بچ جانے والا کھانے پینے کا سامان انہوں نے اپنے تھیلوں میں ڈال لیا پھر وہ اگلے دن ( کفار قریش ) کے سامنے آئے تو نبی اکرمﷺ نے ان سے فرما دیا وہ لوگ ( تمہارے اندر) کوئی کمزوری نہ دیکھیں پھر نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب نے اضطباع ( کے طور پر احرام کی چادر کو ) لپیٹا ان حضرات نے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے مشرکین اس وقت حطیم میں اور دار الندوہ کے قریب موجود تھے جب نبی اکرمﷺ کے اصحاب ان کے دوسری طرف رکن یمانی اور ہجر اسود کے درمیان آتے تو عام رفتار سے چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے ( تو دوڑ نے لگتے ) تو قریش نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو ہرنوں کی طرح ہیں ۔ ( حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں :) تو یہ طریقہ سنت قرار پایا ۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِتَمَرَاتٍ قَدْ صَفَفْتُهُنَّ فِي يَدَيَّ، فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← مُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6532

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6533

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، بِالرَّيِّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ لَمْ أَطْعَمْ فِيهَا طَعَامًا، فَجِئْتُ أُرِيدُ الصُّفَّةَ، فَجَعَلْتُ أَسْقُطُ فَجَعَلَ الصِّبْيَانُ يُنَادُونَ: جُنَّ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنَادِيهِمْ، وَأَقُولُ: بَلْ أَنْتُمُ الْمَجَانِينُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الصُّفَّةِ، فَوَافَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ، فَدَعَا عَلَيْهَا أَهْلَ الصُّفَّةِ وَهُمْ يَأْكُلُونَ مِنْهَا، فَجَعَلْتُ أَتَطَاوَلُ كَيْ يَدْعُوَنِي، حَتَّى قَامَ الْقَوْمُ وَلَيْسَ فِي الْقَصْعَةِ إِلَّا شَيْءٌ فِي نَوَاحِي الْقَصْعَةِ، فَجَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَارَتْ لُقْمَةً، فَوَضَعَهَا عَلَى [ص:469] أَصَابِعِهِ، ثُمَّ قَالَ لِي: «كُلْ بِاسْمِ اللَّهِ»، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا زِلْتُ آكُلُ مِنْهَا حَتَّى شَبِعْتُ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : میں چند کھجوریں لے کر نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے ا نہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں رکھا ہوا تھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ!آپ ان میں میرے لئے برکت کی دعا کر دیں تو نبی اکرمﷺنے میرے لئے ان میں برکت کی دعا کی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جب تم نے کوئی چیز لینی ہو تو اپنا ہاتھ ان کے اندر داخل کرنا انہیں مکمل طور پر نہ ختم کر دینا حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں : میں نے ان کھجوروں میں سے اتنے ، اتنے وسق اللہ کی راہ میں خیرات کئے ہم خود بھی ان میں سے کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلایا کرتے تھے ۔ وہ میرے ڈب میں موجود رہتی تھی ، یہاں تک حضر ت عثمان ؓ ( کے خلاف بغاوت ) کے دنوں میں وہ مجھ سے گر گئی ۔

أَبِي ← سليم بن حيان، ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ ← رَوْحُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، بِالرَّيِّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6533

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6534

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ مِنْهُ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا، فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدَيَّ، وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ [ص:470] اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟ »، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «لِلطَّعَامِ؟ »، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ: «قُومُوا»، قَالَ: فَانْطَلَقُوا، وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتِ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ»، فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَآدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ»، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ»، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ»، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ»، حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًا أَوْ ثَمَانُونَ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : مجھ پر تین ایسے دن آئے جن میں ، میں نے کچھ نہیں کھایا میں صفہ ( کے چبوترے ) پر آنا چاہ رہا تھا لیکن گر گیا ۔ بچوں نے بلند آواز میں کہنا شروع کرد یا ابوہریرہؓ دیوانہ ہوگیا ہے ۔ تو میں نے انہیں بلند آواز میں جواب دینا شروع کیا ۔ میں نے کہا: بلکہ تم لوگ پاگل ہو ، یہاں تک کہ ہم لوگ ( اسی عالم میں) صفہ تک آگئے ۔ اس وقت نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ثرید کا پیالہ پیش کیا گیا تھا تو نبی اکرمﷺ نے وہ کھانے کےلئے اہل صفہ کو بلوایا تھا اور وہ لوگ اسے کھا رہے تھے ۔ میں نے خود کو سیدھا کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ لوگ مجھے بھی دعوت دیں ( لیکن کچھ نہیں ہوا) یہاں تک کہ وہ لوگ ( کھانا کھا رک ) اٹھ گئے ۔ اس پیالے میں صرف وہ چیز باقی رہ گئی جو پیالے کے کناروں پر موجود ہوتی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے اسے اکٹھا کیا تو وہ ایک لقمہ بنا ۔ نبی اکرمﷺ وہ اپنی انگلیوں میں رکھا اور پھر مجھ سے فرمایا اللہ کا نام لے کر اسے کھالو ( حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں:) اس ذات کی قسم!جس کے دست قدرت میں میری جانی ہے ۔ میں اس ایک لقمے کو اتنی دیر کھا تا رہا کہ میں سیر ہوگیا ۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6534

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6535

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ [ص:472] الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ، فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيُشْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، وَمَرَّ بِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيُشْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، حَتَّى مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِوَجْهِي، وَمَا فِي نَفْسِي، قَالَ: «أَبَا هِرٍّ»، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «الْحَقْ»، فَلَحِقْتُهُ، فَدَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ، فَأَذِنَ، فَدَخَلْتُ، فَإِذَا هُوَ بِلَبَنٍ فِي قَدَحٍ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: «مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟ »، قَالَ: هَدِيَّةُ فُلَانٍ، أَوْ قَالَ: فُلَانٌ، فَقَالَ: «أَبَا هِرٍّ الْحَقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَادْعُهُمْ»، وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافٌ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ أَوْ مَالٍ، إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ وَشَرَكَهُمْ فِيهَا، وَأَصَابَ مِنْهَا، فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ، قُلْتُ: أَيْنَ يَقَعُ هَذَا اللَّبَنُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَأَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَدَخَلُوا وَأَخَذَ الْقَوْمُ مَجَالِسَهُمْ، قَالَ: «أَبَا هِرٍّ»، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «خُذْ، فَنَاوِلْهُمْ»، قَالَ فَجَعَلْتُ أُنَاوَلُ رَجُلًا رَجُلًا، فَيَشْرَبُ، فَإِذَا رَوِيَ أَخَذْتُهُ، فَنَاوَلْتُ الْآخَرَ حَتَّى رَوِيَ الْقَوْمُ جَمِيعًا، ثُمَّ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَتَبَسَّمَ، وَقَالَ: «أَبَا هِرٍّ، أَنَا وَأَنْتَ»، قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «خُذْ، فَاشْرَبْ»، فَمَا زَالَ يَقُولُ: «اشْرَبْ»، حَتَّى قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا، قَالَ: «فَأَرِنِي الْإِنَاءَ»، [ص:473] فَأَعْطَيْتُهُ الْإِنَاءَ، فَشَرِبَ الْبَقِيَّةَ، وَحَمِدَ رَبَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو طلحہ ؓ نے ( اپنی اہلیہ ) سیدہ ام سلیم ؓ سےکہا میں نے نبی اکرمﷺ کی آواز نقاہت محسوس کی ہے جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ کو بھوک لگی ہے تو کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے (جو کھانے کےلئے نبی اکرمﷺ کو پیش کریں ) اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں اس خاتون نے کو کی چند ٹکیاں نکالیں پھر انہوں نے اپنا دوپٹہ لیا اور روٹیاں اس کے کچھ حصے میں لپیٹ دیں اور میری بغل میں دیدیا ۔ اس کا کچھ حصہ انہوں نے مجھے اوڑھا دیا اور پھر مجھے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں بھیجا ۔ حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں : میں وہ لے کر چلا گیا میں نے نبی اکرمﷺ کو مسجد میں تشریف فرما پایا ۔ آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے ۔ میں ان لوگوں کے پاس آکر کھڑا ہوگیا ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے ۔ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کھانے کےلئے میں نے عرض کی: جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺنے اپنے پاس موجود سے فرمایا اٹھو ۔ راوی کہتے ہیں : یہ سب حضرات روانہ ہوگئے ۔ میں ان حضرات کے آگے چلتا ہوا ۔ حضرت ابو طلحہ کے پاس آیااور انہیں اس بارے میں بتایا تو حضرت ابوطلحہ نے فرمایا: اے ام سلیم ﷺ نبی اکرمﷺ لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہےہیں ۔ ہمارے پاس تو اتنا کچھ نہیں ہے کہ ہم انہیں کھانا کھلا سکیں تو سیدہ ام سلیم ؓ نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت ابو طلحہ تشریف لے گئے اور نبی اکرمﷺ سے ملے ۔ نبی اکرمﷺ ان کے ساتھ تشریف لائے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حضرات گھر میں داخل ہوئے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے ام سلیم! تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے پیش کر و تو سیدہ ام سلیم ؓ وہ روٹیاں لے آئی نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت ان کے ٹکرے کر دئیے گئے ۔ سیدہ ام سلیمﷺنے اس پر وہ کپی نچوڑ دی جس میں گھی تھا وہ اس کا سالن بن گیا پھر نبی اکرمﷺ نے اس پر جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا پھر آپ نے فرمایا: د س آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو ۔ حضرت ابوطلحہ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی ۔ ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہوگئے پھر چلے گئے پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو ۔ حضرت ابوطلحہ ؓ نے انہیں اجازت دی ۔ ان لوگوں نے بھی کھانا کھایا ، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہوگئے پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: دس آدمیوں کو اندر آنے کےلئے کہو ۔ حضرت ابو طلحہ ؓ نے انہیں بھی اجازت دی ۔ ان لوگوں نے بھی کھانا کھایا ، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہوگئے تو چلے گئے ۔ پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: دس آدمیوں کو اندر آنے کےلئے کہو ، یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے کھانا کھا لیا اور سیر ہو کر کھایا ان لوگوں کی تعداد دستر یا شاید اسی تھی

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6535

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6536

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ [ص:474] أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ، فَأَبَوْا، وَلَمْ يَرَوْ أَنَّ فِيهِ وَفَاءً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِذَا جَدَدْتَهُ فَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ، فَآذِنِّي»، فَلَمَّا جَدَدْتَهُ، وَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُ غُرَمَاءَكَ، فَأَوْفِهِمْ»، قَالَ: فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلَّا قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا سَبْعَةٌ عَجْوَةٌ، وَسِتَّةٌ لَوْنٌ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «ائْتِ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبِرْهُمَا ذَلِكَ»، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُمَا، فَقَالَا: إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّهُ سَيَكُونُ ذَلِكَ

مجاہد بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوہریرہؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ ( بعض اوقات ) میرا یہ عالم ہوتا تھا کہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنا کلیجہ زمین کے ساتھ لگا لیا کرتا تھا ۔ ایک دن میں لوگوں کے راستے مین بیٹھ گیا جہاں سے وہ گزرا کرتے تھے ۔ حضرت ابوبکرؓ میرےپاس سے گزرے میں نےان سے اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا ۔ میں نے ان سے صرف اس لئے سوال کیا تھا ، تاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ تشریف لے گئے ۔ انہوں نے کچھ نہیں کیا پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ میرےپاس سے گزرے ۔ میں نے ان سے بھی اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لئے یہ سوال کیا تھا ، تاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ چلے گئے ۔ انہو ں نے ایسا نہیں کیا ۔ پھر میرے پاس سے حضرت ابوالقاسمﷺگزرے جب آپ نے میرے چہرے کو دیکھا اور جو کچھ میرے من میں تھا ملاحظہ کیا تو آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں حاضر ہوں ۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: میرے ساتھ آؤ۔ میں آپ کے ساتھ چل پڑا ۔ نبی اکرمﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے ۔ آپ نے (مجھے اندر آنے کی ) اجازت دی تو میں اندر آیا ۔ وہاں ایک پیالے میں دودھ موجود تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی اہلیہ سے دریافت کیا: یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ فلاں نے ہدیہ بھیجا ہے ۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) فلاں نے بھیجا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جاؤاور انہیں بلا لاؤ(حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ) اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے ۔ ان کا کوئی گھر بار کوئی مال منال نہیں تھا جب بھی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں کوئی صدقہ آتا تھا تو آپ وہ ان لوگوں کی طرف بھجوا دیتے تھے ۔ آپ اس صدقے مں حصہ دار نہیں بنتے تھے لیکن جب آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ آتا تھا تو آپ وہ ان کی طرف بھجوایا کرتے تھے اور اس تحفے میں ان کے ساتھ حصہ دار ہوتے تھے ۔ آپ سے میں سے خود روہ چیز استعمال کر لیتے تھے ۔ (حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں :) اللہ کی قسم! مجھے یہ بات بہت بری لگی میں نے سوچا بھلا اتنا سا دودھ اہل صفہ کے اور میرے اور نبی اکرمﷺکے ( کیا کام آئے گا ) لیکن میں چلا گیا میں ان لوگوں کو بلا لایا۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی وہ لوگ اندر آگئے ۔ تمام لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں حاضر ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ( دودھ کا پیالہ ) لو اور اسے ان لوگوں کو پکڑاؤ ۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں میں نے ( وہ پیالہ ) ایک ایک شخص کی طرف بڑھانا شروع کیا ۔ وہ شخص اسے لیتا جب وہ سیر ہوجاتا تو میں اسے سے واپس لے لیتا اور دوسرے شخص کی طرف بڑھا دیتا ، یہاں تک کہ سب لوگ سیر ہوگئے پھر میں نبی اکرمﷺ کے پا س آیا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور آپ مسکرا دیئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اب میں اور تم ( باقی رہ گئے ہیں ) میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ نے سچ فرمایا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے لو اور اسے پی لو اس کے بعد نبی اکرمﷺ مسلسل یہی کہتے رہے "اور" پیو یہاں تک کہ میں نےعرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ۔ مجھے اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ملتا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر یہ برتن مجھے دکھاؤ ۔ میں نے وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا پھر نبی اکرمﷺ نے بقی رہ جانے والا ( دودھ ) پی لیا اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کی ۔

تُوُفِّيَ أَبِي ← جَابِرٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6536

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6537

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، بِمَنْبِجَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ»، [ص:476] قَالَ: فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَ إِلَيْهَا رَجُلَانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟ »، فَقَالَا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ غَرَفُوا مِنَ الْعَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ قَلِيلًا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَعَادَهَا فِيهَا، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ، فَاسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ الْحَيَاةُ أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : میرے والد کا انتقال ہوگیا۔ ان کے ذمے قرض تھا میں نے ان قرض خواہوں کے سامنے یہ پیشکش کی کہ میرے والد کے ذمے جو قرض تھا اس کے عوض میں وہ کھجوریں حاصل کر لیں لیکن انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ۔ ان کے خیال میں اس طرح پوری ادائیگی نہیں ہوپاتی۔ میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: جب تم کھجوریں اتار کر ا نہیں گودام میں رکھو تو مجھے اطلاع دینا ( راوی کہتے ہیں:) جب میں نے ان کو اتار کر انہیں گودام میں( یا سکھانے کی جگہ پر ) رکھا تو میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ( آپ کو اس بارے میں بتایا ) تو نبی اکرمﷺ تشریف لائے ۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓ بھی تھے ۔ پھر نبی اکرمﷺ( کھجوروں کے اس ڈھیر ) کے پاس تشریف فرما ہوئے ۔ آپ نے برکت کی دعا کی پھر آپ نے فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلا لو اور انہیں پوری ادائیگی کر دو ۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں میں نے اپنے والد کے ذمے واجب الادا تمام قرض ادا کر دیا ( پھر بھی ( کھجوروں کے ) تیرہ وسق باقی رہ گئے ۔ سات وسق عجوہ کھجوروں کے تھے اور چھ سوق لون کھجوروں کے تھے ۔ میں نے مغرب کی نماز نبی اکرمﷺ کے ساتھ اد اکی اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے ۔ آپ نے فرمایا: ابوبکر اور عمر کے پاس جاؤ اور انہیں اس بارے میں بتاؤ میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓ کے پاس آیا اور ان دونوں حضرات کو اس بارے میں بتایا تو ان دونوں نے فرمایا: جب نبی اکرمﷺ نے وہ عمل کیا تھا ۔ اسی وقت ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ایسا ہی ہوگا ۔

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← أَبِي الزبير المكي ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6537

chevron_left Previous
1…282930…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr