Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6514

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ، فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَنْتِ هِيَ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ، لَا كَبِرَ سِنُّكِ»، فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟ قَالَتِ الْجَارِيَةُ: دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنِّي، فَالْآنَ لَا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا أَوْ قَالَتْ: قَرْنَيْ، فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا: «يَا أُمُّ سُلَيْمٍ مَالَكِ؟ »، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي؟، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ »، قَالَتْ: زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ عَلَيْهَا أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنُّهَا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ شَرْطِي عَلَى رَبِّي؟ إِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ، وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، [ص:445] فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا أَهْلٌ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا

ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ ایک شخص نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھ کر بائیں ہاتھ سے کھانےلگا تو نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا تم اپنے دائیں ہات سے کھاؤ ۔ اس نےکہا: میں یہ نہیں کر سکتا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم یہ کر بھی نہیں سکو گے ۔ اس کے بعد وہ شخص اپنا ( دایاں ہاتھ ) کبھی اپنے منہ تک نہیں اٹھا سکا ۔

أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟ ← «أَنْتِ هِيَ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ، لَا كَبِرَ سِنُّكِ»، فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي، ← كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ، فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6514

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6515

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ؛ سیدہ ام سلیم ؓ کےہاں ایک یتیم لڑکی تھی جب نبی اکرمو نے اسے دیکھا تو فرمایا کیا یہ تم ہو تمہاری عمر زیادہ ہو جائے گی لیکن تمہارے دانتوں کی عمر زیادہ نہیں ہوگی تو وہ یتیم لڑکی روتی ہوئی سیدہ ام سلیم ؓ کے پاس گئی ۔ سیدہ ام سلیمؓ نے دریافت کیا : اے لڑکی تمہیں کیا ہوا ہے ۔ اس لڑکی نے بتایا نبی اکرمﷺ نے میرے خلاف دیا کی ہے کہ میرے دانت بڑے نہ ہوں ۔ اب تو میرے دانت کبھی بڑے نہیں ہوں گے ۔ ( راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں ) میرے بال ( بڑے نہیں ہوں گے) سیدہ ام سلیم ؓ تیزی سے اپنی چادر لپیٹ کر نکلی اور نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا: اے ام سلیم ! کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی کیا آپ نے میری یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : اے ام سلیم! وہ کیسے ؟ سیدہ ام سلیم ؓ نے عرض کی: اس اس لڑکی نے یہ بات بیان کی ہے کہ آپ نے اس کے خلاف یہ دعا کی ہے کہ اس کے دانت بڑے نہ ہوں ۔ راوی کہتےہیں: تو نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے ۔ آپ نے فرمایا: اے ام سلیم ! تم یہ بات نہیں جانتی کہ میں نے پروردگار کے ساتھ کیا طے کیا ہے ۔ میں نے اپنے پروردگار کے ساتھ یہ طے کیا ہے ۔ میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار ! میں ایک انسان ہوں میں بھی اسی طرح راضی ہوتا ہوں جیسے دوسرے راضی ہوتےہیں اور اسی طرح غصے میں آجاتا ہوں جیسے دوسرے لوگ غصے میں آتے ہیں تو اپنی امت کے جس بھی شخص کے خلاف میں کوئی ایسی دعا کروں جس کا وہ اہل نہ ہو تو پروردگار اسے اس شخص کے حق میں طہارت کے حصول اور پاکیزگی کے حصول کا اور قربت کے حصول کا ذریعہ بنا دے جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرے ۔( راوی کہتےہیں :) نبی اکرمﷺ بڑےرحم دل تھے۔

«اللَّهُمَّ أَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6515

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6516

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:447] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَهُ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتےہوئے سنا: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: "اے اللہ ! میں جس بھی مومن بندے کو برا کہوں ، تو اس چیز کو تو قیامت کے دن اپنی بارگاہ میں قربت کے حصول کا ذریعہ بنا دے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:24] ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6516

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6517

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَعْيَا جَمَلِي، فَتَخَلَّفْتُ عَلَيْهِ أَسُوقُهُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ مُتَخَلِّفًا، فَلَحِقَنِي، فَقَالَ لِي: «مَا لَكَ مُتَخَلِّفًا؟ »، قَالَ: قُلْتُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا أَنَّ جَمَلِيَ ظَالِعٌ، فَأَرَدْتُ [ص:448] أَنْ أَلْحَقَهُ بِالْقَوْمِ، قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنَبِهِ، فَضَرَبَهُ، ثُمَّ زَجَرَهُ، فَقَالَ: «ارْكَبْ» قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي بَعْدُ، وَإِنِّي لَأَكُفُّهُ عَنِ الْقَوْمِ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا دُونَ الْمَدِينَةِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَأْتِ أَهْلكَ طَرُوقًا» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: «فَمَا تَزَوَّجْتَ؟ »، قُلْتُ: امْرَأَةً ثَيِّبًا، قَالَ: «فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟ »، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ تُوُفِّيَ أَوِ اسْتُشْهِدَ، وَتَرَكَ جَوَارِيَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ عَلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ: أَحْسَنْتَ وَلَا أَسَأْتَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا» قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا بَلْ بِعْنِيهِ»، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا بَلْ بِعْنِيهِ»، قُلْتُ: أَجَلْ عَلَى أُوقِيَّةِ ذَهَبٍ، فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ: «قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ»، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ: «أَعْطِهِ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ، وَزِدْهُ»، قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ، وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي، فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "اے اللہ! میں نے تجھ سے یہ عہد لیا ہے جس کی تع خلاف ورزی نہیں کرے گا کہ میں ایک انسان ہوں جس مومن کو میں اذیت پہنچاؤں یا اسے برا کہوں یا اسے کوڑا ماروں یا اس پر لعنٹ کروں تو، تو اسی چیز کو اس شخص کے حق میں رحمت ، پاکیزگی اور قربت کے حصول کا ذریعہ بنا دے جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن تیر قرب حاصل کرے "۔

قُلْتُ: لَا ← وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي حَاجَةٍ مُتَخَلِّفًا، فَلَحِقَنِي، فَقَالَ لِي: «مَا لَكَ مُتَخَلِّفًا؟ ← فَأَعْيَا جَمَلِي، فَتَخَلَّفْتُ عَلَيْهِ أَسُوقُهُ، ← أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6517

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6518

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ الْبَزَّارُ، بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي، فَتَخَلَّفْتُ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ قَالَ لِي: «ارْكَبْ»، فَرَكِبْتُهُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَتَزَوَّجْتَ؟ »، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ »، فَقُلْتُ: بَلْ، ثَيِّبًا قَالَ: «فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ»، فَقُلْتُ: إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: «أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ، فَإِذَا قَدِمْتَ، فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ» ثُمَّ قَالَ: «أَتَبِيعُ جَمَلَكَ؟ »، قُلْتُ: نَعَمْ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: «الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ؟ »، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَدَعْ جَمَلَكَ، وَادْخُلْ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ»، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، وَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً، قَالَ: فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ، فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ، قَالَ: «ادْعُ لِي [ص:450] جَابِرًا»، فَدُعِيتُ، فَقُلْتُ: الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ، قَالَ: «جَمَلُكَ وَثَمَنُهُ لَكَ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف آرہے تھے ۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں میرا اونٹ تھک چکا تھا ۔ میں اسے پیچھے لے کر چل رہا تھا ۔ راوی کہتےہیں : نبی اکرمﷺکسی کام کے سلسلے میں پیچھے رہ گئے ۔ آپ مجھے آکر ملے تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے تم پیچھے کیوں چل رہے ہو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی: جی نہیں ۔ یا رسول اللہﷺ! میرا اونٹ تھک گیا ہے ورنہ میرا تو ارادہ ہے میں لوگوں کے ساتھ چلوں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اس کے پیچھے والے حصے پر مارا اور اسے ڈانٹا پھر آپ نے فرمایا: تم سوار ہو جاؤ ۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں اس کے بعد میں نے خود کو دیکھا کہ میں اسے روک روک کر لوگوں کے ساتھ چل رہا تھا ۔ ( یعنی وہ لوگوں سے آگے نکلا جا رہا تھا) راوی کہتے ہیں : مدینہ منوہر سے پہلے ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا میں نے اپنے گھر جلدی جانے کا ارادہ کیا تو نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا تم رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس نہ جاؤ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ!میری نئی نئی شادی ہوئی ہے نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم نے کس کے ساتھ شادی کی ہے ۔ میں نے عرض کی: ایک ثیبہ عورت کے ساتھ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے کنواری کے ساتھ کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہ( میرے والد) حضرت عبداللہ ؓکاانتقال( راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں ) شہید ہوگئے ۔ انہوں نے کچھ بیٹیاؓں ( پسماندگان میں ) چھوڑی تھیں تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ شادی کر کے ان کے پاس ایسی لڑکی لے آؤں جو ان کی مانند ہو ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرمﷺ خاموش رہے ۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا: تم نے اچھا کیا یا تم نے برا کیا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! یہ ویسے ہی آپ کا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی نہیں بلکہ تم اسے مجھے فروخت کرو میں نے عرض کی ۔ یا رسول اللہﷺ!یہ آپ کا ہوا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی نہیں بلکہ تم اسے مجھے فروخت کرو ۔ میں نے عرض کی: ٹھیک ہے ۔ سونے کے ایک اوقیہ کے عوض میں ( میں آپ کو فروخت کرتا ہوں ) یہ آپ کا ہوا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں نے یہ لے لیا تم اس پر سوار ہو کر مدینہ تک جاسکتے ہو جب میں مدینہ آیا تو نبی اکرمﷺ نے حضرت بلال ؓ سے فرمایا۔ اسے سونے کا ایک اوقیہ دے دو اور ( ایک اوقیہ سے ) زیادہ دینا ۔ راوی کہتے ہیں : انہون نے مجھے سونے کا ایک اوقیہ اور ایک قیراط دیا ۔راوی کہتے ہیں : میں نے یہ طے کیا کہ نبی اکرمﷺ کی طرف سے دی گئی اضافی ادائیگی مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوگی ۔ راوی کہتے ہیں : وہ میرے پاس ایک تھیلی میں موجود رہی ، یہاں تک واقعہ حرہ کے موقع پر اہل شام نے اسے چھین لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← أَبُو مُوسَى، ← الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ الْبَزَّارُ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6518

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6519

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَى، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ، قَالَ: فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا لَهُ وَضَرَبَهُ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، وَقَالَ: «بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ»، فَقُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: «بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ»، فَقُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: «بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ»، فَبِعْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ، وَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ؟ فَهُمَا لَكَ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرمﷺکے ہمراہ ایک غزہ میں شرکت کےلئے راونہ ہوا ۔ میرا اونٹ سست ہوگیا ۔ اس لئے میں لوگوں سے پیچھے رہ گیا( راستے میں کسی جگہ ) نبی اکرمﷺ اپنی سواری سے نیچے اترے آپ نے اپنی چھڑی کے ذریعے میرے اونٹ کو مارا اور پھر مجھ سے فرمایا تم اس پر سوار ہو جاؤ جب میں اس پر سوار ہوا تو میں نے خود کو دیکھا میں اس اونٹ کو نبی اکرمﷺ سے آگے نکلنے سے روک رہا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تم نے شادی کر لی ہے ۔ میں نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ میں نے عرض کی: بلکہ ثیبہ کے ساتھ ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے کسی کنواری کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی تم اس کے خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی ۔ میں نے عرض کی : میری بہنیں ہیں ۔ مجھے یہ اچھا لگا کہ میں کسی ایسی عورت کے ساتھ شادی کر وں جو ان کا خیال رکھے ۔ ان کی کنگھی کرے ان کی نگرانی کرے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اب تم ( اپنے گھر ) جانے لگے ہو ۔ جب تم جاؤ تو عقل مندی کا مظاہرہ کرنا عقدلمندی کا مظاہرہ کرنا پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا تم اپنا اونٹ فروخت کرو گے میں نے عرض کی : جی ہاں تو نبی اکرمﷺ نے ایک اوقیہ کےعوض میں وہ مجھ سے خرید لیا پھر نبی اکرمﷺ مجھ سے پہلے ( مدینہ منورہ) تشریف لے آئے ۔ میں اگلے دن آیا میں مسجد میں آیا تو میں نے نبی اکرمﷺ کو مسجد کے دروازے پر پایا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تم اب آئے ہو ۔ میں نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرمﷺنے فرمایا: تم اپنے اونٹ کو چھوڑو اور ( مسجد کے اند ر) جارک دورکعت ادا کرو ۔ راوی کہتے ہیں : میں اندر آیا میں نے نماز اد اکی جب میں واپس آیا تو آپ نے حضرت بلال ؓ کو یہ حکم دیا کہ مجھے وزن کر کے ایک اوقیہ دیدیں ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت بلالؓ نے مجھے وزن کر کے دیا اور میزان میں ( میرے پلڑے کو ) وذنی رکھا ۔ راوی کہتے ہیں : جب میں وہاں سے روانہ ہوا اور مڑ گیا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جابر کو میرے پاس بلا کر لاؤ مجھے بلایا گیا تو میں نےاندازہ لگا لیا کہ اب نبی اکرمﷺ وہ اونٹ مجھے واپس کر دیں گے مجھے یہ بات سب سے زیادہ نا پسند تھی لیکن نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اونٹ بھی تمہارا ہوا اور قیمت بھی تمہاری ہوئی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6519

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6520

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:451] عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، قَالَ فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ، تَقَدَّمْتُ، فَأَعْلُو ثَنِيَّةً، فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ، فَتَوَارَى عَنِّي، فَمَا دَرَيْتُ مَا اصْنَعُ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ، فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى، فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا، وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا، مُرْتَدِيًا بِالْأُخْرَى، قَالَ: فَانْطَلَقَ رِدَائِي، فَجَمَعَتُهُ، وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا، وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ رَأَى ابْنُ الْأَكْوَعِ فَزِعًا»، فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، فَقَالَ: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ»، فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ عَيْنَهُ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ، فَوَلُّوا مُدْبِرِينَ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ، وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ اپنے اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا ۔ انہوں نے اس اونٹ کو ویسے ہی چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرمﷺکی مجھ سے ملاقات ہوئی تو نبی اکرمﷺنے اس اونٹ کےلئے دعا کی ۔ آپ نے اسےمارا تو وہ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ وہ پہلے کبھی اتنا تیز نہیں چلتا تھا ۔ نبی اکرمﷺنےفرمایا: ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو ۔ میں نے عرض کی: جی نہیں پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو میں نے عرض کی: جی نہیں پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ایک اوقیہ کے عوض اسے مجھے فروخت کردو تو میں نے ایک اوقیہ کے عوض میں اسے فروخت کر دیا ۔ میں نے اس سودے میں یہ استثناء کیا کہ اس پر سوار ہو کر اپنے گھر تک جاؤں گا جب میں ( مدینہ منورہ ) پہنچا تو میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں نے تمہارے اونٹ اور درہموں کی وجہ سے تمہارے ساتھ یہ سودا کیا ۔ یہ دونوں تمہارے ہوئے ۔

أَبِي ← ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6520

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6521

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: اشْتَدَّ الْقِتَالُ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَكُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» قَالَ: فَمَا لَبِثْتُ أَنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں ۔ میرے والد نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ہم نے نبی اکرمﷺکے ہمراہ غزوہ حنین میں شرکت کی ۔ راوی کہتےہیں : جب ہم دشمن کے مدمقابل آئے تو میں آگے بڑھا اور میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا دشمن کا ایک شخص میرے مد مقابل آیا تو میں نے اسے تیر مارا ۔ وہ میری نگاہون سے اوجھل ہوگیا ۔ مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے ۔ جب میں نے لوگوں کی صورت حال کا جائز لیا تو دشمن دوسری گھاٹی سے نمودار ہو رہا تھا ۔ اس کا اور نبی اکرمﷺ کے اصحاب کا سامنا ہوا تو نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر پیچھے ہٹ گئے میں بھی پسپا ہو کر پیچھے ہٹا ۔ میرے جسم پر دو چادریں تھیں جن میں سے ایک کو میں نے تہبند کے طور پر باندھا ہوا تھا اور دوسری کو جسم پر لپیٹا ہوا تھا ۔ میری وہ والی چادر گر گئی تو میں نے اسے اٹھایا اور لپیٹا میرا گزر نبی اکرمﷺ کے پاس سے ہوا جو پسپا کی صورت حال میں تھے ۔ آپ اسوقت اپنے سفید خچر پر سوار تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ابن اکوع نے گھبراہٹ دیکھ لی ہے جب دشمن نے نبی اکرمﷺ کو گھیر لیا تو نبی اکرمﷺ اپنے خچر سے نیچے اترے ۔ آپ نے زمین سے مٹھی بھر مٹی لی اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا ۔ آپ نے فرمایا؛ ان کے چہرے بگڑ جائیں تو ان میں جو بھی شخص تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو مٹی سے بھر دیا جو اس مٹھی ( میں سے ان کی طرف آئی تھی ) تو وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا اور نبی اکرمﷺ نے ان کا مال غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا۔

فَمَا لَبِثْتُ أَنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ← إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ. ← رَسُولُ اللَّهِ «اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، ← اشْتَدَّ الْقِتَالُ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَكُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6521

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6522

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ وَجَدَ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَسِتِّينَ صَنَمًا، فَأَشَارَ بِعَصًا إِلَى كُلِّ صَنَمٍ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَاءَ الْحَقُّ [ص:453] وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا»، فَسَقَطَ الصَّنَمُ، وَلَمْ يَمَسَّهُ

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر لڑائی شدید ہوگئی میں حضرت ابوطلحہ ؓ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نبی اکرمﷺ فرمایا: اللہ اکبر خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی حالت بری ہوتی ہے ۔ جنہیں ڈرایا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : اس کے کچھ ہی دیر بعد اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺکو فتح عطا کر دی ۔

ابْنِ عُمَرَ ← ابْنِ دِينَارٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6522

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6523

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ [ص:454] السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يُدَاوِي وَيُعَالِجُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ تَقُولُ أَشْيَاءً، هَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ؟ قَالَ: فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً» وَعِنْدَهُ نَخْلٌ وَشَجَرٌ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذْقًا مِنْهَا، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ يَسْجُدُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَيَسْجُدُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ إِلَى مَكَانِكَ»، فَقَالَ الْعَامِرِيُّ: وَاللَّهِ، لَا أُكَذِّبُكَ بِشَيْءٍ تَقُولُهُ أَبَدًا، ثُمَّ قَالَ: يَا آلَ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَاللَّهِ لَا أُكَذِّبُهُ بِشَيْءٍ. قَالَ: وَالْعِذْقُ: النَّخْلَةُ

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں : جب نبی اکرمﷺمکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے وہاں تین سو ساٹھ بت پائے ۔ آپ عصا کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے اور یہ کہتےتھے : " حق آگیا اور باطل رخصت ہو گیا ۔ بے شک باطل نے رخصت ہی ہونا تھا ، تو وہ بت گر جاتا ۔ نبی اکرمﷺ نے ان بتوں کو چھوا نہیں ۔

جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ إِلَى النَّبِيِّ كَأَنَّهُ يُدَاوِي وَيُعَالِجُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6523

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6524

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، فِي كِتَابِهِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْكِلَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ، وَاتَّبَعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا لِيَسْتَتِرَ بِهِ، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِئِ الْوَادِي، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ: «انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ»، فَانْقَادَتْ مَعَهُ [ص:456] كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ: «انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ»، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ النِّصْفُ جَمَعَهُمَا، فَقَالَ: «الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ»، فَالْتَأَمَتَا، قَالَ جَابِرٌ: فَخَرَجْتُ أُحْضِرُ مَخَافَةَ أَنْ يُحِسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُرْبِي فَيَتَبَاعَدَ، فَجَلَسْتُ، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ، وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ وَقْفَةً، فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا يَمِينًا وَيَسَارًا، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيَّ، قَالَ: «يَا جَابِرُ هَلْ رَأَيْتَ مَقَامِي؟ »، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَانْطَلِقْ إِلَى الشَّجَرَتَيْنِ، فَاقْطَعْ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا غُصْنًا، فَأَقْبِلْ بِهِمَا، حَتَّى إِذَا قُمْتَ مَقَامِي أَرْسِلْ غُصْنًا عَنْ يَمِينِكِ وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِكِ» قَالَ جَابِرٌ: فَأَخَذْتُ حَجَرًا، فَكَسَرْتُهُ، فَأَتَيْتُ الشَّجَرَتَيْنِ، فَقَطَعْتُ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًا، ثُمَّ أَقْبَلْتُ أَجُرُّهُمَا، حَتَّى إِذَا قُمْتُ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلْتُ غُصْنًا عَنْ يَمِينِي، وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِي، ثُمَّ لَحِقْتُهُ، [ص:457] فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَمَّ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «إِنِّي مَرَرْتُ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ، فَأَحْبَبْتُ بِشَفَاعَتِي أَنْ يُرَفَّهَ عَنْهُمَا مَا دَامَ الْغُصْنَانِ رَطْبَيْنِ» فَأَتَيْنَا الْعَسْكَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جَابِرُ نَادِ بِوَضُوءٍ»، فَقُلْتُ: أَلَا وَضُوءَ أَلَا وَضُوءَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ فِي الرَّكْبِ مِنْ قَطْرَةٍ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُبْرِدُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْجَابٍ لَهُ، فَقَالَ: «انْطَلِقْ إِلَى فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَانْظُرْ هَلْ فِي أَشْجَابِهِ مِنْ شَيْءٍ؟ »، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ، فَنَظَرْتُ فِيهَا، فَلَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا، لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ مَا كَانَتْ شَرْبَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ. قَالَ: «اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ»، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، وَيَغْمِزُهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَانِيهِ، فَقَالَ: «يَا جَابِرُ نَادِ بِ جَفْنَةٍ»، فَقُلْتُ: يَا جَفْنَةَ الرَّكْبِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ بِهَا تُحْمَلُ، فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا، وَبَسَطَ يَدَهُ فِي وَسَطِ الْجَفْنَةِ، وَفَرَّقَ [ص:458] بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَقَالَ: «خُذْ يَا جَابِرُ، وَصُبَّ عَلَيَّ، وَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ»، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: بِسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى امْتَلَأَتْ، قَالَ: «يَا جَابِرُ، نَادِ مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِمَاءٍ» قَالَ: فَأَتَى النَّاسُ، فَاسْتَقَوْا حَتَّى رَوُوا، قَالَ: فَقُلْتُ: هَلْ بَقِيَ أَحَدٌ لَهُ حَاجَةٌ؟ قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الْجَفْنَةِ وَهِيَ مَلْأَى

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتےہیں : بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ وہ شخص دوا دیا کرتا تھا اور علاج کر تا تھا ۔ اس نے کہا: اے حضرت محمدﷺ آپ کے کچھ نظریات ہیں کیا آپ کو اس بارے میں دلچسپی ہے کہ میں آپ کو کوئی دوائی دوں ۔ ( یعنی آپ کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تو میں آپ کو اس کی دوا دیتا ہوں) نبی اکرمﷺ نے اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ میں تمہیں کوئی نشانی دکھاؤں ۔ اس وقت اس شخص کے پاس ایک کھجور کا درخت تھا اور ایک دوسرا درخت تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے کھجور کے درخت کو اپنے پاس بلایا ۔ وہ نبی اکرمﷺ کی طرف کبھی سجدہ کرتا ہوا کبھی سر کو اٹھاتا ہوا کبھی سجدہ کرتا ہوا کبھی اپنے سر کو اٹھاتا ہوا آیا اور نبی اکرمﷺ کےپاس پہنچ گیا اور آکے آپ کےسامنے کھڑا ہوگیا پھر نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ تو بنو عامر قبیلے سے تعلق رکھنے ولاے اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اب میں کبھی بھی آپ کو کسی بھی ایسی بات کے حوالے سے جھوٹا قرار نہیں دوں گا ، جو بات آپ بیان کریں گے پھر اس شخص نے کہا: اے عامر بن صعصہ کی اولاد اللہ کی قسم! میں ان کی کسی بھی بات کو جھٹلاؤں گا نہیں ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :)لفظ عذق سے مراد کھجور کا درخت ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عمرو بن زرارة الكلابي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6524

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6525

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ نِدَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ وَهُوَ عَلَى بِئْرِ بَدْرٍ يُنَادِي: «يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ، أَلَا هَلْ [ص:459] وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ » فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا؟ ‍‍، فَقَالَ: «مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُونِي»

حضر ت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کر تے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ ساتھ سفر پر روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم نے وادی افیح میں پڑاؤ کیا نبی اکرمﷺ قضائے حاجت کےلیے تشریف لے گئے ۔ میں پانی کا برتن لے کر آپ کے پیچھے گیا نبی اکرمﷺنے اس بات کا جائز ہ لیا تو آپ کوک ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جس کے ذریعے آپ رکاوٹ بنالیں ۔ وادی کے کنارے پر دو درخت موجود تھے ۔ نبی اکرمﷺ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے ۔ آپ نے اس کی ایک ٹہنی کو پکڑا اور فرمایااللہ کے حکم کے تحت میرے ساتھ چلو تو وہ درخت ایک فرمانبردار اونٹ کی طرح آپ کے ساتھ چل پڑا جو اونٹ اپنے ساتھ لے کر چلنے والے کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے ، یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ دوسرے درخت کے پاس تشریف لائے ۔ آپ نے اس کی بھی ایک ٹہنی کو پکڑا اور فرمایا اللہ کے حکم کے تحت میرے ساتھ چلو تو وہ بھی آپ کے ساتھ اسی طرح چل پڑا ، یہاں تک کہ ( ان دونوں کے ) درمیان میں آکر وہ دونوں ایک دوسرے سے مل گئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اللہ کے حکم کے تحت تم میرے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا تو وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہوگئے ۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے کچھ پیچھے ہٹ گیا ۔ اس اندیشے کے تحت کہ نبی اکرم کو میرا قریب ہونا محسوس ہوگیا تو شاید آپ زیادہ دور تشریف لے جائیں ۔ میں وہاں بیٹھ گیا ۔ تھوڑی ہی دیر گزرنے کے بعد نبی اکرمﷺ تشریف لائے وہ درخت ایک دوسرے سے الگ ہو چکے تھے ۔ ان میں سے ہر ایک اپنی پنڈلی پر کھڑا تھا میں نے نبی اکرمﷺکو دیکھا کہ نبی اکرمﷺ ذراسی دیر کےلئے رُکے اور آپ نے اپنے سر کو بائیں اور دائیں طرف گھمایا پھر آپ تشریف لے آئے جب آپ میرے پاس پہنچے تو آپ نے دریافت کیا: اے جابر کیا تم نے مجھے دیکھ لیا تھا ۔ میں نے عرض کی: جی ہاں ! یا رسول اللہﷺ!نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی توڑ کر انہیں میری طرف لے آؤ ، یہاں تک کہ جب تم اس مقام پر پہنچو جہاں تم نے مجھے کھڑے ہوئے دیکھا تھا تو ایک ٹہنی اپنے دائیں طرف چھوڑ دینا اور ایک بائیں طرف چھوڑ دینا ۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک پتھر لے کر اس کے دو ٹکڑے کئے ۔ پھر میں ان دو درختوں کے پاس آیا میں نے ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی توڑلی پھر میں انہیں گھسیٹتا ہوا آیا ، یہاں تک کہ اس جگہ پر آکر کھڑا ہوگیا جہاں نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے تھے تو میں نے ایک ٹہنی کو اپنے دائیں طرف اور ایک ٹہنی کو اپنے بائیں طرف چھوڑ دیا پھر میں نبی اکرمﷺ کے پاس آگیا ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ!میں نے ایسا کر لیا ہے ۔ آپ نے ایسا کیوں کروایا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میرا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میری شفاعت کے ذریعے ان دونوں کے عذاب میں ا س وقت تخفیف ہو جائے جب تک وہ دونوں ٹہنیاں تر رہتی ہیں ۔ راوی کہتےہیں : پھر ہم لشکر کے پاس آئے تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے جابر! وضو کے پانی کےلئے اعلان کر دو تو میں نے اعلان کیا خبر دار وضو کا پانی ہے خبر دار وضو کا پانی ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللﷺ! مجھے تو لشکر میں پنای کا ایک قطرہ بھی نہیں ملا ۔ ( راوی کہتے ہیں :) انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو اپنے ڈول میں نبی اکرمﷺ کے لئے ٹھنڈا پانی رکھتا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم فلاں انصاری کے پا س جاؤ اور دیکھو کہ کیا اس کے ڈول میں کوئی پانی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں اس شخص کےپاس گیا میں نے اس ڈول کا جائز ہ لیا تو مجھے اس ڈول کے سرےپر صرف ایک پانی کا قطرہ دکھائی دیا اگر میں اسے انڈیل لیتا تو وہ پینے کے قابل نہ رہتا ۔ میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! مجھے اس ڈول میں صرف ایک قطرہ ملا جو اس کے سرے پر موجود تھا اگر میں اسے انڈیل لیتا تو اس کے خشک حصے نے اسے جذب کر لینا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: : تم جاؤ اور اسے میرے پاس لے کر آؤ ۔ نبی اکرمﷺ نے وہ قطرہ اپنے دست مبارک پر ڈالا اور کچھ پڑھنا شروع کیا ۔ مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا پھر نبی اکرمﷺنے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ٹٹولنا شروع کیا پھر آپ نے مجھے وہ عطا کر دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے جابر پیالے کےلئے اعلان کرو تو میں نے کہا: کوئی پیالہ لے کہ آئے ۔ راوی کہتے ہیں : میں اسے لے کر نبی اکرمﷺکے پاس آیا ۔ میں نے اسے نبی اکرمﷺکے سامنے رکھ دیا ۔ تو نبی اکرمﷺ نے اس طرح کیا یعنی پیالے کے درمیان میں اپنا ہاتھ بڑھایا اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا۔ آپ نے فرمایا: اے جابر اسے حاصل کرو اور اسے میرے اوپر انڈیل دو اور بسم اللہ پڑھ لینا ۔ میں نے اسے نبی اکرمﷺ پر انڈیل دیا اور میں نے بسم اللہ پڑھ لی تو میں نے پانی کو دیکھا کہ وہ نبی اکرمﷺ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پھوٹ رہا تھا ، یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے جابر یہ اعلان کرو کہ جس شخص کو بھی پانی کی ضرورت ہو( وہ آجائے ) راوی کہتےہیں : تو لوگ آگئے ۔ انہوں نے پانی پی لیا ، یہاں تک کہ ہو سیر ہوگئے ۔ راوی کہتےہیں: تو میں نے اعلان کیا کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے ( پانی کی ) ضرور ت ہو ۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے اس پیالے سے اپنا دست مبارک اٹھایا تو وہ پیالہ بھرا ہوا تھا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6525

chevron_left Previous
1…272829…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr