صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6502
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةِ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى وَنَائِلَةَ، وَإِسَافٍ: لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا لَقُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ، فَأَقْبَلَتِ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِكَ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ قَامُوا إِلَيْكَ، فَقَتَلُوكَ، فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ، قَالَ: «يَا بُنَيَّةُ إِيتِينِي بِوَضُوءٍ»، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا: هَا هُوَ ذَا، هَا هُوَ ذَا، فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ، وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا، وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ، وَقَالَ: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ»، ثُمَّ حَصَبَهُمْ، فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ
نبی اکرمﷺ وادی قریٰ میں پہنچے تو وہاں ایک عورت اپنے باغ میں موجود تھی ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:( تم اس باغ کی پیدوار ) کا اندازہ لگاؤ تو لوگوں نے اندازہ لگایا کہ اس کی پیداوار دس وسق ہوگی ۔ نبی اکرمﷺ نے اس خاتون سے فرمایا: اس کی جو پیدوار ہوگی تم اسے شمار کر لینا ہم واپس تمہارے پا س آئیں گے ۔ پھر نبی اکرمﷺ وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ آپﷺ تبوک تشریف لے آئے آپ نے ارشاد فرمایا: آج رات تم پر تیز ہوا چلے گی ۔ اس ہوا میں کوئی شخص کھڑا ہرگز نہ ہو ، جس شخص کا اونٹ ہے وہ اس کی رسی کو باندھ دے ، تیز ہوا چلی تو کوئی شخص اس میں کھڑا نہیں ہوا ۔ صرف ایک شخص کھڑا ہوا تھا ۔ ہوا نے اسے جبل کے طے کے اوپر پھینک دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہاں ایلہ کا حکمران نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے ایک سفید خچر آپ کو تحفے کے طور پر پیش کیا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی چادر اسے پہننے کےلئے دی جب نبی اکرمﷺ واپس تشریف لائے اور آپ وادی قریٰ پہنچے تو آپ نے اس خاتون سے دریافت کیا ۔ تمہارے باغ میں کتنی پیداوار ہوئی ۔ اس نے جواب دیا : دسق وسق ۔ یہ نبی اکرمﷺ کے اندازے کے بالکل مطابق تھی پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جلدی جانا چاہتا ہوں تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی جانا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے پھر نبی اکرمﷺ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ جب آپ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ طیبہ ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) یہ طابہ ہے جب نبی اکرمﷺ نے احد پہاڑ کو دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں ۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہﷺ! نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: انصا ر کا سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار ہیں ۔ کیا میں تمہیں ان کے بعد والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ( ان کے بعد) بنو ساعدہ اور بنو حارث بن خزرج ہیں۔
الْعُزَّى وَمَنَاةِ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، فَتَعَاقَدُوا ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6502
