Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6502

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةِ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى وَنَائِلَةَ، وَإِسَافٍ: لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا لَقُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ، فَأَقْبَلَتِ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِكَ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ قَامُوا إِلَيْكَ، فَقَتَلُوكَ، فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ، قَالَ: «يَا بُنَيَّةُ إِيتِينِي بِوَضُوءٍ»، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا: هَا هُوَ ذَا، هَا هُوَ ذَا، فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ، وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا، وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ، وَقَالَ: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ»، ثُمَّ حَصَبَهُمْ، فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ

نبی اکرمﷺ وادی قریٰ میں پہنچے تو وہاں ایک عورت اپنے باغ میں موجود تھی ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:( تم اس باغ کی پیدوار ) کا اندازہ لگاؤ تو لوگوں نے اندازہ لگایا کہ اس کی پیداوار دس وسق ہوگی ۔ نبی اکرمﷺ نے اس خاتون سے فرمایا: اس کی جو پیدوار ہوگی تم اسے شمار کر لینا ہم واپس تمہارے پا س آئیں گے ۔ پھر نبی اکرمﷺ وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ آپﷺ تبوک تشریف لے آئے آپ نے ارشاد فرمایا: آج رات تم پر تیز ہوا چلے گی ۔ اس ہوا میں کوئی شخص کھڑا ہرگز نہ ہو ، جس شخص کا اونٹ ہے وہ اس کی رسی کو باندھ دے ، تیز ہوا چلی تو کوئی شخص اس میں کھڑا نہیں ہوا ۔ صرف ایک شخص کھڑا ہوا تھا ۔ ہوا نے اسے جبل کے طے کے اوپر پھینک دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہاں ایلہ کا حکمران نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے ایک سفید خچر آپ کو تحفے کے طور پر پیش کیا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی چادر اسے پہننے کےلئے دی جب نبی اکرمﷺ واپس تشریف لائے اور آپ وادی قریٰ پہنچے تو آپ نے اس خاتون سے دریافت کیا ۔ تمہارے باغ میں کتنی پیداوار ہوئی ۔ اس نے جواب دیا : دسق وسق ۔ یہ نبی اکرمﷺ کے اندازے کے بالکل مطابق تھی پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جلدی جانا چاہتا ہوں تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی جانا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے پھر نبی اکرمﷺ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ جب آپ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ طیبہ ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) یہ طابہ ہے جب نبی اکرمﷺ نے احد پہاڑ کو دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں ۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہﷺ! نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: انصا ر کا سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار ہیں ۔ کیا میں تمہیں ان کے بعد والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ( ان کے بعد) بنو ساعدہ اور بنو حارث بن خزرج ہیں۔

الْعُزَّى وَمَنَاةِ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، فَتَعَاقَدُوا ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6502

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6503

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عِبَادَ اللَّهِ انْظُرُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَهُمْ وَلَعَنَهُمْ»، يَعْنِي قُرَيْشًا، قَالُوا: كَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : قریش کے کچھ لوگ حطیم میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے لات ، عزیٰ مناہ ، نائلہ اور اساف ( نامی بتوں) کے نام پر قسم اٹھا کر یہ معاہدہ کیا اگر ہم نےحضرت محمد کو دیکھا تو ہم ایک ساتھ ہو کر ان کے سامنے آئیں گے ، اور ان سے اس وقت تک الگ نہیں ہوں گے جب تک انہیں شہید نہیں کردیتے ۔ نبی اکرمﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ ؓ روتی ہوئی آئی اور نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ انہوں نے عرض کی:آپ کی قوم کےان لوگوں نے آپ کے خلاف یہ طے کہا ہے کہ جب وہ آپ کو دیکھیں گے ، تو آپ کے مد مقابل کھڑے ہوں گے ، اور آپ کو شہید کر دیں گے ۔ اس طرح ان میں سے ہر ایک فرد آپ کے خون میں سے اپنے حصے کا حاصل کر لے گا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: اےمیری بیٹی تم میرے پاس وضو کےلیے پانی لے کر آؤ نبی اکرمﷺ نے وضو کیا اور مسجد ( حرام یعنی خانہ کعبہ کے قریب ) تشریف لائے جب ان لوگوں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تو وہ بولے یہ وہی ہیں یہ وہی ہیں پھر انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا دیں اور ان کی ٹھوڑیا ں ان کے سینوں سے لگ گئیں ۔ ان میں سے کسی نے بھی نگاہ اٹھا کر نبی اکرمﷺ کی طرف نہیں دیکھا اور ان میں سے کوئی بھی شخص اٹھ کر آپ کے سامنے نہیں آیا، یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ تشریف لائےا ٓپ ان کے پاس آکر کھڑے ہوئے ۔ آپ نے ایک مٹھی میں مٹی لی اور فرمایا( ان لوگوں کے ) چہرے بگڑ جائیں پھر نبی اکرمﷺ نے وہ مٹی ان پر پھینکی تو اس مٹی کی جو بھی کنکری ان میں سے جس بھی شخص تک پہنچی وہ غزوہ بدر کے دن مارا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ← ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6503

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6504

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنْتُ يَافِعًا فِي غَنَمٍ لِعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ أَرْعَاهَا، فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: «يَا غُلَامُ هَلْ مَعَكَ مِنْ لَبَنٍ؟ »، فَقُلْتُ: نَعَمْ، وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ، قَالَ: «ائْتِنِي بِشَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ»، فَأَتَيْتُهُ بِعَنَاقٍ، فَاعْتَقَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ الضَّرْعَ، وَيَدْعُو حَتَّى أَنْزَلَتْ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَاحْتَلَبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «اشْرَبْ»، فَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ، ثُمَّ قَالَ [ص:433] لِلضَّرْعِ: «اقْلِصْ»، فَقَلَصَ، فَعَادَ كَمَا كَانَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْكَلَامِ أَوْ مِنْ هَذَا الْقُرْآنِ، فَمَسَحَ رَأْسِي، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ» قَالَ: فَلَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً، مَا نَازَعَنِي فِيهَا بَشَرٌ

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: " اے اللہ کے بندو! تم لوگ اس بات کاجائز ہ لو کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے برا کہنے اور لعنت کرنے کو مجھ سے کیسے پھیر دیا ۔ نبی اکرمﷺ کی مراد قریش تھے ۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ایسا کیسے ہوا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ لوگ مذمم کو برا کہتے ہیں ۔ مذمم پر لعنت کرتے ہیں ( یعنی کفار قریش دشمنی کے طور پر نبی اکرمﷺ کو محمد کی بجائے مذمم کہتے تھے تو وہ لعنت اور برا بھلا مذمم پر واقع ہوتا تھا) میں تو محمد ہوں ۔"

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6504

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6505

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ تُرِيدُ؟ »، قَالَ: إِلَى أَهْلِي، قَالَ: «هَلْ لَكَ إِلَى خَيْرٍ؟ »، قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: «تَشَهَّدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»، قَالَ: هَلْ مِنْ شَاهِدٍ عَلَى مَا تَقُولُ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ السَّمُرَةُ»، فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِشَاطِئِ الْوَادِي، فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ خَدًّا حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلَاثًا، فَشَهِدَتْ أَنَّهُ كَمَا قَالَ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَنْبَتِهَا، وَرَجَعَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى قَوْمِهِ، وَقَالَ: إِنْ يَتَّبِعُونِي أَتَيْتُكَ بِهِمْ، وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَيْكَ فَكُنْتُ مَعَكَ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : میں جوانی میں عقبہ بن ابو معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا ۔ ایک دن نبی اکرمﷺ اور حضرت ابوبکرؓ میرے پاس لائے اور انہوں نے دریافت کیا: اے لڑکے کیا تمہارے پاس دودھ ہے ۔ میں نے جواب دیا : جی ہاں لیکن میں امین ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے پاس کوئی ایسی بکری لے کر آؤ جس کے ساتھ کسی بکرے نے جفتی نہ کی ہو تو میں ایک سال کا بکری کا بچہ لے آیا ۔ نبی اکرمﷺ نے اسے پکڑا پھر آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی ، یہاں تک کہ اسکا دودھ اترنے لگا ۔ حضرت ابوبکر ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں کوئی چیز لے کر آئے ۔ نبی اکرمﷺ نے اس برتن میں دودھ دوہ لیا پھر آپ نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا تم پیو حضرت ابوبکرب نے اسے پی لیا پھر حضرت ابوبکرؓ کے بعد نبی اکرمﷺ نے بھی اسے پی لیا ۔ پھر نبی اکرمﷺ نے اس تھن سے یہ کہا تم خشک ہو جاؤ وہ خشک ہو گیا اور اس طرح ہوگیا جس طرح پہلے تھا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : پھر میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ مجھے بھی یہ کلام ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس قرآ کی تعلیم دیجئے تو نبی اکرمﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ایک ایسے لڑکے ہو جو سمجھ بوجھ رکھتا ہے ( یا جسے تعلیم دی جائے گی ) راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی ستر سوررتیں سیکھی ہیں ۔ اس بارے میں کوئی شخص میرا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔

كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي سَفَرٍ، فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ، ← ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← أَبِي حَيَّانَ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6505

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6506

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، [ص:436] عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ إِلَى جِذْعٍ، فَيَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَأَنَّهُ لَمَّا صَنَعَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَسَحَهُ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے ۔ ایک دیہاتی آیا جب وہ نبی اکرمﷺ کے قریب ہوا تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم کہا ں جا رہے ہو۔ اس نے کہا: اپنے گھر والوں کی طرف نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں بھلائی میں کوئی دلچسپی ہے ۔ اس نے جواب دیا : وہ کیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔ وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بے شک حضرت محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اس نے دریافت کیا : آپ جو بات کہہ رہے ہیں کیا اس کا کوئی گواہ ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ ببول کا درخت ہے پھر نبی اکرمﷺ نے اس درخت کو بلوایا ۔ وہ اس وادی کے کنارے پر موجود تھا تو زمین کو چیرتا ہوا نبی اکرمﷺ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا ۔ اس نے تین مرتبہ کلمہ شہاد ت پڑھا اور اس بات کی گواہی دی کہ ایسا ہی ہے جس طرح نبی اکرمﷺ نے بیان کیا ہے پھر وہ اس جگہ واپس چلا گیا جہاں وہ اُگا تھا جب وہ دیہاتی اپنی قوم کے پاس واپس جانے لگا تو وہ بولا: اگر ان لوگوں نے میری بات مان لی تو میں ان کو لے کر آپ کی خدمت میں آؤں گا ورنہ میں خود آپ کے پاس واپس آ جاؤں گا اور آپ کے ساتھ رہوں گا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← مُعَاذِ بْنِ الْعَلَاءِ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6506

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6507

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى جَنْبِ خَشَبَةٍ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَيْهَا، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ، قَالَ: «ابْنُوا لِي مِنْبَرًا»، فَبَنَوْا لَهُ مِنْبَرًا عَتَبَتَانِ، فَلَمَّا قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ [ص:437] لِيَخْطُبَ حَنَّتِ الْخَشَبَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَنَسٌ: «وَأَنَا فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعْتُ الْخَشَبَةَ حَنَّتْ حَنِينَ الْوَلَدِ، فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاحْتَضَنَهَا، فَسَكَنَتْ»، قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: «يَا عِبَادَ اللَّهِ الْخَشَبَةُ تَحِنُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَوْقًا إِلَيْهِ لِمَكَانِهِ مِنَ اللَّهِ، فَأَنْتُمْ أَحَقُّ أَنْ تَشْتَاقُوا إِلَى لِقَائِهِ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کھجور کے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر جمعے کا خطبہ دیا کرتے تھے جب آپ نے منبر بنوایا اور آپ اس منبر کی طرف منتقل ہوگئے توہ تنا رونے لگا ۔ نبی اکرمﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور آپ نے اپنا دست مبارک اس پر پھیر ا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6507

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6508

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ إِلَى جَنْبِ شَجَرَةٍ أَوْ جِذْعٍ أَوْ خَشَبَةٍ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَنِدُ إِلَيْهِ يَخْطُبُ، ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا، فَكَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ فَحَنَّتْ تِلْكَ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا حَنِينًا سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِمَّا قَالَ: مَسَحَهَا، وَإِمَّا قَالَ: فَأَمْسَكْهَا، فَسَكَنَتْ»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ جمعہ کے دن ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے ۔ آپ اپنی پشت اس کے ساتھ لگا لیتے تھے جب لوگوں کا ہجوم زیادہ ہوگیا تو آپ نے فرمایا: میرے لئے منبر بنا دو تو لوگوں نے آپ کےلئے دو سیڑھیوں والا منبر بنا دیا جب نبی اکرمﷺ خطبہ دینے کے لئے منبر پر کھڑے ہوئے تو وہ لکڑی نبی اکرمﷺ کے فراق میں رونے لگی ۔ حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں : میں اس وقت مسجد میں موجود تھا ۔ میں نے اس لکڑی کی آواز سنی یوں جیسے کوئی بچہ روتا ہے اور وہ اس وقت تک روتی رہی جب تک نبی اکرمﷺ اتر کر اس کے پاس تشریف نہیں لے گئے اور آپ نے اسے اپنے ساتھ نہیں لگا لیا( جب آپ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ) تو وہ پر سکون ہوئی ۔ راوی کہتے ہیں : جب حسن بصری یہ روایت بیان کرتے تھے تو وہ رونے لگ پڑتے تھے اور بولتے تھے اے اللہ کے بندو ! ایک لکڑی تو نبی اکرمﷺ کی محبت میں روتی ہے ۔ اس مرتبے اور مقام کی وجہ سے جو نبی اکرمﷺ کو اللہ کی بارگاہ میں حاصل ہے تو تم لوگ اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ نبی اکرمﷺ کی بارگاہ میں حاضری کےمشتاق رہو۔

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6508

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6509

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَلَ فِي رِجْلِ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ حِينَ قُطِعَتْ رِجْلُهُ، فَبَرَأَ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ایک درخت کے پہلو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک تنے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک لکڑی(یا شاید یہ الفاظ ہیں) کسی چیز کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے جب نبی اکرمﷺنے منبر بنوا لیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے تو وہ چیز رونے لگی جس کے قریب کھڑے ہو کر ( آپﷺ خطبہ دیا کرتے تھے ) اس کے رونے کی آواز کو تمام اہل مسجد نے سنا پھر نبی اکرمو اس کے پاس تشریف لائے ( راوی کو شک ہے ) شاید یہاں انہوں نے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں نبی اکرمﷺ نے اس پر ہاتھ پھیرا ( یا پھر شاید یہ الفاظ استعمال کئے ہیں ) نبی اکرمﷺ نے اسے پکڑ لیا تو اسے سکون آیا ۔

أَبِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← أَبِي ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6509

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6510

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ؟ فَقَالَ: هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ، أُصِيبَ سَلَمَةُ، قَالَ: «فَأُتِيَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهَا ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ»

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب حضرت عمرو بن معاذ ؓ کی ٹانگ کٹ گئی تو نبی اکرمﷺ نے اس پر اپنا لعب دہن ڈالا تو وہ ٹھیک ہوگئے

يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6510

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6511

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد: 1] جَاءَتِ امْرَأَةُ أَبِي لَهَبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا امْرَأَةٌ بَذِيئَةٌ، وَأَخَافُ أَنْ تُؤْذِيَكَ، فَلَوْ قُمْتَ، قَالَ: «إِنَّهَا لَنْ تَرَانِي»، فَجَاءَتْ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرِ إِنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي، قَالَ: لَا، وَمَا يَقُولُ الشِّعْرَ، قَالَتْ: أَنْتَ عِنْدِي مُصَدَّقٌ، وَانْصَرَفَتْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ تَرَكَ، قَالَ: «لَا، لَمْ يَزَلْ مَلَكٌ يَسْتُرُنِي عَنْهَا بِجَنَاحِهِ» *

یزید بن ابوعبید بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کی پنڈلی پر کسی ضرب کا نشان دیکھا تو میں نے دریافت کیا: اے ابو مسلم یہ ضرب کس چیز کی ہے انہوں نے فرمایا: یہ ضرب مجھے غزوہ حنین کے دن لگی تھی ۔ لوگوں نے یہ کہا کہ اب سلمہ شہید ہو جائے گا ۔ اب سلمہ شہید ہو جائے گا ۔ راوی کہتے ہیں : مجھے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں لایا گیا ۔ نبی اکرمﷺ نے اس پر تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا تو اس کے بعد آج تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6511

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6512

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَبْصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ رَاعِي الْعِيرِ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: «كُلْ بِيَمِينِكَ» قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: «لَا اسْتَطَعْتَ» قَالَ: فَمَا نَالَتْ يَدُهُ إِلَى فِيهِ بَعْدُ.

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی : " ابو لہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں "تو ابولہب کی بیوی نبی اکرمﷺ کے پاس آئی ۔ اس وقت حضرت ابوبکرؒ بھی نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے جب حضرت ابوبکرؓ نے اس عورت کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! یہ عورت بڑی بدزبان ہے ۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ کو اذیت پہنچائے گی اگر آپ تشریف لے جائیں ( تو یہ مناسب ہوگا ) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی ۔ وہ عورت آئی اس نے کہا: اے ابوبکر تمہارے آقا نے میری ہجو بیان کی ہے ۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: جی نہیں وہ شعر تو کہتے ہی نہیں ہیں ۔ اس عورت نے کہا: تم میرے نزدیک سچے آدمی ہو پھر وہ عورت چلی گئی ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اس نے آپ کو دیکھا ہی نہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی نہیں ایک فرشتے نےا پنے پروں کے ذریعے مجھے اس سے چھپایا ہوا تھا "

فَمَا نَالَتْ يَدُهُ إِلَى فِيهِ بَعْدُ. ← لَا اسْتَطَعْتَ ← لَا أَسْتَطِيعُ ← «كُلْ بِيَمِينِكَ» ← أَبْصَرَ النَّبِيُّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ رَاعِي الْعِيرِ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، ← أَبِي ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6512

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6513

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ الْأَهْوَازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلْ بِيَمِينِكَ» قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَقَالَ النَّبِيُّ: «لَا اسْتَطَعْتَ»، فَمَا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ

ایاس بن سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس کانام بسر بن راعی العیر تھا ۔ وہ بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم دائیں ہاتھ سے کھاؤ ۔ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم یہ کر بھی نہیں سکو گے ۔ راوی کہتے ہیں : تو پھر اس کے بعد اس کا ( دایاں ہاتھ ) کبھی اس کے منہ تک نہیں پہنچا ۔

النَّبِيُّ: «لَا اسْتَطَعْتَ»، فَمَا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ ← لَا أَسْتَطِيعُ ← لَهُ النَّبِيُّ «كُلْ بِيَمِينِكَ» ← أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ بِشِمَالِهِ، ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ الْأَهْوَازِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6513

chevron_left Previous
1…262728…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr