Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6490

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ»

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: " جھولے میں صرف تین بچوں نے گفتگو کی ہے ایک حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے ، جریج کے واقعے والے لڑکے نے ، بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس کا نام جریج تھا ۔ اس نے ایک عبادت گاہ بنائی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگا ۔ ایک دن ا س کی ماں اس کے پاس آئی اور اسے بلند آواز میں پکارا ، تو اس نے اپنی ماں کی بات کی طرف توجہ نہیں کی پھر وہ دوسرے دن اس کے پاس آئی ، اس نے اسے بلند آواز میں پکارا ، تو اس نے پھر اس کی طرف توجہ نہیں کی ، پھر وہ تیسرے دن اس کی طرف آئی ، تو اس نے سوچا ایک طرف میری نماز ہے ایک طرف میری ماں ہے ، تو اس کی ماں نے کہا: اے اللہ ، تو اسے اس وقت موت نہ دینا ، جب تک یہ فاحشہ عورت کا منہ نہیں دیکھ لیتا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں : ایک دن بنی اسرائیل جریج کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ۔ اسی دوران بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نے کہا: اگر تم لوگ چاہو ، تو میں اسے آزمائش کا شکار کر سکتی ہوں ۔ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے ہم تیار ہیں ۔ وہ گئی اس نے جریج کو گناہ کی پیشکش کی ۔ جریج نے اس کی طرف توجہ نہیں کی ، پھر وہ عورت ایک چرواہے کے پاس آئی جو جریج کی والدہ کے پاس اپنی بکریاں لے کر آیا ہوا تھا ۔ اس عورت نے اس چرواہے کے ساتھ گناہ کیا ، پھر حاملہ ہو گئی ۔ اس نے ایک بچے کو جنم دیا اور یہ کہا کہ یہ جریج کے اولاد ہے ۔ اس بات پر بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے جریج پر حملہ کر دیا ۔ اس کی پٹائی کرنے لگے ، اور اسے بر ا کہنے لگے ۔ انہوں نے اس کے عبادت خانے کو منہدم کر دیا ۔ جریج نے ان سے دریافت کیا تمہیں کیا ہوا ہے ، تو لوگوں نے کہا: تم نے ایک فاحشہ عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا ہے ۔ جریج نے دریافت کیا وہ بچہ کہاں ہے ۔ لوگوں نے کہا : وہ یہ ہے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : جریج نے دو رکعت نماز ادا کی ، پھر وہ بچے کے پاس آیا اور اپنی انگلی اسے لگا کر اسے کہا۔ اے بچے تمہارا باپ کون ہے ۔ اس نے کہا: فلاں چرواہا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ، تو لوگ جریج کے سر کو بوسہ دینے لگے ، اور انہوں نے کہا: ہم تمہارا عبادت خانہ سونے سے بنائیں گے ۔ جریج نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے تم اسے مٹی سے بنا دو جیسے یہ پہلے تھا ۔" نبی اکرمﷺ فرماتےہیں: ایک مرتبہ ایک عورت کو گود میں ایک بچہ تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی ۔ اسی دوران ایک سوار اس کےپاس سے گزرا ، تو اس عورت نے دعا کی: اے اللہ ، تو میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند (امیر کبیر ) بنا دینا ۔ بچے نے اپنی ماں کی چھاتی کو چھوڑا اور سوار کی طرف رخ کر کے اسے دیکھنے لگا ، پھر وہ کہنے لگا : اے اللہ مجھے اس سوار کی مانند نہ کرنا ، پھر وہاں سے ایک عورت گزری جسے سنگسار کیا جانا تھا ۔ اس عورت ( یعنی بچے کی ماں ) نے یہ کہا: اے اللہ، تو میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ بنانا ۔ اس بچے نے اپنی ماں کو چھوڑا اس کنیز کی طرف دیکھا اور بولا : اے اللہ ، تو مجھے اس کنیز کی مانند ( مومن اور ایماندار ) کر دینا ۔ ا س عورت نے کہا: اے میر ے بیٹے پہلے ایک سوار گزرا ، تو میں نے کہا: اے اللہ میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند کر دینا ، تو تم نے کہا: مجھے اس کی مانند نہ کرنا پھر ایک کنیز گزری اسے سنگسار کیا جانا تھا ، تو میں نے کہا: اے اللہ میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ کرنا ۔ اور تم یہ کہہ رہے ہو اے اللہ مجھے اس کی مانند کردینا ۔ اس لڑکے نے کہا: اے امی جان یہ سوار شخص ایک ظالم شخص ہے اور یہ کنیز جس کے بارے میں لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس نے چوری کی ہے اس نے چوری نہیں کی اور لوگ یہ کہتے ہیں : اس نے زنا کیا ہے ، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا وہ عورت یہی کہتی ہے : میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6490

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6491

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، [ص:415] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُخْتَ الرَّبِيعِ أُمَّ حَارِثَةَ، جَرَحَتْ إِنْسَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ»، فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ؟ لَا وَاللَّهِ لَا تَقْتَصُّ مِنْهَا، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِمْ حَتَّى رَضُوا بِالدِّيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ»

حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لیں ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ۔"

أُمُّ الرَّبِيعِ: ← رَسُولُ اللَّهِ «الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ»، ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُخْتَ الرَّبِيعِ أُمَّ حَارِثَةَ، جَرَحَتْ إِنْسَانًا، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6491

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6492

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ أُحُدًا ارْتَجَّ وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اثْبُتْ أُحُدُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ». [ص:417] قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ بِمِثْلِهِ

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت ربیعہ کی بہن ام حارثہ نے ایک شخص کوزخمی کر دیا ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: قصاص دلوایا جائے گا قصاص دلوایا جائے گا ، تو ام ربیعہ نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! کیا فلاں عورت سے قصاس دلوایا جائے گا ؟ جی نہیں اللہ کی قسم! اس سے قصاص نہیں دلوایا جائے گا ، پھر دوسرے طریقے سے بات چیت ہوتی رہی ، یہاں تک کہ وہ لوگ دیت لینے پر رضا مند ہوگئے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائیں ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروادیتا ہے۔

بِمِثْلِهِ. ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← النَّبِيُّ «اثْبُتْ أُحُدُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ». [ص:417] ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ أُحُدًا ارْتَجَّ وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ ← أَبِي حَازِمٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6492

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6493

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَعْيُنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَدَعَا بِالطَّعَامِ، وَكَانَ الطَّعَامُ يُسَبِّحُ»

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ احد پہاڑ نے حرکت کی اس پر نبی اکرمﷺ ، حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان ؓ موجود تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے احد! اپنی جگہ پر ہو ، تمہارے اوپر ایک نبی ، ایک صدقی اور دو شہید موجود ہیں ۔ معمر کہتے ہیں : میں نے قتادہ کو اس کی مانند حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔

«كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ فَدَعَا بِالطَّعَامِ، وَكَانَ الطَّعَامُ يُسَبِّحُ» ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ الْأَعْيُنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6493

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6494

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا رَاعٍ يَرْعَى بِالْحَرَّةِ إِذْ عَرَضَ ذِئْبٌ لِشَاةٍ مِنْ شَائِهِ، فَجَاءَ الرَّاعِي يَسْعَى فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، فَقَالَ [ص:419] لِلرَّاعِي: أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ، تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ رِزْقٍ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ؟ قَالَ الرَّاعِي: الْعَجَبُ لِلذِّئْبِ - وَالذِّئْبُ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ - يُكَلِّمُنِي بِكَلَامِ الْإِنْسِ، قَالَ الذِّئْبُ لِلرَّاعِي: أَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ هَذَا، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ، يُحَدِّثُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ، فَسَاقَ الرَّاعِي شَاءَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَزَوَاهَا فِي زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ مَا قَالَ الذِّئْبُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ وَقَالَ لِلرَّاعِي: «قُمْ فَأَخْبِرْ»، فَأَخْبَرَ النَّاسَ بِمَا قَالَ الذِّئْبُ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ الرَّاعِي، أَلَا مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ كَلَامُ السِّبَاعِ الْإِنْسَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَيُكَلِّمَ الرَّجُلُ نَعْلَهُ، وَعَذَبَةَ سَوْطِهِ، وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِحَدِيثِ أَهْلِهِ بَعْدَهُ»

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔ آپﷺ نے کھانا منگوایا ، تو کھانا تسبیح پڑھ رہا تھا

بَيْنَا رَاعٍ يَرْعَى بِالْحَرَّةِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6494

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6495

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:421] أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ، وَكُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، حَتَّى ذَهَبَتْ فِلْقَةٌ خَلْفَ الْجَبَلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْهَدُوا»

حضرت ابوسعیدع خدری ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک چرواہا پتھر یلی زمین پر بکریاں چرا رہا تھا ۔ ا سی دوران ایک بھیڑیا اس کی بکری کے پاس آیا ۔ وہ چرواہا دوڑتا ہوا آ یا اس نے اس بکری کو بھیڑےیے سے چھڑا لیا ۔ اس بھیڑ یے نے چروا ہے سے کہا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو تو میرے اور اس رزق کے درمیان رکاوٹ بن گئے ہو جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بھیجا تھا ۔ اس چرواہے نہ کہا: بھیڑیے پر حیرانگی ہے وہ بھیڑیا جس کی شکل وصورت بھیڑیےی جیسی ہے وہ انسان کی طرح میرے ساتھ بات چیت کر رہا ہے ۔ اس بھیڑیے نے اس چرواہے سے کہا: کیا میں تم کو اس سے زیادہ حیران کن بات نہ بتاؤں ۔ یہ دو طرف کی پتھریلی زمین کے درمیان ( مدینہ منورہ میں) اللہ کے رسول ہیں جو لوگوں کو ان باتوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو پہلے گزر چکی ہیں ، پھر وہ چرواہا اپنی بکریوں کو لے کر مدینہ منورہ آگیا ۔ اس نے وہاں کے گوشے میں ان کو کھڑا کیا اور خود نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے نبی اکرمﷺ کو بھیڑیے کی گفتگو کے بارے میں بتایا ۔ نبی اکرمﷺ ( گھر سے ) باہر تشریف لائے ۔ آپﷺ نے اس چرواہے سے کہا تم کھڑے ہو ۔ اور لوگوں کو بتاؤ۔ اس نے لوگوں کو بتایا جو بھیڑیے نے کہا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس چرواہے نے سچ کہا ہے ۔ خبر دار قیامت کی نشانیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ درندے انسانوں کے ساتھ بات چیت کریں گے ۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی ، جب تک درندے انسانوں کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے ۔ اور آدمی اپنے جوتے کے ساتھ اور کوڑے کے کنارے کے ساتھ کلام نہیں کرے گا ۔ اس کا زانو اس کو اس بارے میں بتائے گا کہ اس کے بعد اس کی اہلیہ نے کیا کیا تھا۔

النَّبِيُّ «اشْهَدُوا» ← انْشَقَّ الْقَمَرُ، وَكُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ بِمِنًى، حَتَّى ذَهَبَتْ فِلْقَةٌ خَلْفَ الْجَبَلِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← [ص:224] أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6495

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6496

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحَرَّانَ، قَالَ: [ص:422] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ»

حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں : چاند دو ٹکڑے ہوگیا ، اس وقت ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ منیٰ میں موجود تھے ، یہاں تک کہ چاند کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ گواہ ہو جاؤ۔

«انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فِرْقَتَيْنِ» ← ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← [ص:149] ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6496

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6497

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى، بِالْأُبُلَّةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتےہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا تھا

«انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ بِمَكَّةَ» ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← حُصَيْنٍ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى، بِالْأُبُلَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6497

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6498

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَرَدَ بَدْرًا أَوْمَأَ فِيهَا إِلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ: «هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ»، فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَصْرَعِهِ، وَتَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ، [ص:424] يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَ رَبِّي حَقًّا» قَالَ: فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَسْمَعُونَ قَوْلَكَ أَوْ يُجِيبُونَ وَقَدْ جَيَّفُوا؟ فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا»، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ، فَسُحِبُوا، فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ

حضرت جبیر بن معطم ؓ فرماتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں مکہ میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6498

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6499

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، وَهُوَ كَاتَبُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالزُّبَيْرَ، وَطَلْحَةَ، وَالْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ، فَقَالَ: «انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ، فَخُذُوهُ مِنْهَا»، فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا، حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ، فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ، فَقُلْنَا لَهَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ، فَقُلْنَا: آللَّهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ [ص:425] أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا حَاطِبُ مَا هَذَا؟ »، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينِ لَهُمْ قَرَابَاتٌ بِمَكَّةَ، يَحْمُونَ قَرَابَتَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي قَرَابَةٌ أَحْمِي بِهَا أَهْلِي، فَأَحْبَبْتُ إِنْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي وَأَهْلِي، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي، وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا قَدْ صَدَقَكُمْ»، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ»، وَأَنْزَلَ فِيهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ} [الممتحنة: 1] الْآيَةَ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرمﷺ بدر تشریف لائے ، تو آپﷺ نے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ فلاں شخص کے مرنے کی جگہ ہے یہ فلاں شخص کے مرنے کی جگہ ہے ، تو اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی بھی شخص اپنی مخصوص جگہ سے ذرا بھی نہیں ہٹا ۔ نبی اکرمﷺ نے بدر ( کفار) مقتولین کی تین دن تک ایسے ہی رہنے دیا ، پھر آپﷺ ان کے پاس تشریف لائے ۔ آپﷺان کے پاس کھڑے ہوئے ۔ آپﷺ نے فرمایا: اے ابو جہل بن ہشام ! ا میہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن ربیعہ ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچ نہیں پایا ۔ میرے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا میں نے ، تو اسے سچ پا لیا ۔ راوی بیان کرتےہیں : جب حضرت عمر ؓ نے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان سنا: تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! آپﷺ اپنی بات ان لوگوں کو سنا رہے ہیں جو مردار ہو چکے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں جو کہہ رہا ہوں تم اس بات کو ان لوگون سے زیادہ اچھے طور پر نہیں سن رہے ، لیکن وہ لوگ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے ، پھر نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت ان لوگوں سے زیادہ اچھے طور پر نہیں سن رہے ، لیکن وہ لوگ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے ، پھر نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت ان لوگوں کو گھسیٹ کر بد ر کے ایک گھڑے میں ڈال دیا گیا ۔

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ وَالزُّبَيْرَ، وَطَلْحَةَ، وَالْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ، ← عَلِيًّا ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، وَهُوَ كَاتَبُ عَلِيٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سَمِعْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6499

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6500

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ، فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، حَتَّى وَقَعَتِ الرِّحَالُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا لِمَوْتِ مُنَافِقٍ»، قَالَ: فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَجَدْنَا مُنَافِقًا عَظِيمَ النِّفَاقِ مَاتَ يَوْمَئِذٍ

عبید اللہ بن ابورافع حضرت علی ؓ کے معتمد خصوصی تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ نبی اکرمﷺ نےمجھے حضرت زبیر ؓ کو ، حضرت طلحہ ؓ کو اور حضر ت مقدار بن اسود ؓ کو بھیجا ۔ آپﷺ نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اور خاخ نامی باغ میں پہنچو ۔ وہاں ایک عورت ہوگی اس کے پاس ایک خط ہوگا وہ تم اس سے لے لینا ۔ ہم لوگ اپنے گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے اس باغ تک آئے وہاں ایک عورت موجود تھی ۔ ہم نے اسے کہا تم خط نکالو ۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یا ، تو تم خط نکالو گی ، یا ہم تمہاری جامہ تلاشی لیں گے ، تو اس نے اپنے بالوں کے جوڑے میں سے خط نکال دیا ۔ ہم وہ لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو وہ خط حاطب بن ابوبلتعہ کی طرف سے مکہ میں رہنے والے کچھ مشرکین کے نام تھا ۔ اس خط میں حضرت حاطب ؓ نے ان لوگوں کو نبی اکرمﷺ کےارادوں کے بارے میں بتایا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے حاطب یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! آُﷺ میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے ۔ میں ایک ایسا شخص ہوں جو قریش کے ساتھ ملا ہوا ہوں ، لیکن میں قریش کا حصہ نہیں ہوں ۔ آپﷺ کے ساتھ جو دیگر مہاجرین ہیں ۔ ان کے مکہ میں رشتہ دار موجود ہیں ، جس کی وجہ سے ان کے رشتہ دار اور اہل خانہ محفوظ ہیں ، لیکن میری مکہ میں کسی کے ساتھ رشتہ داری نہیں ہے ، جس کی وجہ سے میں اپنے اہل خانہ کو محفوظ کر لوں ۔ اس لیے میں یہ چاہتا تھا کہ اگر نبسی طورپر میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ، تو پھر میں ان پر کوئی احسان کر دوں ، جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں اور میرے گھر والوں کا خیال رکھیں ۔ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ(ﷺ)! میں نے اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے یا اسلام قبول کرنے کے بعد کفر سے راضی ہوتے ہوئے ایسا نہیں کیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس نے تمہارے ساتھ سچ بولا ہے ۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)!آپﷺمجھے اجازت دیجیئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ بدر میں شریک ہوا ہے ۔ تمہیں کیا پتہ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر کہا ہو ۔ تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔ ( راوی کہتےہیں :) اس باے رمیں یہ آیت نازل ہوئی: " اے ایمان وال! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔"

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6500

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6501

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكَ حَتَّى أَتَى وَادِيَ الْقُرَى، فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْرُصُوا»، فَخَرَصَ الْقَوْمُ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: «أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكِ»، فَسَارَ حَتَّى أَتَى تَبُوكَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَا يَقُومَنَّ فِيهَا أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيُوثِقْ عِقَالَهُ» فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَمْ يَقُمْ فِيهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ فَأَلْقَتْهُ فِي جَبَلِ طَيِّئٍ، قَالَ: فَأَتَاهُ مَلِكُ أَيْلَةَ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى وَادِيَ الْقُرَى، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: «كَمْ جَاءَتْ حَدِيقَتُكِ؟ »، قَالَتْ: عَشَرَةُ أَوْسُقٍ خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي مُسْتَعْجِلٌ، مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي [ص:428] فَلْيَفْعَلْ»، فَسَارَ حَتَّى إِذَا أَوْفَى عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: «هَذِهِ طَيْبَةُ أَوْ طَابَةُ»، فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا قَالَ: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ «، ثُمَّ قَالَ: » أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ «، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: » خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ، بَنُو النَّجَّارِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ؟ «، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: » بَنُو سَاعِدَةَ، وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ «

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ انہوں نے مکہ اور مدینہ کےدرمیان ایک غزوہ میں شرکت کی ، تو ان لوگوں پر انتہائی تیز ہوا چلی ، یہاں تک کہ پالان گرنے لگے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ کسی منافق کی موت ( کی نشانی ہے ) راوی کہتےہیں : جب ہم لوگ مدینہ منورہ واپس آئے ، تو وہاں آکر ہمیں پتہ چلا اس دن ایک بڑے منافق کا انتقال ہوگیا تھا ۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← وُهَيْبٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6501

chevron_left Previous
1…252627…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr