صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6490
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ»
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: " جھولے میں صرف تین بچوں نے گفتگو کی ہے ایک حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے ، جریج کے واقعے والے لڑکے نے ، بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس کا نام جریج تھا ۔ اس نے ایک عبادت گاہ بنائی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگا ۔ ایک دن ا س کی ماں اس کے پاس آئی اور اسے بلند آواز میں پکارا ، تو اس نے اپنی ماں کی بات کی طرف توجہ نہیں کی پھر وہ دوسرے دن اس کے پاس آئی ، اس نے اسے بلند آواز میں پکارا ، تو اس نے پھر اس کی طرف توجہ نہیں کی ، پھر وہ تیسرے دن اس کی طرف آئی ، تو اس نے سوچا ایک طرف میری نماز ہے ایک طرف میری ماں ہے ، تو اس کی ماں نے کہا: اے اللہ ، تو اسے اس وقت موت نہ دینا ، جب تک یہ فاحشہ عورت کا منہ نہیں دیکھ لیتا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں : ایک دن بنی اسرائیل جریج کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ۔ اسی دوران بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نے کہا: اگر تم لوگ چاہو ، تو میں اسے آزمائش کا شکار کر سکتی ہوں ۔ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے ہم تیار ہیں ۔ وہ گئی اس نے جریج کو گناہ کی پیشکش کی ۔ جریج نے اس کی طرف توجہ نہیں کی ، پھر وہ عورت ایک چرواہے کے پاس آئی جو جریج کی والدہ کے پاس اپنی بکریاں لے کر آیا ہوا تھا ۔ اس عورت نے اس چرواہے کے ساتھ گناہ کیا ، پھر حاملہ ہو گئی ۔ اس نے ایک بچے کو جنم دیا اور یہ کہا کہ یہ جریج کے اولاد ہے ۔ اس بات پر بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے جریج پر حملہ کر دیا ۔ اس کی پٹائی کرنے لگے ، اور اسے بر ا کہنے لگے ۔ انہوں نے اس کے عبادت خانے کو منہدم کر دیا ۔ جریج نے ان سے دریافت کیا تمہیں کیا ہوا ہے ، تو لوگوں نے کہا: تم نے ایک فاحشہ عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا ہے ۔ جریج نے دریافت کیا وہ بچہ کہاں ہے ۔ لوگوں نے کہا : وہ یہ ہے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : جریج نے دو رکعت نماز ادا کی ، پھر وہ بچے کے پاس آیا اور اپنی انگلی اسے لگا کر اسے کہا۔ اے بچے تمہارا باپ کون ہے ۔ اس نے کہا: فلاں چرواہا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ، تو لوگ جریج کے سر کو بوسہ دینے لگے ، اور انہوں نے کہا: ہم تمہارا عبادت خانہ سونے سے بنائیں گے ۔ جریج نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے تم اسے مٹی سے بنا دو جیسے یہ پہلے تھا ۔" نبی اکرمﷺ فرماتےہیں: ایک مرتبہ ایک عورت کو گود میں ایک بچہ تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی ۔ اسی دوران ایک سوار اس کےپاس سے گزرا ، تو اس عورت نے دعا کی: اے اللہ ، تو میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند (امیر کبیر ) بنا دینا ۔ بچے نے اپنی ماں کی چھاتی کو چھوڑا اور سوار کی طرف رخ کر کے اسے دیکھنے لگا ، پھر وہ کہنے لگا : اے اللہ مجھے اس سوار کی مانند نہ کرنا ، پھر وہاں سے ایک عورت گزری جسے سنگسار کیا جانا تھا ۔ اس عورت ( یعنی بچے کی ماں ) نے یہ کہا: اے اللہ، تو میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ بنانا ۔ اس بچے نے اپنی ماں کو چھوڑا اس کنیز کی طرف دیکھا اور بولا : اے اللہ ، تو مجھے اس کنیز کی مانند ( مومن اور ایماندار ) کر دینا ۔ ا س عورت نے کہا: اے میر ے بیٹے پہلے ایک سوار گزرا ، تو میں نے کہا: اے اللہ میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند کر دینا ، تو تم نے کہا: مجھے اس کی مانند نہ کرنا پھر ایک کنیز گزری اسے سنگسار کیا جانا تھا ، تو میں نے کہا: اے اللہ میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ کرنا ۔ اور تم یہ کہہ رہے ہو اے اللہ مجھے اس کی مانند کردینا ۔ اس لڑکے نے کہا: اے امی جان یہ سوار شخص ایک ظالم شخص ہے اور یہ کنیز جس کے بارے میں لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس نے چوری کی ہے اس نے چوری نہیں کی اور لوگ یہ کہتے ہیں : اس نے زنا کیا ہے ، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا وہ عورت یہی کہتی ہے : میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ
Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6490
