Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6478

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَمُشَفَّعٍ، بِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ، تَحْتِي آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ»

حضرت عبداللہ ؓ رایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: " قیامت کے دن میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا ۔ اور یہ بات فخر سے نہیں کہہ رہا ۔ اور سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا اور سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا ۔ اور میری شفاعت قبول کی جائے گی ۔ میرے ہاتھ میں "لواء الحمد " ہوگا ۔ حضرت آدمؑ اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے نیچے ( یعنی اس جھنڈے کے نیچے ) ہوں گے ۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6478

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6479

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ، فَيَكْسُونِي رَبِّي حُلَّةً خَضْرَاءَ، فَأَقُولُ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَقُولَ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ»

حضرت کعب بن مالک ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :

كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6479

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6480

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ حَبِيبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، [ص:400] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْبَرًا مِنْ نُورٍ، وَإِنِّي لَعَلَى أَطْوَلِهَا وَأَنْوِرِهَا، فَيَجِيءُ مُنَادٍ، فَيُنَادِي: أَيْنَ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ؟ قَالَ: فَيَقُولُ الْأَنْبِيَاءُ: كُلُّنَا نَبِيٌّ أُمِّيٌّ، فَإِلَى أَيِّنَا أُرْسِلَ؟ فَيَرْجِعُ الثَّانِيَةَ، فَيَقُولُ: أَيْنَ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ الْعَرَبِيُّ؟ قَالَ: فَيَنْزِلُ مُحَمَّدٌ حَتَّى يَأْتِيَ بَابَ الْجَنَّةِ، فَيَقْرَعَهُ، فَيَقُولُ: مَنْ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ أَوْ أَحْمَدُ، فَيُقَالُ: أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُ، فَيَدْخُلُ، فَيَتَجَلَّى لَهُ الرَّبُّ، وَلَا يَتَجَلَّى لِنَبِيٍّ قَبْلَهُ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَهُ وَلَنْ يَحْمَدَهُ أَحَدٌ بِهَا مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ الثَّانِيَةَ فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، فَيُقَالُ لَهُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ الثَّالِثَةَ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ، فَيُقَالُ لَهُ: أَخْرِجْ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَهُ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ، فَيُقَالُ لَهُ: [ص:401] مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُحَمَّدُ لَسْتَ هُنَاكَ، تِلْكَ لِي، وَأَنَا الْيَوْمَ أَجْزِي بِهَا»

حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "قیامت کے دن ہر نبی کےلیے نور کا منبر ہوگا اور میں سب سے زیادہ اونچے اور سب سے زیادہ نورانی منبر پر ہوں گا ، پھر ایک منادی آکر یہ اعلان کرے گا ۔ اُمی نبی کہاں ہیں ؟ تو انبیاء جواب دیں گے کہ ہم میں سے ہر ایک امی نبی ہے ۔ ہم میں کسے بلایا گیا ہے وہ دوسری مرتبہ واپس آئے گا اور دریافت کرےگ ا ۔ امی عربی نبی کہاں ہیں ؟ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : حضرت محمد ﷺ ممبر سے نیچے اتریں گے ، اور جنت کے درازے پر آکر اس کو کھٹکھٹائیں گے ۔ ( اند ر سے ) داروغہ پوچھے گا کون ہے ، تو آپ جواب دیں گے محمد ، ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) احمد ۔ دریافت کیا جائے گا کیا انہیں بلایا گیا ہے ، تو وہ جواب دیں گے جی ہاں ، تو ان کےلیے دروازہ کھول دیا جائے گا ۔ وہ اس کے اندر داخل ہوں گے ، تو ان کا پروردگار ان کے سامنے تجلی کرے گا ۔ ان سے پہلے کسی اور نبی کےلیے پروردگار نے تجلی نہیں کی ہوگی ، تو وہ اللہ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے ۔ اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بینا کریں گے کہ ان سے پہلے اور ان کے بعد کسی نے بھی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہوگی ۔ ان سے کہا جائے گا: اے محمد (ﷺ) اپنا سر اٹھاؤ تم بات کرو اسے سنا جائے گا ۔ تم شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا ۔ مانگو وہ دیا جائے گا ۔ وہ عرض کریں گے : اے پروردگار میری امت ، میری امت ، تو ان سے کہا جائے گا ۔ تم ہر اس شخص کو ( جہنم سے ) نکال لو ۔ جس کے دل میں جو کے وزن جتنا ( ایمان ہو ) پھر وہ دوبارہ آکر اللہ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے ۔ اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے کسی نے بھی ان کلمات کے ذریعے حمد بیان نہیں کی ہوگی ۔ اور ان کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اس حمد کو بیان نہیں کرے گا، تو ان سے کہا جائے گا محمد اپنا سر اٹھاؤ ۔ بات کرو اسے سنا جائے گا شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا ۔ مانگو وہ دیا جائے گا ، پھر ان سے کہا جائے گا ایسے ہر اس شخص کو جہنم سے نکلا لو جس کے دل میں گندم کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ، پھر و ہ تیسری مرتبہ آئیں گے ، اور اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے ۔ اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے کسی نے ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہوگی اور ان کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرے گا ، تو ان سے کہا جائے گا جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لو جس کے دل میں رائی جتنا ایمان ہو ۔ نبی اکرمﷺ واپس تشریف لا کر سجدے میں چلے جائیں گے ، اور اللہ تعالیٰ کی ایسے کلمات کے ذریعے حمد بیان کریں گے کہ ان کلمات کے ذریعے آپﷺ سے پہلے کسی نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہوگی اور آپﷺ کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرے گا ، توآپﷺ سے یہ کہا جائے گا: اے محمد ( ﷺ ) اپنا سر اٹھاؤ ۔ بات کرو اسے سنا جائے گا ۔ شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا ۔ مانگو وہ دیا جائے گا ، تو نبی اکرمﷺ عرض کریں گے اے میرے پروردگار جس شخص نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہا ہو ( اسے بھی جہنم سے نکلنے کا حکم دیا جائے ) ، تو آپﷺ سے یہ کہا جائے گا : اے محمد ( ﷺ ) اس کے ساتھ تمہارا واسطہ نہیں ہے یہ میرے ساتھ مخصوص ہے اور آج میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، [ص:400] ← كَثِيرُ بْنُ حَبِيبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو سَعِيدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6480

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6481

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ»

حضرت انس بن مالک ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " سب سے پہلے میں جنت کے دروازے کو کھٹکھٹاؤں گا ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6481

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6482

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِذْ بُعِثْتُ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ»

حضرت جابر بن سمرہ ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "میں مکہ میں موجود اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو مجھے اس وقت سلام کیا کرتا تھا ۔ جب مجھے مبعوث کیا گیا تھا ۔ میں آج بھی اس کو پہچانتا ہوں ۔"

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6482

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6483

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رُبَّ أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ»

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "بکھرے ہوئے بالوں اور پرانے کپڑوں والے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیں ، تو اللہ تعالیٰ ا سے پوری کرو ا دے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6483

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6484

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:404] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ذَبَحْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ»، فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ»، فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ قَالَ: «أَمَا إِنَّكَ لَوِ ابْتَغَيْتَهُ لَوَجَدْتَهُ»

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کےلیے ( بکری ) ذبح کی ،تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: دستی مجھے پکڑا دو ۔ میں نے آپ ﷺ کے سامنے پیش کی پھر آپﷺ نے فرمایا: مجھے دستی پکڑا دو ۔ میں نےپھر آپﷺ کے سامنے پیش کی آپﷺ نے پھر فرمایا مجھے دستی پکڑا دو ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! بکری میں دو ہی دستیاں ہوتی ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم حاصل کرنا چاہتے ، تو اسے بھی پا لیتے ۔

«نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ»، قُلْتُ: ← نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ ← ذَبَحْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ»، فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ، [ص:184] ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6484

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6485

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، [ص:405] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً، فَأَرَادَ أَنْ يَرْكَبَهَا، فَالْتَفَتَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِيُحْرَثَ عَلَيْنَا، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ»، وَمَا هُمَا ثَمَّ، قَالَ: «وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ فَأَخَذَ الذِّئْبُ الشَّاةَ، فَتَبِعَهُ الرَّاعِي، فَلَفَظَهَا، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ لَكَ بِيَوْمِ السِّبَاعِ حَيْثُ لَا يَكُونُ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي»، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ «، وَمَا هُمَا ثَمَّ

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: " ایک مرتبہ ایک شخص گائے کو لے کر جا رہا تھا ۔ اس نے اس پر سوار ہونے کا ارادہ کیا ، تو گائے نے اس کی طرف توجہ کر کے کہا ہمیں اس کےلیے پیدا نہیں کیا گیا ہمیں اس لیے پیدا کیا گیا ہے ، تاکہ ہمارے ذریعہ کھیتی باڑی کی جائے ، تو نبی اکرمﷺ کے پاس موجود افراد نے سبحان اللہ کہا۔ نبی اکرمﷺ نے کہا: میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں ۔ ابوبکر اور عمر بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں ( کہ گائے کلام کر سکتی ہے) ، حالانکہ یہ دونوں صاحبان وہاں موجود نہیں تھے ، پھر نبی اکرمﷺ نے بتایا ایک مرتبہ ایک شخص اپنی بکریاں لے کر جا رہا تھا ۔ بھیڑیے نے ایک بکری کو پکڑا ۔ چرواہا بھیڑیے کے پیچھے گی ا۔ اس نے اس بکری کو اس سے چھڑوالیا ، تو بھیڑیے نے کہا۔ اس دن تم کیا کرو گے جو درندوں کی حکومت کا دن ہوگا ۔ اس دن ان بکریوں کا نگران میرےعلاوہ اور کوئی نہیں ہوگا، تو نبی اکرمﷺ کے پاس موجود افراد نے سبحان اللہ کہا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں ، ابوبکر اور عمر بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں ( کہ بھیڑیا کلام کر سکتا ہے ) ، حالانکہ یہ دونوں صاحبان وہاں موجود نہیں تھے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ، [ص:348] ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6485

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6486

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى بَقَرَةٍ، الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحِرَاثَةِ»، قَالَ: «آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَخَذَ الذِّئْبُ شَاةً، فَتَبِعَهَا الرَّاعِي، فَقَالَ الذِّئْبُ: مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ، يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي»، فَقَالَ: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ» قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: «وَمَا هُمَا يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ»

حضرت ابوہریرہؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : " ایک مرتبہ ایک شخص گائے پر سوا ر ہوا ، تو گائے نے اس کی طرف رخ کر کے کہا۔ مجھے اس کام کےلیے پیدا نہیں کیا گیا مجھے کھیتی باڑی کےلیے پیدا کیا گیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں ، ابوبکر اور عمر اس بات پر یقین رکھتےہیں ۔ ایک مرتبہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری کو پکڑ لیا ۔ چرواہا اس کے پیچھے آیا ۔ بھیڑیے نےکہا: درنوں کے مخصوص دن میں کون اس کا محافظ ہوگا ۔ جب ان کا نگران میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں ، ابوبکر اور عمر اس پر ایمان رکھتے ہیں( یعنی یقین رکھتے ہیں ) " ابو سلمہ نامی راوی کہتےہیں : اس دن یہ دونوں صاحبان حاضرین میں موجود نہیں تھے ۔

أَبُو سَلَمَةَ: «وَمَا هُمَا يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ» ← وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» ← «آمَنْتُ بِهِ ← الذِّئْبُ: مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ، يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي»، ← وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَخَذَ الذِّئْبُ شَاةً، فَتَبِعَهَا الرَّاعِي، ← «آمَنْتُ بِهِ ← إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحِرَاثَةِ»، ← «بَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى بَقَرَةٍ، الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ، ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6486

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6487

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمَخْزُومِيُّ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ يُسْلِفُ النَّاسَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا فُلَانُ، أَسْلِفْنِي سِتَّ مِائَةِ دِينَارٍ، قَالَ: نَعَمْ، إِنْ أَتَيْتَنِي بِوَكِيلٍ، قَالَ: اللَّهُ وَكِيلِي، [ص:409] فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ، قَدْ قَبِلْتُ اللَّهَ وَكِيلًا، فَأَعْطَاهُ سِتَّ مِائَةِ دِينَارٍ، وَضَرَبَ لَهُ أَجَلًا، فَرَكِبَ الْبَحْرَ بِالْمَالِ لِيَتَّجِرَ فِيهِ، وَقَدَّرَ اللَّهُ أَنْ حَلَّ الْأَجَلُ، وَارْتَجَّ الْبَحْرُ بَيْنَهُمَا، وَجَعَلَ رَبُّ الْمَالِ يَأْتِي السَّاحِلَ يَسْأَلُ عَنْهُ، فَيَقُولُ الَّذِي يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ: تَرَكْنَاهُ بِمَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ رَبُّ الْمَالِ: اللَّهُمَّ اخْلُفْنِي فِي فُلَانٍ بِمَا أَعْطَيْتُهُ بِكَ، قَالَ: وَيَنْطَلِقُ الَّذِي عَلَيْهِ الْمَالُ، فَيَنْحَتُ خَشَبَةً، وَيَجْعَلُ الْمَالَ فِي جَوْفِهَا، ثُمَّ كَتَبَ صَحِيفَةً مِنْ فُلَانٍ إِلَى فُلَانٍ، إِنِّي دَفَعْتُ مَالَكَ إِلَى وَكِيلِي، ثُمَّ سَدَّ عَلَى فَمِ الْخَشَبَةِ، فَرَمَى بِهَا فِي عُرْضِ الْبَحْرِ، فَجَعَلَ يَهْوِي بِهَا حَتَّى رَمَى بِهَا إِلَى السَّاحِلِ، وَيَذْهَبُ رَبُّ الْمَالِ إِلَى السَّاحِلِ، فَيَسْأَلُ، فَيَجِدُ الْخَشَبَةَ، فَحَمَلَهَا، فَذَهَبَ بِهَا إِلَى أَهْلِهِ، وَقَالَ: أَوْقِدُوا بِهَذِهِ، فَكَسَرُوهَا، فَانْتَثَرَتِ الدَّنَانِيرُ، وَالصَّحِيفَةُ، فَأَخَذَهَا، فَقَرَأَهَا، فَعَرَفَ، وَتَقَدَّمَ الْآخَرُ، فَقَالَ لَهُ رَبُّ الْمَالِ: مَالِي، فَقَالَ: قَدْ دَفَعْتُ مَالِي إِلَى وَكِيلِي، إِلَى مُوَكَّلٍ بِي، فَقَالَ لَهُ: أَوْفَانِي وَكِيلُكَ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَكْثُرُ مِرَاؤُنَا وَلَغَظُنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا أَيُّهُمَا آمَنُ»

حضرت ابوہریرہؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "ایم مرتبہ ایک شخص گائے پر سوار ہوا ، تو گائے نے اس کی طرف رخ کر کے کہا ۔ مجھے اس کا م کےلیے پیدا نہیں کیا گیا مجھے کھیتی باڑی کےلیے پیدا کیا گیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں ، ابوبکر اورعمر اس بات پر یقین رکھتے ہیں ۔ ایک مرتبہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری کو پکڑ لیا ۔ چروایا اس کے پیچھے آیا ۔ بھیڑیے نے کہا: درندوں کے مخصوص دن میں کون اس کا محافظ ہوگا ۔ جب ان کا نگران میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں ، ابوبکر اور عمر اس پر ایمان رکھتے ہیں ( یعنی یقین رکھتے ہیں )" ابو سلمہ نامی راوی کہے ہیں: اس دن یہ دونوں صاحبان حاضرین میں موجود نہیں تھے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← المَخْزُومِي الْمُغيرَة بن سَلمَة ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6487

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6488

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَيْنَمَا امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنَهَا مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ وَهِيَ تُرْضِعُهُ، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لَا تَمِتِ ابْنِي حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ هَذَا، قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الثَّدْيِ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ تُلْعَنُ، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ [ص:411] اجْعَلْنِي مِثْلَهَا، أَمَّا الرَّاكِبُ، فَكَانَ كَافِرًا، وَأَمَّا الْمَرْأَةُ، فَيَقُولُونَ لَهَا: إِنَّهَا تَزْنِي، فَتَقُولُ: حَسْبِيَ اللَّهُ، وَيَقُولُونَ: تَسْرِقُ، وَتَقُولُ: حَسْبِيَ اللَّهُ»

حضرت ابوہریرہؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " بنی اسرائیل میں ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے پاس آیا اور بولا: اے فلاں تم مجھے ۶۰۰ دینار قرض دے دو ۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے ۔ اگر تم میرے پاس کوئی ضمانتی لے آؤ ( تو میں ایسا کر دیتا ہوں ) اس نے کہا: اللہ تعالیٰ میرا ضامن ہے ۔ اس شخص نے کہا: سبحان اللہ ٹھیک ہے ۔ میں اللہ تعالیٰ کو ضامن کے طور پر قبول کرتا ہوں ۔ اس شخص نے اسے ۶۰۰ دینا ر دیدئیے اس نے اس کے ساتھ ایک مدت طے کی ، پھر وہ دوسرا شخص سمندر پر سوار ہو کر مال لے کر گیا ۔ تاکہ اس کے ذریعے تجارتے کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ طے کر دیا ہوا تھا کہ وہ مخصوص مد ت گزر جائے ، تو وہ گزر گئی ، لیکن سمند ر ان دونوں آدمیوں کے درمیان رکاوٹ تھا ۔ مال کا مالک شخص ساحل پر آتا۔ اور اس کے بارے میں دریافت کرتا ۔ جن لوگوں سے اس دوسرے شخص کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے یہ ہی بتایا : ہم نے اسے فلاں فلاں جگہ پر چھوڑا تھا ، تو مال کا مالک شخص یہ کہتا ۔ اے اللہ فلاں شخص کے معاملے میں تو ہی میرا نگران ہے ۔ میں نے تیری ضمانت پر وہ چیز اسے دی تھی ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : وہ شخص جس کے ذمے رقم کی ادائیگی تھی وہ گیا اس نے ایک لکڑی لی اور اس کے اندر وہ مال رکھ دیا ، پھر اس نے ایک صحیفہ تحریر کیا کہ یہ مال فلاں کی طرف سے فلاں کےلیے ہے ۔ میں تمہارا مال اپنے ضامن کے سپرد کر رہا ہوں پھر اس نے لکڑی کے منہ کو بند کر دیا اور اس لکڑی کو سمندر میں ڈال دیا ۔ وہ لکڑی سمندر میں تیرتی ہوئی ساحل تک آگئی ۔ اس مال کا مالک شخص ساحل پر آیا تاکہ اس بارے میں دریافت کرے ۔ وہاں اسے لکڑی ملی اس نے اس لکڑی کو اٹھایا اور اسے لے کر اپنے گھر چلا گیا ۔ اس نے اس لکڑی کو کاٹا تو اس میں سے دینا ر اور خط نکلا ۔ اس شخص نے وہ خط لے کر اسے پڑھا ، تو وہ جان گیا ( کہ یہ ، تو میرے ہی پیسے ہیں) پھر دوسرا شخص بھی آگیا ۔ مال کے مالک نے اس سے دریافت کیا میرا مال ، تو دوسرے شخص نے کہا: میں نے اپنا وکیل کے سپرد کر دیا تھا ۔ جس میں نے ضامن بنایا تھا ، تو پہلے شخص نے کہا : تمہارے وکیل نے مجھے پوری ادائیگی کر دی ۔" حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یاد ہے ۔ ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھے اسی دوران شور شرابہ زیادہ ہوگیا کہ ان دونوں میں سے کون شخص زیادہ ایمان دار ہے ۔

اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا، ← اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الثَّدْيِ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ تُلْعَنُ، ← اللَّهُمَّ لَا تَمِتِ ابْنِي حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ هَذَا، ← «بَيْنَمَا امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنَهَا مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ وَهِيَ تُرْضِعُهُ، ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6488

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6489

أَخْبَرَنَا مُظْهِرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَابِتٍ، بِوَاسِطَ الشَّيْخُ الصَّالِحُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: جُرَيْجٌ، فَأَنْشَأَ صَوْمَعَةً، فَجَعَلَ يَعْبُدُ اللَّهَ فِيهَا فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَنَادَتْهُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا، ثُمَّ أَتَتْهُ يَوْمًا ثَانِيًا فَنَادَتْهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا، ثُمَّ أَتَتْهُ يَوْمًا ثَالِثًا، فَقَالَ: صَلَاتِي وَأُمِّي، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ أَوْ يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ، قَالَ: فَتَذَاكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَوْمًا جُرَيْجًا، فَقَالَتْ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي [ص:412] إِسْرَائِيلَ: إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَفْتِنَهُ فَتَنْتُهُ، قَالُوا: قَدْ شِئْنَا، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ فَتَعَرَّضَتْ لِجُرَيْجٍ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا، فَأَتَتْ رَاعِيًا كَانَ يَأْوِي إِلَى صَوْمَعَةِ جُرَيْجٍ بِغَنَمِهِ فَأَمْكَنَتْهُ نَفْسَهَا فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ: هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ، فَوَثَبَ عَلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَضَرَبُوهُ، وَشَتَمُوهُ، وَهَدُّوا صَوْمَعَتَهُ، فَقَالَ لَهُمْ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، قَالَ: وَأَيْنَ الْغُلَامُ؟ قَالُوا: هُوَ ذَا. قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَى الْغُلَامَ فَضَرَبَهُ بِإِصْبَعِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا غُلَامُ، مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ الرَّاعِي، قَالَ: فَوَثَبُوا يُقَبِّلُونَ رَأْسَهُ، قَالُوا لَهُ: نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ ابْنُوهَا مِنْ طِينِ كَمَا كَانَتْ، قَالَ: وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ تُرْضِعُهُ إِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ، فَتَرَكَ الصَّبِيُّ ثَدْيَ أُمِّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ، ثُمَّ مَرَّ بِامْرَأَةٍ تُرْجَمُ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَتَرَكَ الصَّبِيُّ أُمَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأُمَّةِ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَ هَذِهِ الْأَمَةِ، فَقَالَتِ: الْمَرْأَةُ يَا بُنَيَّ مَرَّ رَاكِبٌ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ، فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ، لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، وَمَرَرْتُ بِهَذِهِ الْأَمَةِ تُرْجَمُ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ الْأَمَةِ، فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا، قَالَ: يَا أُمَّاهْ إِنَّ الرَّاكِبَ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَمَةَ [ص:413] يَقُولُونَ: سَرَقَتْ وَلَمْ تَسْرِقْ، وَيَقُولُونَ: زَنَتْ وَلَمْ تَزْنِ، وَهِيَ تَقُولُ: حَسْبِيَ اللَّهُ»

حضرت ابوہریرہؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : " ایک مرتبہ ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی ۔ اس کے دودھ پلانے کے دوران ایک سوار اس کے پاس سے گزرا ۔ اس عورت نے دعا کی : اے اللہ ، تو میرے بیٹے کو اس وقت تک موت نہ دینا ، جب تک وہ اس شخص کی مانند ( امیر کبیر ) نہیں ہو جاتا ۔ بچے نے کہا: اے اللہ مجھے اس کی مانند نہ کرنا پھر وہ دوبارہ چھاتی کی طرف گیا ( اور دودھ پینے لگا ) پھر وہاں سے ایک عورت گزری جس پر لعنت کی گئی تھی ۔ اس عورت نے دعا کی : اے اللہ ، تو میرے بیٹے کو اس عورت کی مانند نہ کرنا ، تو اس بچے نے دعا کی ، تو مجھے اس کی مانند کر دینا ۔ جہاں تک سوار کا معاملہ تھا ، تو وہ شخص کافر تھا ۔ جہاں تک اس عورت کا معاملہ تھا ، تو لوگوں نے اس کے بارے میں یہ کہا تھا کہ اس نے زنا کیا ہے ، تو وہ عورت یہ کہہ رہی تھی میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔ لوگ یہ کہتے تھے کہ اس نے چوری کی ہے ، تو وہ عورت یہ کہتی تھی کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدُ ابْنُ سِيرِينَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ النَّاقِدُ، ← مُظْهِرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَابِتٍ، بِوَاسِطَ الشَّيْخُ الصَّالِحُ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6489

chevron_left Previous
1…242526…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr