Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6466

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي، لِمَا رَأَيْتُ مِنَ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَا يُهِمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي لَهُمْ، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ يُصَدِّقُ لِسَانُهُ قَلْبَهُ وَقَلْبُهُ لِسَانَهُ»

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں : میں نے نبی اکرمﷺ سے سوال کیا ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! آپﷺ کے پروردگار نے شفاعت کے حوالے سے آپ ﷺ کو کیا عطا کیا ہے ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، مجھے یہ اندازہ تھا کہ میری امت میں سب سے پہلے تم مجھ سے اس بارے میں سوال کرو گے کیونکہ میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ تمہیں علم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے ۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ان لوگوں کا جنت کے درازوں پر یکے بعد دیگرے آنا میرے نزدیک ان کےلیے اپنی شفاعت مکمل ہونے سے زیادہ ضروری ہے ۔ میری شفاعت پر اس شخص کو نصیب ہوگی جو پورے اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرے اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرے ۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ قُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الْهُذَلِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6466

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6467

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي»

6467 امام جعفر صادق اپنے والد ( امام محمد باقر ) کے حوالے سے ، حضرت جابر ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والے لوگوں کےلیے ہے ۔"

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6467

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6468

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، - وَكَانَ مِنَ الْحُفَّاظِ الْمُتْقِنِينَ، وَأَهْلِ الْفِقْهِ فِي الدِّينِ - قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي»

حضرت انس بن مالکؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6468

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6469

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَاهَا فِي أُمَّتِهِ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت جابر بن عبداللہؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: " ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے ، جو وہ اپنی امت کےلیے کرتا ہے ۔ میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کے رکھ لیا ہے ۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6469

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6470

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ، فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، فَإِذَا نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قُدَّامَهَا أَحَدٌ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ، قَالَ: قُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَا: مَا نَدْرِي، غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى [ص:389] الْوَادِي، فَإِذَا مِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى، فَلَمْ نَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، وَإِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ»، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَنْشُدُكَ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي» قَالَ: فَأَقْبَلْنَا إِلَى النَّاسِ، فَإِذَا هُمْ فَزِعُوا، وَفَقَدُوا نَبِيَّهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ أَتَانِيَ اللَّيْلَةَ آتٍ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، وَإِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ»، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَنْشُدُكَ اللَّهَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «إِنِّي أُشْهِدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي»

حضرت عوف بن مالکؓ بیان کرتےہیں : ایک رات نبی اکرمﷺ نے ہمارے ساتھ پڑاؤ کیا ہر شخص نے اپنی سواری کو بٹھا دیا ۔ رات کے کسی حصے میں ، میں بیدار ہوا ، تو نبی اکرمﷺ کی اونٹنی کے آگے کوئی موجود نہیں تھا ( یعنی نبی اکرمﷺ موجود نہیں تھے ) میں نبی اکرمﷺ کو تلاش کرنے کےلیےچل پڑا ، تو حضرت معاذ بن جبل ؓ اور حضرت عبداللہ بن قیس ؓ بھی کھڑے نظر آئے میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ہمیں نہیں معلوم ، البتہ ہم نے وادی کے پاس تشریف لے آئے ۔ آپﷺ نے فرمایا: میرے پروردگار کی طرف سے ایک قاصد میرے پاس آیا ۔ اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا ، یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر میں شفاعت کر وں ( خواہ وہ کتنے ہی لوگوں کی کیوں نہ ہو) ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! ہم آپﷺ کو اللہ کا اور اپنے ساتھ کا واسطہ دے کر یہ کہتےہیں : آپﷺ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کریں ، جنہیں آپﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی ۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: تم ان لوگوں میں شامل ہو ، جن کی میری شفاعت نصیب ہوگی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم لوگ لوگوں کی طرف آئے ، توہ وہ گھبرائے ہوئے تھے ۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ کو غیر موجود پایا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے پاس اس رات ( میرے پروردگار کا ) قاصد آیا ، تو اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ یا ، تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا میں شفاعت کو اخیتار کروں ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ۔ لوگوں نے عرض کی: ہم آپ ﷺ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں :آپ ﷺ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کیجئے ، جن کو آپﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمام حاضرین کو اس بات کا گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو ایسی حالت میں فوت ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرا تا ہو۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6470

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6471

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: قَرَأَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ} [الكوثر: 1] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ يَجْرِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، حَافَّتَاهُ [ص:390] قِبَابُ الدُّرِّ»، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضَرَبْتُ بِيَدِي فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ، وَإِذَا حَصْبَاؤُهُ اللُّؤْلُؤُ»

ابت بیان کرتےہیں : حضرت انس بن مالک ﷺ نےیہ آیت تلاوت کی"بے شک ہم نے تمہیں کوثر عطا کی ۔" حضرت انس ؓ نے بتایا : نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : "کوثر جنت میں موجود ایک نہر ہے ، جو ( جنت کی زمین پر بہتی ہے ، اس کے دونوں کناروں پر موتیوں سے بنے ہوئے خیمے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنا ہاتھ مارا ، تو جنت کی مٹی کی خوشبو مشک کی طرح کی تھی ۔ اور اس کی کنکریاں موتیوں کی طرح کی تھیں "۔ نبی اکرمﷺ کا کوثر نامی ( نہر کی) صفت بیان کرنے کا تذکرہ ، جو اللہ تعالیٰ نے جنت میں بطو ر خاص آپ ﷺ کو عطا کی

أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ} [الكوثر: ← قَرَأَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6471

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6472

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَّتَاهُ مِنَ اللُّؤْلُؤِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي مَجْرَى الْمَاءِ، فَإِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ أَعْطَاكَهُ اللَّهُ، أَوْ أَعْطَاكَ رَبُّكَ»

حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "میں جنت میں داخل ہوا ، تو وہاں ایک نہر موجود تھی ۔ جس کے کناروں پر موتی تھے ۔ میں نے اپنا ہاتھ پانی کے بہاؤ پر مارا ، تو اس کی خوشبو مشک کی طرح تھی ۔ میں نے کہا: اے جبرائیل یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا یہ وہ کوثر ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کوعطا کی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) یعنی آپﷺ کے پروردگار نے آپﷺ کو عطا کی ہے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6472

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6473

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ يَجْرِي، بَيَاضُهُ بَيَاضُ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَحَافَّتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي، فَإِذَا الثَّرَى مِسْكٌ أَذْفَرُ، فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللَّهُ»

حضرت انس بن مالک ؓ ، نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں : " میں جنت میں داخل ہوا ، تو وہاں ایک نہر بہہ رہی تھی جس کا پانی دودھ کی طرح سفید تھا۔ اور وہ شہد سے زیادہ میٹھا تھا۔ اس کے دونوں کناروں پر موتیوں سے بنے ہوئے خیمے موجود تھے ۔ میں نے اپنا ہاتھ لگایا ، تو وہاں کی مٹی مشک کی طرح تھی ۔ میں نے حضرت جبرائیل ؑ سے دریافت کیا یہ کیا ہے انہوں نے بتایا یہ وہ کوثر ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو عطا کی ہے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6473

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6474

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ، قَالَ: «بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِذْ عَرَضَ لِي نَهَرٌ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ، فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ: أَتَدْرِي مَا هَذَا؟ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، وَضَرَبَ [ص:392] بِيَدِهِ إِلَى أَرْضِهِ، فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ الْمِسْكَ»

حضرت انس ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " ایک مرتبہ میں جنت میں جا رہا تھا ۔ اسی دوران میرے سامنے آیک نہر آئی ۔ جس کے دونوں کناروں پر اند ر سے خالی موتیوں کے بنے ہوئے خیمے تھے ، تو نبی اکرمﷺ کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: کیا آپﷺ یہ بات جانت ہیں کہ یہ کیا ہے؟ یہ ہو کوثر ہے ، جو آپﷺ کے پروردگار نے آپﷺ کو عطا کی ہے ، پھر نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک زمین سے لگایا اور آپﷺ نے اس کی مٹی کو اٹھایا ، تو وہ مشک کی طرح کی تھی ۔"

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6474

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6475

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى بَنِي هَاشِمٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ»

حضرت واثلہہ بن اسقع ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: " بے شک اللہ تعالیٰ نے حضر ت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا ۔ کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا ۔ قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا ۔ بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا ۔ میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں میں یہ بات فخر سے نہیں کہ رہا ۔ سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا۔ سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی ۔"

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6475

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6476

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هُنَيْدَةَ الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ، عَنْ وَالَانَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسَ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى الْأُولَى وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ كُلُّ ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ، حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ؟ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: «نَعَمْ، عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَجُمِعَ الْأَوَّلُونَ وَالْآخَرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ حَتَّى انْطَلِقُوا إِلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ، فَقَالُوا: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ اصْطَفَاكَ اللَّهُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَقَالَ: لَقَدْ لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ، فَانْطَلِقُوا إِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ، إِلَى نُوحٍ {إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ} [آل عمران: 33]، فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى نُوحٍ، فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّهُ اصْطَفَاكَ اللَّهُ، وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ، فَلَمْ يَدَعْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، فَانْطَلِقُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَإِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَهُ خَلِيلًا، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، فَانْطَلِقُوا إِلَى مُوسَى، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ كَلَّمَهُ [ص:394] تَكْلِيمًا، فَيَقُولُ مُوسَى: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ، وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، فَيَقُولُ عِيسَى: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِلَى سَيِّدِ وَلَدِ آدَمَ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، انْطَلِقُوا إِلَى مُحَمَّدٍ، فَلْيَشْفَعْ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ. قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ وَآتِي جِبْرِيلَ، فَيَأْتِي جِبْرِيلُ رَبَّهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ. قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِ جِبْرِيلُ، فَيَ خِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِذَا نَظَرَ إِلَى رَبِّهِ خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى، فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا، فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ بِضَبْعَيْهِ، وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ جَعَلْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ، وَأَيْلَةَ. ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الْأَنْبِيَاءَ فَيَجِيءُ النَّبِيُّ مَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، [ص:395] ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الشُّهَدَاءَ فَيَشْفَعُونَ لِمَنْ أَرَادُوا، فَإِذَا فَعَلَتِ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، أَدْخِلُوا جَنَّتِي مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: انْظُرُوا فِي النَّارِ هَلْ فِيهَا مِنْ أَحَدٍ عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ، فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلًا، فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتُ خَيْرًا قَطُّ، فَيَقُولُ: لَا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ، فَيَقُولُ اللَّهُ: اسْمَحُوا لِعَبْدِي كَإِسْمَاحِهِ إِلَى عَبِيدِي، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ آخَرُ يُقَالُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ، فَيَقُولُ: لَا، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أَمَرْتُ وَلَدِي، إِذَا مِتُّ فَاحْرِقُونِي فِي النَّارِ، ثُمَّ اطْحَنُونِي، حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ، فَاذْهَبُوا بِي إِلَى الْبَحْرِ، فَذُرُّونِي فِي الرِّيحِ، فَقَالَ اللَّهُ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ مَخَافَتِكَ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى مُلْكٍ أَعْظَمِ مُلْكٍ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، فَيَقُولُ: لِمَ تَسْخَرُ بِي، وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ فَذَلِكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى». قَالَ إِسْحَاقُ: هَذَا مِنْ أَشْرَفِ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثُ عِدَّةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، مِنْهُمْ: حُذَيْفَةُ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَغَيْرُهُمْ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، [ص:397] حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُنَيْدَةَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ حضرت ابوبکرصدیقؓ کا یہ بیان نقل کرتےہیں ۔ ایک دن نبی اکرمﷺ نے صبح کے وقت فجر کی نماز ادا کی ، پھر آپ ﷺ تشریف فرما ہوئے ۔ جب چاشت کا وقت ہوا ، تو نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے ، پھر آپﷺ اپنی جگہ پر تشریف فرما رہے ، یہاں تک کہ آپﷺ نے ظہر ، عصر ، مغرب او رعشا ء کی نماز نماز یں ادا کر لیں ۔ اس دوران آپﷺ نے کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی ، یہاں تک کہ آپﷺ نے عشاء کی نماز نماز ادا کر لی ، پھر آپ ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے ۔ لوگوں نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا آپ اللہ کے رسول سے دریافت کریں کیا معاملہ ہے آج آپﷺ نے ایسا طرز عمل اختیار کیا ہے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں میرے سامنے وہ تمام چیزیں پیش کی گئیں جو دنیا اور آخرت کے اعتبار سے آگے ہوں گی تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا جائے ، یہاں تک کہ وہ لوگ حضرت آدمؑ کے پاس جائیں گے وہ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے وہ یہ کہیں گے اے حضرت آدمؑ آپ انسانوں کے جدا اجد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا ۔ اپنے پروردگار کی بار گاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ، تو حضرت آدمؑ یہ کہیں گے مجھے بھی اسی طرح کی صورتحال درپیش ہے ، جو تم کو درپیش ہے ۔ تم لوگ اپنے ایک باپ کے بعد والے دوسرے باپ( یعنی حضرت نوح ؑ کی طرف جاؤ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے )

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6476

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6477

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُدْعَى نُوحٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ لِأُمَّتِهِ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ، فَيُقَالُ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمَّتُهُ» قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَيَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ، وَيَكُونُ الرَّسُولُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا} [البقرة: 143]» وَالْوَسَطُ: الْعَدْلُ

حضرت ابوسعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "قیامت کے دن حضرت نوح ؑ کو بلایا جائےگا ، تو وہ عرض کریں گے اے میرے پروردگار میں حاضر ہوں ۔ پروردگار دریافت کرےگا ۔ کیا تم نے تبلیغ کر دی تھی ۔ وہ جواب دیں گے ۔ جی ہاں اے میرے پروردگار ، تو پروردگار ان کی امت سے دریافت کرے گا ۔ کیا اس نے تم لوگوں کو تبلیغ کر دی تھی ، تو لوگ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ، تو پروردگار ( حضرت نوح ؑ سے ) دریافت کرے گا تمہارے حق میں گواہی کون دے گا ۔ حضرت نوح ؑ عرض کریں گے حضر ت محمد ﷺ اور ان کی امت ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ، تو ( میری امت کے افراد ) یہ گواہی دیں گے کہ حضرت نوح ؑ نے تبلیغ کر دی تھی ۔ اور رسول ( یعنی نبی اکرمﷺ ) ان لوگوں پر گواہ ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سےیہی مراد ہے ۔ " اسی طرح ہم نے تمہیں عادل امت بنایا ہے ، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جاؤ اور رسول تم لوگوں پر گواہ ہو ۔" لفظ وسط سے مراد عادل ہے ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6477

chevron_left Previous
1…232425…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr