Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6454

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، أَوْ أَكْثَرَ». يَعْنِي: الْحَوْضَ «

حضرت انس ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " تمہیں اس میں سونے اور چاندی کے بنے ہوئے پیالے ملیں گے جو آسمان کے ستاروں کی تعداد جتنے ہوں گے یا اس سے بھی زیادہ ہوں گے "۔ نبی اکرمﷺ کی مراد حوض کوثر تھی ۔

«تُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، أَوْ أَكْثَرَ». يَعْنِي: الْحَوْضَ ← أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6454

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6455

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَنَا عِنْدَ عُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ، إِنِّي لَأَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ» قَالَ: وَسُئِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَعَةِ الْحَوْضِ، فَقَالَ: «مِثْلُ مَقَامِي هَذَا إِلَى عَمَّانَ مَا بَيْنَهُمَا شَهْرٌ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ» وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابِهِ، فَقَالَ: «أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، يَنْبَعِثُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِدَادُهُمَا الْجَنَّةُ أَحَدُهُمَا دُرٌّ وَالْآخَرُ ذَهَبٌ»

حضرت ثوبانؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " میں اپنے حوض کے پاس کھڑا ہو کر کچھ لوگوں کو اس سے دور کروں گا میں ان لوگوں کو اپناعصا کے ذریعے ماروں گا تا کہ وہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں ۔ راوی بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ سے اس حوض کی وسعت کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ میری ( اس ) جگہ سے لے کر عمان جتنا ہے ۔ ان دونوں کے درمیان ایک ماہ کا یا اس سے قریب کا فاصلہ ہے ۔"

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6455

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6456

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: [ص:369] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ لِأَهْلِ الْيَمَنِ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ»، فَسُئِلَ عَنْ عَرَضِهِ، فَقَالَ: «مِنْ مَقَامِي هَذَا إِلَى عَمَّانَ»، وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ، فَقَالَ: «أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، فِيهِ مِيزَابَانِ يُمَدَّانِ مِنَ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ، وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ» قَالَ بُنْدَارٌ: فَقُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ: هَذَا حَدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ؟ فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ أَيْضًا، فَقُلْتُ: انْظُرْ لِي فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَنَظَرَ فِيهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ «

حضرت ثوبان ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " میں اپنے حوض کے قریب کھڑے ہو کر اس سے ( کچھ ) اہل یمن کو پرے کروں گا ۔ میں اپنے عصا کے ذریعے انہیں ماروں گا تاکہ وہ پیچھے ہٹ جائیں ۔" ( راوی بیان کرتے ہیں ) نبی اکرمﷺ سے اس حوض کی چوڑائی کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپﷺ نے فرمایا: میرے کھڑے ہونے کی جگہ سے لے کر عمان تک ( جتنا فاصلہ ہے وہ اتنا چوڑا ہوگا ) نبی اکرمﷺ اسے اس کے مشروب کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپﷺ نے فرمایا: وہ مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا ۔ اس حوض میں دو پر نالے ہوں گے جو جنت سے آرہے ہوں گے ۔ ان میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہوگا اور ایک چاندی کا بنا ہوگا ۔ بندار نامی راوی کہتے ہیں : میں نے یحیٰ بن حماد سے کہا: کیا یہ ابوعوانہ کی نقل کر دہ روایت ہے ، تو انہو ں نے بتایا میں نے یہ روایت ابوعوابہ سے ہی سنی ہے ۔ میں نے کہا: آپ میرے لیے شعبہ کی نقل کر دہ روایت کا جائز لے لیجئے ۔ انہو ں نے اس میں اس روایت کو تلاش کیا اور پھر یہ حدیث بیان کی ۔ اس بارے میں اطلاع کا تذکرہ کہ جو شخص نبی اکرمﷺ کے حوض سے پانی پی لے گا وہ اس کے بعد چہرے کے سیاہ ہونے سے محفوظ ہوگا ( کیونکہ قرآن میں ذکر ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے ، اور کچھ لوگوں کے سیاہ ہوں گے )

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6456

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6457

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْأَخْنَسِ السُّلَمِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا سَعَةُ [ص:370] حَوْضِكَ؟ قَالَ: «كَمَا بَيْنَ عَدْنٍ إِلَى عَمَّانَ، وَأَنَّ فِيهِ مَثْعَبَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ» قَالَ: فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، وَلَمْ يَسْوَدْ وَجْهُهُ أَبَدًا». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ: «مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ»، وَفِي خَبَرِ ثَوْبَانَ الَّذِي ذَكَرْنَا: «مِيزَابَانِ أَحَدُهُمَا دُرٌّ وَالْآخَرُ ذَهَبٌ»، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا تَضَادٌّ، لِأَنَّ أَحَدَ الْمَثْعَبَيْنِ يَكُونُ مِنْ ذَهَبٍ، وَالْآخَرُ مِنْ فِضَّةٍ قَدْ رُكِّبَ عَلَيْهِ الدُّرُّ حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ «

حضرت ابوامامہ باہلی ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت یزید بن اخنس ؓ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ(ﷺ)! آپﷺ کے حوض کی وسعت کتنی ہے ، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے اور اس میں دو پرنالے ہیں ، جو سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہیں۔ ا نہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی آپﷺ کے حوض ( کا مشرو ب ) کیسا ہوگا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید ہوگا ۔اور چکھنے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ پاکیزہ ہوگی ، جو شخص اس میں سے پی لیے گا ۔ وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا ۔ اور اس کا چہرہ بھی سیاہ نہیں ہوگا۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات مذکورہ ہے کہ اس کے دو پر نالے سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہین جبکہ حضرت ثوبان ؓ کے حوالے سے ہماری ذکر کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے ۔ کہ اس کے دو پرنالے ہیں ۔ جن میں سے ایک موتی سے بنا ہوا ہے ۔ اور ایک سونے سے بنا ہوا ہے ، تو ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ کیونکہ ان دو پرنالوں میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہوگا ۔ اور دوسرے کے بارے میں ہوسکتا ہے کہ وہ چاندی سے بنا ہوا اور اس پر موتی لگا دیئے ہوں ۔ اس طرح ان دونوں روایات میں تضاد باقی نہیں رہے گا ۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْأَخْنَسِ السُّلَمِيَّ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6457

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6458

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، زَاجْ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَازِعِ جَابِرَ بْنَ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى صَنْعَاءَ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، عَرْضُهُ كَطُولِهِ، فِيهَا مِزْرَابَانِ يَنْثَعِبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ مِنْ وَرِقٍ وَذَهَبٍ، أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ»

حضرت ابوبرزہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : "میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایلہ سے لے کر صنعاء تک کا فاصلہ ہے ، جو ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے ۔ اس حوض کی چوڑائی اس حوض کی لمبارئی جتنی ہے اس میں دو پر نالے ہیں ، جو جنت سے آتے ہیں ۔جوچاندی اور سونے کے بنے ہوئے ہیں ( اس کا مشروب یا پانی ) دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا او ربرف سے زیادہ ٹھنڈا ہے ۔ اس حوض کے پاس آسمان کے ستاروں جتنے کوزے ہیں ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا بَرْزَةَ ← أَبَا الْوَازِعِ جَابِرَ بْنَ عَمْرٍو أَنَّهُ ← شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← اَحْمَدُ بْنُ مَنْصْوْرٍ زَاجٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6458

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6459

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى صَنْعَاءَ، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ بِعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ»

حضرت انس بن مالک ؓ ، نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں:

ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6459

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6460

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، بِعَسْكَرَ مُكْرَمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: " ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے ، جس کے ذریعے وہ اپنی امت کے بارے میں دعا مانگتا ہے میں نے اپنی مخصوص دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کےلیے سنبھال کر رکھ لیا ہے ۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6460

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6461

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا، وَإِنِّي أَخَّرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الْآخِرَةِ»

حضرت ابوہریرہؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے ، جو وہ مانگتا ہے میں نے اپنی دعا کو آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کےلیے مؤخر کر دیا ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6461

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6462

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمَ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، فَيُرْعَبُ الْعَدُوُّ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَقِيلَ لِي: سَلْ تُعْطَهْ، وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الْقِيَامَةِ، وَهِيَ نَائِلَةٌ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا»

حضرت ابوذر غفاری ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: " مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں ۔ مجھے سرخ و سیاہ ( یعنی تمام بنی نوع انسان ) کی طرف مبعوث کیا گیا ۔ میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کےلیے حلال نہیں ہوا تھا ۔ میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی دشمن ایک ماہ کی مسافت سے مرعوب ہو جاتا ہے میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارتے کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا ۔ اور مجھ سے یہ کہا گیا تم مانگو تمہیں دیا جائے گا ، تو میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کے شفاعت کےلیے سنبھال کر رکھ لیا ہے ۔ اگر اللہ نے چاہا ، تو یہ دعا ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا۔"

اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مُجَاهِدٍ ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبِي ← حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، بِالْبَصْرَةِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6462

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6463

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ، قَالَ: فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، فَإِذَا نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قُدَّامَهَا أَحَدٌ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَا: لَا نَدْرِي غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي، فَإِذَا مِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى، قَالَ: فَلَبِثْنَا يَسِيرًا، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ أَتَانِي مِنْ رَبِّي آتٍ، فَخَيَّرَنِي بِأَنْ يَدْخُلَ [ص:377] نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، وَإِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ»، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَنْشُدُكَ بِاللَّهِ وَالصُّحْبَةِ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، قَالَ: «فَأَنْتُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي» قَالَ: فَلَمَّا رَكِبُوا، قَالَ: «فَإِنِّي أُشْهَدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي»

حضرت عوف بن مالک ؓ بیان کرتےہیں : ایک رات نبی اکرمﷺ نے ہمارے ساتھ پڑاؤ کیا ہر شخص نے اپنی سواری کے بازو کو بچھا دیا ۔ راوی کہتے ہیں : رات کے کسی حصے میں ، میں بیدار ہوا ، تو نبی اکرمﷺ کی اونٹنی کے آگے کوئی موجود نہیں تھا ( یعنی نبی اکرمﷺ غیر موجود تھے) میں نبی اکرمﷺ کی تلاش میں نکلا ، تو حضرت معاذ بن جبل ؓ اور حضرت عبداللہ بن قیس ؓ بھی وہاں کھڑے تھے ۔ میں نے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : ہمیں نہیں پتہ ، البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصہ سے آواز سنی ہے ، جو چکی چلنے کی طرح کی آواز تھی ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی نبی اکرمﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے ۔ آپﷺ نے بتایا : میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے ایک قاصد آیا اور اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ یا، تو میر ی امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا شفاعت ( کو میں اختیار کر لوں ) ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! ہم آپﷺ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں اور آپﷺ کے ساتھ اپنے تعلق کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپﷺ ہمیں ان لوگوں میں شامل کیجئے ، جن کو آپﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کو میری شفاعت نصیب ہوگی ۔ راوی کہتےہیں : جب جو لوگ سوار ہوئے ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمام حاضرین کو اس بات کا گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میری امت کا جو بھی فر د ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہواسے میری شفاعت نصیب ہوگی ۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6463

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6464

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، وَالْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُجْمَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا كَيْ يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا، قَالَ: فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، [ص:378] فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، قَالَ: فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَهَا، فَيَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّهِ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا، قَالَ: فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي خَلْقَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ، قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: فَيَأْتُونِي، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيَأْذَنُ لِي، فَإِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ وَقَعَتْ سَاجِدًا، فَ يَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، وَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَضَعُ رَأْسِي، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِيَ، [ص:379] ثُمَّ يُقَالُ لِيَ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ» قَالَ أَبُو عَوَانَةَ: فَلَا أَدْرِي قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، فَأَقُولُ: «يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ، أَوْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَكَذَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي خَلْقَهُ اللَّهُ»، وَإِنَّمَا هُوَ: «الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ»

حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "قیامت کے دن لوگوں کو ( میدان محشر میں ) اکٹھا کیا جائے گا ۔ انہیں یہ بات الہام کی جائے گی ، تو وہ کہیں گے اگر کوئی ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے تاکہ ہمیں اس صورتحال سے نجات ملے ، تو یہ بہتر ہوگا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں:لوگ حضرت آدم ؑ کے پاس آئیں گے ، اور کہیں گے آپ وپ حضرت آدمؑ ہیں ، جنہیں اللہ نے اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا ۔آپ میں اپنی روح کو پھونکا اس نے فرشتوں کو حکم دیا ، تو فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا ۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ ہمیں اس صورتحال سے نجال ملے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : حضرت آدمؑ کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا وہ اپنی اس خطا کا ذکر کر یں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے ۔ اور اس خطا کی وجہ سے انہیں اپنے پروردگار سے حیا آئے گی ۔ وہ کہیں گے کہ تم حضرت نوح ؑ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا۔ لوگ حضرت نوح ؑ کے پاس جائیں گے ۔ وہ یہ کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا وہ اپنی اس خطا کا ذکر کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے ۔ اس خطا کی وجہ سے انہیں اپنے پروردگار سے حیا آئے گی( وہ یہ کہیں گے ) تم لوگ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس جاؤ ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تھا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : لوگ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس آئیں گے وہ یہ کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا ۔ وہ اپنی اس خطا کو یاد کر یں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے ۔ ان نہیں اس وجہ سے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہوگی ( وہ یہ کہیں گے ) تم لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے پا س جاؤ ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور انہیں توریت عطا کی ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آئیں گے ۔ وہ یہ کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا ۔ انہیں اپنی وہ خطا یاد آئے گی ، جس کی وجہ سے وہ اپنے پروردگار سے حیا کریں گے ( تو وہ یہ کہیں گے ) تم لوگ حضرت عیسیٰؑ کے پاس جاؤ۔ حضرت عیسیٰ ؑ یہ کہیں گے ۔ میں یہ نہیں کر سکتا تم لوگ حضرت محمدﷺ کے پاس جاؤ وہ ایک ایسے بندے ہیں جن کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت اللہ تعالیٰ نے کر دی ہے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : لوگ میرے پاس آئیں گے ۔ میں اپنے پروردگار سے اجازت مانگوں گا ۔ وہ مجھے اجازت عطا کرے گا ، تو میں سجدے میں چلا جاؤں گا ۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہوگا میں سجدے میں رہوں گا ، پھر یہ کہا جائے گا : اے محمد (ﷺ) ( سجدے سے ) سر کو اٹھاؤ ۔ بولو سنا جائے گا ۔ مانگو دیا جائے گا ۔ شفاعت کرو شفاعت قبول ہوگی ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا ۔ اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا ، پھر میں شفاعت کروں گا ، تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کرو ا دوں گا ، پھر میں دوبارہ سجدے میں چلا جاؤں گا ۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہو گا وہ مجھے ( سجدے کی حالت میں ) رہنے ، پھر یہ کہا جائے گا محمد ! سجدے سے سر کو اٹھاؤ ۔ بولو سنا جائے گا ۔ مانگو دیا جائے گا ۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی ، تو میں اپنے سر کو اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بینا کروں گا ، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا ، پھر میں شفاعت کروں گا ، تو میرے لے حد مقرر کی جائے گی ۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا ، پھر میں اپنا سر ( سجدے میں) رکھوں گا ۔ اللہ تعالیٰ کو جتنا منظور ہوگا ۔ وہ اتنی دیر ( مجھے سجدے میں رہنے دے گا ) پھر مجھ سے کہا جائے گا ( سجدے سے ) اپنے سر کو اٹھاؤ بولو سنا جائے گا ۔ مانگو دیا جائے گا ۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی ، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا ۔ اور ان الفاظ کے ذریعے اپنے پروردگار کی حمد بیان کروں گا ، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا پھر میں شفاعت کروں گا ، تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی ۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردوں گا ۔" ابو عوانہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم نبی اکرمﷺ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ یہ فرمایا میں عرض کروں گا : اے میرے پروردگار اب جہنم میں صرف وہ لوگ باقی رہ گئے ہیں جو قرآن ( کے حکم ) کی وجہ سے رکے ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جن کا جہنم میں ہمیشہ رہنا طے ہے ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) حسن بن سفیان نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں "تم لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جاؤ ، جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے "حالانکہ اصل الفاظ یہ ہیں "جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6464

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6465

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَضَعْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةً مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ، فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ، وَكَانَ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ، [ص:381] فَنَهَسَ نَهْسَةً، فَقَالَ: «أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى، فَقَالَ: «أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى، فَقَالَ: «أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لَا يَسْأَلُونَهُ، قَالَ: «أَلَا تَقُولُونَ: كَيْفَ؟ »، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْ رُءُوسِهِمْ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِمْ حَرُّهَا، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ دُنُوُّهَا مِنْهُمْ، فَيَنْطَلِقُونَ مِنَ الْجَزَعِ وَالضَّجَرِ مِمَّا هُمْ فِيهِ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟، فَيَقُولُ: آدَمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ كَانَ أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَعَصَيْتُهُ، فَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي. فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى نُوحٍ، فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ، وَأَوَّلُ مَنْ أَرْسَلَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟، فَيَقُولُ نُوحٌ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ فَدَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي، فَأُهْلِكُوا، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي. [ص:382] فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُونَ: يَا إِبْرَاهِيمُ أَنْتَ خَلِيلُ اللَّهِ، قَدْ سَمِعَ بِخُلَّتِكُمَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟، فَيَقُولُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَذَكَرَ قَوْلَهُ فِي الْكَوَاكِبِ: {هَذَا رَبِّي} [الأنعام: 76]، وَقَوْلَهُ لِآلِهَتِهِمْ: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: 63]، وَقَوْلَهُ: {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: 89]، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي. فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى مُوسَى، فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى أَنْتَ نَبِيٌّ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ، وَكَلَّمَكَ تَكْلِيمًا، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟، فَيَقُولُ مُوسَى: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا، وَلَمْ أُؤَمَرْ بِهَا، فَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي. فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى عِيسَى، فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ، وَكَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ، وَرَوْحٌ مِنْهُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي» قَالَ عُمَارَةُ: وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَ ذَنْبًا، «فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، [ص:383] غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَأَنْطَلِقُ فَآتِي الْعَرْشَ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي، فَيُقِيمُنِي رَبُّ الْعَالَمِينَ مِنْهُ مَقَامًا لَمْ يُقِمْهُ أَحَدًا قَبْلِي، وَلَمْ يُقِمْهُ أَحَدًا بَعْدِي، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِكَ مِنَ الْبَابِ الْأَيْمَنِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِي الْأَبْوَابِ الْأُخَرِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِلَى مَا بَيْنَ عِضَادِيِّ الْبَابِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ، وَهَجَرَ، أَوْ هَجَرَ وَمَكَّةَ»، قَالَ: لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا ، تو نبی اکرمﷺ نے اس میں سے دستی اٹھائی ۔ نبی اکرمﷺ کو بکرے کے گوشت میں وہ سب سے زیادہ پسند تھی ۔ نبی اکرمﷺ نے اسے دانت کے ذریعے نوچ کر کھایا اور فرمایا قیامت کے دن میں تمام انسانوں کا سردار ہوں گا ، پھر آپﷺ نے اسے دوسری مرتبہ کھایا اور فرمایا میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا ، پھر آپﷺ نے اسے تیسری مرتبہ کھایا اور فرمایا: میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردا ر ہوں گا ۔ جب آپﷺ نے اپنے اصحاب کو دیکھا کہ انہوں نے آپﷺ سے کوئی سوال نہیں کیا ، تو آپﷺ نے فرمایا: تم لوگ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ ایسا کیسے ہوگا ۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! یہ کیسے ہوگا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) تمام لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے ۔ بلانے والا اپنی آواز ان تک پہنچا سکے گا ۔ نگاہ نہیں دیکھ سکے گی ۔ اور سورج ان کے سر کے قریب ہوگا ۔ اس کی تپش ان کے لیے شدید دشوری کا باعث ہو گی ۔ اور سورج کا ان کے قریب ہونا ان کےلیے مشقت کا باعث ہوگا۔ وہ لوگ اپنی صورتحال کی وجہ سے گر یہ وزاری اور آہ وبکا کرتے ہوئے جائیں گے ، اور حضرت آدم ؑ کے پاس آئیں گے ۔ اور کہیں گے اے حضرت آدمؑ آپ انسانوں کے جد امجد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا ۔ اس نے فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ۔ کیاآپ ملا حظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کیسی بری صورتحال کا شکار ہیں ، تو حضرت آدمؑ یہ کہیں گے میرا پروردگار آج جتنا غضب میں ہے اس سے پہلے اتنا غضب میں نہیں آیا ۔ اور اس کے بعد اتنا غضب ناک نہیں ہوگا۔ اس نے مجھے ایک بات کا حکم دیا تھا ۔ میں نے اس کی بات نہیں مانی ۔ اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی جہنم میں نہ ڈال دے ۔ تم میرے بجائے کسی دوسرے کے پاس جاؤ ( اب) مجھے اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے ۔ وہ لوگ حضرت نوح ؑ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے حضرت نوح ؑ آپ اللہ کے نبی ہیں ۔ آپ پہلے شخص ہیں ، جسے رسول اللہ بنا کر بھیجا گیا ۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کیا آپ ملا حظہ نہیں کر رہے ہم کیسی بری صورتحال کا شکار ہیں ۔ حضرت نوح ؑ فرمائیں گے میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا ۔ اور اس کے بعد بھی کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوگا میری ایک دعا تھی جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کی تھی جس کے نتیجے میں وہ لوگ ہلاکت کا شکا ر ہوگئے ۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے ۔ اس لئے تم میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ مجھے صرف اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے ۔ وہ لوگ حضرت ابراہیمؑ کےپاس جائیں گے ، اور کہیں گے : اے حضرت ابراہیم ؑ آپ اللہ کے خلیل ہیں آپ دونوں کی خلت کے بارے میں تمام آسمانوں والوں اور زمینوں والوں نے سن رکھا ہے ۔ آپ اپنے پروردگار کی بار گاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے کہ ہم کیسی مشکل کا شکار ہیں ، تو حضرت ابراہیم ؑ فرمائیں گے میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوگا ، پھر وہ ستاروں کے بارے میں اپنے قول ذکر کریں گے "یہ میرا پروردگار ہے "اور ان لوگوں کے بتوں کے بارے میں اپنے اس قول کا ذکر کریں گے "بلکہ ان م یں سے بڑے نے ایسا کیا ہے "اور اپنے اس قول کا ذکر کریں گے " میں بیمار ہوں ۔" ( پھر حضرت ابراہیم ؑ فرمائیں گے ) کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے تم میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ ۔ ابھی مجھے صرف اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے ۔ وہ لوگ حضرت موسیٰ کے پاس جائین گے ، تو کہیں گے : اے حضرت موسیٰ ؑ آپ ایسے نبی ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا ۔ اس نے آپ کے ساتھ کلام کیا ۔ آپ پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ۔ کیا آپ ملاحطہ نہیں فرما رہے کہ ہم کیسی مشکل کا شکار ہیں ، تو حضرت مو سیٰ ؑ یہ کہیں گے ۔ میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے ۔ اس سے پہلے اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد اتنا غضب ناک نہیں ہوگا میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا ، حالانکہ مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا ، تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں داخل نہ کردے ۔ تم لوگ میری بجائے کسی اور کے پا س جاؤ ۔ ابھی مجھے صرف اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے ۔ تو وہ لوگ عیسیٰ ؑ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں آپ اس کا کلمہ ہیں ۔ اس کی روح ہیں ، ج واس نے حضرت مریم کی طرف القاء کی تھی ۔ اس کی طرف سے آنے والی روح ہیں ۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کیا آپ ملاحطہ نہیں کر رہے کہ ہم کس مشکل کا شکار ہیں ، تو حضرت عیسیٰ ؑ کہیں گے کہ میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے وہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد کبھی اتنا غضب نا ک نہیں ہوگا ۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے ۔ تم لوگ میر بجائے کسی اور کے پاس جاؤ ۔ مجھے صرف اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے ۔ عمارہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرے علم کے مطابق ( روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں ) کہ انہوں نے کسی ذنب کا ذکر کیا ہو ۔ پھر لوگ حضرت محمد ﷺ کے پا س آئیں گے ۔ اور یہ کہیں گے کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ خاتم النبین ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ۔ آپﷺ اپنے پروردگار کی بار گاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: میں وہاں سے چلوں گا او رعرش کے پاس آجاؤں گا ۔ میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجد ہ میں چلا جاؤں گا ، تو تمام جہانوں کا پروردگار اپنی بار گاہ میں مجھے ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اس نے مجھ سے پہلے کسی کو اس مقام پر فائز نہیں کیا اور میرے بعد بھی کسی کو اس مقام پر فائز نہیں کرے گا ۔ وہ یہ فرمائے گا : اے محمد (ﷺ) تم اپنی امت کو دائیں طرف والے دروازے سے ( جنت میں) داخل کرو ۔ ان لوگوں کو ، جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ، حالانکہ وہ لوگ دوسرے دروازوں سے دیگر لوگوں کے ساتھ بھی اندر داخل ہو سکتے ہیں ۔ ( پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا) اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے جنت کا ایک دروازہ اتنا چوڑا ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان فاصلہ ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جتنا ہجر اور مکہ کے درمیان فاصلہ ہے ۔ راوی بیان کرتےہیں : مجھے نہیں معلوم کہ روایت میں کون سے لفظ کا ذکر پہلے ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6465

chevron_left Previous
1…222324…60
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr