Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6430

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ لَنَا: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي الصَّلَاةِ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ، قَالَ: فَمَا فَعَلْتَ؟ قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ، قَالَ: وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ، قَالَ: وَمَا يُحَدِّثُكُمْ الشَّعْبِيُّ؟ قَالَ: قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حَصِيبٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ» قَالَ: فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ رَهْطٌ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ، وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقُلْتُ: هَذِهِ أُمَّتِي؟ فَقِيلَ: هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ»، ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ، وَقَالُوا: [ص:340] مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ؟ فَقَالَ: بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ، وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ قَطُّ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ؟ »، فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ، فَقَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ*، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ، فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْتَ مِنْهُمْ»، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»

حصین عبدالرحمٰن بیان کرتےہیں : میں سعید بن جبیر کے پاس موجود تھا ۔ انہوں نے ہم سے دریافت کیا تم میں سے کس نے وہ ستارہ دیکھا ہے ، جو گزشتہ رات ٹوٹا تھا ۔ راوی بیان کرتےہیں : میں نے جواب دیا : میں نے ۔ میں اس وقت نماز کی حالت میں نہیں تھا بلکہ مجھے کسی زہر یلے جانور نے کاٹ لیا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا پھر تم نے کیا کیا ۔ میں نے جواب دیا: میں نے دم کیا۔ انہو ں نے دریافت کیا تم نے ایسا کیوں کیا ۔ میں نے جواب دیا: اس حدیث کی وجہ سے جو امام شعبی نے ہمیں بیان کی ہے انہوں نے دریافت کیا شعبی نے تمہیں کیا حدیث بیان کی ہے میں نے کہا: انہوں نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمیؓ کے حوالے سے یہ بات نقل کی انہوں نے یہ فرمایا: دم صرف نظر لگنے یا بخار کی صورت میں ہوتا ہے ۔ تو سعید بن جبیر نے کہا: حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ہمیں نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان بتایا ہے : "میرے سامنے مختلف امتوں کو پیش کیا گیا میں نے کسی نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ کچھ افراد تھے ۔ کسی نبی کو دیکھا اس کے ساتھ ایک فرد تھا ۔ کسی نبی کو دیکھا اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا ۔ اسی دوارن بہت سارے لوگ میرے سامنے آئے ، تو میں نے سوچا شاید یہ میری امت ہوگی ، لیکن بتایا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کے لوگ ہین ۔ اب آپ افق کی طرف دیکھئے جب میں نے اس طرف دیکھا ، تو وہاں ایک بہت بڑی تعداد تھی ، پھر مجھ سے کہا گیا کہ آپ دوسری طرف دیکھئے ، تو وہاں بھی بہت بڑی تعداد تھی ، تو مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔" پھر نبی اکرمﷺ اٹھے اور گھر کے اندر تشریف لے گئے ۔ لوگ اس بارے میں غور وفکر کرتے رہے ۔ انہوں نے یہ کہا کہ یہ کون لوگ ہوں گے جو بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ، تو ان میں سے بعض حضرات نے یہ کہا کہ شاید یہ وہ لوگ ہیں ، جن کو نبی اکرمﷺ کی صحبت نصیب ہوئی ۔ بعض نے کہا: شاید اس سے مراد وہ لوگ ہیں ، جو مسلمان گھرانوں نے پیدا ہوئے انہوں نے کبھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا ۔ اس طرح لوگوں نے مختلف آراء کا ذکر کیا ، پھر نبی اکرمﷺ ان کے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے دریافت کیا تم لوگ کس بارے میں غوروفکر کر رہے ہو۔ لوگوں نے اپنی گفتگو کے بارے میں نبی اکرمﷺ کو بتایا ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو ( علاج کے طور پر ) داغ نہیں لگاتے ہوں گے ( غیر شرعی الفاظ کے ذریعے ) د م نہیں کرتے ہوں گے ۔ اور فال نہیں نکلاتے ہوں گے ، اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ۔ حضرت عکاشہ بن محصن اسدی ؓ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! ( آپ ﷺ دعا کیجئے ) کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ان میں شامل ہو ، پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ( یا رسول اللہ( ﷺ! آپﷺ دعا کیجئے ) کہ میں ان میں شامل ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے ۔

بُرَيْدَةُ بْنُ حُصَيْبٍ الْأَسْلَمِيُّ ← قُلْتُ ← وَمَا يُحَدِّثُكُمْ الشَّعْبِيُّ؟ ← الشَّعْبِيِّ، ← قُلْتُ: حَدِيثٌ ← وَمَا حَمَلَك عَلَى ذَلِكَ ← فَمَا فَعَلْتَ؟ قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ، ← أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي الصَّلَاةِ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ، ← قُلْتُ ← لَنَا: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟ ← كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6430

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6431

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السِّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَالْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: تَحَدَّثْنَا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ تَرَاجَعْنَا إِلَى الْبَيْتِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَّتِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَجِيءُ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ مِنْ قَوْمِهِ، وَالنَّبِيُّ يَجِيءُ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ قَوْمِهِ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفْرُ مِنْ قَوْمِهِ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ قَوْمِهِ أَحَدٌ، حَتَّى أَتَى عَلَيَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبُونِي، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ: وَإِذَا ظِرَابٌ مِنْ ظِرَابِ مَكَّةَ قَدْ سَدَّ وُجُوهَ الرِّجَالِ، [ص:342] قُلْتُ: رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: أُمَّتُكَ، قَالَ: فَقِيلَ لِي: رَضِيتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: رَبِّ رَضِيتُ، رَبِّ رَضِيتُ، قَالَ: ثُمَّ قِيلَ لِي: إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ»، قَالَ: فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَخُو بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «اللَّهُمَّ، اجْعَلْهُ مِنْهُمْ»، قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَقَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ» قَالَ: ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِدَاكُمْ أَبِي وَأُمِّي إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ، فَكُونُوا فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ، فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ، فَإِنِّي رَأَيْتُ ثَمَّ أُنَاسًا يَتَهَرَّشُونَ كَثِيرًا»، قَالَ: فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ تَبِعَنِي مِنْ أُمَّتِي رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ»، قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الثُّلُثَ»، قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ»، قَالَ: فَكَبَّرْنَا، فَتَلَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ} [الواقعة: 40]. قَالَ: فَتَرَاجَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ، فَقَالُوا: نَرَاهُمْ أُنَاسًا وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ، ثُمَّ لَمْ يَزَالُوا يَعْمَلُونَ بِهِ حَتَّى مَاتُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَنَمَى حَدِيثُهُمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ». قَالَ الشَّيْخُ: «أَكْرَيْنَا: أَخَّرَنَا»

حضرت عمران بن حصین ؓ ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک رات ہم نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے بات چیت کر رہے تھے ، یہاں تک کہ ہماری بات چیت طویل ہوگئی ، پھر ہم اپنے گھر واپس آگئے ۔ اگلے دن صبح جب ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے سامنے گزشتہ رات انبیاءاور ان کی امت سے تعلق رکھنے والے پیرو کار لوگوں کو پیش کیا گیا ، تو کوئی ایک نبی آیا ، اس کے ساتھ اس کی قوم کے تین افراد تھے ۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کا ایک گروہ تھا ۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ تھے ۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کا کوئی بھی فرد نہیں تھا ، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ بنی اسرائیل کے ہجوم میں میرے سامنے آئے جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا ، تو ( ان کی کثرت ) مجھے اچھی لگی میں نے دریافت کیا: اے میرے پروردگار ! یہ کون لوگ ہیں ؟ تو پروردگار نے فرمایا: یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران ہین ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : اسی دوارن مکہ کا ایک چھوٹا پہاڑ لوگوں کے چہروں سے بھر گیا ۔ میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اے میرے پروردگار ! اس نے فرمایا: یہ تمہاری امت ہے ۔ مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا تم راضی ہو ، تو میں نے جواب دیا : اے میرے پروردگار میں راضی ہوں ۔ اے میرے پروردگار میں راضی ہوں پھر مجھے بتایا : ان لوگوں کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ بھی جنت میں داخل ہوں گے جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو اسی دوران بنو اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھنے ولاے حضرت عکاشہ بن محصن ؓ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی آپ ﷺ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کرے ۔ نبی اکرمﷺ نے دعا کی: اے اللہ اسے ان میں شامل کر لے ۔ راوی کہتے ہیں : پرھ ایک اور شخص کھڑا ہو ا ۔ اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی آپﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر لے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: عکاشہ اس حوالے سے تم سے آگے نکل گیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں اگر تم اس بات کی استطاعت رکھتے ہو کہ تم ان ستر ہزار لوگوں میں شامل ہو ، تو تم ایسا کر لو اور اگر تم اس حوالے سے عاجز آجاتے ہو اور کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہو ، تو کم از کم تم چھوٹے پہاڑ پر موجود افراد میں شامل ہو جانا ( جو مجھے خواب میں دکھائے گئے تھے ) کیونکہ میں نے وہاں ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو ایک ووسرے سے لڑ رہے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ میر ی امت سے تعلق رکھنے والے میرے پیروکار اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہوں گے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے اللہ اکبر کہا، پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگ ایک تہائی حصہ ہوں گے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے تکبیر کہی، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگ نصف ہوں گے ، تو ہم نے تکبیر کہی ، پھر نبی اکرمﷺ نے یہ آیت تلاوت کی ۔ " پہلے والوں میں سے بھی بہت سے لوگ اور بعد والوں میں سے بھی بہت سے لوگ۔" راوی بیان کرتے ہیں : پھر مسلمانوں نے ان ستر ہزار لوگوں کے بارے میں گفتگو شروع کی ۔ انہو ں نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو زمانہ اسلام میں پیدا ہوئے اور ساری زندگی اسلام کے احکام پر عمل کرتے رہے ، یہاں تک کہ مسلمان ہونے کے عالم میں فوت ہوئے ۔ راوی کہتے ہیں : ان لوگوں کی بات نبی اکرمﷺ تک پہنچی ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسا نہیں ہے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں ( جو غیر شرعی الفاظ کے ذریعے ) دم نہیں کرتے ( علاج کے طور پر ) داغ نہیں لگواتے ، فال نہیں نکالتے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، وَالْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6431

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6432

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ هُوَ ابْنُ يَحْيَى*، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، - وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى لَنَا خَفَّفَ، ثُمَّ لَا نَسْمَعُ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ: «رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ» ثُمَّ رَأَيْتُهُ أَهْوَى بِيَدِهِ لِيَتَنَاوَلَ شَيْئًا، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ أَسْرَعَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَاعَكُمْ طُولُ صَلَاتِي وَقِيَامِي» قُلْنَا: أَجَلْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَمِعْنَاكَ تَقُولُ: «رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ»، فَقَالَ [ص:344] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ شَيْءٍ وُعِدْتُمُوهُ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَدْ عُرِضَ عَلَيَّ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَأَقْبَلَ إِلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى دَنَا بِمَكَانِي هَذَا، فَخَشِيتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ، فَقُلْتُ: رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ، فَصَرَفَهَا عَنْكُمْ، فَأَدْبَرَتْ قِطَعًا كَأَنَّهَا الزَّرَابِيُّ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا نَظْرَةً، فَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ حُرْثَانَ أَخَا بَنِي غِفَارٍ مُتَّكِئًا فِي جَهَنَّمَ عَلَى قَوْسِهِ، وَإِذَا فِيهَا الْحِمْيَرِيَّةُ صَاحِبَةُ الْقِطَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلْتَهَا»

حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتےہیں : ایک دن ہم نے نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز اد اکی ۔ نبی اکرمﷺ نے طویل قیام کیا، حالانکہ آپ ﷺ جب ہمیں نما ز پڑھاتے تھے ، تو مختصر پڑھاتے تھے ہم نے آپﷺ کو صرف یہ کہتے ہوئے سنا ۔ اے میرے پروردگار میں بھی ان میں ہوں ، پھر ہم نے آپﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے کوئی چیز پکڑنے کے لیے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا ، پھر آپﷺ رکوع میں چلے گئے ۔ اس کے بعد آپﷺ نے تیزی سے نماد اد ا کی ۔ جب نبی اکرمﷺ نے سلام پھیر لیا ، تو آپﷺ تشریف فرماہوئے ہم بھی آپﷺ کے اردگرد بیٹھ گئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا۔ مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ میری نماز اور قیام کی طوالت نے تمہیں گھبراہٹ کا شکار کیا ہے ۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں ، یا رسول اللہﷺ ۔ ہم نے آپﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اے میرے پروردگار میں ان میں موجود ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے آخر ت کے حوالے سے تمہارے ساتھ جس بھی چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ابھی میرے اس جگہ قیام کے دوران میرے سامنے پیش کی گئی ہے ، یہاں تک کہ جہنم میرے سامنے پیش کی گئی اس کا کچھ حصہ میری طرف آیا ، یہاں تک کہ میری اس جگہ کے قریب ہوگیا ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی پلیٹ میں نہ لے ، تو میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار میں ان لوگوں میں موجود ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے تم لوگوں سے پھیر دیا ، پھر اس کے ٹکڑے مڑ گئے ، جیسے و غالیچے ہوں ، میں نے اس کی طرف دیکھا ، تو بنو غفار سے تعلق رکھنے والا عمرو بن حرثان جہنم میں اپنی کمان سے ٹیک لگائے ہوئے تھا ۔ اور جہنم میں ایک حمیری عورت بھی تھی جو بلی کی مالکن تھی ۔ اس نے بلی کو باندھ دیا تھا ۔ اور وہ اسے کھانے کےلیے کچھ دیتی بھی نہیں تھی اور اسے چھوڑتی بھی نہیں تھی۔

عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ سَلْمٍ، آخَرَ مَعَهُ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حرملة هو ابن يحيى، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6432

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6433

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي»

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں : جب ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے ، تو کوئی شخص وہاں بیٹھتا تھا جہاں آخری فرد بیٹھا تھا ( یعنی کوئی لوگوں کو پھلانگ کر آگے نہیں جاتا تھا )

«كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي» ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6433

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6434

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا، أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ مَعَهُ، فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَالَ فَاسْتَقِدْ»، فَقَالَ: قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کوئی چیز تقسیم کر رہے تھے ۔ اسی دوران ایک شخص آگے بڑھا اور آپﷺ پر جھک ا ٓیا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی اسے مار ی ، جو اس کے چہرے پر لگی ، پھر نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا۔ تم آؤ اور بدلہ لے لو۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! میں نے معاف کیا

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6434

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6435

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ رَجُلًا قَطُّ أَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتْرُكُ يَدَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَتْرُكُ يَدَهُ»

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: میں نے کبھی کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ اس نے نبی اکرمﷺ کا دست مبارک پکڑا ہو، تو نبی اکرمﷺ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ہو ، یہاں تک کہ وہ شخص ہی نبی اکرمﷺ کا دست مبارک ( پہلے چھوڑتا تھا)

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو قَطَنٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ1 عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6435

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6436

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، [ص:348] حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ، إِذَا اشْتَهَى أَكَلَ، وَإِلَّا تَرَكَ»

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے کبھی بھی کسی کھانے کی چیز میں عیت نہیں نکالا ۔ اگر آپﷺ کو اس کی خواہش ہوتی تھی ، تو آپﷺ اس کو کھا لیتے تھے ۔ اگر نہیں ہوتی تھی ، تو نہیں کھاتے تھے ۔

«مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ طَعَامًا قَطُّ، إِذَا اشْتَهَى أَكَلَ، وَإِلَّا تَرَكَ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، [ص:348] ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6436

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6437

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِنِ كَرِهَهُ تَرَكَهُ»

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے کبھی کسی کھانے کی چیز میں عیب نہیں نکالا اگر آپﷺ کو اس کی خواہش ہوتی تھی ، تو آپﷺ اس کو کھا لیتے تھے اور اگر آپﷺ کو پسند نہیں آتا تھا ، تو آپﷺ اس کو چھوڑ دیتے تھے ۔

«مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِنِ كَرِهَهُ تَرَكَهُ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6437

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6438

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِاللَّيْلِ تَوَسَّدَ يَمِينَهُ، وَإِذَا عَرَّسَ بَعْدَ الصُّبْحِ نَصَبَ سَاعِدَهُ نَصْبًا، وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ»

حضرت ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ جب ( سفر کے دوران) رات کے وقت پڑاؤ کرتے تھے ، تو آپﷺ اپنے دائیں ہاتھ کو تکیہ بنا لیتے تھے ۔ اور جب آپﷺ صبح کے بعد پڑاؤ کرتے تھے ، تو آپﷺ اپنی کلائی کو کھڑا کر لیتے تھے ۔ اور اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے تھے ۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6438

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6439

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا هَمَّهُ شَيْءٌ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ هَكَذَا، وَقَبَضَ ابْنُ مُسْهِرٍ عَلَى لِحْيَتِهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کو جب کوئی اہم معاملہ درپیش ہوتا تھا ، تو آپﷺ اپنی داڑھی شریف کو اس طرح پکڑ لیتےتھے ۔ ابن مسہر نامی راوی نے اپنی داڑھی کو مٹھی میں لے کر یہ روایت بیان کی۔

عَائِشَةَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6439

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6440

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، [ص:352] حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَهَا رَجُلٌ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ»

سیدہ عائشہؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ گھر کے کام کاج کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرمﷺ اپنے جوتے خود گانٹھ لیا کرتے تھے ۔ اپنے کپڑے خود سی لیا کرتے تھے ۔ آپ ﷺ گھر کے وہ تمام کام کاج کرتے تھے جو کوئی بھی شخص اپنے گھر میں کرتا ہے ۔

سَأَلَهَا رَجُلٌ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، {ص:335} ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6440

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6441

حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، [ص:353] عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ»، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَفَهِمْتُهَا، فَقُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: «قَدْ قُلْتُ: عَلَيْكُمْ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتےہیں : کچھ یہودی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے کہا: السلام علیکم ( یعنی آپ کوموت آئے) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: علیکم ( یعنی تمہیں بھی آئے) سیدہ عائشہ ﷺ بیان کرتی ہیں : میں نے ان لوگوں کی بات سمجھ لی ۔ میں نے کہا: تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت بھی ہو ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے عائشہ ؓ ! آرام سے ، اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! کیا آپﷺ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں نے بھی علیکن کہہ دیا ہے ( یعنی تمہیں بھی آئے )

عَائِشَةُ: فَفَهِمْتُهَا، فَقُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، ← النَّبِيُّ «عَلَيْكُمْ»، ← "السَّامُ عَلَيْكُمْ ← دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، [ص:453] ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6441

chevron_left Previous
1…202122…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr