صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6430
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ لَنَا: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي الصَّلَاةِ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ، قَالَ: فَمَا فَعَلْتَ؟ قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ، قَالَ: وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ، قَالَ: وَمَا يُحَدِّثُكُمْ الشَّعْبِيُّ؟ قَالَ: قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حَصِيبٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ» قَالَ: فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ رَهْطٌ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ، وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقُلْتُ: هَذِهِ أُمَّتِي؟ فَقِيلَ: هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ»، ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ، وَقَالُوا: [ص:340] مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ؟ فَقَالَ: بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ، وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ قَطُّ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ؟ »، فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ، فَقَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ*، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ، فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْتَ مِنْهُمْ»، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»
حصین عبدالرحمٰن بیان کرتےہیں : میں سعید بن جبیر کے پاس موجود تھا ۔ انہوں نے ہم سے دریافت کیا تم میں سے کس نے وہ ستارہ دیکھا ہے ، جو گزشتہ رات ٹوٹا تھا ۔ راوی بیان کرتےہیں : میں نے جواب دیا : میں نے ۔ میں اس وقت نماز کی حالت میں نہیں تھا بلکہ مجھے کسی زہر یلے جانور نے کاٹ لیا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا پھر تم نے کیا کیا ۔ میں نے جواب دیا: میں نے دم کیا۔ انہو ں نے دریافت کیا تم نے ایسا کیوں کیا ۔ میں نے جواب دیا: اس حدیث کی وجہ سے جو امام شعبی نے ہمیں بیان کی ہے انہوں نے دریافت کیا شعبی نے تمہیں کیا حدیث بیان کی ہے میں نے کہا: انہوں نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمیؓ کے حوالے سے یہ بات نقل کی انہوں نے یہ فرمایا: دم صرف نظر لگنے یا بخار کی صورت میں ہوتا ہے ۔ تو سعید بن جبیر نے کہا: حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ہمیں نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان بتایا ہے : "میرے سامنے مختلف امتوں کو پیش کیا گیا میں نے کسی نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ کچھ افراد تھے ۔ کسی نبی کو دیکھا اس کے ساتھ ایک فرد تھا ۔ کسی نبی کو دیکھا اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا ۔ اسی دوارن بہت سارے لوگ میرے سامنے آئے ، تو میں نے سوچا شاید یہ میری امت ہوگی ، لیکن بتایا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کے لوگ ہین ۔ اب آپ افق کی طرف دیکھئے جب میں نے اس طرف دیکھا ، تو وہاں ایک بہت بڑی تعداد تھی ، پھر مجھ سے کہا گیا کہ آپ دوسری طرف دیکھئے ، تو وہاں بھی بہت بڑی تعداد تھی ، تو مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔" پھر نبی اکرمﷺ اٹھے اور گھر کے اندر تشریف لے گئے ۔ لوگ اس بارے میں غور وفکر کرتے رہے ۔ انہوں نے یہ کہا کہ یہ کون لوگ ہوں گے جو بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ، تو ان میں سے بعض حضرات نے یہ کہا کہ شاید یہ وہ لوگ ہیں ، جن کو نبی اکرمﷺ کی صحبت نصیب ہوئی ۔ بعض نے کہا: شاید اس سے مراد وہ لوگ ہیں ، جو مسلمان گھرانوں نے پیدا ہوئے انہوں نے کبھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا ۔ اس طرح لوگوں نے مختلف آراء کا ذکر کیا ، پھر نبی اکرمﷺ ان کے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے دریافت کیا تم لوگ کس بارے میں غوروفکر کر رہے ہو۔ لوگوں نے اپنی گفتگو کے بارے میں نبی اکرمﷺ کو بتایا ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو ( علاج کے طور پر ) داغ نہیں لگاتے ہوں گے ( غیر شرعی الفاظ کے ذریعے ) د م نہیں کرتے ہوں گے ۔ اور فال نہیں نکلاتے ہوں گے ، اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ۔ حضرت عکاشہ بن محصن اسدی ؓ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! ( آپ ﷺ دعا کیجئے ) کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ان میں شامل ہو ، پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ( یا رسول اللہ( ﷺ! آپﷺ دعا کیجئے ) کہ میں ان میں شامل ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے ۔
بُرَيْدَةُ بْنُ حُصَيْبٍ الْأَسْلَمِيُّ ← قُلْتُ ← وَمَا يُحَدِّثُكُمْ الشَّعْبِيُّ؟ ← الشَّعْبِيِّ، ← قُلْتُ: حَدِيثٌ ← وَمَا حَمَلَك عَلَى ذَلِكَ ← فَمَا فَعَلْتَ؟ قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ، ← أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي الصَّلَاةِ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ، ← قُلْتُ ← لَنَا: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟ ← كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6430
