Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6202

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ أَرْضَ ثَمُودَ فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ، فَأَمَرَهُمْ أَنَ يُهْرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا وَأَنْ يَعْلِفُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ «

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتےہیں :کچھ لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ حجر کے علاقے میں پڑاؤ کیا جو قوم ثمود کاعلاقہ تھا انہوں نے وہاں کے کنویں سے پانی لےلیا اور اس کے ذریعہ آتا بھی گوندھ لیا ۔ نبی اکرمﷺ کےحکم کےتحت لیا ہوا پانی بہادیا گیا اور وہ آٹا اونٹوں کو کھلادیا گیا ۔ نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں (حضرت صالح ؑ کی ٌ اونٹنی پانی پینے کے لیے آتی تھی۔

نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 6202

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6203

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَامَ تَبُوكَ بِالْحِجْرِ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ، فَاسْتَقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ، فَنَصَبُوا الْقُدُورَ وَعَجَنُوا الدَّقِيقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْفَؤُوا الْقُدُورَ، وَاعْلِفُوا الْعَجِينَ الْإِبِلَ»، ثُمَّ ارْتَحَلَ حَتَّى نَزَلَ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهُ النَّاقَةُ، وَقَالَ: «لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا فَيُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں :غز وہ تبوک کے سال نبی اکرمﷺ نے حجر کے مقام پر قوم ثمود کے علاقے کے قریب پڑاؤ کیالوگوں نے وہاں کے کنوؤں سے پانی حاصل کرلیا ، جہاں سے قوم ثمود کے لوگ پانی پیا کرتےتھے ،لوگوں نے وہاں ہنڈیا بھی چڑھائی وہاں آٹا بھی گوندھ لیا ، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا:تم ہنڈیا کو الٹا دو اور آٹا اونٹوں کو کھلا دو پھر نبی اکرمﷺ وہاں سے روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ آپﷺ نے اس جگہ پڑاؤ کیا جہاں سے (حضرت صالح ؑ کی ) اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:تم اس عذاب یافتہ قوم کے علاقے میں داخل نہ ہو ،کہیں تمہیں بھی عذاب لاحق نہ ہو جو انہیں لا حق ہوا تھا

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 6203

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6204

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحَجِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ بِالْقَدُومِ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ، وَعَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِينَ سَنَةً» [ص:85] سَمِعْتُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُشْكَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ يَقُولُ: الْقُدُومُ اسْمُ الْقَرْيَةِ «

حضرت ابو ہریرہ ؓ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "حضرت ابراہیم ؑ نے قدوم کے مقام پر 120سال کی عمر میں اپنے ختنے کئے تھے اس کے بعد وہ 80سال تک زندہ رہے۔" امام عبدالرزاق بیان کرتےہیں :قدوم ایک گاؤں کانام ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← الْمُفَضَّلُ1 بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ،

Hadith 6204

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6205

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَلَغَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ، وَعَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِينَ سَنَةً، وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ»

حضرت ابوہریرہ ؓنبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: " حضرت ابراہیم ؑ کی عمر جب 120سال ہوئی انہوں نے اس وقت اپنے ختنے کئے اس کے بعد وہ 80سال تک زندہ رہے انہوں نے قدوم کے مقا پر ختنے کئے تھے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Hadith 6205

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6206

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ يُوسُفَ لَوْلَا الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ مَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ، وَرَحِمَ اللَّهُ لُوطًا إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ: لَوْ أَنَّ لِيَ بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، قَالَ: فَمَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا بَعْدَهُ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ»

حضرت ابوہریرہ ؓروایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: " اللہ تعالیٰ حضرت یوسف ؑ پر رحم کرے اگر وہ کلمہ نہ ہوتا ،جو انہوں نے کہا :تھا کہ " تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذ کر کر دینا"تو حضرت یوسف ؑ اتنا عرصہ قید خانے میں نہ رہتے اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط ؑ پر رحم کرے انہوں نے ایک مظبوط پناہ گاہ کی پناہ لینے کا ارادہ کیا تھا،جب انہوں نے اپنی اس قوم کے کہا۔ "یا،تو میرے پاس تمہارے مقابلے میں قوت ہوگی ،یا پھر میں ایک مظبوط پناہ گاہ کی پناہ لے لوں گا۔" نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی مخصوص قوم میں بھیجا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 6206

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6207

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، [ص:88] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ جَاءَنِي الدَّاعِي الَّذِي جَاءَ إِلَى يُوسُفَ لَأَجَبْتُهُ، وَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ، إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ: لَوْ أَنَّ لِيَ بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ فَمَا بَعَثَ اللَّهُ بَعْدَهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ»، لَفْظَةُ إِخْبَارٍ عَنْ شَيْءٍ مُرَادُهَا مَدْحَ مَنْ وَقَعَ عَلَيْهِ خِطَابُ الْخَبَرِ فِي الْمَاضِي «

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "جو بلانے والا حضرت یوسف ؑ کوبلانے آیا تھا وہ میرے پاس آتا ،تو میں اس کے ساتھ چلا جاتا حضررت یوسف ؑ نے اس سے کہا تھا۔ "تم اپنے آقا کے پاس جاؤ اور اس سے دریافت کرو کہ ان خواتین کا کیا بنا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔" اللہ تعالیٰ حضرت لوط ؑ پر رحم کرے انہوں نے ایک مظبوط پناہ گاہ کی پناہ لینے کا ارادہ کیا تھا ، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا "اگرمیرے پاس تمہارے مقابلے میں قوت ہوئی ،تو ٹھیک ہے ورنہ میں ایک مظبوط پناہ گاہ کی پناہ لے لوں گا"۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی مخصوص قوم میں معوث کیا۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :)روایت کے یہ الفاظ کہ میں بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا اس میں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے ، لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ جس شخص کے بارے میں روایت کے الفاظ واقع ہوئے ہیں ان کی تعریف کی جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ، [ص:88] ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 6207

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6208

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، إِذْ قَالَ: {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [البقرة: 260]، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ [ص:89] يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ «لَمْ [ص:90] يُرِدْ بِهِ إِحْيَاءَ الْمَوْتَى، إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ فِي اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لَهُ، وَذَلِكَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى} [البقرة: 260] وَلَمْ يَتَيَقَّنْ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لَهُ فِيهِ، يُرِيدُ: فِي دُعَائِهِ وَسُؤَالِهِ رَبَّهُ عَمَّا سَأَلَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ «بِهِ فِي الدُّعَاءِ لَأَنَّا إِذَا دَعَوْنَا رُبَّمَا يُسْتَجَابُ لَنَا، وَرُبَّمَا لَا يُسْتَجَابُ، وَمَحْصُولُ هَذَا الْكَلَامِ أَنَّهُ لَفْظَةُ إِخْبَارٍ مُرَادُهَا التَّعْلِيمُ لِلْمُخَاطَبِ لَهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتےہیں : "ہم حضرت ابراہیم کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادکہ حق دار ہیں جب انہوں نےیہ کہا۔ "اے میرے پروردگار ،تو مجھے دکھا کہ، تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ پروردگار نےدریافت کیا:کیا تم ایمان نہیں رکھتےہو۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ،لیکن (میں یہ چاہتا ہوں ) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے ۔" (نبی اکرمﷺ فرماتےہیں ) اللہ تعالیٰ حضرت لوطؑ پر رحم کرے وہ ایک مظبوط پناہ گاہ کی پناہ میں جانا چاہتےتھے اورجتناعرصہ حضرت یوسف ؑ قید خانے میں رہے اگرمیں اتنا عرصہ رہا ہوتا، تو بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : "ہم ابرہیم ؑ کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں " اس کے ذریعے یہ مراد نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں شک تھا بلکہ مراد ان کی دعا مستحاب ہونا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابرہیم ؑ نے یہ کہا تھا۔ "اے میرے پروردگار ،تو مجھے دکھا کہ ،تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔" انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس بارے میں ان کی دعا مستحب ہوگی ۔ تو نبی اکرمﷺ کی مراد یہ ہے کہ ان کا اپنے پروردگار سے دعا کرنا او ر وہ مطالبہ کرنا جو انہوں نے کیا نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :ہم اس دعا کے بارے میں شک کرنے کے حضرت ابراہم ؑ سے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ جب ہم دعا کرتےہیں ،تو بعض اوقات ہماری دعا مستحاب ہوجاتی ہے اور بعض اوقات مستحاب نہیں ہوتی بہر حال اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے ،لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ مخاطب کو اس بارے میں تعلیم دی جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ،

Hadith 6208

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6209

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينَ} [يوسف: 1] إِلَى قَوْلِهِ: {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ} [يوسف: 3] فَتَلَاهَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ حَدَّثْتَنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا} [الزمر: 23] الْآيَةَ، كُلُّ ذَلِكَ يُؤْمَرُونَ بِالْقُرْآنِ» قَالَ خَلَّادٌ: وَزَادَ فِيهِ حِينَ* قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكِّرْنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ} [الحديد: 16] «

مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتےہیں نبی اکرمﷺ پر قرآن نازل ہوتا رہا آپﷺ طویل عرصے تک لوگوں کےسامنے اس کی تلاوت کرتے رہے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! اگر آپ ﷺ ہمارے سامنے کوئی واقعہ بیان کریں (تو مہربانی ہوگی) ،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ "الٓر تِلْکَ اٰ یٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ۔" یہ آیت یہاں تک ہے ۔ "ہم تمہارے سامنے بہترین قصہ بیان کر رہے ہیں ۔" نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت ایک طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے تلاوت کی پھر لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! اگر آپﷺ ہمیں کوئی بات بتائیں (تو مہربانی ہوگی) ،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ "اللہ تعالیٰ نے سب سے بہترین بات کتاب کی شکل میں نازل کی ہے ،جس میں متشابہات ہیں ۔" تو ان سب کی قرآن کے مطابق حکم دیاجاتا تھا ۔ خلادنامی راوی نے اپنے روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :جب لوگوں نے یہ عرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)! آپﷺ ہمیں کوئی نصیحت کیجئے ،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ "کیا اہل ایمان پر ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلوب اللہ کے ذکر کے لیے خوف زدہ ہو جائیں ۔"

«أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا، فَقَالُوا: ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 6209

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6210

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَقَالَ: مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عَلِمَ كُلِّ شَيْءٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: [ص:94] فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟ »

حضرت ابو ہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "حضرت آدم ؑ اورحضرت موسیٰ ؑ کی بحث ہوگئی حضرت موسیٰ ؑ نےکہا:آپ وہ حضرت آدم ؑہیں جنہوں نےلوگون کو گمراہ کر دیا اور انہیں جنت سے نکلوادیا ، تو حضر ت آدم ؑ نے ان سے کہا آپ وہ حضرت موسیٰؑ ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیز عطاکی تھی کہ وہ ہر چیز کا علم رکھتےتھے اور تمام لوگوں میں اپنی رسالت کےلیے منتخب کیا ۔حضرت موسیٰ ﷺ نےجواب دیا: جی ہاں ، تو حضرت آدم ؑ نے کہا :آپ ایک ایسے معاملے کے بارے میں مجھے ملامت کررہے ہیں جو میری تخلیق سے پہلے ہی میرے مقدر میں طے کر دیا گیا تھا ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 6210

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6211

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَاشْتَدَّ مُوسَى فِي أَثَرِهِ وَهُوَ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدَ مَا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَأَخَذَ ثَوْبَهُ، وَطَفِقَ [ص:95] بِالْحَجَرِ ضَرْبًا»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «وَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ نَدَبًا سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً مِنْ ضَرْبِ مُوسَى الْحَجَرَ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "بنی اسرائیل بروہنہ ہو کر غسل کیا کرتےتھے وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ لیا کرتےتھے حضرت موسیٰ ﷺ تنہا غسل کیا کرتےتھے ان لوگوں نےکہا :اللہ کی قسم ! حضرت موسیٰ ؑ ہمارے ساتھ صرف اس لیے غسل نہیں کرتے کیونکہ ان کے اندر کوئی عیب ہے ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتےہیں :ایک مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ غسل کرنے لگے ،اور اپنے کپڑےایک پتھر پر رکھے ،تو وہ ان کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ حضرت موسیٰ ؑ اس کے پیچھے بھاگے وہ یہ کہ رہے تھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے ، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کی شرمگاہ کو دیکھ لیا ،تو انہوں نے کہا :اللہ کی قسم ! حضرت موسیٰ ؑ میں ،تو کوئی خرابی نہیں ہے ، جب لوگوں نے انہیں دیکھ لیا ، تو پتھر بھی رک گیا ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے کپڑے لیے اور اس پتھر کو مارنا شروع کیا۔" حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں :اللہ کی قسم اس پتھر پر حضرت موسیٰ ؑ کی ضرب کے چھ یا شاید سات نشان ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6211

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6212

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِشَيْءٍ قَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا عَدَلَ فِي هَذَا، فَقَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى، قَدْ كَانَ يُصِيبُهُ أَشَدُّ مِنْ هَذَا ثُمَّ يَصْبِرُ»

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے کوئی چیز تقسیم کی ، تو ایک شخص نے اس کے بارے میں یہ کہا ن بی اکرمﷺ نے اس بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا ۔ حضرت عبداللہ ؓ کہتےہیں :میں نے سوچا للہ کی قسم ! میں ضرور نبی اکرمﷺ کے اس بارے میں بتاؤ ں گا ۔میں نے آپﷺ کو بتایا، تو آپﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ پر رحم کرے انہیں اس سے زیادہ اذیت پہنچائی گی ،لیکن پھر بھی انہوں نے صبر سے کام لیا۔

فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُهُ ← لِشَيْءٍ قَسَمَهُ النَّبِيُّ مَا عَدْلَ فِي هَذَا ← عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَجُلًا ← سُفْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Hadith 6212

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6213

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ، قَالَ اللَّهُ لِمُوسَى: إِنَّ قَوْمَكَ صَنَعُوا كَذَا وَكَذَا، فَلَمَّا يُبَالِ، فَلَمَّا عَايَنَ أَلْقَى الْأَلْوَاحَ».

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: "سنی ہوئی بات براہ راست دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا تمہاری قوم نے اس ،اس طرح کرلیا ہے انہوں نےکوئی پرواہ نہیں کی ، لیکن جب انہوں نے بذات خود دیکھ لیا،تو انہوں نے الواح کو پھینک دیا۔" (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :) ابو بشر نامی راوی کانام جعفربن ابو وحثیہ ہے۔

ليس الخبر كالمعاينة ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6213

chevron_left Previous
1234…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr