Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6406

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، [ص:317] حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ» قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهُ، وَتُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ فَطَافَ بِهِ نُظَّارٌ، فَتَعَجَّبُوا مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهِ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ، لَا يَعِيبُونَ غَيْرَهَا، فَكُنْتُ أَنَا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ، خُتِمَ بِيَ الرُّسُلُ»

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں ، میں نےنبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : "میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ ابن مریم کے قریب ہوں ۔ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں ، لیکن میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے ۔" راوی کہتے ہیں : حضرت ابوہریرہ ؓ یہ بھی بیان کرتے تھے: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "میری اور دیگر انبیاء کی مثال ایک ایسے محل کی مانند ہے ، جس کی تعمیر عمدہ کی گئی ہو لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو دیکھنے والے لوگ اس کا چکر لگائیں اور اس کی عمدہ تعمیر پر حیران ہوں ، لیکن اس ایک اینٹ کی جگہ خالی رہنے پر ( حیران ہوتے ہوں ) وہ اس کے علاوہ اس عمارت میں کوئی اور عیب نہ نکال سکیں ِ تو میں اس ایک اینٹ کی جگہ ہوں ، میرے ذریعے رسولوں ( کی بعثت ) کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا "۔

فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، [ص:33] ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6406

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6407

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، [ص:318] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا أَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ وَأَكْمَلَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ، فَيَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِلَّا مَوْضِعَ ذِي اللَّبِنَةِ» قَالَ: «فَكُنْتُ أَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةَ»

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "میری اور مجھ سے پہلے کے دیگر انبیاء کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جو کوئی عمارت تعمیر کرتےہوئے اسے خوبصورت بہترین اور مکمل تعمیر کرتا ہے لوگ اس کا چکر لگاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ خوبصورت عمارت اور کوئی نہیں دیکھی ، لیکن یہ ایک اینٹ کی جگہ رہ گئی ہے ، نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : میں وہ اینٹ ہوں

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ، [ص:420] ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6407

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6408

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ أَقْبَلَ خَشَاشُ الْأَرْضِ وَفَرَاشُهَا، وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقْتَحِمُ فِي النَّارَ، فَتُقْتَحَمُ فِيهَا، وَهُوَ يَذُبُّهَا عَنْهَا، فَأَنَا الْيَوْمَ آخِذُ بِحُجَزِ النَّاسِ: هَلُمُّوا إِلَى الْجَنَّةِ، هَلُمُّوا [ص:319] عَنِ النَّارِ، فَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا»

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "میری اور لوگوں کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جو آگ جلاتا ہے ، جب اس کے ارد گرد کی جگہ روشن ہوجاتی ہے ، تو اس میں کیڑے مکوڑے اور پتنگے گرنا شروع ہوتے ہیں ، تو یہ وہ مکوڑے ہیں جو آگ میں جانا چاہتے ہیں وہ اس میں جانا چاہتے ہیں ۔ وہ شخص انہیں اس میں داخل ہونے سے روکتا ہے ، تو آج میں لوگوں کے پہلو پکڑ کر ( یہ کہتا ہوں ) جنت کی طرف آجاؤ اور جہنم سے بچو ، لیکن وہ اس میں گرنے کی کوشش کرتے ہیں "۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6408

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6409

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ عُمَرُ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُكَ، قَالَ عُمَرُ: فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي حَتَّى قَدَّمْتُهُ أَمَامَ النَّاسِ، وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِي قُرْآنٍ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «قَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ»، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: 2]

حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ وہ ایک سفر میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ چل رہےتھے ۔ حضرت عمرؓ نے نبی اکرمﷺ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔ حضرت عمرﷺ نے پھر آپ سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا ۔ حضرت عمر ؓ نے پھر دریافت کیا نبی اکرمﷺ نے پھر انہیں کوئی جواب نہیں دیا ، تو حضرت عمر ؓ نے پوچھا : اے عمر! تمہاری ماں تمہیں روئے ، تم نے تین مرتبہ نبی اکرمﷺ سے سوال کیا ہر مرتبہ نبی اکرمﷺ نے تمہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں : میں نے اپنے اونٹ کو حرکت دی او رلوگوں کے آگے آکر چلنے لگا ۔ مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن کا کوئی حکم نازل نہ ہو جائے ۔ ابھی میں اسی حالت میں تھا کہ میں نے کسی کو سنا جو بلند آواز میں مجھے بلا رہا تھا ۔ میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا میں نے آپ کو سلام کیا ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے ، جو میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہے ، جس پر سور ج طلوع ہوتا ہے ۔ ( یعنی پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے ) پھر آپ نےیہ آیت تلاوت کی ۔"بے شک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کی تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کردے ۔"

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6409

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6410

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: 2] مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ»، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: هَنِيًّا مَرِيًّا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ، فَمَا يَفْعَلُ بِنَا؟ فَنَزَلَ عَلَيْهِ: {لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ} [الفتح: 5]، حَتَّى {فَوْزًا عَظِيمًا} [النساء: 73] «

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : "تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ او رآئندہ ذنب کی مغفرت کر دے ۔" یہ آیت نبی اکرمﷺ کی حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر نازل ہوئی نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے ، جو میرے نزدیک روئے زمین پر موجو د چیزوں سے زیادہ محبوب ہے پھر نبی اکرمﷺ نے یہ آیت لوگوں کے سامنے تلاوت کی ، تو لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ کو بہت ، بہت مبارک ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کےلئے یہ بات بیان کر دی ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرےگا ، لیکن وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ( یہ نہیں پتہ چلا ) ، تو نبی اکرمﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : "تاکہ اللہ تعالیٰ مومن مردوں او رمومن خواتین کو ان جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔"یہ آیت یہاں تک ہے ۔ "بڑی کامیابی "

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6410

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6411

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ قَبْلَ مَوْتِهِ أَنْ يَقُولَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لِتُكْثِرَ مِنْ دُعَاءٍ، لَمْ تَكُنْ تَدْعُو بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «إِنَّ رَبِّي جَلَّ وَعَلَا أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَيُرِينِي عِلْمًا فِي أُمَّتِي، فَأَمَرَنِي إِذَا رَأَيْتُ ذَلِكَ الْعِلْمَ أَنْ أُسَبِّحَهُ، وَأَحْمَدَهُ، وَأَسْتَغْفِرَهُ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1]، فَتْحُ مَكَّةَ»

سیدہ عائشہؓ صدیقہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺاپنے وصال سے کچھ عرصہ پہلے بکثرت سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ ، اَسْتَغْفِرُاللہَ ،وَاَتُوبُ اِلَیْہِپڑھا کرتے تھے ۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! آپ یہ دعا بکثرت پڑھتے ہیں ، حالانکہ اس سے پہلے آپ یہ دعا نہیں پڑھا کرتے تھے ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار نے مجھے یہ بتایا ہے کہ وہ عنقریب مجھے میری امت کے بارے میں نشانی دکھا دےگا ۔ اسنے مجھے یہ حکم دیا کہ جب میں یہ نشانی دیکھ لوں ، تو اس کی تسبیح بیان کروں ۔ اس کی حمد بیان کرو ں اور اس سے مغفرت طلب کروں ، تو میں نے وہ چیز دیکھ لی ہے ۔ ( وہ یہ آیت ہے ) "جب اللہ کی مدد آگئی " اس سے مراد فتح مکہ ہے ۔

فَقُلْتُ: ← «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُكْثِرُ قَبْلَ مَوْتِهِ أَنْ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6411

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6412

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] إِلَى آخِرِهَا مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا قَالَ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ "جب اللہ کی مدد اور فتح آگئی "۔ یہ سور ت کے آخر تک ہے ، تو اس کے بعد میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ جب بھی نماز ادا کرتے تھے ، تو یہ ضرور پڑھتے تھے ۔"تو پاک ہے اللہ حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، اے اللہ تو میری مغفرت کر دے ۔"

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6412

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6413

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصِّيَامِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّاسَ، فَوَاصَلُوا، فَنَهَاهُمْ، وَقَالَ: «إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي، وَيَسْقِينِي»

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے صوم وصال رکھنا شروع کئے جب اس بات کی اطلا ع لوگوں کو ملی ، تو انہوں نے بھی صوم وصال رکھنا شرو ع کردیئے ۔ نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں ۔ میں ایسی حالت میں رات بسر کرتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا دیتا ہے اور مجھے پلا دیتا ہے ۔

إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ← وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الصِّيَامِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّاسَ، فَوَاصَلُوا، فَنَهَاهُمْ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6413

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6414

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «لَوْ مُدَّ لِيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي»

حضرت انسؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے رمضان میں صوم وصال رکھنا شروع کئے ۔ آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے بھی صوم وصال رکھنا شروع کر دیئے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر یہ مہینہ اور طویل ہوتا ، تو میں اتنا عرصہ صوم وصال رکھتا رہتا کہ شدت کرنے والے لوگ اپنی شدت کو ترک کر دیتے ۔ میں ایسے وقت گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا دیتا ہے اور مجھے پلا دیتا ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6414

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6415

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ عِنْدَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ، فَمَازِلْنَا نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى كَالَتْهُ الْجَارِيَةُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ فَنِيَ، وَلَوْ [ص:326] لَمْ تَكِلْهُ لَرَجَوْتُ أَنْ يَبْقَى أَكْثَرُ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا ، تو آپ نے ہمارے ہاں تھوڑے سے جَو چھوڑے ہم انہیں کھاتے رہے ۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ کنیز نے انہیں ماپ لیا ، تو اس کے بعد وہ جلدی ختم ہوگئے ۔ اگر وہ کنیز نہیں نہ ماپتی ، تو مجھے یہ امیت ہے کہ وہ زیادہ عرصہ باقی رہتے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6415

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6416

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ، بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ طَارِقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَلَهُ شَيْطَانٌ»، قَالُوا: وَلَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلِي، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَكَذَا قَالَهُ بِالنَّصْبِ»

حضرت شریک بن طارق ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ اس کا مخصوص شیطان ہوتا ہے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! کیا آپ کے ساتھ بھی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میرے ساتھ بھی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی اور وہ مسلمان ہوگیا۔"

شَرِيكِ بْنِ طَارِقٍ، ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ، بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6416

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6417

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ»، قَالُوا: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ [ص:328] قَالَ: «وَإِيَّايَ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ، فَلَا يَأْمُرَنِي إِلَّا بِخَيْرٍ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ شَيْطَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمَ حَتَّى لَمْ يَأْمُرْهُ إِلَّا بِخَيْرٍ، لَا أَنَّهُ كَانَ يَسْلَمُ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ كَافِرًا»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے ہر شخص کو اس کے ساتھی جن کے سپرد کر دیا گیا ہے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! آپ کو بھی ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: مجھے بھی ، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے خلاف میری مدد کی اور وہ مسلمان ہوگیا اب وہ مجھے صرف بھلائی کےلئے کہتا ہے ۔( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ مخصوص شیطان مسلمان ہوگیا تھا ۔ یہاں تک وہ آپ کو صرف بھلائی کےلئے کہتا تھا ۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرمﷺ ا س شیطان کی طرف سے محفوظ ہوگئے تھے خواہ وہ شیطان کافر ہی رہتا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6417

chevron_left Previous
1…181920…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr