صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6406
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، [ص:317] حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ» قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهُ، وَتُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ فَطَافَ بِهِ نُظَّارٌ، فَتَعَجَّبُوا مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهِ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ، لَا يَعِيبُونَ غَيْرَهَا، فَكُنْتُ أَنَا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ، خُتِمَ بِيَ الرُّسُلُ»
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں ، میں نےنبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : "میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ ابن مریم کے قریب ہوں ۔ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں ، لیکن میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے ۔" راوی کہتے ہیں : حضرت ابوہریرہ ؓ یہ بھی بیان کرتے تھے: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "میری اور دیگر انبیاء کی مثال ایک ایسے محل کی مانند ہے ، جس کی تعمیر عمدہ کی گئی ہو لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو دیکھنے والے لوگ اس کا چکر لگائیں اور اس کی عمدہ تعمیر پر حیران ہوں ، لیکن اس ایک اینٹ کی جگہ خالی رہنے پر ( حیران ہوتے ہوں ) وہ اس کے علاوہ اس عمارت میں کوئی اور عیب نہ نکال سکیں ِ تو میں اس ایک اینٹ کی جگہ ہوں ، میرے ذریعے رسولوں ( کی بعثت ) کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا "۔
فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، [ص:33] ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6406
