Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6394

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ، فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ [ص:305] فِي يَمِينِهِ، كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ بَاطِنَ كَفِّهِ»

حضرت انسؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺنے چاندی کی بنی ہوئی انگوٹھی پہنی تھی ۔ اس میں حبشی نگینہ لگا ہوا تھا ۔ آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی کو پہنا اور آپ نے اس کے نگینے کا رخ ہتھیلی کی طرف رکھا ۔ اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ پاکیزہ خوشبو نبی اکرمﷺ کو پسند آتی تھی

أَنَسٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6394

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6395

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «مَا أَحْسَنَهَا عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَشُوبُ بَيَاضُكَ سَوَادَهَا، وَيَشُوبُ سَوَادُهَا [ص:306] بَيَاضَكَ، فَبَانَ مِنْهَا رِيحٌ، فَأَلْقَاهَا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے کالی چادر پہنی ، تو سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)!یہ آپ پر کتنی خوب صورت لگ رہی ہے ۔ آپ کی سفید ( رنگت ) اس کی سیاہی کے ساتھ نمایاں ہو رہی ہے اور اس کی سیاہی آپ کی سفید ( رنگت کے ساتھ ) نمایاں ہورہی ہے ، پھر آپ کو اس چادر میں سے بو محسوس ہوئی ، تو نبی اکرمﷺ نے اسے اتار دیا ۔ نبی اکرمﷺ کو پاکیزہ خوشبو پسند تھی ۔

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6395

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6396

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قُلْنَا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «الْحِبَرَةُ». قَالَ أَبُو يَعْلَى: «أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ»

قتادہ بیان کرتےہیں : ہم نے حضرت انس بن مالکؓ سے دریافت کیا نبی اکرمﷺ کو کون سا لباس زیادہ پسند تھا؟ انہو ں نے جواب دیا : حبرہ ( یعنی مخصوص قسم کی یمنی چادر) ابو یعلی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: کون سا لباس زیادہ اچھا لگتا تھا۔

أَبُو يَعْلَى: «أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ» ← «الْحِبَرَةُ». ← قُلْنَا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6396

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6397

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدُلُ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ»، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ. [ص:308] قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: «وَرَأَيْتُ الْقَاسِمَ، وَسَالِمًا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں نبی اکرمﷺ اپنے عمامے کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان لٹکاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔ عبید اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں : میں نے قاسم اور سالم کو بھی ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6397

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6398

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَقِيرُ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ۔ ایک مہینے کے فاصلے سے ( طاری ہونے والے ) رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ۔ میرے لئے تمام روئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا ۔ میری امت کے جس بھی فر د کو نما ز کا وقت ہوجائے وہ ( وہیں) نماز اد اکر لے ۔ میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ۔ جو مجھ سے پہلے کسی کےلئے حلال قرار نہیں دیا گیا تھا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی اور ہر نبی کو اپنی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← يَزِيدَ الْفَقِيرِ ← سَيَّارٍ، ← هُشَيْمٌ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6398

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6399

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ* بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهِبٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِينَاءَ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُعْطِيتُ أَرْبَعًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَنَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي الْخَامِسَةَ فَأَعْطَانِيهَا، كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَرْيَتِهِ وَلَا يَعْدُوهَا وَبُعِثْتُ كَافَّةً إِلَى النَّاسِ، وَأُرْهِبَ مِنَّا عَدُوُّنَا مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسَاجِدَ، وَأُحِلَّ لَنَا الْخُمُسُ وَلَمْ يَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي الْخَامِسَةَ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْقَاهُ عَبْدٌ مِنْ أُمَّتِي يُوَحِّدُهُ إِلَّا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ فَأَعْطَانِيهَا»

حضر عوف بن مالکؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "مجھے چار ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو بھی نہیں عطا کی گئیں۔ میں نے اپنے پرورد گار سے پانچویں چیز کی درخواست کی ، تو اس نے مجھے وہ بھی عطا کر دی پہلے کسی نبی کو اس کی مخصوص بستی کی طرف مبعو ث کیا جاتا تھا ۔ وہ اس بستی سے آگے نہیں جاتا تھا ، لیکن مجھے تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا گیا اور ہمارا دشمن ایک ماہ کی مسافت کے فاصلے سے بھی ہم سے مرعوب ہوجاتا ہے اور میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا اور ہمارے لئے خمس کو حلال قرار دیا گیا ہے ، جو ہم سے پہلے کسی کےلئے حلال نہیں ہوا تھا اور میں نے اپنے پروردگار سے پانچویں چیز یہ مانگی میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ میری امت کا جو فرد اس کی بار گاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ اس کی وحدانیت کا اعتراف کرتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کردے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ چیز بھی مجھے عطا کر دی ۔

النَّبِيِّ ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِينَاءَ الْأَشْجَعِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6399

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6400

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّهِيدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فُضِّلْتُ عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَأُوتِيتُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِثْلَهُ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا أَحَدٌ بَعْدِي»

حضرت حذیفہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "مجھے لوگوں پر تین حوالے سے فضیلت دی گئی ہے ۔ ہمارے لئے تمام روئے زمین کو جائے نماز قرار دیا گیا ہے اور اس کی مٹی کو ہمارے لئے طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ، جب ہمیں پانی نہیں ملتا اور ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند قرار دیا گیا اور مجھے سورۃ بقرہ کی آخری آیات عر ش کے نیچے موجود خزانے سےعطا کی گئی ہیں اس جیسی آیات مجھ سے پہلے اور میرے بعد کسی کو عطا نہیں کی جائیں گی۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّهِيدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6400

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6401

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ»

اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ حضرت حذیفہ ؓ کے حوالے سے منقول اس روایت میں مذکورہ عد د سے یہ مرا د نہیں کہ اس کے علاوہ کی نفی کی جائے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6401

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6402

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوتِيَ فَوَاتِحَ الْكَلَامِ وَخَوَاتِمَهُ، أَوْ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ، وَإِنَّا كُنَّا لَا نَدْرِي مَا يَقُولُ إِذَا [ص:312] جَلَسْنَا فِي الصَّلَاةِ حَتَّى عَلَّمَنَا، فَقَالَ: «قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتےہیں : حضرت محمد ﷺ کو کلام کا آغاز کرنے والے اور اس کا اختتام کرنے والے ( یعنی جامع و مانع ) کلمات عطا کئے گئے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) بھلائی کی جامع اور اختتامی باتیں عطا کی گئی ۔ ہمیں یہ بات معلوم نہیں تھی کہ جب ہم نما زکے دوران بیٹھے ہوئے ہوں ، تو ہمیں کیا پڑھنا چاہئے ، یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم یہ پڑھو: "ہر طرح کی زبانی ، جسمانی اور مال عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندنوں پر بھی سلام ہو ۔ میں اس بات کو گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ وہی ایک معبود ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں "۔

إِذَا [ص:312] جَلَسْنَا فِي الصَّلَاةِ حَتَّى عَلَّمَنَا، ← كُنَّا لَا نَدْرِي مَا ← إِنَّ مُحَمَّدًا أُوتِيَ فَوَاتِحَ الْكَلَامِ وَخَوَاتِمَهُ، أَوْ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6402

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6403

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ»

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "مجھے دیگر انبیا ء پر چھ حوالوں سے فضیل عطا کی گئی ہے ۔ مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ۔ میرے لئے مال غنیمت کا حلال قرار دیا گیا ہے ۔ میرے لئے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا ہے ، مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور میرے ذریعے انبیاء کے سلسلے کو ختم کیا گیا ہے "۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6403

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6404

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ، بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا [ص:313] الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ الْفَزَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ بِخَاتَمِ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ، وَسَأُخْبِرُكُمْ بِأَوَّلِ ذَلِكَ: دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، وَبِشَارَةُ عِيسَى، وَرُؤْيَا أُمِّيَ الَّتِي رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْنِي أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهَا مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ»

حضرت عرباض بن ساریہ فزاری ؓ بیان کرتےہیں ، میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشا د فرماتے ہوئے سنا ہے : " میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس وقت بھی خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا ، جب حضرت آدم ؑ کا خمیر تیا ر ہو رہا تھا ۔ اور میں عنقریب تمہیں اس کے آغاز کے با رےمیں بتاؤں گا ( میں ) اپنے جدا مجد حضرت ابراہیم ؑ کی دعا حضرت عیسیٰ ؑ کی بشارت اور اپنی والدہ کے دیکھے ہوئے اس خواب ( کا نتیجہ ) ہوں جو انہوں نے اس وقت دیکھا تھا ، جب انہوں نے مجھے جنم دیا تھا کہ ان کے جس سے ایک نور نکلا جس کے ذریعے شام کے محلات روشن ہوگئے تھے "۔

رَسُولِ اللَّهِ ← الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ الْفَزَارِيِّ، ← عبد الأعلى بن هلال السلمي ← سَعِيدِ بْنِ سُوَيْد ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← [ص:313] الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6404

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6405

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ [ص:316] أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيِّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ، وَكَمَّلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ، وَيَعْجَبُونَ، وَيَقُولُونَ: هَلَّا وَضَعْتَ هَذِهِ اللَّبِنَةَ؟ قَالَ: فَأَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ»

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "میری اور مجھے سے پہلے والے انبیاء کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے ، جو ایک عمارت تعمیر کرتا ہے اور بہت عمدہ تعمیر کرتا ہے وہ اسے مکمل کر دیتا ہے ،لیکن ایک گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دیتا ہے لوگ اس عمارت کا چکر لگاتے ہیں اس کو پسند کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : یہ اینٹ کیو ں نہیں رکھی گئی نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : میں وہ اینٹ ہوں میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں"۔ اللہ تعالیٰ ان پر درود نازل کرے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، ← يَحْيَى بْنُ [ص:316] أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6405

chevron_left Previous
1…171819…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr