Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6346

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا [ص:257] الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «مَا أَشْبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے کبھی بھی مسلسل تین دن تک اپنے گھر والوں کو گندم کی روٹی پیٹ بھر کے نہیں کھلائی ،یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہوگئے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← [ص:257] الْمُحَارِبِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6346

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6347

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، فَقُلْتُ: هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ؟ فَقَالَ سَهْلٌ: «مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ» قَالَ: فَقُلْتُ: هَلْ كَانَ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ؟ قَالَ: «مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ حَتَّى قَبَضَهُ» قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: «[ص:258] كُنَّا نَطْحَنُهُ، فَنَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ، وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ، فَأَكَلْنَاهُ»

ابو حازم بیان کرتےہیں:میں نے حضرت سہل بن سعدساعدی ؓ سے دریافت کیا:کیا نبی اکرمﷺ چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھاتےتھے۔ حضرت سہل ؓ نے بتایا جب سے نبی اکرمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معبوث کیا ہے اس وقت سے لے کہ آپ کے وصال تک نبی اکرمﷺ نے کبھی بھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائی ۔ میں نے دریافت کیا:کیا نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں آپ لوگوں کےپاس چھلنیاں ہوتی تھیں ۔انہوں نے فرمایا:جب سے نبی اکرمﷺ معبوث ہوئے اس وقت سے لے کہ اپنے وصال تک نبی اکرمﷺ نے کبھی بھی چھلنی نہیں دیکھی میں نے دریافت کیا ،تو آپ چھانے بغیر جَو کیسے کھا لیتے تھے ۔انہوں نے فرمایا:ہم لوگ اسے پیس کر اس میں پھونک مارتے تھے جو چیز اڑنی ہوتی تھی وہ اڑ جاتی تھی جو باقی بچ جاتی تھی ہم اسے پکا کر کھا لیتے تھے۔

سَهْلٌ: «مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ» ← سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، فَقُلْتُ: هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ النَّقِيَّ؟ ← أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6347

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6348

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ، ثُمَّ الْهِلَالِ، [ص:259] ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ، وَمَا أُوقِدَتْ فِي بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ» قُلْتُ: يَا خَالَةُ فِيمَا كَانَ يُعَيِّشُكُمْ؟ قَالَتْ: «الْأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ وَالْمَاءُ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ - نِعْمَ الْجِيرَانُ - كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ، فَكَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهَا، فَكَانَ يَسْتَقِينَا مِنْهُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں :ہم کچھ لوگ پہلی کا ایک چاند دیکھ لیتے تھے پھر اگلی پہلی کا چاند دیکھ لیتے تھے پھر اگلی پہلی کا چاند دیکھ لیتے تھے یعنی دو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے تھے ،لیکن اس دوران نبی اکرمﷺ کے گھر وں میں آگ نہیں جلتی تھی۔ راوی کہتےہیں : میں نے دریافت کیا: خالہ جان آپ لوگوں کا گزارا کیسے ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا دو سیاہ چیزوں پر کھجوروں اور پانی پر ،البتہ نبی اکرمﷺ کے کچھ انصاری پڑوسی تھے جو بہت اچھے پڑوسی تھے ۔ان لوگوں کے پاس دودھ دینے والے جانور تھے وہ ان کا دودھ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں تحفے کے طور پر بھجوادیتےتھے ،تو ہم وہ پی لیا کرتےتھے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← أَبِي ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6348

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6349

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: «مَا أَصْبَحَ فِي آلِ [ص:260] مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ، وَلَا صَاعُ تَمْرٍ». وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں : ایک دن نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا(آج ) محمد کے گھر میں نہ، تو گندم کا ایک صاع ہے اور ہی کجھوروں کا ایک صاع ہے۔ راوہ کہتےہیں :اس زمانے میں نبی اکرمﷺ کی نواز واج تھیں ۔

أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6349

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6350

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسُ [ص:261] مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ كَانَ عِنْدِي أُحُدٌ ذَهَبًا، لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَأْتِي عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ لَا أَجِدُ مَنْ يَتَقَبَّلَهُ مِنِّي، لَيْسَ شَيْءٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: "اس ذات کی قسم ! جس کےدست قدرت میں محمد کی جان ہے اگر میری پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو ،تو مجھے یہ بات پسند ہو گی کہ تین گزرنے سے پہلے میرے پاس ان میں سے ایک دینا ر بھی باقی نہ رہے،سوائے اس دینار کے ،جسے میں نے قرض کی ادائیگی کے لئے سنبھال کر رکھا ہو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6350

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6351

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ، بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:262] مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لُحَيٍّ الْهَوْزَنِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ بِلَالًا مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ أَخْبِرْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا كَانَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ، وَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَلِي ذَلِكَ مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ الْمُسْلِمُ فَرَآهُ عَارِيًا، يَأْمُرُنِي، فَأَنْطَلِقُ، فَأَسْتَقْرِضُ، فَأَشْتَرِي الْبُرْدَةَ أَوِ النَّمِرَةَ، فَأَكْسُوهُ، وَأُطْعِمُهُ، حَتَّى اعْتَرَضَنِي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: يَا بِلَالُ إِنَّ عِنْدِي سَعَةً، فَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مِنِّي، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ، تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ قُمْتُ أُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا الْمُشْرِكُ فِي عِصَابَةٍ مِنَ التُّجَّارِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: يَا حَبَشِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا لَبَّيَهُ، فَتَجَهَّمَنِي، وَقَالَ لِي قَوْلًا غَلِيظًا، وَقَالَ: أَتَدْرِي كَمْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الشَّهْرِ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَرِيبٌ، قَالَ لِي: إِنَّمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَرْبَعٌ، فَآخُذُكَ بِالَّذِي عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَمْ أُعْطِكَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ مِنْ كَرَامَتِكَ عَلَيَّ، وَلَا كَرَامَةِ صَاحِبِكَ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَ لِتَجِبَ لِي عَبْدًا، فَأَرُدُّكَ تَرْعَى الْغَنَمَ كَمَا كُنْتَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَأَخَذَ فِي نَفْسِي مَا يَأْخُذُ النَّاسُ، فَانْطَلَقْتُ، ثُمَّ أَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ، حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي، فَقُلْتُ: [ص:263] يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ إِنَّ الْمُشْرِكَ الَّذِي ذَكَرْتُ لَكَ أَنِّي كُنْتُ أَتَدَيَّنُ مِنْهُ قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا، وَلَيْسَ عِنْدَكَ مَا تَقْضِي عَنِّي، وَلَا عِنْدِي، وَهُوَ فَاضِحِي، فَأْذَنْ لِي أَنُوءُ إِلَى بَعْضِ هَؤُلَاءِ الْأَحْيَاءِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا حَتَّى يَرْزُقَ اللَّهُ رَسُولَهُ مَا يَقْضِي عَنِّي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شِئْتَ اعْتَمَدْتَ»، قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِيَ مَنْزِلِي، فَجَعَلْتُ سَيْفِي وَجُعْبَتِي وَمِجَنِّي وَنَعْلِي عِنْدَ رَأْسِي، وَاسْتَقْبَلْتُ بِوَجْهِي الْأُفُقَ، فَكُلَّمَا نِمْتُ سَاعَةً اسْتَنْبَهْتُ، فَإِذَا رَأَيْتُ عَلَيَّ لَيْلًا نِمْتُ حَتَّى أَسْفَرَ الصُّبْحُ الْأَوَّلُ، أَرَدْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو: يَا بِلَالُ أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَإِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ مُنَاخَاتٌ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْشِرْ، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِقَضَائِكَ»، فَحَمِدْتُ اللَّهَ، وَقَالَ: «أَلَمْ تَمَرَّ عَلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الْأَرْبَعِ؟ »، فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: «إِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ، وَمَا عَلَيْهِنَّ كِسْوَةٌ وَطَعَامٌ أَهْدَاهُنَّ إِلَيَّ عَظِيمُ فَدَكَ، فَاقْبِضْهُنَّ، ثُمَّ اقْضِ دَيْنَكَ» قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَحَطَطْتُ عَنْهُنَّ أَحْمَالَهُنَّ، ثُمَّ عَقَلْتُهُنَّ، ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَى تَأْذِينِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، حَتَّى إِذَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ لِلْبَقِيعِ، فَجَعَلْتُ [ص:264] أُصْبُعَيَّ فِي أُذُنِي، فَنَادَيْتُ: مَنْ كَانَ يَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنًا فَلْيَحْضُرْ، فَمَازِلْتُ أَبِيعُ وَأَقْضِي، وَأَعْرِضُ فَأَقْضِي، حَتَّى إِذَا فَضَلَ فِي يَدَيَّ أُوقِيَّتَانِ أَوْ أُوقِيَّةٌ وَنِصْفٌ، انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَقَدْ ذَهَبَ عَامَّةُ النَّهَارِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحْدَهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا فَعَلَ مَا قِبَلَكَ؟ »، فَقُلْتُ: قَدْ قَضَى اللَّهُ كُلَّ شَيْءٍ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَضَلَ شَيْءٌ؟ »، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «انْظُرْ أَنْ تُرِيحَنِي مِنْهَا»، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَةَ دَعَانِي، فَقَالَ: «مَا فَعَلَ مِمَّا قِبَلَكَ؟ »، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ مَعِي لَمْ يَأْتِنَا أَحَدٌ، فَبَاتَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحَ، فَظَلَّ فِي الْمَسْجِدِ الْيَوْمَ الثَّانِي، حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ النَّهَارِ جَاءَ رَاكِبَانِ، فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا فَكَسَوْتُهُمَا وَأَطْعَمْتُهُمَا، حَتَّى إِذَا صَلَّى الْعَتَمَةَ دَعَانِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ؟ »، فَقُلْتُ: قَدْ أَرَاحَكَ اللَّهُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللَّهَ شَفَقًا أَنْ يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ وَعِنْدَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَاءَ أَزْوَاجَهُ فَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ امْرَأَةٍ، حَتَّى أَتَى مَبِيتَهُ، فَهَذَا الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ

عبداللہ ہوزنی بیان کرتےہیں :میری ملاقات نبی اکرمﷺ کے مؤذن حضرت بلال ؓ سے ہوئی ۔میں نے کہا: اے بلال آپ مجھے بتائیے کہ نبی اکرمﷺ کا خرچ کیسے چلتا تھا ،تو حضرت بلال ؓ نے بتایا نبی اکرمﷺ کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا اس دن سے آپ کے وصال تک میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ رہا ہوں جب کوئی مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ دیکھتے کہ اس کے پاس مناسب کپڑے نہیں ہیں ،تو آپ مجھے حکم دیتے میں جاتا آپ کےنام پر قرض لیتا۔ اس کے ذریعے کپڑا یا چادر خرید تا اور اس شخص کے پہننے کے لئے دیدیتا اوراس شخص کو کھانا کھلا دیتا،یہان تک کہ ایک مشرک شخص میرے پاس آیا اور بولا: اے بلال میرے پاس گنجائش ہے تم صرف مجھ سے قرض لیا کرو میں نے ایسا ہی کیا۔ ایک سن میں نے وضو کیا میں نماز کے لئے اذان کے لیے اٹھنے لگا ،تو وہ مشرک شخص کچھ تاجروں کے ساتھ آیا جب اس نے مجھے دیکھا ،تو بولا: اے حبشی میں نے کہا:کیا ہے ،تو اس نے مجھے برا بھلا کہا اور میرے بارے میں سختی سے کام لیا۔ اس نے دریافت کیا:کیا تم یہ بات جانتےہو کہ مہینہ ختم ہونے میں کتنے دن رہ گئے ہیں ۔ میں نے جواب دیا :جی ہاں تھوڑا ہی وقت ہے۔ اس نے مجھ سے کہامہینہ ختم ہونے میں چار دن باقی رہ گئے ہیں ،پھر میں نے تم سے وہ وصولی کر لینی ہے ،جو تمہارے ذمے لازم ہے میں نے تمہیں قرض اس لئے نہیں دیا تھا کہ تم میرے نزدیک معزز ہو یا تمہارے آقا میرے نزدیک معزز ہیں ۔میں نے تمہیں قرض اس لئے دیا تھا ،تاکہ مجھے (قرض وصول نہ ہونے کی صورت میں ) غلام حاصل ہوجائے ،تو میں تم سے بکریاں چرواؤں گا ،جس طرح تم پہلے چرایا کرتےتھےحضرت بلال ؓ کہتے ہیں: میں بھی پریشان ہو گیا جس طرح لوگ پریشان ہوتےہیں۔ خیر میں گیا میں نماز کے لئے اذان یہاں تک کہ جب میں نے عشاء کی نماز ادا کرلی نبی اکرمﷺ اپنے واپس تشریف لے گئے ،تو میں نے آپ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ۔آپ نے مجھے اجازت عطا کی ۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! میرے والد آپ پر قربان ہوں۔ وہ مشرک جس کا میں نے آپ کے سامنے ذکر کیا تھا کہ میں اس سے قرض لیتا ہوں ۔ اس نے مجھے اس اس طرح کی باتیں کی ہیں اور آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی نہیں ہے ، جو آپ میری طرف سے ادا کردیں اور میرے پاس بھی نہیں ہے اوروہ شخص مجھے رسواکر دے گا ۔آپ مجھے اجازت دیجئے تا کہ میں ان قبائل کی طرف جاؤں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو اتنا رزق عطا کردے کہ وہ میرا قرض ادا کر دیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:اگر تم یہ چاہتے ہو ،تو ایسا کر لو حضرت بلال ؓ کہتےہیں: میں وہاں سے نکل کر آیا ۔ میں اپنی تلوار ،اپنا ترکش اپنی ڈھال اپنے جوتے اپنے سرہانے رکھ لئے ۔ میں نے اپنا رُخ اُفق کی طرف کیا۔ میں جب بھی تھوڑی دیر کے لئے سوتا تھا ،تو فوراً بیدار ہو جاتا تھا ،لیکن اس رات میں ایسا سویا کہ صبح صادق ہو گئی۔ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا اسی دوران ایک شخص دوڑتا ہوا ٓیا وہ کہ رہا تھا۔ نبی اکرمﷺ کے پاس جاؤ میں اٹھا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔وہاں چار سواریاں موجود تھیں جن پر ان کے پالان وغیرہ بندھے ہوئے تھے۔ میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ آپ نے مجھ سےفرمایا تمہارے لئے خوشخبری ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے قرض کی ادائیگی کا بندوبست کر دیا ہے ، تو میں نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارا گزرا دن چار سواریوں کے پاس نہیں ہوا جو باندھی ہوئی تھیں ۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا:وہ سواریاں اور ان پر موجود کپڑے اور کھانا تمہارے ہوئے ، یہ سب چیزیں مجھے فدک کے امیر نے تحفے کے طور پر بھیجی ہیں ۔ تم انہیں حاصل کرلو اور اپنا قرض ادا کردو۔ حضرت بلال ؓ کہتےہیں :میں نے ایسا ہی کیا۔ میں نے ان کے اوپر سے پالان اتارلی اور پھر انہیں باندھ دیا پھر میں صبح کی نماز کے لئے اذان دینے گیا ، یہاں تک کہ جب نبی اکرمﷺ نےنماز ادا کرلی، تومیں نکل کر بقیع کے میدان میں آیا۔ میں نے اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں دیں اور بلند آواز میں اعلان کیا جس نے نبی اکرمﷺ سے قرض واپس لینا تھا وہ آجائے اس کے بعد میں خریدوفروخت کرتا رہا اور قرض ادا کرتا رہا ،یہاں تک کہ میرے ساتھ میں دو اوقیہ یاڈیڑھ باقی بچ گئے۔ میں مسجد کی طرف آیا دن کا زیادہ حصہ رخصت ہوچکا تھا ۔نبی اکرمﷺ مسجد میں اکیلے تشریف فرماتھے۔ میں نے آپ کوسلام کیا ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا تمہاری کیا صورت حال ہے۔ میں نے عرض کی :اللہ تعالیٰ نے ہر وہ چیز ادا کروادی ہے، جو نبی اکرمﷺ کے ذمے لازم تھی کوئی بھی چیز (یعنی قرض ) باقی نہیں رہا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:کیا کوئی چیز باقی بچی ہے۔میں نے عرض کی :جی ہاں ،نبی اکرمﷺ نے فرمایاتم دیکھو کہ اس کے ذریعے مجھے آرام پہنچانا پھر جب نبی اکرمﷺ نے عشاء کی نمازاداکرلی ،تو آپ نے مجھے بلایا آپ نے دریافت کیا تمہاری کیا صورت حال ہے ۔ میں نے عرض کی :وہ چیز میرے پاس ہے۔ ہمارے پاس کوئی بھی نہیں آیا۔ نب اکرم ﷺ نے وہ رات مسجد میں گزاری ،یہاں تک کہ صح ہوگئی آپ اگلا دن بھی مسجد میں رہے ، یہاں تک کہ دن کا آخری حصہ آگیا ،تو دوسوار آئے ۔ میں ان دونوں کو ساتھ لے کر آگیا۔میں نے ان دونوں کو پہننے کے لئے کپڑے لے کر دئیے ۔ انہیں کھانا کھلایا، یہاں تک کہ جب نبی اکرمﷺ نے عشاوء کی نماز ادا کرلی ، توآپ نے مجھے بلایا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا :کیا صورت حال ہے ۔میں نے عرض کی: یارسول اللہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس چیز کی طرف سے راحت پہنچا دی ہے ۔ (یعنی وہ بقیہ مال بھی اللہ کی راہ میں خرچ ہوگیا) ،تو نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کی اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی، اس اندیشے کے تحت کہ آپ کو کہیں ایسی حالت میں موت نہ آجائے کہ وہ مال آپ کے پاس موجود ہو، پھر میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ چلتا ہوا آیا۔ نبی اکرمﷺ اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے گئے ۔ آپ نے ہر ایک زوجہ محترم کو سلام کیا۔ یہاں تک آپ اس گھر میں آئے جہاں آپ نے رات بسر کرنی تھی۔ (حضرت بلال ؓ نے فرمایا) یہ وہ صورت حال تھی جس کے بارے میں تم نے مجھ سے دریافت کیا تھا۔

أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَیْرُوتَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6351

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6352

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَحْطَبَةَ، بِفَمِ الصِّلْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَرَ فِي جَنْبِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ: «يَا عُمَرُ مَا لِي وَلِلدُّنْيَا، وَمَا لِلدُّنْيَا وَلِي، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرْكَهَا»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتےہیں:حضرت عمر بن خطاب ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ جس کا نشان آپ کےپہلو پر لگ چکا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کی:یارسول اللہ(ﷺ)! اگر آپ اس سے زیادہ نرم بچھونا استعمال کرتے(تو مناسب ہوتا) نبی اکرمﷺ نے فرمایا:میرا دنیا سے کیا واسطہ اور دنیا کا مجھ سے کیا واسطہ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ میری اور دنیا مثال یوں ہے جیسے کوئی سوار شخص تیز گرم دن میں سفر کرتےہوئے ،گھڑی بھر کےلئے ،کسی درخت کے سائے میں آئے اور پھر وہ اسے چھوڑ کر آگے روانہ ہوجائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَحْطَبَةَ، بِفَمِ الصِّلْحِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6352

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6353

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ، فَرَأَى عَلَى بَابِهَا سِتْرًا، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا، قَالَ: وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا، فَجَاءَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ فَقَالَتْ: جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَدْخُلْ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا وَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنَا وَالدُّنْيَا، وَمَا أَنَا وَالرَّقْمُ»، فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ، فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ [ص:267] اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: فَقُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «قُلْ لَهَا، فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ یان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ سیدہ فاطمہ ؓ کے ہاں تشریف لائے آپ نے ان کے دروازے پر پردہ لٹکا ہوا دیکھا ،تو گھر کے اندر تشریف نہیں لائے۔ آپ جب بھی گھر میں تشریف لاتےتھے ،تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لاتے تھے جب حضرت علی ؓگھر آئے اور انہوں نے سیدہ فاطمہ کو پریشان دیکھا ،تو دریافت کیا:کیا ہوا؟سیدہ فاطمہ ؓ نے بتایا:نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لائے ،لیکن آپ گھر کے اندر نہیں آئے۔ حضرت علیؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی:یا رسول اللہ ! فاطمہ اس بات پر پریشان ہیں کہ آپ ان کے ہاں آئے ،لیکن گھر کے اندر تشریف نہیں لائے نبی اکرمﷺ نے فرمایا:میرا اور دنیا کا کیا واسطہ میرا اور تقش ونگار کا کای واسطہ ؟ حضرت علی سیدہ فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کے بارے میں بتایا،تو سیدہ فاطمہ ؓنے فرمایا:آپ نبی اکرمﷺ سے دریافت کیجئے کہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:تم اس سے کہو کہ اس (پردے کو)بنو فلاں کو بھوادے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6353

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6354

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ بَيْتًا مَرْقُومًا»

حضرت سفینہؓ بیان کرتےہیں:نبی اکرمﷺ ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے جہاں نقش ونگار بنے ہوئے ہوں

سَفِينَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← رَبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6354

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6355

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ، فَقَالَ: «كُلُوا، فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا، وَلَا شَاةً سَمِيطَةً بِعَيْنِهِ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ»

قتادہ بیان کرتےہیں: ہم لوگ حضرت انس بن مالک ؓ کےپاس آئے۔ ان کس نانبائی کھڑا ہوا (روٹیاں لگا رہا تھا) حضرت انس نے فرمایا:تم لوگ کھانا کھاؤ کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو کبھی بھی پتلی (یعنی چھنے ہوئے آٹے کی ) روٹی کھتے ہوئے اور بھنی ہوئی بکری کھاتےہوئے نہیں دیکھا،یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔

كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6355

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6356

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ فِي عِدَّةٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ»

حضرت انس ؓبیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ کل کےلئے کوئی چیز ذخیرہ کرکے نہیں رکھتےتھے

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ فِي عِدَّةٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6356

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6357

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَمَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «أَنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَتْ لَهُ خَالِصَةٌ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَتِهِ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا:بنو نصیر کی زمینیں وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کی تھی ۔ مسلمانوں نےان کے حصول کےلئے گھوڑے اور سوریاں نہیں دوڑائے تھے،تو یہ نبی اکرمﷺ کے لئے مخصوص تھیں آپ ان میں سے اپنے اہل خانہ کے سال بھر کا خرچ حاصل کرتےتھے اور جو باقہ بچ جاتا تھا وہ اللہ کی راہ میں سازوسامان اور اسلحے کے لئے استعمال کرتےتھے۔

مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَمَعْمَرٍ ← سُفْيَانَ، ← مُسَدَّدٌ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6357

chevron_left Previous
1…131415…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr