صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6334
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، [ص:243] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ فَشَقَّ قَلْبَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَقَالَ: «هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ لَأَمَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ - يَعْنِي ظِئْرَهُ - فَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ فَاسْتَقْبَلُوهُ مُنْتَقِعَ اللَّوْنِ، قَالَ أَنَسٌ: قَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «شُقَّ صَدْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَبِيٌّ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، وَأُخْرِجَ مِنْهُ الْعَلَقَةُ، وَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا الْإِسْرَاءَ بِهِ أَمَرَ جِبْرِيلَ بِشَقِّ صَدْرِهِ ثَانِيًا، وَأَخْرَجَ قَلْبَهُ فَغَسَلَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ مَكَانَهُ مَرَّتَيْنِ فِي مَوْضِعَيْنِ، وَهُمَا غَيْرُ مُتَضَادَّيْنِ»
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ کے پاس حضرت جبرائیل آئے۔ نبی اکرمﷺ اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔(یعنی یہ نبی اکرمﷺ کےبچپن کا واقعہ ہے) انہوں نے نبی اکرمﷺ کو پکڑا آپﷺ کو لٹایا آپﷺ کے دل کو چیرا اور اس میں سے جما ہوا خون نکالا اور بولے: یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا،پھر انہوں نے نبی اکرمﷺ کا قلب مبارک سونے سے بنے ہوئے طشت میں رکھ کر آبِ زم زم کے ذریعے دھویا،پھر اسے واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا ۔ بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ یعنی آپ کی دائی اماں کےپاس آئے اور انہوں نے کہا:حضرت محمدﷺ کو قتل کر دیا گیا وہ لوگ آپﷺ کے پاس آئے ،تو اس کی رنگت تبدیل ہو چکی تھی، حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں:میں نے نبی اکرمﷺ کے سینہ مبارک ،میں ،سیے جانے کا نشان دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان بیان کرتےہیں :) نبی اکرمﷺ کے سینہ مبارک کو شق کرنے کا واقعہ (پہلی مرتبہ) اس وقت ہوا،جب آپ بچے تھے اور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ تو آپ کے اندر سے جما ہوا خون نکالا گیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو معراج پر لے جانے کا ارادہ کیا ،تو اس نے حضرت جبرائیل ؑ کو حکم دیا انہوں نے دوسری مرتبہ آپ ﷺ کا شق صدر کیا۔ آپ ﷺ کےدل کو نکال کر دوبارہ اسے دھویا اور پھر اسے اس کی جگہ پر رکھ دیا ،تو ایسا دو مرتبہ ہوا اور دو مختلف موقعوں پر ہوا۔ ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6334
