Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6190

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، مُكَلَّمٌ»، قَالَ: فَكَمْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ؟ قَالَ: «عَشَرَةُ قُرُونٍ».

حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتےہیں :ایک شخص نے عرض کی:یارسول اللہ (ﷺ)!کیاحضرت آدم نبی تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے جواب دیا :جی ہاں ان کے ساتھ کلام بھی کیا گیا ۔اس نے دریافت کیا ان کے اور حضرت نوح کےدرمیان کتنا وقت ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:دس10صدیاں۔ ابو توبہ نامی راوی کا نام ربیع بن نافع ہے۔

أَبَا أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا، ← أَبَا سَلَّامٍ، ← أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 6190

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6191

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، [ص:71] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهَا فَقَدْ وُقِيَ»

حضرت ابوہریرہ ؓروایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "ہر نبی کے ساتھ دو فرشتےہوتےہیں ، جس میں سے ایک اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی کے منع کرتا ہے اور ایک کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا ، تو جس شخص کو اس کے شر سے بچا لیا گیا اسے (خراب ہونے سے )بچالیا گیا ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ، [ص:348] ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 6191

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6192

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ»

حضٖرت ابو سعید خدری ؓ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: "اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو معبوث کیا اور اس کے بعد جس کو بھی اس کا خلیفہ بنایا ، تو اس کے ساتھ دو(فرشتے )ہوتےہیں ان میں سے ایک اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دیتاہے اور ایک اسے برائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دیتاہے،جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے وہی محفوظ رہتاہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 6192

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6193

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:73] أَبِي عَتَّابٍ الْأَعْيُنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يُهْدُونَ بِهَدْيِهِ، وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ أَقْوَامٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُنْكِرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "ہر نبی کے کچھ حواری ہوتےہیں جو اس کی ہدایت کی پیروی کرتےہیں اس کی سنت پر عمل کرتےہیں پھر اس کے بعد کچھ لوگ آجاتےہیں جو ایسی باتیں کرتےہیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے اور ایسے کام کرتےہیں ، جنہیں وہ خود گناہ قرار دیتے ہیں ،تو جو شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہوگا ،جو اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرے گا وہ مومن ہوگا ، جو شخص اپنے دل کے ذریعے جہاد کرے گاوہ مومن ہوگا اور پھر اس کے بعد رائے کے دانے کے وزن جتنا بھی ایمان نہیں ہے۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ← جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، ← الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ [ص:73] أَبِي عَتَّابٍ الْأَعْيُنُ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 6193

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6194

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ»، قَالُوا: وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، وَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا : "دنیا اور آخرت میں ،میں حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے سب سے زیادہ قریب ہوں ۔" لوگوں نے دریافت کیا وہ کیسے یا رسول اللہ ﷺ ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: انبیاء علاتی بھائی ہیں جن کی مائیں مختلف ہیں ، لیکن ان کا دین ایک ہے ، لیکن ہمارے (یعنی میرے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے درمیان )کوئی اور نبی نہی ہے۔

وَكَيْفَ ذَاكَ ← أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ»، ← وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6194

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6195

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى، الْأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ»

حضرت ابو ہریرہ ؓروایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "میں حضرت عیسیٰ ؑ کے سب سے زیادہ قریب ہوں ،انبیاء علاتی بھائی ہیں میرے اور حضرت عیسیٰؑ کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Hadith 6195

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6196

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً دَعَاهَا فِي أُمَّتِهِ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي»

حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہے ،جو اپنی امت کےلیے کرتاہے اور میں نے اپنی دعاکو اپنی امت کی شفاعت کےلیے سنبھال کے رکھا ہے۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 6196

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6197

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ قَالَ: «لَا تَسْأَلُوا نَبِيَّكُمُ الْآيَاتِ، هَؤُلَاءِ قَوْمُ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ آيَةً فَكَانَتِ النَّاقَةُ تَرِدُ عَلَيْهِمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَيَشْرَبُونَ مِنْ لَبَنِهَا يَوْمَ وُرُودِهَا مِثْلَ مَا غَبَّهُمْ مِنْ مَائِهِمْ، فَعَقَرُوهَا فَوُعِدُوا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَكَانَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ، فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ، فَلَمْ يَبْقَ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ رَجُلٌ إِلَّا أَهْلَكَتْ إِلَّا رَجُلٌ فِي الْحَرَمِ مَنَعَهُ الْحَرَمُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُوَ؟ قَالَ: «أَبُو رِغَالٍ أَبُو ثَقِيفٍ» * [أَبُو رِغَالٍ أَبُو ثَقِيفٍ] قال الشيخ: زاد أحمد: «فلما خرج من الحرم؛ أصابه ما أصاب قومه».

حضرت ؓ بیان کرتےہیں :جب نبی اکرمﷺ قوم ثمود کی بستی کے پاس لائے تو آپﷺ نے ارشادفرمایا:تم اپنے نبی سے معجزات کے بارے میں مطالبہ نہ کرنا کیونکہ حضرت صالح ؑ کی قوم نے اپنے نبی سے معجزے کا مطالبہ کیا ،تو اس راستے سے ایک اونٹنی نکل کر ان کے پاس آئی وہ اس رادستے سے واپس چلی جایا کرتی تھی وہ لوگ اس اونٹنی کا دودھ پیا کرتےتھے جس دن وہ اونٹنی پانی پینے کیلئے آتی تھی اتنا ہی جتنا وہ ان کے پانی پر وقفہ کے ساتھ آتی تھی ہوتا تھا ان لوگوں نے اس اونٹنی کےپاؤںکاٹ دئے ،تو ان لوگوں نےساتھ تین دن کے اندر (عذاب آنے کا ) وعدہ کیا گیا یہ ایک ایسا وعدہ تھا جس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے تھی ،تو ایک زبردست آواز نے انہیں اپنی گرفت میں لےلیا اس وقت آسمان کے نیچے موجود ہر شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا ماسوائے اس شخص کے جو حرم کی حدود کے اندر تھا حرم نے انہیں اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھا ۔ لوگوں نے عرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)! وہ کون شخص تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:ثقیف قبیلے کاجدامجد ابورغال ۔

لَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ الْحِجْرَ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 6197

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6198

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا [ص:79] يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: «أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمَرُّوا عَلَى قَبْرِ أَبِي رِغَالٍ وَهُوَ أَبُو ثَقِيفٍ وَهُوَ امْرُؤٌ مِنْ ثَمُودَ، مَنْزِلُهُ بِحَرَّاءَ، فَلَمَّا أَهْلَكَ اللَّهُ قَوْمَهُ بِمَا أَهْلَكَهُمْ بِهِ مَنَعَهُ لِمَكَانِهِ مِنَ الْحَرَمِ، وَأَنَّهُ خَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ هَاهُنَا مَاتَ، فَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَابْتَدَرْنَا، فَاسْتَخْرَجْنَاهُ»

حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتےہیں :ایک مرتبہ وہ نبی اکرمﷺ کےساتھ سفر کر رہے تھے ان لوگوں کا گزر ابورغال کی قبر سے ہوا جو ثقیف قبیلے کاجدامجد تھا یہ ایک ایسا شخص تھا جو ثمود قوم سے تعلق رکھتا تھا اس کی رہائش گاہ حراء کے مقام پرتھی ، جب اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کو ہلاکت کا شکار کردیا، تو وہ ہلاکت کا شکار نہیں ہوا کیونکہ وہ حرم میں رہائش پذیر تھا ، پھر وہ وہاں سے نکلا جب وہ یہاں پہنچا تو یہاں اس کا انتقال ہوگیا اس کے ہمراہ سونے کی ایک ٹہنی کو دفن کیا گیا۔ (راوی کہتےہیں ) ہمرتیزی سے وہاں گئے اور سونے کی ٹہنی کو نکال لیا۔

بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← [ص:402] يزيد بن زريع، ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6198

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6199

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ [ص:80] تَكُونُوا بَاكِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ»، ثُمَّ رَحَلَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفْهَا

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ کے ہمراہ ہمارا گزر "فجر " کے مقام سے ہوا ،تو نبی اکرمﷺ نے ہم سے فرمایا تم ان لوگوں کی رہائش جگہ میں روتےہوئے داخل ہو، جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اس بات سے ڈرتےہوئے کہ کہیں تمہیں بھی وہی عذاب لاحق ہو ا تھا ،پھر نبی اکرمﷺ نے اپنی رفتار تیز کی اور اس وادی سے آگے گزر گئے۔

مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ بِالْحِجْرِ، ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنِ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 6199

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6200

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ: «لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے حجر (کی بستی سے گزرنے والوں ) سے فرمایا:تم اس عذاب یافتہ قوم کے علاقے میں روتےہوئے داخل ہونا کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی وہی عذ اب لاحق ہو جو انہیں لاحق ہوا تھا۔ 258۔اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا جن کا تعلق قوم ثمود سے تھا اور انہیں عذاب دیا گیا ،تو اس کی وجہ سے ان کی سرزمین پر داخل ہونے والے شخص کو اس چیز سے منع کیاگیا ہے جس سے اس کو منع کیا گیا (یعنی وہ روتےبغیر داخل نہ ہو)

ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 6200

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6201

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: [ص:82] حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ: «لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓبیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے حجر کی بستی والوں کے بارے میں فرمایا:تم اس عذاب یافتہ قوم کے علاقے میں روتےہوئے داخل ہونا تم یہاں داخل نہ ہونا (یعنی یہاں ٹھہرنانہیں ) کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی عذاب لاحق ہو جائے جو انہیں لاحق ہوا تھا

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← [ص:149] ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6201

chevron_left Previous
1234…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr