Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4999

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ، بِالتَّمْرِ [ص:375] كَيْلًا، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ، بِالزَّبِيبِ كَيْلًا، وَعَنْ بَيْعِ الزَّرْعِ، بِالْحِنْطَةِ كَيْلًا»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے کھجور کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کھجور کے عوض میں ماپ کر فروخت کرنے اور انگور کو کشمش کے عوض میں ماپ کر فروخت کرنے اور ( گندم کے ) کھیت کو گندم کے عوض میں ماپ کر فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔

نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4999

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5000

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِلَّانَ، بِأَذَنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے مزابنہ ، محاقلہ ، معاوضہ سے منع کیا ہے البتہ آپﷺ نے عرایا کے بارے میں اجازت دی ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلَّانَ، بِأَذَنَةَ،

Hadith 5000

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5001

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ، أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ»

حضرت زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے عریہ والے شخص کو رخصت دی ہے ‘ وہ اندازے کے تحت کھجوروں کو فروخت کر سکتا ہے۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 5001

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5002

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ، بِالثَّمَرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ، أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا، وَالْعَرِيَّةُ أَنْ يَأْكُلَهَا أَهْلُهَا رُطَبًا»

حضرت سہل بن ابو حثمہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے پھل کے عوض میں پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ آپ نے عریہ کےبارے میں اجازت د ی ہے ‘ اسے اندازے کے تحت فروخت کیا جا سکتا ہے ’’ عرٰیہ ‘‘ یہ ہے : اس کے اہل خانہ تازہ کھجوریں کھالیں۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Hadith 5002

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5003

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ، بِالسُّلْتِ، فَقَالَ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟، قَالَ: الْبَيْضَاءُ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنْ يَبِسِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ، إِذَا يَبِسَ؟ »، قَالَ: نَعَمْ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ

ابو عیاش زید بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے جَو کی ایک قسم کے عوض میں دوسری قسم کے لین دین کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے دریافت کیا ان دونوں میں سےکون زیادہ فضیلت رکھتا ہے انہوں نے جواب دیا : سفید والا ‘ تو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے انہیں اس سے منع کر دیا اور یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو سنا ۔ آپ سے ترکھجور کے عوض میں خشک کھجور کو فروخت کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تر کھجور خشک ہو کر کم ہو جاتی ہے ؟ سائل نے جواب دیا : جی ہاں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اسے اس سے منع کر دیا۔

ذَلِكَ ← نَعَمْ، فَنَهَاهُ ← يَبِسِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ، إِذَا يَبِسَ؟ ← رَسُولَ اللَّهِ سُئِلَ ← ذٰلِکَ وَقَالَ: ← الْبَيْضَاءُ، فَنَهَاهُ ← الْبَيْضَاءِ، بِالسُّلْتِ، فَقَالَ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟، ← أَنَّهُ، سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Hadith 5003

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5004

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ حضرت زی د بن ثابتؓ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے عرایا کو اندازے کے تحت ( فروخت کرنے ) کی اجازت دی ہے۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 5004

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5005

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ «رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘ حضرت زید بن ثابت ؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ نے عرایا کو اندازے کے تحت فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ «رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا» ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 5005

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5006

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ [ص:380] أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا، فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الشَّكُّ مِنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، فِي أَحَدِ الْعَدَدَيْنِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے عرایا کو فروخت کرنے کی اجازت دی ہے‘ جب کہ وہ پانچ وسق سے کم ہو ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) وہ پانچ وسق ہو۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) ان دونوں میں سے کسی ایک عدد کے بارے میں یہ شک داؤد بن حصین نامی راوی کو ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ [ص:380] أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 5006

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5007

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا، فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے عرایا کو فروخت کرنے کی اجازت دی ہے ‘ جب کہ وہ پانچ وسق سے کم ہو ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) پانچ وسق ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 5007

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5008

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَذِنَ لِلْعَرَايَا، أَنْ يَبِيعُوهَا بِخَرْصِهَا يَقُولُ: «الْوَسْقُ، وَالْوَسْقَيْنِ، وَالثَّلَاثَةُ، وَالْأَرْبَعَةُ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو سنا۔ جب آپﷺ نے عرایا کے بارے میں اجازت دی کہ اسے اندازے کے تحت فروخت کر سکتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ( اسے اس وقت فروخت کر سکتے ہیں ) جب کہ وہ ایک وسق ہو یا دو وسق ہو ‘ یا تین ہو یا چار ہو۔

«الْوَسْقُ، وَالْوَسْقَيْنِ، وَالثَّلَاثَةُ، وَالْأَرْبَعَةُ» ← رَسُولَ اللَّهِ حِينَ أَذِنَ لِلْعَرَايَا، أَنْ يَبِيعُوهَا بِخَرْصِهَا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5008

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5009

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ»

حضرت زید بن ثابتؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے عرایا کو ( اندازے کے تحت ) فروخت کرنے کی اجازت دی ہے آپﷺ نے اس کے علاوہ کے بارے میں اجازت نہیں دی ہے۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Hadith 5009

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 5010

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، [ص:383] عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: «كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ سَيْفًا، فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ»، فَقَالَ: «لَا أُعْطِيكَ، حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ»، فَقُلْتُ: «لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ، ثُمَّ يُحْيِيَكَ»، قَالَ: «إِذَا أَمَاتَنِي اللَّهُ، ثُمَّ يَبْعَثُنِي وَلِي مَالٌ وَوَلَدٌ أَعْطَيْتُكَ»، فَقُلْتُ: «ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا، وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا} [مريم: 77]» الْآيَةَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «إِنْ سَبَقَ إِلَى قَلْبِ الْمُسْتَمِعِينَ، بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ: فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ سَيْفًا فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ إِبَاحَةُ التِّجَارَةِ إِلَى دُورِ الْحَرْبِ وَبَيْعُ الْمُسْلِمِ الْحَرْبِيَّ، مَا يَتَقَوَّى بِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَلْيَعْلَمْ أَنَّ هَذَا اسْتِنْبَاطٌ ضَعِيفٌ وَاسْتِدْلَالٌ تَالِفٌ، وَذَلِكَ أَنَّ الْوَقْتَ الَّذِي عَمِلَ خَبَّابٌ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّيْفَ فِيهِ، لَمْ يُنْزِلِ اللَّهُ فِيهِ آيَةَ الْقِتَالِ، وَلَا فَرَضَ الْجِهَادَ، لِأَنَّ فَرْضَ الْجِهَادِ، وَالْأَمْرَ بِقِتَالِ الْمُشْرِكِينَ، كَانَ بَعْدَ إِخْرَاجِ أَهْلِ مَكَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى حَسَبِ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ، وَهَذِهِ الْقِصَّةُ، كَانَتْ بِمَكَّةَ، قَبْلَ فَرْضِ اللَّهِ الْجِهَادَ عَلَى النَّاسِ»

حضرت خباب ؓ بیان کرتے ہیں : میں مکہ میں لوہار تھا ؟ میں نے عاص بن وائل کے لئے تلوار بنائی میں اس کے پاس ( اس کی قیمت کا ) تقاضا کرنے کے لئے آیا ‘ تو اس نے کہا: میں تمہیں اس وقت تک ادائیگی نہیں کروں گا ‘ جب تک تم حضرت محمد ﷺ کا انکار نہیں کرتے ۔ میں نے کہا: میں اس وقت تک حضرت محمد ﷺ کا انکار نہیں کروں گا ‘ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندگی نہیں دیتا ۔ اس نے کہا: جب اللہ تعالیٰ مجھے موت دے کر دوبارہ زندگی دے گا اس وقت میرے پاس مال بھی ہو گا اور اولاد بھی ہو گی ‘ تو میں تمہیں ادائیگی کر دوں گا۔ ( حضرت خبابؓ بیان کرتے ہیں) میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے ‘جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور یہ کہتا ہے : مجھے عنقریب مال اور اولاددیئے جائیں گے ‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) اگر ان الفاظ کو سننے والے افراد کا دل اس طرف چلا جائے یعنی یہ الفاظ کہ میں نے عاص بن وائل کے لئے تلوار بنائی اور پھر میں اس کے پاس ( اس کے معاوضے کا ) تقاضا کرنے کے لئے آیا ( تو اس کو سننے والا یہ سمجھتے ) کہ دارالحرب میں تجارت کرنا مباح ہے اور مسلمان کا حربی کے ساتھ خریدو فروخت کرنا مباح ہے ‘ جبکہ وہ اس کی قیمت کے ذریعے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے ‘ تو یہ بات جان لینی چاہئے کہ یہ کمزور استنباط اور نقصان کرنے والا استدلال ہو گا اس کی وجہ یہ ہے ‘ جب حضرت خباب ؓ نے عاص بن وائل کے لئے یہ کام تلوار بنائی تھی اس وقت اللہ تعالیٰ نے قتال کے حکم سے متعلق آیت نازل نہیں کی تھی اور جہاد کو فرض قرار نہیں دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے ‘جہاد کی فرضیت اور مشرکین سے قتال کرنے کا حکم نبی اکرمﷺ کے مکہ مکرمہ سے تشریف لے جانے کے بعد نازل ہوا تھا جیسا کہ ہم پہلے اس بات کا ذکر کر چکے ہیں اور (حضرت خبابؓ کا ) یہ واقعہ مکہ کا ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ کے لوگوں پر جہاد کو فرض کرنے سے پہلے کا ہے۔

خَبَّابٍ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 5010

chevron_left Previous
1…8910…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr