Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4939

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ»

عون بن ابو حجیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے خون کی قیمت اور کتے سے منع کیا ہے۔

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4939

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4940

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَالسِّنَّوْرِ، فَقَالَ: «زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ»

ابو زبیر بیان کرتے ہیں : میں حضرت جابر ؓ سے کتے اور بلی کی قیمت ( کھانے ک بارے میں ) دریافت کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : اللہ کے رسول نے اس سے منع کیا ہے ۔

ذَلِكَ ← ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَالسِّنَّوْرِ، فَقَالَ: «زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ ← سَأَلْتُ جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4940

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4941

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ مَهْرَ الْبَغِيِّ، وَثَمَنَ الْكَلْبِ، وَالسِّنَّوْرِ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ مِنَ السُّحْتِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ بیشک فاحشہ عورت کی کمائی ‘ کتے کی قیمت ‘ بلی کی قیمت اور پچھنے لگانے والے کی کمائی حرام ہے ‘‘۔

«إِنَّ مَهْرَ الْبَغِيِّ، وَثَمَنَ الْكَلْبِ، وَالسِّنَّوْرِ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ مِنَ السُّحْتِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← قَيْسِ بْنِ سَعِيدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4941

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4942

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا، حَرَّمَ شُرْبَهَا»، فَسَارَ الرَّجُلُ إِنْسَانًا إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بِمَ سَارَرْتَهُ؟ »، فَقَالَ: أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعُهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا، حَرَّمَ بَيْعَهَا فَفَتَحَ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهِمَا»

اب وعلہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جو انگور میں سے نچوڑا جاتا ہے ‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے بتایا ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کو شراب کا مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پینے کو حرام قرار دے دیا ہے ؟ اس شخص نے اپنے پہلو میں موجود ایک شخص سے سرگوشی میں کوئی بات کی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا تم نے اس کے ساتھ سرگوشی میں کیا بات کی ہے ؟ اس نے عر ض کی : میں نے اسے ہدایت کی ہے ‘ یہ اس کو فروخت کر دے۔ نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا : بیشک ( اللہ تعالیٰ نے ) جس چیز کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس کو فروخت کرنے کو بھی حرام قرار دیا ہے ‘ تو اس شخص نے اس مشکیزے کا منہ کھول دیا ‘ یہاں تک کہ اس میں موجود سب کچھ ختم ہو گیا ۔ ( یعنی نیچے گر گیا)

ابن وعله ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4942

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4943

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓؓ بیان کرتی ہیں :سود کے بارے میں سورہ بقرہ کی آخری آیات جب نازل ہوئیں۔ تو نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے اور آپ نے شراب کی تجارت کو حرام قرار دیا۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4943

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4944

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: [ص:319] حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ وَالْخَمْرُ حَلَالٌ فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَأَقْبَلَ بِهَا عَلَى بَعِيرٍ، حَتَّى وَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَقَالَ: «مَا هَذَا مَعَكَ؟ »، قَالَ: رَاوِيَةٌ مِنْ خَمْرٍ أَهْدَيْتُهَا لَكَ، قَالَ: «هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا حَرَّمَهَا»، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا»، فَالْتَفَتَ الرَّجُلُ إِلَى قَائِدِ الْبَعِيرِ، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَقَامَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاذَا قُلْتَ لَهُ»، قَالَ: أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا، قَالَ: «إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا»، قَالَ: فَأَمَرَ بِعَزَالِي الْمَزَادَةِ فَفُتِحَتْ، فَخَرَجْتُ فِي التُّرَابِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي الْبَطْحَاءِ، مَا فِيهَا شَيْءٌ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: جس زمانہ میں شراب کو حرام قرار نہیں دیا گیا تھا ایک شخص ( اپنے گھر سے ) نکلا۔ اس نے نبی اکرمﷺ کو شراب کا ایک مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کرنا تھا۔ وہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا۔ اس نے نبی اکرمﷺ کو تشریف فرما پایا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا تمہارے ساتھ کیا ہے ۔ اس نے عرض کی: شراب کا مشکیزہ ہے ‘ جو میں نے آپ کو تحفے کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ نبی اکرمﷺنے دریافت کیا : کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا ہے ۔ اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا ہے ‘ تو وہ شخص اونٹ کو لے کر چلنے والے شخص کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے پست آواز میں اس کے ساتھ کوئی بات کی ‘ تو وہ شخص کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا تم نے اس سے کیا کہا ہے ؟ اس نے عرض کی : میں نے اسے حکم دیا ہے وہ اس کی فروخت کر دے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : بیشک جس چیز کے پینے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ اس کے فروخت کرنے کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : تو اس شخص نے حکم دیا اس مشکیزے کا منہ کھول دیا گیا اور اس میں سے شراب نکل کر مٹی میں مل گئی۔ میں کھلے میدان میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا ‘ یہاں تک کہ اس مشکیزے میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابن وعله ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4944

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4945

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٍ، وَآخَرَ مَعَهُمْ كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، قَالَ: إِنِّي يَوْمَئِذٍ أَسْقِي أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا، قَالَ: فَأَمَرُونِي فَكَفَأْتُهَا وَكَفَأَ النَّاسُ آنِيَتَهُمْ بِمَا فِيهَا حَتَّى كَادَتِ السِّكَكُ تَمْتَنِعُ مِنْ رِيحِهَا، قَالَ أَنَسٌ: وَمَا خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ، وَالتَّمْرُ مَخْلُوطَيْنِ، فَجَاءَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدِي مَالُ يَتِيمٍ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ خَمْرًا، أَفَتَرَى أَنْ أَبِيعَهُ، فَأَرُدَّ عَلَى الْيَتِيمِ مَالَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا» وَلَمْ يَأْذَنْ لِيَ، النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْخَمْرِ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں ‘ جس دن شراب کو حرام قرار دیا گیا۔ میں اس دن گیارہ آدمیوں کو شراب پلا رہا تھا۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ( جب اس کی حرمت کا حکم پہنچ گیا ) ‘ تو ان لوگوں نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس شراب کو گرا دوں ۔ لوگوں نے اپنے برتنوں میں موجود شراب کو بھی گرا دیا ‘ یہاں تک کہ اس شراب کی بو کی وجہ سے گلیوں میں سے گزرنا مشکل ہو گیا۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: اس زمانے میں شراب صرف خشک اور تازہ کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔ ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: میرے پاس ایک یتیم کا مال ہے ۔ میں نے اس کے ذریعے شراب خریدی ہوئی ہے آپ کی کیا رائے ہے ۔ میں اسے فروخت کر کے اس یتیم کا مال اسے واپس کر دوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے ۔ جب ان پر چربی کو حرام د یا گیا ‘ تو انہوں نے اسے فروخت کر دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔ ( راوی کہتے ہیں ) ‘ تو نبی اکرمﷺ نے مجھے شرب کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ، وَثَابِتٍ، وَآخَرَ مَعَهُمْ كُلُّهُمْ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4945

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4946

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے حمل کے حمل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4946

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4947

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ، أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ، إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ، ثُمَّ تُنْتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ، هُوَ أَنْ يَشْتَرِيَ الْمَرْءُ بَعِيرًا، عَلَى أَنْ يُوَفِّرَ ثَمَنَهُ، إِلَى أَنْ تُنْتَجَ نَاقَةُ الْفُلَانِيَّةِ، ثُمَّ تُنْتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا، فَهَذَا أَجَلٌ، يَتَلَقَّاهُ غَرَرَانِ اثْنَانِ، وَلَا يَحِلُّ اسْتِعْمَالُهُ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے حمل کے حمل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے ۔ زمانہ جاہلیت کے لوگ یہ سودا کیا کرتے تھے۔ ایک شخص اونٹ کو یوں خریدتا تھا کہ جب اس اونٹنی کے ہاں بچہ ہو گا اور پھر اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ہاں بچہ ہو گا ۔ ( تو اس وقت ادائیگی کی جائے گی) ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:) حمل کے حمل کو فروخت کرنے کی ممانعت سے مراد یہ ہے : ایک شخص کوئی اونٹ خریدتا ہے ۔ اس شرط پر کہ وہ اس کی پوری قیمت اس وقت ادا کرے گا جب فلاں اونٹنی کے ہاں بچہ ہو جائے گا اور اس کے ہونے والے بچے کے ہاں بچہ ہو جائے گا ‘ تو یہ اس کی طے شدہ مدت ہوتی تھی ۔ اس میں دو قسم کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس لئے اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4947

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4948

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَالْحَوْضِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: [ص:324] سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے

بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← [ص:149] ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَالْحَوْضِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4948

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4949

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ»، قَالَ زُهَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي بِهِ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے ۔ زہیر نامی راوی بیان کرتے ہیں : یہ روایت عبد اللہ بن دینار کے صاحبزادے نے اپنے والد کے حوالے سے اسی کی مانند مجھے سنائی ہے ۔ ان کا نام عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن دینار ہے۔

أَبِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← زُهَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي بِهِ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ← بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4949

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4950

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، [ص:326] عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ، وَلَا يُوهَبُ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ولاء ، نسبی رشتے کی طرح ایک پختہ تعلق ہے ‘ جسے فروخت نہیں کیا جا سکتا اور ہبہ نہیں کیا جا سکتا ‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، [ص:326] ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4950

chevron_left Previous
12345…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr