Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ خِیَارِ الْعَیْبِ · حديث 4927

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : خراج ، ضمان کے حساب سے ہو گا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The defect option door · Hadith 4927

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ خِیَارِ الْعَیْبِ · حديث 4928

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، قَالَ: «كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ شُرَكَاءَ لِي عَبْدٌ فَاحْتَوَيْنَاهُ بَيْنَنَا، وَكَانَ بَعْضُ الشُّرَكَاءِ غَائِبًا، فَقَدِمَ وَأَبَى، أَنْ يُجِيزَهُ، فَخَاصَمْنَا إِلَى هِشَامٍ، فَقَضَى بِرَدِّ الْغُلَامِ، وَالْخَرَاجِ، وَكَانَ الْخَرَاجُ بَلَغَ أَلْفًا، فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرْتُهُ»، فَقَالَ: «أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ، قَالَ: » فَأَتَيْتُ هِشَامًا فَأَخْبَرْتُهُ، فَرَدَّهُ وَلَمْ يَرُدَّ الْخَرَاجَ «

مخلد بن خفافف کہتے ہیں : میرے او رمیرے کچھ رشتہ داروں کے درمیان ایک غلام مشترکہ ملکیت تھا ( ہم نے اسے فروخت کر دیا) اور رشتہ دار وہاں موجود نہیں تھا ‘ جب وہ آیا ‘ تو اس نے اس سودے کو برقرار رکھنے سے انکار کر دیا۔ ہم اپنا مقدمہ کے کر ہشام کے پاس گئے ‘ تو اس نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ غلام واپس آئے گا اور خراج بھی واپس آئے گا۔ خراج کی رقم ایک ہزار ( دینا یا درہم ) تک پہنچتی تھی میں عروہ بن زبیر کے پاس آیا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا ‘ تو انہوں نے بتایا : سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے یہ بتائی ہے نبی اکرمﷺ نے یہ با ت ارشاد فرمائی ہے : خراج ، ضمان کے حساب سے ہو گا۔ راوی کہتے ہیں : میں ہشام کے پاس آیا میں نے اسے اس بارے میں بتایا ‘ تو اس نے غلام کو واپس کر دیا اور خراج واپس نہیں کروایا۔

مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The defect option door · Hadith 4928

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ بَیْعِ الْمُدَّبَّرِ · حديث 4929

أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُجِيبِ أَبُو صَالِحٍ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ الْمُدَبَّرَ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مدبر ( غلام ) کو فروخت کر دیا تھا۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ1 عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُجِيبِ أَبُو صَالِحٍ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › Chapter of arranging sales · Hadith 4929

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ بَیْعِ الْمُدَّبَّرِ · حديث 4930

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟ »، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، قَالَ جَابِرٌ: كَانَ عَبْدًا قِبْطِيًّا، مَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا۔ اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرمﷺ کو ملی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا اسے مجھ سے کون خریدے گا ‘ تو حضرت نعیم بن عبد اللہ نحام ؓ نے آٹھ سو درہم کے عوض میں اسے خرید لیا۔ نبی اکرمﷺ نے یہ رقم ان صاحب کو دی۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: وہ ایک قبطی غلام تھا جو ایک سال کے اندر ہی فوت ہو گیا۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › Chapter of arranging sales · Hadith 4930

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ بَیْعِ الْمُدَّبَّرِ · حديث 4931

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ دَبَّرَ غُلَامًا لَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَهُ مَالُ غَيْرِهِ»، قَالُوا: لَا، قَالَ: «مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي»، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمٌ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْفِقْهَا عَلَى نَفْسِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى أَقَارِبِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا، فَهَاهُنَا وَهَاهُنَا»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابو مذکور تھا۔ انہوں نے اپنے ایک غلام کو مدبر کر دیا۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرمﷺ کو ملی‘ تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا اس کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی اور مال ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا ‘ تو حضرت نعیم نحامؓ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض میں خرید لیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس رقم کو تم اپنے اوپر خرچ کرو اگر اضافی ہو ‘ تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرو۔ اگر اضافی ہو تو ادھر اُدھر ( یعنی اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › Chapter of arranging sales · Hadith 4931

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ بَیْعِ الْمُدَّبَّرِ · حديث 4932

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أَبَا مَذْكُورٍ، دَبَّرَ غُلَامًا لَهُ فَاحْتَاجَ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مُحْتَاجًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا، فَلِأَهْلِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَلِأَقَارِبِهِ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو مذکورؓ نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا۔ وہ خود ضرورت مند تھے۔ نبی اکرمﷺ نے اس غلام کو فروخت کر دیا اور ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص ضرورت مند ہو ‘ تو وہ اپنی ذات ( پر خرچ کرنے ) سے آغاز کرے۔ اگر اس کے پاس اضافی ہو ‘ تو اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرے اور اگر اضافی ہو ‘ تو قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے۔

جَابِرٍ، أَنَّ أَبَا مَذْكُورٍ، دَبَّرَ غُلَامًا لَهُ فَاحْتَاجَ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← الثَّقَفِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › Chapter of arranging sales · Hadith 4932

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ بَیْعِ الْمُدَّبَّرِ · حديث 4933

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَاعَهُ، وَقَالَ: «أَنْتَ أَحْوَجُ إِلَى ثَمَنِهِ وَاللَّهُ عَنْهُ أَغْنَى»

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اپنے غلام کو اپنے بعد آزاد قرار دیا۔ ان کے پاس اس غلام کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ نبی اکرمﷺ نے اس کو پکڑا اور اسے فروخت کر دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم اس کی قیمت کے زیادہ ضرورت مند ہو اور اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ بے نیاز ہے۔

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › Chapter of arranging sales · Hadith 4933

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ بَیْعِ الْمُدَّبَّرِ · حديث 4934

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو الْمُعَدِّلُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ، عَنْ دُبُرٍ، وَاسْمُ [ص:306] الْغُلَامِ يَعْقُوبُ، وَالَّذِي أَعْتَقَهُ يُدْعَى أَبَا مَذْكُورٍ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَدَعَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي هَذَا مِنِّي؟ »، فَاشْتَرَاهُ مِنْهُ، نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ دَعَا بِهِ، فَقَالَ: «إِذَا كُنْتَ فَقِيرًا، فَأَبْدَأُ بِنَفْسِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا، فَعَلَى عِيَالِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا، فَعَلَى قَرَابَتِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا، فَهَاهُنَا، وَهَاهُنَا»، وَكَانَ إِذَا حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: كَانَ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلٍ

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا ۔ اس غلام کا نام یعقوب تھا۔ اور جب صاحب نےا سے آزاد کیا تھا ان کا نام ابو مذکور تھا۔ ان صاحب کے پاس اس غلام کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ نبی اکرمﷺ نے ا س غلام کو بلوایا اور دریافت کیا۔ اسے کون مجھ سے خریدے گا ‘ تو حضرت نعیم بن عبد اللہ ؓ جن کا تعلق بنو عدی بن کعب سے تھا انہوں نے آٹھ سو درہم کے عوض میں وہ غلام نبی اکرمﷺ سےخرید لیا پھر نبی اکرمﷺ نے ان صاحب کو بلایا اور فرمایا جب تم غریب ہو ‘تو اپنی ذات سے آغاز کرو اگر تمہارے پاس اضافی مال ہو ‘ تو اپنے بیوی بچوں پر خرچ کر اگر پھر بھی اضافی ہو ‘ تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرو اگر پھر بھی اضافی ہو ‘ تو پھر ادھر اُدھر ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت جابرؓ جب یہ حدیث بیان کرتے تھے ‘ تو یہ بھی فرمایا کرتے تھے : وہ ایک قبطی غلام تھا جو ایک سال کے اندر ہی فوت ہو گیا۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← الطُّفَاوِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو الْمُعَدِّلُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › Chapter of arranging sales · Hadith 4934

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ التَّسْعِیْرِ وَاِلاحْتِکَارِ · حديث 4935

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ غَلَا السِّعْرُ، فَسَعِّرْ لَنَا سِعْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْخَالِقُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الرَّازِقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو، أَنْ لَا أَلْقَى اللَّهَ بِمَظْلِمَةٍ ظَلَمْتُهَا أَحَدًا، مِنْكُمْ فِي أَهْلٍ، وَلَا مَالٍ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئیں لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اب ہمارے لئے قیمتیں متعین کر دیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے تنگی ( کا شکار ) کرنے والا ہے کشادگی عطا کرنے والا ہے رزق عطا کرنے والا ہے مجھے یہ اُمید ہے : جب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گا ‘ تو میں نے تم میں سے کسی کے ساتھ بھی ( اس کے ) اہل خانہ یا مال کے حوالے سے کوئی زیادتی نہیں کی ہو گی۔

غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالُوا: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، وَقَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › Chapter of pricing and innovation · Hadith 4935

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ التَّسْعِیْرِ وَاِلاحْتِکَارِ · حديث 4936

أَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ بِبَغْدَادَ عِنْدَ قَبْرٍ مَعْرُوفٍ الْكَرْخِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ» قَالَ الشَّيْخُ: «هُوَ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ الْعَدَوِيُّ، لَهُ صُحْبَةٌ»

حضرت معمرؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ذخیرہ اندوزی صرف گنہگار کرتا ہے ۔‘‘ شیخ کہتے ہیں : معمر بن عبد اللہ بن نضلہ عدوی ہیں انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔

مَعْمَرٌ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ، ← ثَابِتُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ بِبَغْدَادَ عِنْدَ قَبْرٍ مَعْرُوفٍ الْكَرْخِيِّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › Chapter of pricing and innovation · Hadith 4936

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4937

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَا بَيْعَ الْخَنَازِيرِ، وَبَيْعَ الْمَيْتَةِ، وَبَيْعَ الْأَصْنَامِ»، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَرَى فِي شَحْمِ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّا نَدْهِنُ بِهِ الْجُلُودَ، وَالسُّفُنَ، وَنَسْتَصْبِحُ بِهِ، فَقَالَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا، فَجَمَلُوهَا، ثُمَّ بَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ بیشک اللہ اور اس کے رسول نے خنزیر کی خریدو فروخت ‘ مردار کی خریدو فروخت اور بتوں کی خریدو فروخت کو حرام قرار چونکہ ہم ان کی چربی کو کھولوں پر لگانے کے لئے اور کشتیوں پر لگانے ک لئے استعمال کرتے ہیں اور اس کے ذریعے چراغ بھی جلاتے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا ‘ تو انہوں نے اسے پگھلا کر پھر اسے فروخت کر دیا اور اس کی قیمتیں کھانے لگے ‘‘۔

يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ← جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4937

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْبَیْعِ الْمُنْھِیِّ عَنْہُ · حديث 4938

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَ: «قَاتَلَ اللَّهُ [ص:313] الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ شَيْئًا حَرَّمَ ثَمَنَهُ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا ہے ‘تو انہوں نے اسے فروخت کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔ بیشک اللہ تعالیٰ کسی چیز کو حرام دیدے ‘ تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دے دیتا ہے ‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The chapter on the forbidding sale · Hadith 4938

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr