Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4915

أَخْبَرَنَاهُ الْقَطَّانُ، فِي عَقِبِهِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو مُعَيْدٍ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← الْقَطَّانُ، فِي عَقِبِهِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The Book of Sales · Hadith 4915

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4916

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، [ص:284] عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُتَبَايعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ خریدو فروخت کرنے والے دونوں فریقوں کو دوسرے فریق کے حوالے سے اختیار حاصل رہتا ہے ‘ جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے البتہ بیع خیار کا حکم مختلف ہے‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The Book of Sales · Hadith 4916

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4917

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ نَافِعًا، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، فَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا، وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب دو آدمی سودا کرتے ہیں ‘ تو ان میں سے ہر ایک کو ( سودا ختم کرنے کا ) اختیار ہوتا ہے ‘ جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں اور اکٹھے رہیں ‘ یا پھر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو ( بعد میں سودا ختم کرنے کا ) اختیار دیدے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار دے دیتا ہے اور وہ اس شرط پر سودا کر لیتے ہیں ‘ تو سودا طے ہو جائے گا اور اگر وہ سودا طے کر لینے کے بعد جدا ہو جائیں اور ان دونوں میں سے ایک نے بیع کو ترک نہ کیا ہو ‘ تو بیع لازم ہو جائے گی‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← الليث بن سعد أن نافعا ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The Book of Sales · Hadith 4917

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4918

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّامِيُّ، بِالْبَصْرَةِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كِيلُوا طَعَامَكُمْ، يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ»

حضرت مقدام بن معد یکربؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اپنے اناج کو ماپ لیا کرو اس میں تمہارے لئے برکت ڈالی جائے گی‘‘۔

الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← الْوَلِیْدُ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّامِيُّ، بِالْبَصْرَةِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The Book of Sales · Hadith 4918

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4919

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ سَعْدِ ابْنِ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ} [المطففين: 1]، فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ‘ تو وہاں کے لوگ ماپنے میں سب سے زیادہ کمی کیا کرتے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’ بربادی ہے ا ن لوگوں کے لئے جو ماپنے میں کمی کرتے ہیں‘‘۔ اس کے بعد ان لوگوں نےا چھے طریقے سے ماپنا شروع کر دیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ← أَبِي ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ سَعْدِ ابْنِ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← أحمد بن محمد بن عبد الكريم

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The Book of Sales · Hadith 4919

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4920

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ فِي الْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ، وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بَأْسَ إِذَا أَخَذْتُهُمَا بِسِعْرِ يَوْمِهِمَا فَافْتَرَقْتُمَا وَلَيْسَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا تھا میں دینار کے عوض میں اونٹ فروخت کرتا تھا اور درہم وصول کر لیا کرتا تھا یا درہم کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور دینار وصول کر لیا کرتا تھا میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ اس وقت سیدہ حفصہؓ کے گھر میں موجود تھے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے بقیع میں اونٹ فروخت کئے میں نے دینار کے عوض میں فروخت کئے اور دینار کی جگہ درہم وصول کر لئے۔ یا درہم کے عوض میں فروخت کئے اور اس کی جگہ دینار وصول کر لئے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاؒ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ جب تم نے اس دن کی قیمت کے مطابق وصولی کی ہو اور تم دونوں (فریق ) ایسی حالت میں جدا ہوئے ہو کہ تمہارے درمیان کوئی ( بعد کی ادائیگی کی شرط) نہ ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The Book of Sales · Hadith 4920

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4921

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اشْتَرَى نَخْلًا [ص:289] بَعْدَمَا أُبِّرَتْ وَلَمْ يَشْتَرِطْ ثَمَرَهَا فَلَا شَيْءَ لَهُ، وَمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا، وَلَمْ يَشْتَرِطْ مَالَهُ، فَلَا شَيْءَ لَهُ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص پیوند کاری ہو جانے کے بعد کھجور کا درخت خریدے اور ( سودا کرتے ہوئے ) اس کے پھل کی شرط عائد نہ کرے ‘ تو اسے کچھ نہیں ملے گا ‘ اور جو شخص غلام خریدتے ہوئے اس کے پاس موجود مال کی کی شرط عائد نہ کرے ‘ اسے کچھ نہیں ملے گا‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The Book of Sales · Hadith 4921

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4922

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ»

حضر ت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص پیوند کاری ہو جانے کے بعد کھجور کا باغ خریدتا ہے ‘ تو اس کا پھل اس شخص کو ملے گا ‘ جس نے اسے فروخت کیا ہے ۔ البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو ( تو حکم مختلف ہو گا ) اور جو شخص کوئی غلام خریدتا ہے ‘ جس ے پاس مال موجود ہو ‘ تو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو ( تو حکم مختلف ہو گا ) ‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The Book of Sales · Hadith 4922

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4923

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ بَاعَ نَخِيلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ»

سالم اپنے والد ( حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ان تک نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان پہنچا ہے : ’’ جو شخص پیوند کاری ہو جانے کے بعد کھجور کا درخت فروخت کرتا ہے ‘ تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو ( تو حکم مختلف ہے ) اور جو شخص کوئی غلام فروخت کرے جس کے پاس مال موجود ہو‘ تو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو۔ ( تو حکم مختلف ہو گا ) ‘‘

أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The Book of Sales · Hadith 4923

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4924

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافِي الْعَابِدُ، بِصَيْدَا أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ أَبَّرَ نَخْلًا فَبَاعَهُ بَعْدَ تَأْبِيرِهِ، فَلَهُ ثَمَرُهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ»

حضرت جابر ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کوئی غلام فروخت کرتا ہے ‘ جس کے پاس مال موجود ہو ‘ تو اس غلام کا مال اس شخص کو ملے گا اور اگر اس غلام نے کچھ قرض لیا ہو ‘ تو ا س کی ادائیگی اس شخص پر ہو گی البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو ( تو حکم مختلف ہو گا ) اور جو شخص کھجور کے کسی درخت کی پیوند کاری کر دیتا ہے اور پیوند کاری کرنے کے بعد اسے فروخت کرتا ہے ‘ تو اس درخت کا پھل اسے ملے گا البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو۔ ( تو حکم مختلف ہو گا ) ‘‘۔

جَابِرٍ ← ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ عَطَاءٍ، ← نَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ الْهَمْدَانِيُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The Book of Sales · Hadith 4924

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ السَّلَمِ · حديث 4925

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْلَفَ، فَلَا يُسْلِفْ، إِلَّا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ»، [ص:295] أَبُو الْمِنْهَالِ هَذَا اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ‘ تو لوگ بیع سلف کیا کرتے تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا جو شخص بیع سلف کرے وہ اس وقت بیع سلف کرے جب وہ متعین ماپ اور متعین وزن کے بارے میں ہو۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ابو منہال نامی راوی کا نام عبد الرحمٰن بن مطعم ہے۔

قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ، وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The door to peace · Hadith 4925

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ السَّلَمِ · حديث 4926

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ: «أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبُو بُرْدَةَ»، فَقَالَا لِي: انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، فَقُلْ لَهُ: «إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ، وَأَبَا بُرْدَةَ يُقْرِئَانِكَ السَّلَامَ»، [ص:296] وَيَقُولَانِ: هَلْ كُنْتُمْ تُسْلِفُونَ فِي الْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ؟، فَقَالَ: «نَعَمْ، كُنَّا نَصِيبُ غَنَائِمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُسْلِفُهَا فِي الْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ»، فَقُلْتُ: «عِنْدَ مَنْ لَهُ زَرْعٌ، أَوْ عِنْدَ مَنْ لَيْسَ لَهُ زَرْعٌ؟ »، فَقَالَ: «مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ»

محمد بن ابو مجالد بیان کرتے ہیں : عبد اللہ بن شداد اور ابو بردہ نے مجھے بھیجا ان دونوں نے مجھ سے کہا : تم حضرت عبد اللہ بن ابواوفیٰؓ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو۔ عبد اللہ بن شداد اور ابو بردہ نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور ان دونوں نے یہ کہا ہے : کیا آپ لوگ گندم ، جو اور کشمش میں بیع سلف کر لیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ہمیں مال غنیمت حاصل ہوتا تھا ‘ تو ہم گندم م جو ، کھجور اور کشمش میں بیع سلف کر لیا کرت تھے۔ میں نے دریافت کیا اس شخص کے ساتھ کرتے تھے جس کے پاس کھیت ہوتے تھے یا اس کے ساتھ کرتے تھے جس کے پاس کھیت نہیں ہوتا تھا ‘ تو انہوں نے فرمایا : ہم اس بارے میں تحقیق نہیں کرتے تھے ۔ ( یعنی دونوں قسم کے لوگوں سے بیع سلف کر لیتے تھے )

لِي: انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، فَقُلْ لَهُ: ← «أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبُو بُرْدَةَ»، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ← الشَّيْبَانِيِّ ← هُشَيْمٌ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › The door to peace · Hadith 4926

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr