صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْجَائحَۃِ · حديث 5035
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا، فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ؟ »، قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ: سَمَّى لَكُمُ الْجَوَائِحَ؟، قَالَ: لَا
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم اپنے بھائی سے کوئی پھل خریدتے ہو اور اسے آفت لاحق ہو جاتی ہے ‘ تو تمہارے لئے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے تم حق کے بغیر اپنے بھائی کے مال کوکس بنیاد پر حاصل کرو گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد ابوزبیر سے دریافت کیا: کیا حضرت جابر ؓ نے تمہارے سامنے آفت کا نام کا ذکر کیا تھا ۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،
Hadith 5035
