Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْجَائحَۃِ · حديث 5035

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا، فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ؟ »، قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ: سَمَّى لَكُمُ الْجَوَائِحَ؟، قَالَ: لَا

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم اپنے بھائی سے کوئی پھل خریدتے ہو اور اسے آفت لاحق ہو جاتی ہے ‘ تو تمہارے لئے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے تم حق کے بغیر اپنے بھائی کے مال کوکس بنیاد پر حاصل کرو گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد ابوزبیر سے دریافت کیا: کیا حضرت جابر ؓ نے تمہارے سامنے آفت کا نام کا ذکر کیا تھا ۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Hadith 5035

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْفَلَس · حديث 5036

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ رَجُلٌ مَالَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص مفلس ہو جائے اور پھر کوئی شخص اپنا مال اس کے پاس پائے ‘ تو وہ اس مال کے بارے میں دوسروں سے زیادہ حق دار ہو گا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Hadith 5036

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْفَلَس · حديث 5037

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلُ سِلْعَةً، ثُمَّ فَلَّسَ وَهِيَ عِنْدَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنَ الْغُرَمَاءِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص کوئی سامان خریدے اور پھر وہ مفلس ہو جائے اور وہ سامان بعینہ اس کے پاس ہو ‘ تو ( اسے فروخت کرنے والا ) دیگر قرض خواہوں کی بہ نسبت اسے لینے کا زیادہ حق دار ہو گا‘‘۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← ابن عمرو بن حزم ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Hadith 5037

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْفَلَس · حديث 5038

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الْبَائِعُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا دُونَ الْغُرَمَاءِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص مفلس ہو جائے اور اپنے سامان کو فروخت کرنے والا شخص بعینہ اپنا سامان اس کے پاس پائے ‘ تو باقی قرض خواہوں کی بہ نسبت وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هِشَامِ بْنِ يَحْيَى، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ

Hadith 5038

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الْفَلَس · حديث 5039

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ نَافِعٍ، [ص:416] عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: إِذَا أُعْدِمَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الْبَائِعُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتےہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب کوئی شخص ویوالیہ ہو جائے اور فروخت کرنے والا اپنے سامان کو بعینہ اس ک پاس پائے ‘ تو وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا ‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ،

Hadith 5039

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الدُّیَوْنِ · حديث 5040

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ أَبِي مُعَاذٍ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُ، أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، كَانَ يَسْتَقْرِضُ مِنْ تَاجِرٍ، فَإِذَا خَرَجَ عَطَاؤُهُ قَضَاهُ، فَقَالَ الْأَسْوَدُ: إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ عَنْكَ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ عَلَيْنَا حُقُوقٌ، فِي هَذَا الْعَطَاءِ، فَقَالَ لَهُ التَّاجِرُ: لَسْتَ فَاعِلًا، فَنَقَدَهُ الْأَسْوَدُ خَمْسَ مِائَةِ دِرْهَمٍ حَتَّى إِذَا قَبَضَهَا، قَالَ لَهُ التَّاجِرُ: دُونَكَهَا، فَخُذْ بِهَا، فَقَالَ لَهُ الْأَسْوَدُ: قَدْ سَأَلْتُكَ هَذَا فَأَبَيْتَ، فَقَالَ لَهُ التَّاجِرُ: إِنِّي سَمِعْتُكَ تُحَدِّثُنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَقْرَضَ اللَّهَ مَرَّتَيْنِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ أَحَدِهِمَا لَوْ تَصَدَّقَ بِهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْفُضَيْلُ أَبُو مُعَاذٍ هَذَا هُوَ الْفُضَيْلُ بْنُ [ص:420] مَيْسَرَةَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَأَبُو حَرِيزٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَاضِي سِجِسْتَانَ حَدَّثَ بِالْبَصْرَةِ»

ابراہیم نضعی بیان کرتےہیں: اسود بن یزید ایک تاجر سے قرض لیا کرتے تھے جب ان کی تنخواہ آتی تھی ‘ تو وہ ادائیگی کر دیا کرتے تھے ۔ اسو د نے کہا : اگر تم چاہو ‘ تو میں تمہیں ایک مرتبہ تاخیر سے ادائیگی کروں گا کیونکہ اس مرتبہ اس تنخواہ میں مجھے کچھ دیگر اخراجات بھی پورے کرنے ہیں ‘ تو تاجر نے ان سے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا ‘ تو اسود نے پانچ سو درہم اسے نقد ادا کر دیئے ‘ یہاں تک کہ اس تاجر نے وہ اپنے قبضے میں لے لئے ‘ تو تاجر نے ان سے کہا یہ آپ کے حوالے ہیں۔ آپ انہیں لے لیں اسود نے اس سے دریافت کیا پہلے جب میں نے تم سے یہ درخواست کی تھی‘ تو تم نے میری یہ بات نہیں مانی تھی ‘ تو تاجر نے ان سے کہا میں نے آپ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے آپ نے ہمیں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ’’ جو شخص اللہ کے نام پر کسی کو دو مرتبہ قرض دیتا ہے ‘ تو اسے ان دو میں سے ایک مرتبہ صدقہ کرنے کا اجر ملتا ہے ‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) فضیل ابو معاذ نامی راوی فضیل بن میسرہ ہیں یہ اہل بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابو حریز نامی راوی عبد اللہ بن حصین ہیں یہ سجستان کے قاضی تھے اور انہوں نے بصرہ میں حدیثیں بیان کی ہیں۔

أَبِي حَرِيزٍ، ← عَلَى الْفُضَيْلِ أَبِي مُعَاذٍ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5040

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الدُّیَوْنِ · حديث 5041

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَتْ مَيْمُونَةُ تَدَّانُ، فَقَالَ: لَهَا أَهْلُهَا فِي ذَلِكَ وَوَجَدُوا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: لَا أَتْرُكُ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ قَضَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا»

عمران بن حذیفہ نامی راوی بیان کرتےہیں : سیدہ میمونہ ؓ اکثر قرض لیا کرتی تھیں ان کے گھر والوں نے ان کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی اور ناراضگی کا اظہار کیا ‘ تو سیدہ میمونہ ؓ نے کہا: میں اسے ترک نہیں کروں گی کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’ جو شخص کوئی قرض لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم ہو کہ وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ‘تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس کا وہ قرض ادا کروا دیتا ہے‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← لَا أَتْرُكُ، وَقَدْ ← لَهَا أَهْلُهَا فِي ذَلِكَ وَوَجَدُوا عَلَيْهَا، ← كَانَتْ مَيْمُونَةُ تَدَّانُ، ← عمران بن حذيفة ← زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5041

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الدُّیَوْنِ · حديث 5042

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَانَ رَجُلٌ [ص:422] تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى إِعْسَارَ الْمُعْسِرِ»، قَالَ لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ پہلے ( زمانے میں) ایک تاجر تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا ‘ وہ جب کسی تنگ دست کی تنگدستی دیکھتا ‘ تو اپنے نمائندے سے کہتا اس سے درگزر گرو تاکہ اللہ تعالیٰ ہم نے بھی درگزر کرے۔ نبی اکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں : جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر کیا۔

لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، ← «كَانَ رَجُلٌ [ص:422] تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى إِعْسَارَ الْمُعْسِرِ»، ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا،

Hadith 5042

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الدُّیَوْنِ · حديث 5043

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَاينُ النَّاسُ»، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا تَعَسَّرَ، وَتَجَاوَزْ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، قَالَ: فَلَمَّا هَلَكَ، قَالَ اللَّهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟، قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ، وَكُنْتُ أُدَاينُ النَّاسَ، فَإِذَا بَعَثْتُهُ لِيَتَقَاضَى، قُلْتُ: لَهُ خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا تَعَسَّرَ، [ص:423] وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ، قَالَ: تَجَاوَزْتُ عَنْكَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: » قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ أَرَادَ بِهِ سِوَى الْإِسْلَامِ»

حضرت ابو ہرہرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ایک شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا ۔ وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا وہ اپنے نمائندوں سے یہ کہتا تھا : جو شخص خوشحال ہو اس قرض واپسی لے لینا اور جو تنگ دست ہو اسے چھوڑ دینا اور درگزر کرنا تاکہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر کرے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں جب اس کا انتقال ہوا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا: کیا تم نے کبھی کوئی نیکی کی۔ اس نے جواب دیا : جی نہیں البتہ میرا ایک غلام تھا میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا ۔ جب میں اس غلام کو تقاضا کرنے کے لئے بھیجتا تھا ‘ تو میں اس سے یہ کہتا تھا جو شخص آسانی سے دیدے اس سے وصول کر لینا اور جو شخص تنگ دست ہو اسے چھوڑ دینا اور اس سے درگزر کرنا تاکہ اللہ تعالیٰ بھی ہم نے درگزر کر ے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تحقیق میں نے بھی تم سے درگزر کیا۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی ‘‘ اس سے مراد یہ ہے: اسلام قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی نیکی نہیں کی تھی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ

Hadith 5043

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الدُّیَوْنِ · حديث 5044

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حُرَزَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا، وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيَنَا أَبُو الْيَسَرِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ، وَعَلَى أَبِي الْيَسَرِ، بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، [ص:424] فَقَالَ لَهُ أَبِي: إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا مِنْ غَضَبٍ، قَالَ: أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ، فَقُلْتُ: أَثَمَّتْ؟، قَالُوا: لَا، فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ، فَقُلْتُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟، فَقَالَ: سَمِعَ صَوْتَكَ فَدَخَلَ، فَقُلْتُ: اخْرُجْ إِلَيَّ، فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ، فَخَرَجَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ؟، قَالَ: أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ، ثُمَّ لَا أَكْذِبُكَ، خَشِيتُ وَاللَّهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ، فَأَكْذِبَكَ، وَأَعِدَكَ، فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ وَاللَّهِ مُعْسِرًا، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ؟، قَالَ: اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ؟، قَالَ: اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ: بِصَحِيفَتِهِ، فَمَحَاهَا، وَقَالَ: إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً، فَاقْضِ، وَإِلَّا، فَأَنْتَ فِي حِلٍّ، فَأَشْهَدُ: بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَشَارَ إِلَى نِيَاطِ قَلْبِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ لَهُ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ» أَبُو الْيَسَرِ اسْمُهُ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو

عبادہ بن ولید بیان کرتےہیں: میں اور میرے والد علم کے حصول کے لئے انصار کے پاس آئے ۔ اس سے پہلے کہ وہ لوگ انتقال کر جائیں‘ تو ہماری ملاقات سب سے پہلے حضرت ابو یسرؓ سےہوئی جو نبی اکرمﷺ کے صحابی ہیں ۔ ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا۔ حضرت ابو یسرؓ نے ایک چادر اور ایک معافری چادر پہنی ہوئی تھی۔ ان کے غلام نے بھی ایک چادر اور ایک معافری چادر پہنی ہوئی تھی۔ میرے والد نے ان سے کہا مجھے آپ کے چہرے پر غصے کے آثار نظر آ رہے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں میں نے فلاں بن فلاں سے کچھ رقم لینی تھی میں اس کے گھر آیا میں نے دریافت کیا: کیا وہ یہاں ہے۔ گھر والوں نے جواب دیا: جی نہیں پھر اس کا بیٹا نکل کر میرے پاس آیا میں نے دریافت کیا تمہارا باپ کہاں ہے ۔ اس نے کہا: اس نے آپ کی آواز سن لی تھی وہ اندر چلا گیا ہے۔ میں نے ( اس آدی کو مخاطب کر کے) کہا تم نکل کر میرے پاس آؤ مجھے پتہ ہے ‘ تم کہاں ہو وہ نکل کر میرے پاس آیا میں نے دریافت کیا تم کس وجہ سے چھپنے پر مجبور ہوئے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم میں آپ کو بتاتا ہوں میں آپ کے ساتھ غلط بیانی نہیں کروں گا۔ اللہ کی قسم مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ اگر ( میں آپ کے سامنے آیا ) اور میں نے آپ کے ساتھ بات چیت کی ‘ تو مجھے آپ کے ساتھ جھوٹ بولنا پڑے گا۔ میں آپ کے ساتھ کوئی وعدہ کر لوں گا پھر اس کی خلاف ورزی کرنی پڑے گی ۔ آپ نبی اکرمﷺ کے اصحابی ہیں ( اب میں آپ کے ساتھ اس طرح کرتا ہوا اچھا ‘ تو نہیں لگتا ) اللہ کی قسم میں ایک تنگدست شخص ہوں۔ حضرت ابو یسرؓ بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا : کیا اللہ کی قسم ایسا ہی ہے ۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ایسا ہی ہے۔ میں نے دریافت کیا: کیا اللہ کی قسم ایسا ہی ہے اس نے کہا: اللہ کی قسم ایسا ہی ہے ۔ حضرت ابو یسرؓ بیان کرتےہیں۔ پھر انہوں نے اپنے صحیفہ لیا اور اسے مٹا دیا اور بولے : اگر تمہیں ادائیگی کی گنجائش مل جائے‘ تو ادا کر دینا ورنہ میری طرف سے یہ معاف ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میری ان دونوں آنکھوں نے اس بات کو سنا اور میرے دل نے اس بات کو محفوظ رکھا۔ انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دیتا ہے یا اسے ادائیگی ( مکمل یا جزوی طورپر ) معاف کر دیتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اپنا خاص سای عطا کرے گا‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) حضرت ابو یسرؓ کا نام کعب بن عمرو ہے۔

وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَبْلَ ← خَرَجْتُ ← عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ← يعقوب بن مجاهد أبو حرزة ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5044

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الدُّیَوْنِ · حديث 5045

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَسَّرَ عَلَى [ص:426] مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی تنگ دست کوآسانی فراہم کرے ‘ اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں آسانی فراہم کرے گا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرٌ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ

Hadith 5045

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الدُّیَوْنِ · حديث 5046

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا أَعْسَرَ الْمُعْسِرُ، قَالَ لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا ‘ جب وہ کسی تنگ دست شخص کو پاتا ‘ تو اپنے اہلکاروں سے یہ کہتا تم اس سے درگزر کرو تاکہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر کرے جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر کیا۔

لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ» ← «كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا أَعْسَرَ الْمُعْسِرُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 5046

chevron_left Previous
1…10111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr