صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5023
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: هَلْ تَتَّهِمُ أُسَامَةَ؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا، قَالَ: فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا رِبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ الْأَشْيَاءَ إِذَا بِيعَتْ بِجِنْسِهَا [ص:398] مِنَ السِّتَّةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْخَبَرِ وَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ يَكُونُ رِبًا، وَإِذَا بِيعَتْ بِغَيْرِ أَجْنَاسِهَا وَبَيْنَهَا فَضْلٌ كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ، وَإِذَا كَانَ ذَلِكَ نَسِيئَةً كَانَ رِبًا»
ابن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ‘ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے پاس آئے۔ انہوں نے انہیں سلام کیا اور دریافت کیا: کیا آپ حضرت اسامہ ؓ پر الزام عائد کرتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں‘ تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا جی نہیں ۔ انہوں نے بتایا: انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے۔ ’’ سود صرف ادھار میں ہوتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت کا مطلب یہ ہے ‘ حدیث میں مذکور چھ چیزیں جب ان کی جنس کے عوض میں فروخت کی جائیں اور ان کے درمیان اضافی ادائیگی ہو تو یہ سود ہو گا‘ لیکن جب ان کی جنس کے علاوہ کے عوض میں فروخت کی جائے اور پھر جو چیز اضافی ہو ‘ تو یہ جائز ہو گی جب کہ وہ لین دین دست بہ دست ہو ‘ لیکن اگر وہ ادھار کا لین دین ہو ‘تو پھر یہ سود ہو گا۔
فَإِنَّهُ ← فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا، ← جَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: هَلْ تَتَّهِمُ أُسَامَةَ؟ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ السَّدُوسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا،
Hadith 5023
