Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5011

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ بِصَاعِ شَعِيرٍ، فَقَالَ: بِعْهُ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا، فَذَهَبَ الْغُلَامُ، وَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ، انْطَلَقَ فَرُدَّهُ، وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الطَّعَامُ، بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ»

حضرت معمر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنے غلام کو جو کے ایک صاع کے ہمراہ بھیجا اور بولے : تم اسے فروخت کرو اور اس کے بدلے میں جو خرید کے لے آؤ وہ لڑکا گیا اس نے ایک صاع اور ایک صاع سے کچھ زیادہ جو حاصل کر لئے جب وہ معمر کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا ‘ تو معمر نے اس سے کہا تم نے ایسا کیوں کہا؟ تم جاؤ اور انہیں واپس کرو اور صرف برابر وصول کرنا کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اناج کے عوض میں اناج کا لین دین برابر ہو گا‘‘۔ اور اس زمانے میں ہمارا اناج جو ہوا کرتے تھے۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 5011

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5012

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دینار کے عوض میں دینار ‘ درہم کے عوض میں درہم ( کا لین دین کرتے ہوئے ) کوئی اضافی ادائیگی نہیں ہو گی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Hadith 5012

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5013

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، [ص:387] عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِئَةِ دِينَارٍ، قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَتَرَاوَضْنَا، حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، وَقَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءً وَهَاءً، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا، إِلَّا هَاءً، وَهَاءً، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا، إِلَّا هَاءً، وَهَاءً، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا، إِلَّا هَاءً وَهَاءً»

حضرت مالک بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں :انہوں نے ایک سود دینار کی بیع صرف کرنا چاہی ‘ وہ کہتے ہیں : حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ نے مجھے بلوایا ہم دونوں نے سود ا طے کر لیا ۔ انہوں نے میرے ساتھ بیع صرف کر لی اور سونا حاصل کر لیا وہ اسے اپنے ہاتھ میں اُلٹ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میرا منشی غابہ ( جنگل ) سے آتا ہے ( تو میں تمہیں ادائیگی کرتا ہوں ) حضرت عمر بن خطابؓ نے یہ بات سن لی حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم تم اس سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گے ‘ جب تک تم اس سے وصولی نہیں کر لیتے پھر حضرت عمرؓ نے بتایا نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ’’ چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے۔ ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین سود ہے۔ ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔

مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 5013

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5014

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَ أَنْ يَبْتَاعَ الْفِضَّةَ، بِالذَّهَبِ كَيْفَ شَاءَ، وَالذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، كَيْفَ شَاءَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَيْفَ شَاءَ أَرَادَ بِهِ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ»

حضرت ابو بکرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے ‘ چاندی کے عوض میں چاندی کو یا سونے کے عوض میں سونے کو فروخت کیا جائے البتہ برابر برابر ( لین دین ہو ‘ تو جائز ہے ) اور نبی اکرمﷺ نے یہ حکم دیا ہے ‘ سونے کے عوض میں چاندی کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے یا چاندی کے عوض سونے کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’جیسے چاہے ‘‘ اس سے مرا د یہ ہے : جب وہ لین دین دست بدست ہو۔

أَبُو بَكْرَةَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 5014

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5015

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:390] أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، قَالَ: كَانَ أُنَاسٌ يَتَبَايَعُونَ آنِيَةَ فِضَّةٍ فِي مَغْنَمٍ إِلَى الْعَطَاءِ، فَقَالَ عُبَادَةُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى»

ابو اشعث بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ مال غنیمت میں سے چاندی کے کسی برتن کی ‘ تنخواہ ملنے تک ‘ خریدو فروخت کر لیتے تھے ‘ تو حضرت عبادہ نے بتایا نبی اکرمﷺ نے سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی گندم کے عوض میں گندم جو کے عوض میں جو کھجور کے عوض میں کھجور نمک کے عوض میں نمک کا لین دین کرنے سے منع کیا ہے۔ ماسوائے اس کے جو برابر برابر ہو اور دست بدست ہو جو شخص زیادہ ادائیگی کرے یا زیادہ ادائیگی کا طلب گار ہو وہ سود کا کام کرے گا۔

عُبَادَةُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← كَانَ أُنَاسٌ يَتَبَايَعُونَ آنِيَةَ فِضَّةٍ فِي مَغْنَمٍ إِلَى الْعَطَاءِ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← [ص:390] أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 5015

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5016

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ»

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ سونے کے عوض میں سونے کو صرف برابر برابر فروخت کرو تم اس میں سے کسی ایک پہلو کو دوسرے کے مقابلے میں کم نہ کرو چاندی کے عوض میں چاندی کو صرف برابر فروخت کرو تم اس میں سے کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور تم ان میں سے کسی موجود چیز کو غیر موجود کے عوض میں فروخت نہ کرو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 5016

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5017

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ نَافِعٌ فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ وَأَنَا مَعَهُمْ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِأَبِي سَعِيدٍ أَرَأَيْتَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ هَذَا الرَّجُلُ، أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَمِعْتَهُ؟ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَا هُوَ؟، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: بَيْعُ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِأُصْبُعِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَإِلَى أُذُنَيْهِ، فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنِي، وَسَمِعَ أُذُنِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ»

نافع بیان کرتے ہیں :ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو بتایا : حضر ت ابو سعید خدری ؓ نے یہ حدیث نبی اکرمﷺ کے حوالے سے بیان کی ہے ۔ نافع بیان کرتے ہیں : پھر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور وہ شخص تشریف لے گئے میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہاں تک ہم حضرت ابو سعید خدریؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے کہا: کیا آپ اس حدیث سے واقف ہیں جو اس شخص نے مجھے بیان کی ہے کیا آپ نے وہ روایت نبی اکرم ﷺ نؤکے حوالے سے نقل کی ہے۔کیا آپ نے نبی اکرمﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے دریافت کیا وہ کیا بات ہے‘تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کو فروخت کرنے والی روایت ‘ تو حضرت ابو سعید خدری ؓ نے اپنی انگلیوں کے ذریعے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف اشارہ کیا اور یہ بات بیان کی ۔ میری آنکھوں نے یہ بات دیکھی اور میرے کانوں نے نبی اکرمﷺ کو سنا جب آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ ’’ سونے کے عوض میں سونے کو صرف برابر برابر فروخت کرو۔ ان میں سے کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور چاندی کے عوض میں چاندی کو صرف برابر برابر فروخت کروا ن میں کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور تم ان میں سے کسی بھی غیر موجود کو موجود چیز کے عوض میں فروخت نہ کرو‘‘۔

أُذُنِي رَسُولَ اللَّهِ ← بَصُرَ عَيْنِي ← الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِأُصْبُعِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَإِلَى أُذُنَيْهِ، ← ابْنُ عُمَرَ: بَيْعُ الذَّهَبِ ← أَبُو سَعِيدٍ وَمَا هُوَ؟، ← هَذَا الرَّجُلُ، أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ، ← ابْنُ عُمَرَ لِأَبِي سَعِيدٍ أَرَأَيْتَ حَدِيثًا ← مَعَهُمْ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ← نَافِعٌ فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ ← هَذَا الْحَدِيثَ ← نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Hadith 5017

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5018

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ»

حضرت عبادہ بن صامتؓ روایت کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ سونے کےعوض میں سونا چاندی کے عوض میں چاندی گندم کے عوض میں گندم جو کے عوض میں جو ( کا لین دین) صرف برابر برابر دست بہ دست ہو گا جب ان کی اصناف ؟ میں اختلاف ہو ‘ تو پھر جیسے تم چاہو اسے فروخت کرو ‘ البتہ جبکہ وہ دست بہ دست لین دین ہو۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5018

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5019

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ حَدَّثَهُ قَالَ: انْطَلَقْتُ بِمِئَةِ دِينَارٍ فَلَقِيتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بِظِلِّ جِدَارٍ فَاسْتَامَهَا مِنِّي إِلَى أَنْ يَأْتِيَهُ خَادِمُهُ مِنَ الْغَابَةِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ، فَسَأَلَ طَلْحَةَ عَنْهُ، فَقَالَ: دَنَانِيرُ أَرَدْتُهَا إِلَى أَنْ يَأْتِيَ خَادِمِي مِنَ الْغَابَةِ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُفَارِقْهُ لَا تُفَارِقْهُ حَتَّى تُنْقِدَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءً، وَهَاتِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا، إِلَّا هَاءً، وَهَاتِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا، إِلَّا هَاءً، وَهَاتِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا، إِلَّا هَاءً وَهَاتِ»

حضرت مالک بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: میں ایک سو دینار لے کر نکلا میری اوقات حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ سے ہوئی جو ایک دیوار کے سائے میں موجود تھے انہوں نے میرے ساتھ اس کا بھاؤ طے کیا اور یہ بات بیان کی کہ جب ان کا خادم غابہ سے آئے گا ؟ ‘ تو وہ ادائیگی کر دیں گے حضرت عمرؓ نے یہ بات سنی ۔ انہوں نے حضرت طلحہ ؓ سے اس بارے میں دریافت کیا‘ تو انہوں نے بتایا : کچھ دینار ہیں ( جو میں خرید رہا ہوں ) میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میرا خادم غابہ سے ؟ آئے گا ( تو میں ادائیگی کر دو ں گا ) ‘ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم اس سے جدا نہ ہونا تم اس سے جدا نہ ہونا ‘ جب تک تم اسے ادائیگی نہیں کر دیتے۔ نبی اکرمﷺ ے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے۔ ماسوائے ان کے جو دست بہ دست ہو گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بہ دست ہو جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے۔ ماسوائے اس کے جو دست بہ دست ہو کھجور کےک عوض میں کھجور کا لین دین سود ہے ۔ ماسوائے اس کے جو دست بہ دست ہو۔

أن مالك بن أوس بن الحدثان ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 5019

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5020

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، [ص:395] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ، فَقَالَ: «أَنَّى لَكُمْ هَذَا؟ »، قَالُوا: ابْتَعْنَاهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ إِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ، ثُمَّ اشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ»

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں: تازہ کھجوریں لائی گئیں نبی اکرمﷺ کی کھجوریں دوسری قسم کی تھیں جن میں کچھ خشک تھیں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا یہ کہاں سے آئی ہیں لوگوں نے بتایا : ہم نے اپنی کھجوروں کے دو صاع کے عوض میں اس کا ایک صاع خریدا ہے ‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو یہ درست نہیں ہے بلکہ تم اپنی کھجوروں کو ( کسی اور چیز کے عوض میں) فروخت کرو ( پھر اس چیز کے عوض میں ) اپنی ضرورت کی چیز کو خرید لو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، [ص:147] ← قَتَادَةَ ← ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5020

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5021

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكَلَ تَمْرَكَ هَكَذَا»، قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا»

حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا نگران مقرر کیا وہ شخص عمدہ قسم کی کھجوریں لے کرآیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا وہاں کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں ؟ اس نے عرض کی: جی نہیں ‘ یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ہم نے دو صاع کھجوروں کے عوض میں اس کا ایک صاع حاصل کیا ہے اور تین صاع کے عوض میں دو صاع حاصل کئے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ایسا ہ کرو تم کھجوروں کو درہم کے عوض میں فروخت کرو اور پھر درہم کے عوض میں اچھی قسم کی کھجوریں خرید لو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 5021

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5022

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟، قَالَ: اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَقَالَ [ص:397] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ» *

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں بری کھجور لے کر آیا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ اس نے بتایا میں نے دو صاع کے عوض میں اس کا ایک صاع خریدا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: افوہ ‘ یہ توعین سود ہے تم ایسا نہ کرو۔

[ص:397] رَسُولُ اللَّهِ «أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ» ← اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، ← «مَا هَذَا؟» ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Hadith 5022

chevron_left Previous
1…910111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr