Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4903

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، سَمْحًا إِذَا اشْتَرَى، سَمْحًا إِذَا اقْتَضَى، سَمْحًا إِذَا قَضَى»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے جو فروخت کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے خریدتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے اور ادائیگی کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ‘‘۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 4903

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4904

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذِبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا»

حضرت حکیم بن حزام ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خریدو فروخت کرنے والے دونوں افراد کو ( سودا ختم کرنے کا ) اس وقت تک اختیار رہتا ہے ‘ جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوںسچ بولیں اور بیان کریں ‘ تو ان کے سودے میں ان کے لئے برکت رکھی جاتی ہے اور اگر وہ دونوں جھوٹ بولیں اور ( سودے کی خامی کو ) چھپائیں ‘ تو ان کے سودے سے برکت کو مٹایا جاتا ہے ‘‘۔

حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ، ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4904

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4905

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ أَصَابِعَهُ فِيهَا، فَإِذَا فِيهِ بَلَلٌ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ »، قَالَ: أَصَابَتْهُ سَمَاءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَهَلَّا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ، حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں داخل کیں ‘ تو اس میں گیلا پن محسوس ہوا۔ آپﷺ نے فرما یا : اے ا س اناج والے یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اس پہ بارش پڑ گئی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے اس ( گیلے حصے کو ) اوپر کیوں نہیں رکھا ‘ تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے ‘ جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 4905

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4906

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ‘‘ جھوٹی قسم سامان کو فروخت کروا دیتی ہے ‘ لیکن کمائی میں برکت کو مٹا دیتی ہے‘‘۔

«الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← زيد1 ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 4906

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4907

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ»، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُمْ خَابُوا، وَخَسِرُوا؟، فَأَعَادَهَا، فَقُلْتُ مَنْ هُمْ، فَقَالَ: «الْمُسْبِلُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ كَاذِبًا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» الْمُسْبِلُ «، أَرَادَ بِهِ الْمُسْبِلَ إِزَارَهُ خُيَلَاءَ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» الْمَنَّانُ «أَرَادَ بِهِ عِنْدَ إِعْطَاءِ صَدَقَةِ الْفَرِيضَةِ»

حضرت ابو ذر غفاری ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین لوگ ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور ان کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا اور ان کا تزکیہ نہیں کرے گا اور ان لوگوں کو درد ناک عذاب ہو گا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون لوگ ہیں ۔ وہ تو ہلاک ہو جائیں گے ‘ اور خسارے کا شکار ہو جائیں گے۔ نبی اکرمﷺ نے پھر یہ بات دہرائی ‘ تو میں نے عرض کی: وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ( تکبر کی وجہ سے اپنے تہبند کو ) لٹکانے والا شخص ‘ احسان جتانے والا شخص اور جھوٹی قسم اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا شخص ‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان لٹکانے والا ‘‘ اس سے مرا د وہ شخص ہے ‘ جو تکبر کے طور پر اپنے تہبند کو لٹکاتا ہے اور نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : احسان جتا نے والا اس سے مراد یہ ہے : جو شخص فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت احسان جتاتا ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبَا زُرْعَةَ، ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 4907

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4908

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، [ص:274] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، رَجُلٌ حَلَفَ بَعْدَ الْعَصْرِ، عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، فَاقْتَطَعَهُ، وَرَجُلٌ حَلَفَ، لَقَدْ أَعْطَى بِسِلْعَتِهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى، وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ، يَقُولُ اللَّهُ، الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي، كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَا لَمْ تَعْمَلْهُ يَدَاكَ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین لوگ ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کلا م نہیں کرے گا اور ان کی طرف نظر رحمت کرے گا۔ ایک وہ شخص جو عصر کے بعد کسی مسلمان کے مال پر قسم اٹھا کر اسے ہتھیالے۔ ایک وہ شخص جو یہ قسم اٹھائے کہ اس نے اس سامان کے اتنے پیسے دیئے تھے جو اس سے زیادہ ہوں جو اسے دئیے جا رہے ہوں۔ ایک وہ شخص جو اضافی پانی کو لینے سے منع کر دے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : آج کے دن میں اپنے فضل کو تم سے روک لیتا ہوں ‘ جس طرح تم نے اس اضافی چیز کو روک لیا تھا ‘ جو تمہارے ہاتھوں کی کمائی نہیں تھی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ، [ص:346] ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 4908

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4909

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: مَرَّ أَعْرَابِيٌّ بِشَاةٍ، فَقُلْتُ: تَبِيعُنِيهَا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ؟، قَالَ: لَا وَاللَّهِ، ثُمَّ بَاعَنِيهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «بَاعَ آخِرَتَهُ، بِدُنْيَاهُ»

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی ایک بکری لے کر گزرا میں نے کہا: کیا تم تین درہموں کے عوض میں یہ مجھے فروخت کردو گے اس نے کہا: جی نہیں۔ اللہ کی قسم ( نہیں کروں گا ) پھر اس نے مجھے وہ بکری فروخت کر دی۔ میں نے بعد میں اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا ‘ تو آپﷺ نے فرمایا: اس نے اپنی دنیا کے عوض میں اپنی آخرت کو فروخت کر دیا۔

لَا وَاللَّهِ، ثُمَّ بَاعَنِيهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: «بَاعَ آخِرَتَهُ، بِدُنْيَاهُ» ← مَرَّ أَعْرَابِيٌّ بِشَاةٍ، فَقُلْتُ: تَبِيعُنِيهَا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ؟، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ

Hadith 4909

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4910

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِيهِ، [ص:277] عَنْ جَدِّهِ رِفَاعَةَ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى الْبَقِيعِ وَالنَّاسُ يَتَبَايَعُونَ، فَنَادَى: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، فَاسْتَجَابُوا لَهُ، وَرَفَعُوا إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ، وَقَالَ: «إِنَّ التُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى، وَبَرَّ، وَصَدَقَ»

حضرت رفاعہ بن رافع انصاری ؓ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ بقیع کی طرف گئے لوگ خریدو فروخت کر رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے بلند آواز میں فرمایا: اے تاجروں کے گروہ ! لوگوں نے آپ ﷺ کی طرف توجہ کی اور آپ ﷺ کی طرف دیکھنے لگے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرما یا: بیشک تاجروں کو قیامت کے دن گنہگار لوگوں کے طور پر زندہ کیا جاے گا ۔ ماسوائے اس شخص کے جو پرہیز گاری اختیاری کرے۔ نیکی کرے اور سچ بولے۔

أَبِيهِ ← إسماعيل بن عبيد بن رفاعة بن رافع الأنصاري ثم الزرقي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4910

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4911

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا دُونَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا»، قُلْتُ: لَا، بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: فَقَالَ: «لَا بِعْنِيهِ»، قُلْتُ لَا، بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ «لَا بِعْنِيهِ»، قُلْتُ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ، إِلَى الْمَدِينَةِ»، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ [ص:279] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ: «أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ، وَزِدْهُ»، قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ، وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِي كِيسٍ، فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ، لَيَالِيَ الْحَرَّةِ

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے تھے ہم نے مدینہ سے کچھ پہلے ایک جگہ پر پڑا دیکھا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔ میں نے عرض کی : جی نہیں یہ ویسے ہی آپ کا ہوا۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی نہیں تم اسے مجھے فروخت کرو۔ میں نے عرض کی : جی نہیں ۔ یا رسول اللہﷺ ! یہ ویسے ہی آپ کا ہوا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی نہیں اسے مجھے فروخت کرو۔ میں نے کہا: میں نے ایک شخص کا سونے کا ایک اوقیہ دینا ہے ‘ تو یہ اس کے عوض میں آپ کا ہوا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ میں نے لے لیا تم اس پر سوار ہو کر مدینے تک چلے جاؤ۔ جب میں مدینہ منورہ آیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے حضرت بلا لؓ سے فرمایا اسے سونے کا ایک اوقیہ دو اور زیادہ ادائیگی کرنا حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے مجھے سونے کا ایک اوقیہ دیا اور ایک قیراط زیادہ دیا۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں ‘ تو میں نے طے کیا کہ نبی اکرمﷺ کی دی ہوئی اضافی ادائیگی کبھی مجھ سے جدا نہیں ہو گی۔ وہ رقم میرے پاس ایک تھیلی میں محفوظ رہی ‘ پھر واقعہ حرہ کے موقع پر اہل شام نے اسے ہتھیا لیا۔

«لَا بِعْنِيهِ»، قُلْتُ لَا، بَلْ هُوَ لَكَ ← النَّبِيُّ «بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا»، قُلْتُ: لَا، بَلْ هُوَ لَكَ، ← أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا دُونَ الْمَدِينَةِ، ← جَابِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4911

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4912

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا» قَالَ نَافِعٌ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، إِذَا أَعْجَبَهُ شَيْءٌ فَارَقَ صَاحِبَهُ لِكَيْ يَجِبَ لَهُ

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ خریدو فروخت کرنے والے آدمیوں کو ( سودا ختم کرنے کا ) اس وقت تک اختیار رہتا ہے ‘ جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے‘‘َ نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا یہ معمول تھا کہ جب انہیں کوئی چیز پسند آ جاتی ‘ تو وہ اپنے ساتھی سے جدا ہو جاتے تھے تاکہ سودا ان کے حق میں چے ہو جائے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4912

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4913

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ بَيِّعَيْنِ، لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا، حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ خریدو فروخت کرنے والے دو آدمیوں کےد رمیان سودا اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا ‘ جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے البتہ جس سودے میں ( بعد میں ختم کرنے کا ) اختیار ہو اس کا حکم مختلف ہے ‘‘۔

«كُلُّ بَيِّعَيْنِ، لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا، حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 4913

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ کِتَابُ الْبُیُوْعِ · حديث 4914

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ ابْتَاعَ بَيْعًا، فَوَجَبَ لَهُ، [ص:283] فَهُوَ فِيهِ بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يُفَارِقْهُ إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، فَإِنْ فَارَقَهُ، فَلَا خِيَارَ لَهُ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص کوئی چیز خریدتا ہے ‘ تو یہ اس کے حق میں لازم ہو جاتی ہے اور اسے اس بارے میں اپنے ساتھی کے مقابلے میں اس وقت تک اختیار ہوتا ہے ‘ جب تک وہ اس ( ساتھی ) سے جدا نہیں ہو جاتا ۔ اگر وہ چاہے ‘ تو اسے حاصل کر لے اگر چاہے ‘ تو اسے ترک کر دے۔ اگر وہ اپنے ساتھی سے جدا ہو جاتا ہے ’ تو پھر اس کے پاس اختیار باقی نہیں رہے گا‘‘۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Hadith 4914

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr