صیح ابن حبان · کتاب الوقف ‹ باب · حديث 4899
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكِنَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَتِهِ بِثَمْغٍ، فَقَالَ: «احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا»، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَحَبَسَهَا عُمَرُ عَلَى السَّائِلِ، وَالْمَحْرُومِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَالْمَسَاكِينِ، وَجَعَلَ قَيِّمَهَا يَأْكُلُ، وَيُؤْكِلُ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے ”ثمغ “ میں موجود زمین کو صدقہ کرنے کے بارے میں مشورہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اصل کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو (اللہ کی) راہ میں دے دو۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مانگنے والے محروم مسافر اور اللہ کی راہ میں (جہاد پر جانے والے افراد) غلاموں اور مسکینوں کے لیے مخصوص کر دیا۔ آپ نے اس کے نگران کو اس بات کا حق دیا کہ وہ خود بھی اس کو کھا سکتا ہے اور کسی دوسرے کو بھی کھلا سکتا ہے، جبکہ وہ مال کو جمع کرنے والا نہ ہو۔
احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا ← ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّبِيَّ فِي صَدَقَتِهِ بِثَمْغٍ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكِنَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ
Sahih Ibn Hibban · Endowment book › Chapter · Hadith 4899
