Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4887

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، عَنِ الْجَارُودِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ»

حضرت جاروت رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمان کی گمشدہ چیز جہنم کا شعلہ ہے۔“

الْجَارُودِ، ← أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4887

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4888

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَجِدُ فِي الطَّرِيقِ هَوَامِي مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ»

مطرف اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بنو عامر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ہمیں راستے میں اونٹ ملے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کی گم شدہ چیز جہنم کا شعلہ ہے۔

قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ رَهْطٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقَالُوا: ← أَبِيهِ ← مُطَرِّفٍ ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4888

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4889

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا»، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ، قَالَ: «لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ»، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ، قَالَ: «مَا لَكَ، وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْأَمْرُ بِاسْتِعْمَالِ الِانْتِفَاعِ، بِاللُّقَطَةِ بَعْدَ تَعْرِيفِ سَنَةٍ، أَضْمَرَ فِيهِ اعْتِقَادَ الْقَلْبِ عَلَى رَدِّهَا عَلَى صَاحِبِهَا، إِذَا جَاءَ، وَعَرَّفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا»

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپﷺ سے ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جو کہیں گری ہوئی ملتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس کی تھیلی اور اس تھیلی کے منہ پر بندھی ہوئی چیز کی شناخت رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اگر اس کا مالک آ جاتا ہے، تو ٹھیک ہے۔ ورنہ تم اسے استعمال کرو۔ اس شخص نے دریافت کیا گمشدہ بکر ی (کا کیا حکم ہو گا) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیا لے جائے گا۔ اس شخص نے دریافت کیا گمشدہ اونٹ (کا کیا حکم ہے) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے۔ اس کے پاؤں اس کے پاس ہیں۔ وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت سے کچھ کھاپی لےگا۔ یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد گمشدہ ملنے والی چیز سے نفع حاصل کرنے کا حکم اس صورت میں ہے، جب آدمی کے دل میں اس بات کا اعتقاد ہو کہ وہ اس چیز کے مالک کے آنے پر وہ چیزیں اس مالک کو واپس کر دے گا اور اس شخص نے اس کی تھیلی اور تھیلی کے منہ پر باندھی جانے والی چیز کی پہچان رکھی ہو۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 4889

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4890

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُمْ عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ قَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً»، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟، قَالَ: «لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ»، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟، قَالَ: «مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا» أَبُو الرَّبِيعِ، هَذَا اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ مِصْرِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بَصْرِيٌّ، قَالَهُ الشَّيْخُ

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا۔ اس نے نبی اکرم ﷺ سے گم شدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس تھیلی کو اور اس کے منہ پر بندھی ہوئی چیز کی شناخت کو یاد رکھو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر اس کا کوئی طلبگار نہیں آتا۔ تو پھر تم اسے خرچ کر لو۔ اس نے دریافت کیا گمشدہ بکری (کا کیا حکم ہے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیوں کو ملے گی۔ اس نے عرض کی: گمشدہ اونٹ (کا کیا حکم ہے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں۔ وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت کے پتے کھا لے گا۔ یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔ ابوربیع نامی راوی کا نام سلیمان بن داؤد بن حماد بن سعد ہے، جو رشد ین بن سعد بن مصری کے بھتیجے ہیں اور ابو ربیع زہرانی کا نام سلیمان بن داؤد بصری ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

فضالة الإبل ← لك أو لأخيك أو للذئب ← فضالة الغنم ← فَإِنْ لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا، ← "اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً"، ← اللقطة ← مَعَهُ، فَسَأَلَهُ ← أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ ← يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ،أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 4890

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4891

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا، فَقَالَا: دَعْهُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَدَعُهُ تَأْكُلُهُ السِّبَاعُ، لَأَسْتَمْتِعَنَّ بِهِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقَالَ: أَحْسَنْتَ إِنِّي أَصَبْتُ صُرَّةً فِيهَا دَنَانِيرُ، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ: «عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا، فَعَرَّفْتُهَا ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ»، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: «احْفَظْ وِعَاءَهَا، وَوِكَاءَهَا، وَعَدَدَهَا، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ، فَادْفَعْهَا، وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا»

سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں، میں زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ہمراہ روانہ ہوا میں نے (راستے میں) گمشدہ کوڑا اٹھا لیا۔ تو ان دونوں نے کہا کہ تم اسے چھوڑ دو۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں اسے اس لیے نہیں چھوڑوں گا تاکہ درندے اسے کھا جائیں۔ میں اس کے ذریعے فائدہ حاصل کروں گا۔ میں مدینہ منورہ آ گیا۔ میری ملاقات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے مجھے ایک تھیلی ملی تھی۔ جس میں دینار تھے میں وہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپﷺ کو اس بارے میں بتایا: تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر مجھے کوئی شخص نہیں ملا میں نے تین سال تک اس کا اعلان کیا۔ پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس تھیلی کے منہ پر بندھی ہوئی ڈوری اور اس میں موجود دیناروں کی تعداد کویاد رکھنا اگر کوئی شخص آ کر تمہیں اس بارے میں بتا دے تو یہ اس کے حوالے کر دیان۔ ورنہ تم اس سے نفع حاصل کر لو۔

سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4891

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4892

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا بِالْعُذَيْبِ، فَقَالَا: دَعْهُ، فَقُلْتُ: لَا أَدَعُهُ تَأْكُلُهُ السِّبَاعُ، فَقَدِمْتُ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ: أَحْسَنْتَ، أَحْسَنْتَ الْتَقَطْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: «عَرِّفْهَا»، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ: «عَرِّفْهَا»، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ: «عَرِّفْهَا»، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: «اعْلَمْ عَدَدَهَا، وَوِعَاءَهَا، وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعَدَدِهَا، وَوِعَائِهَا، وَوِكَائِهَا، فَأَعْطِهِ إِيَّاهَا، وَإِلَّا، فَاسْتَمْتِعْ بِهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَاسْتَمْتِعْ بِهَا، وَشَأْنَكَ بِهَا أَضْمَرَ «، فِي هَذِهِ اللَّفْظَةَ رَدَّ اللُّقَطَةِ عَلَى صَاحِبِهَا، إِذَا جَاءَ بَعْدَ الْأَحْوَالِ الثَّلَاثَةِ»

سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں، میں سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے ہمراہ روانہ ہوا۔ عذیب کے مقام پر ایک کوڑا ملا میں نے وہ اٹھا لیا ان دونوں نے کہا تم اسے چھوڑ دو۔ میں نے کہا میں اسے اس لیے نہیں چھوڑوں گا تا کہ درندے اسے کھا لیں پھر میں حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے انہیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں مجھے ایک سو دینار پڑے ہوئے ملے تھے۔ میں وہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا۔ آپﷺ نے فرمایا: تم اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک ان کا اعلان کیا میں پھر آپﷺ کے پاس آیا۔ آپﷺ نے فرمایا: تم انکا اعلان کرو میں پھر ایک سال تک ان کا اعلان کیا پھر میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپﷺ نے فرمایا: تم ان کا اعلان کرو میں ایک سال تک ان کا اعلان کرتا رہا۔ پھر میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپﷺ نے فرمایا: تم ان کی تعداد اس کی تھیلی اور تھیلی کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کی نشانی یاد رکھنا اگر کوئی شخص بعد میں آ کر تمہیں اس کی تعداد، تھیلی اور تھیلی کی ڈوری کی نشانی کے بارے میں بتا دے تو تم (اتنی ہی رقم ) اسے ادا کر دینا۔ ورنہ تم اس کے ذریعے نفع حاصل کر لو۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان تم اس کے ذریعے نفع حاصل کرو اس میں یہ بات پوشیدہ ہے ، اگر تین شال گزرنے کے بعد بھی اس کا مالک اس کے پاس آ جاتا ہے، تو وہ ملنے والی چیز اس ےلوٹا ئی جائے گی۔

دَعْهُ، فَقُلْتُ: لَا أَدَعُهُ تَأْكُلُهُ السِّبَاعُ، فَقَدِمْتُ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَحَدَّثْتُهُ ← زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا ← خَرَجْتُ مَعَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4892

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4893

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، قَالَ «مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا، فَدَعْهَا تَأْكُلُ الشَّجَرَ، وَتَرِدُ الْمَاءَ، حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا»، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ»، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْرِفْ عَدَدَهَا، وَوِعَاءَهَا، وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ [ص:256] جَاءَ صَاحِبُهَا، فَعَرَفَ عَدَدَهَا، وَوِعَاءَهَا، وَوِكَاءَهَا، فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ»

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا۔ تو آپﷺ نے فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے۔ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے۔ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں۔ تم اسے چھوڑ دو۔ وہ خود ہی درخت کے پتے کھا لے گا اور پانی تک پہنچ جائے گا۔ یہاں تک کہ اسے تلاش کرنے والا شخص اس تک پہنچ جائے گا۔ اس شخص نے نبی اکرم ﷺ سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیے کو مل جائے گا۔ پھر اس شخص نے نبی اکرم ﷺ سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس کی تعداد اس کی تھیلی اور اس کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کی شناخت کو یاد رکھو اگر اس کا مالک آ جائے، اور وہ اس تھیلی اور ڈوری کے بارے میں نشانی بتا دے تو وہ تم اس کے سپرد کر دو ورنہ وہ تمہاری ہوئی۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4893

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4894

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً، فَلْيُشْهِدْ ذَوِي عَدْلٍ، ثُمَّ لَا يَكْتُمُ، وَلَا يُغَيِّرُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، فَهُوَ [ص:257] أَحَقُّ بِهَا، وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَضْمَرَ فِيهِ، إِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا، فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ»

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص گمشدہ ملنے والی چیز کو اٹھا لیتا ہے ۔ وہ دو عادل لوگوں کو گواہ بنا لے پھر وہ کوئی بات چھپائے نہیں اور کسی چیز کو تبدیل نہ کرے اگر اس چیز کا ما لک آ جاتا ہے، تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔ ورنہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مال شمار ہو گا، جسے وہ چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ (امام ابن حبا ن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: )اس میں یہ بات پوشیدہ ہے، اگر اس کا مالک نہیں آتا تو وہ پھر اللہ تعالیٰ کا مال ہو گا، جسے وہ چاہتا ہے دے دیتا ہے۔

عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4894

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4895

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ [ص:258] اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: «عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ كُلْهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، فَأَدِّهَا إِلَيْهِ»

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ تو آپﷺ نے فرمایا۔ ایک سال تک اس کا اعلان کرو اگر اس کے مالک کا پتہ نہیں چلتا تو پھر اس کی تھیلی اور اس کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کو یاد رکھو پھر تم اسے خود استعمال کر لو اگر اس کا مالک آگیا (تو اس کی مانند رقم) اسے دے دینا۔

[ص:258] اللُّقَطَةِ، ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 4895

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4896

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ»، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: «وَلُقَطَةُ الْحَاجِّ، يَتْرُكُهَا، حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: «عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ ابْنِ أَخِي طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قُتِلَ هُوَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

حضرت عبدالرحمٰن بن عثمانی تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے حاجیوں کی گری ہوئی چیز کو اٹھانے سے منع کیا ہے۔ ابن وہب بیان کرتے ہیں۔ حاجیوں کی گری ہوئی چیز کو یوں ہی رہنے دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پالے گا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) عبدالرحمٰن نامی یہ راوی عبدالرحمٰن بن عثمان بن عبیداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہیں۔ یہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔ یہ اور حضر ت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ایک ہی دن شہید ہوئے تھے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 4896

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4897

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا»

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ”جو شخص کسی گمشدہ (چیز) کو پناہ دیتا ہے۔ تو وہ گمراہ شمار ہوتا ہے، جب وہ اس کا اعلان نہیں کرتا “۔

«مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا» ← رَسُولِ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4897

صیح ابن حبان · کتاب اللقطۃ ‹ باب · حديث 4898

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا، وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا»، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ، قَالَ: «هِيَ لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ»، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ، قَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا»

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپﷺ سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا، تو آپﷺ نے فرمایا: تم اس کی تھیلی اور اس کی ڈوری کی شناخت یاد رکھو اور ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آجاتا ہے، تو ٹھیک ہے ورنہ اسے تم استعمال کرو۔ اس نے دریافت کیا گمشدہ ملنے والی بکری (کا کیا حکم ہے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا پھر بھیڑیوں کو ملے گی۔ اس نے دریافت کیا گمشدہ ملنے والے اونٹ (کا کیا حکم ہے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے۔ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے۔ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں۔ وہ خود ہی پانی پی لے گا۔ درخت کے پتے کھا لے گا۔ یہاں تک کہ اس کا مالک بھی اس تک پہنچ جائے گا۔

فضالة الإبل ← هي لك أو لأخيك أو للذئب ← فضالة الغنم ← «اعْرِفْ عِفَاصَهَا، وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا»، ← اللقطة ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَسَأَلَهُ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 4898

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr