Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5651

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقْدُمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِالْكَلْبِ فَتَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا، وَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں کتوں کو مار دینے کا حکم دیا ‘ یہاں تک کہ اگر کوئی عورت دیہات سے کتا ساتھ لے آتی ‘ تو اسے بھی مار دیا جاتا ‘پھر نبی اکرمﷺ نے ہمیں کتوں کو مارنے سے منع کر دیا ۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم وہ نقطوں والے سیاہ رنگ کے کتے کو ضرور مارنا کیونکہ وہ شیطان ہے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5651

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5652

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص کتا پالتا ہے اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے البتہ کھیت یا جانوروں ( کی حفاظت کے لئے پالے جانے والے کتے کی اجازت ہے) ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5652

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5653

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ ضَارِيَةٍ أَوْ مَاشِيَةٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں ‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص کتا پالتا ہے ‘ جو کھیت یا جانوروں کی حفاظت کےلئے نہ ہو وہ اس کے اجر میں سے روزانہ دو قیراط کم ہوتے ہیں ‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5653

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5654

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص کوئی ایسا کتا پالتا ہے ‘جو کھیت یا جانوروں کی حفاظت کے لئے نہ ہو ‘ تو اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتاہے‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5654

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5655

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ»

حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جو لوگ بھی ایسا کتا پالتے ہیں ‘ جو شکار کرنے کے لئے یا کھیت کی حفاظت کے لئے یا جانورو کی حفاظت کے لئے نہ ہو ‘ تو ان کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتاہے‘‘۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ1 الْمُغَفَّلِ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5655

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5656

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ [ص:472] الْعَلَاءِ، وَمَعَنَا شُعْبَةُ، فَلَمَّا دُفِنَ، قَالَ شُعْبَةُ: حَدَّثَنِي هَذَا وَأَشَارَ إِلَى قَبْرِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا» فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ، وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَدَّثَنِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، وَأَوْمَأَ إِلَى مَسْجِدِ الْجَامِعِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «اسْمُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدٌ وَلَقَبُهُ سُلْسٌ، وَلَيْسَ لِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلَاءِ فِي الدُّنْيَا حَدِيثٌ مُسْنَدٌ غَيْرَ هَذَا، وَهُوَ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ اسْمُهُ زَبَّانُ، وَهُمْ أَرْبَعَةٌ: أَبُو مُعَاذٍ وَعُمَرُ»

سید بن عبید بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ابو سفیان بن علاء کے جنازے میں شریک ہوئے ہمارے ساتھ شعبہ بھی تھے جب ابو سفیان کو دفن کر دیا گیا ‘ تو شعبہ نے کہا: ان صاحب نے مجھے حدیث بیان کی ہے ۔ انہوں نے ابو سفیان کی قبر کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا: یہ کہتے ہیں : میں نے حسن سے کہا آپ کو کس نے یہ حدیث بیان کی ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے ‘ تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا ‘‘۔ تو انہوں نے جواب دیا: حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ نے ‘ اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے انہوں نے اس مسجد میں مجھے یہ حدیث بیان کی تھی حسن نے جامع مسجد کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی تھی۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) ابو سفیان نامی راوی کا نام سعد ہے ان کا لقت ’’ سلس‘ ہے ۔ ابو سفیان بن علاء کے حوالے سے دنیا میں اس کے علاوہ اور کوئی مسند حدیث موجود نہیں ہے ۔ یہ ابو عمرو بن علاء کے بھائی تھے اور عمرو بن علاء کا نام زبّان تھا۔ یہ چار بھائی تھے۔ ( ان کے علاوہ دو بھائیوں کے نام) ابو معاذ اور عمر ہیں ۔

قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَنْ حَدَّثَكَ ← هَذَا وَأَشَارَ إِلَى قَبْرِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلَاءِ، ← شُعْبَةُ، ← كُنَّا فِي جَنَازَةِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ [ص:472] الْعَلَاءِ، وَمَعَنَا شُعْبَةُ، فَلَمَّا دُفِنَ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5656

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5657

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ» قَالَ: «وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ حَرْثٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ» قَالَ: وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ

حضرت عبد اللہ بن مغفلؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر ایک کتے باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے ‘ تو انہیں مار دینے کا حکم دیتا البتہ تم ان میں سے سیاہ فام کتے کو مار دیا کرو‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو لوگ کوئی ایسا کتا پالتے ہیں جو کھیت کی حفاظت یا شکار یا جانوروں کی حفاظت کے لئے نہ ہو ‘ تو ان کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتاہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہمیں اس بات کا حکم دیا گیاتھا کہ ہم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر سکتے ہیں البتہ ہم اونٹوں کےباڑے میں نماز ادانہ کریں کیونکہ وہ شیاطین سے پیدا کئے گئے ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ1 الْمُغَفَّلِ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5657

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5658

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ [ص:475] أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، وَلَكِنِ اقْتُلُوا الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں‘میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے ‘ تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا البتہ تم ان میں سے سیاہ فام کتے کو مار دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا‘‘۔

النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5658

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5659

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الْحَرْثِ»

حضرت عبد اللہ بن مغفلؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے کھیت ( کی حفاظت کے لئے ) کتا پالنے کی اجازت دی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5659

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِی التَّبَاغُضِ وَالتَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ وَالتَّشَاجُرِ وَالتَّھَا جُرِ بَیْنَ الْمُسْلَمِیْنَ · حديث 5660

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادًا لِلَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ»

حضرت انس بن مالکؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو آپس میں حسد نہ رکھو ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو۔ اللہ کے بندے بھائی ‘ بھائی بن کے رہو کسی بھی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے‘ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے لا تعلق رہے‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of what came about of hatred, envy, contention, quarrels, and wrangling between Muslims · Hadith 5660

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِی التَّبَاغُضِ وَالتَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ وَالتَّشَاجُرِ وَالتَّھَا جُرِ بَیْنَ الْمُسْلَمِیْنَ · حديث 5661

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دی جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کی مغفرت کر دیتاہے‘ جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو صرف اس آدمی کی مغفرت نہیں ہوتی جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی چل رہی ہو۔ یہ حکم دیا جاتا ہے ان دونوں کا جائزہ لیتے رہو ‘ جب تک یہ صلح نہیں کرتے ۔ ( ان کی مغفرت نہیں ہو گی) ان دونوں کا جائزہ لیتے رہو ‘ جب تک یہ صلح نہیں کرتے ۔ ( ان کی مغفرت نہیں ہو گی )‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of what came about of hatred, envy, contention, quarrels, and wrangling between Muslims · Hadith 5661

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِی التَّبَاغُضِ وَالتَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ وَالتَّشَاجُرِ وَالتَّھَا جُرِ بَیْنَ الْمُسْلَمِیْنَ · حديث 5662

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ: وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ حِينَ بَلَغَهَا ذَلِكَ: إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرًا أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا لَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللَّهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا وَلَا أَحْنَثُ فِي نَذْرِي الَّذِي نَذَرْتُ أَبَدًا، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَقَالَ لَهُمَا: نَشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ إِلَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ فِي قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَقَدِ اشْتَمَلَا عَلَيْهِ بِبُرْدَيْهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ، [ص:479] فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِيهٍ نَدْخُلُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلَا، فَقَالَا: كُلُّنَا؟ قَالَتْ: نَعَمِ ادْخُلُوا كُلُّكُمْ، وَلَا تَعْلَمُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَلَمَّا دَخَلُوا اقْتَحَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ وَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَاعْتَنَقَهَا وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ، وَيَقُولَانِ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا عَمِلْتِيهِ، وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَلَمَّا أَكْثَرَا عَلَى عَائِشَةَ التَّذْكِرَةَ، طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ وَتَبْكِي، وَتَقُولُ: إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالَا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ، ثُمَّ أَعْتَقَتْ عَنْ نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً تَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «عَائِشَةُ هِيَ خَالَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ لِأَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزيبرِ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أُخْتُ عَائِشَةَ»

عورف بن حارث جو سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے قریبی عزیز ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ ؓ کے کچھ فروخت کرنے پر یا عطیے کے طور پر کوئی چیز دیتے پر حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ نے یہ کہا کہ اللہ کی قسم یا ‘ تو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ ایسا کرنے سے باز آ جائیں گی ‘ یا میں انہیں تصرف کرنے سے روک دوں گا۔ سیدہ عائشہ ؓ تک جب یہ بات پہنچی‘ تو انہوں نے کہا: اللہ کے نام پر مجھ پر یہ نذر لازم ہے ‘ اب میں عبد اللہ بن زبیر کے ساتھ کبھی کلام نہیں کروں گی جب سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی ان سے لاتعلقی زیادہ ہو گئی ‘ تو عبد اللہ بن زبیر نے ان کی خدمت میں سفارش پیش کی۔ سیدہ عائشہ ؓ نے کہا: اللہ کی قسم میں اس کے بارے میں کسی کی سفارش کو قبول نہیں کروں گی اور میں نے جو نذر مانی ہے کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گی۔ جب زیادہ عرصہ گزر گیا ‘ تو حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے اس بارے میں حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن اسود سے بات کی۔ یہ دونوں صاحبان بنوزہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے ان دونوں سے کہا: میں آپ دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ مجھے سیدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں لے جائیں کیونہ ان کے لئے ایسی نذر ماننا جائز نہیں ہے ‘جس میں وہ مجھ سے تعلق توڑ لیں ‘تو مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمٰن بن اسود عبد اللہ بن زبیرؓ کو ساتھ لے کر گئے۔ ان دونوں نے اپنی چادریں ان پرڈال دیں اور ان دونوں نے سیدہ عائشہ ؓ سے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ ان دونوں نےکہا: نبی اکرمﷺ پر سلام نازل ہو اے ام المومنین ! کیا ہم اندر آ جائیں؟ سیدہ عائشہ ؓ نےفرمایا: تم دونوں آجاؤ۔ ان دونوں نے عرض کی: ہم سب آ جائیں حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ہاں تم سب آ جاؤ۔ سیدہ عائشہ ؓ کو اس بات کا پتہ نہیں تھا کہ ان دونوں کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ بھی ہے۔ جب یہ حضرات اندر داخل ہوئے ‘ تو حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے پردہ ہٹایا اور سیدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ان کو گلے لگا لیا وہ روتے ہوئے سیدہ عائشہ ؓ کو واسطے دینے لگے۔ حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبد الرحمٰن نے بھی سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو واسطہ دیا اور ان دونوں نے ان سے کہا: آپ نے جو طرزِ عمل اختیار کیاہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس سے منع کیا ہے ۔ کسی بھی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لا تعلق رہنا جائز نہیں ہے ‘ جب ان دونوں صاحبان نے سیدہ عائشہ ؓ کو زیادہ واعظ و نصیحت کی ‘ تو سیدہ عائشہ ؓ نے انہیں ‘ یار کروانا شروع کیا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہا میں نے نذر مانی ہے نذر کا معاملہ شدید ہوتا ہے۔ لیکن وہ دونوں صاحبان ان کے ساتھ مسلسل بات کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ سیدہ عائشہؓ نے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کر دی۔ پھر سیدہ عائشہ ؓ نے اپنی نذر کے عوض میں چالیس غلام آزاد کئے۔ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی وہ روتی رہتی تھی ‘ یہاں تک کہ ان کی چادر ان کے آنسوؤں سے تر ہو جایا کرتی تھی۔ ( امام ابن حبان ؒفرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ صدیقہؓ حضرت عبد اللہ بن زبیر کی خالہ تھیں کیونکہ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابو بکرؓ ‘ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی بہن ہیں۔

عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of what came about of hatred, envy, contention, quarrels, and wrangling between Muslims · Hadith 5662

chevron_left Previous
1…8910…27
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr