Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5639

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، [ص:457] عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ، قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو لبابہ ؓ نے بات بیان کی ہے نبی اکرمﷺ نے گھروں میں موجود سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ، ← نَافِعٍ، [ص:313] ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5639

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5640

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، [ص:458] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَيَّاتُ مِنْ مَسْخِ الْجَانِّ كَمَا مُسِخَتِ الْخَنَازِيرُ وَالْقِرَدَةُ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ سانپ جنوں کی مسخ شدہ شکل ہے ‘ جس طرح خنزیر بند ر مسخ شدہ ( مخلوق ) ہیں ‘‘۔

«الْحَيَّاتُ مِنْ مَسْخِ الْجَانِّ كَمَا مُسِخَتِ الْخَنَازِيرُ وَالْقِرَدَةُ» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، [ص:395] ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5640

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5641

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ هَوَامٌّ مِنَ الْجِنِّ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فَلْيُحَرِّجْ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ رَآهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلْيَقْتُلْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ شَيْطَانٌ» «مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى هُوَ وَالِدُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى صَاحِبِ الشَّافِعِيِّ

حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں ‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جنات سے تعلق رکھنے والے یہ جانور ( یعنی سانپ) جب ان میں سے کوئی شخص اسے اپنے گھر میں دیکھے ‘ تو وہ تین مرتبہ اس تنبیہ کرے اور وہ اس کے بعد بھی اسے دیکھے ‘ تو اسے مار دے کیونکہ وہ شیطان ہو گا‘‘۔ محمد بن ابو یحیٰ نامی روی ابراہیم بن محمد بن ابو یحیٰ کے والد ہیں ‘ جو امام شافعی کے شاگرد تھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5641

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5642

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ، وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ»

سالم عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سانپوں کو مار دو بطور دو دھاری والے اور دم کٹے ہوئے سانپ کو مارد و کیونکہ یہ بینائی کو رخصت کر دیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں‘‘۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5642

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5643

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا، أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ» [ص:461] قَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا كُنْتُ أَدَعُ حَيَّةً إِلَّا قَتَلْتُهَا حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً مِنْ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ، فَنَهَيَانِي عَنْ قَتْلِهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ، فَقَالَا: «إِنَّهُ نَهَى عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ»

سالم بیان کرتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے انہیں یہ بتایا : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’ سانپوں کو مار دو ( بطور خاص) دو دھاری اور دُم کٹے سانپ کو مار دو ‘ کیونکہ یہ نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں‘‘۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : مجھے جو بھی سانپ نظر آتا تھا ‘ میں اسے مار دیتا تھا ‘ یہاں تک کہ ایک مرتبہ حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر ؓ اور حضرت زید بن خطابؓ نے مجھے دیکھا ‘ میں اس وقت گھر میں نکل آنے والے ایک سانپ کا پیچھا کر رہا تھا ‘ انہوں نے مجھے اسے مارنے سے منع کر دیا ۔ میں نے کہا: نبی اکرمﷺ نے انہیں مارنے کا حکم دیا ہے ۔ ان دونوں نے فرمایا: نبی اکرمﷺ نے گھروں میں نکل آنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5643

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5644

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ - يَعْنِي الْحَيَّاتَ - وَمَنْ تَرَكَ قَتْلَ شَيْءٍ مِنْهُنَّ خِيفَةً فَلَيْسَ مِنَّا»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب سے ہم نے ان سے لڑائی شروع کیا ہے ہم نے انہیں سالم نہیں رہنے دیا۔ ( راوی کہتے ہیں : یعنی سانپوں کے بارے میں آپﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ) اور جو شخص خوف کو وجہ سے ان میں سے کسی ایک کو مارنے کو ترک کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَجْلَانَ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5644

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5645

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ» وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهَا حَتَّى أَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ يُطَارِدُ حَيَّةً، فَقَالَ: إِنَّهُ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ

سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ سانپوں کو اور دو دھاری سانپ کو دم کٹے ہوئے سانپ کو مار دو کیونکہ یہ دونوں بینائی کو رخصت کر دیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں‘‘۔ ( راوی کہتے ہیں : ) حضرت عبدا للہ بن عمرؓ ہرطرح کے سانپ مار دیتے تھے ‘ یہاں تک کہ ایک دن حضرت ابو لبابہ ؓ نے انہیں ایک سانپ کے پیچھے جاتے ہوئے دیکھا ‘ تو فرمایا: نبی اکرمﷺ نے گھر میں رہنے والے سانپوں ( کو مارنے سے ) منع کیا ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5645

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5646

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَعُقَيْلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعَةٍ: الْهُدْهُدِ، وَالصُّرَدِ، وَالنَّمْلَةِ، وَالنَّحْلَةِ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے چار جانوروں کو مارنے سے منع کیا ہے ہدہد ، صرد، چیونٹی اور شہد کی مکھی۔

قَتْلِ أَرْبَعَةٍ: الْهُدْهُدِ، وَالصُّرَدِ، وَالنَّمْلَةِ، وَالنَّحْلَةِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ جُرَيْجٍ، وَعُقَيْلٌ، ← حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5646

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5647

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَقَالَ تَحْتَهَا، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِبَيْتِهِنَّ، فَتُحْرَقَ عَلَى مَنْ فِيهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: هَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً» أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، قَالَ: وَقَالَ الْأَشْعَثُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَزَادَ «فَإِنَّهُنَّ يُسَبِّحْنَ»

حسن بصری بیان کرتے ہیں: ایک نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا۔ اس درخت کے نیچے ایک چیونٹی نے انہیں کاٹ لیا‘ تو ان کے حکم کے تحت چیونٹیوں کے بلوں کو آگ لگا دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کیا ( تمہیں کاٹنے والی) صرف ایک چیونٹی نہیں تھی۔ ایک اور سند کے ساتھ یہی روایت حضرت ابو ہریرہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ سے منقول ہے ۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں ‘‘ ‘ یہ چیونٹیاں تسبیح کیا کرتی تھیں ‘‘۔

الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← النَّضْرُ ← إِسْحَاقُ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5647

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5648

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ [ص:464] الْأَنْصَارِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نبی اکرمﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ نے کتوں کو مار دینے کا حکم دیا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ [ص:464] الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5648

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5649

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، قَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَدْ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ، فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي» قَالَتْ: فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ بِسَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ»، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ [ص:466] يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرَ.

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ ؓ نے مجھے بتایا: ایک دن نبی اکرمﷺ صبح اٹھے ‘ تو پریشان تھے۔ سیدہ میمونہ ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! آج آپ ﷺ کے چہرے کی رنگت تبدیل محسوس ہو رہی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جبرائیل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا وہ گزشتہ رات مجھ سے ملنے کے لئے آ جائیں گے ‘ لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے اللہ کی قسم وہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے ۔ سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے وہ دن اسی عالم میں ( یعنی پریشانی کے عالم میں) گزار دیا پھر آپ ﷺ کے ذہن میں کتے اس بچے کا خیال آیا جو ہمارے بستر کے نیچے تھا۔ آپﷺ کے حکم کے تحت اسے باہر نکال دیا گیا پھر نبی اکرمﷺ نے اپنے دست اقدس کے ذریعے اس پر پانی چھڑکا شام کے وقت حضرت جبرائیل آئے وہ آپﷺ اسے ملنے کےلئے آئے۔ نبی اکرمﷺ نےان سے دریافت کیا تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا گزشتہ رات تم مجھ سے ملنے کے لئے آؤ گے انہوں نے عر ض کی: جی ہاں ‘ لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا تصویر موجود ہو۔ اس کے بعد نبی اکرمﷺ نے کتوں کو مار دینے کا حکم دیا‘ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے چھوٹے باغ ( کے محافظ) کتے کو بھی مارنے کا حکم دیا۔ البتہ بڑے باغ ( کے محافظ ) کتے کو آپ نے چھوڑ دیا۔

أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ ← ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5649

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5650

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، [ص:467] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ وَلَا مَاشِيَةٍ وَلَا حَرْثٍ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ»

حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص کوئی ایسا کتا پالتا ہے ‘ جو شکار کرنے کے لئے یا دوسرے جانور کی حفاظت کے لیے ہو ‘ تو اس کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے‘‘۔

النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← الْحَسَنِ، [ص:239] ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5650

chevron_left Previous
1…789…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr