Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5627

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: «أَلَمْ أَنْهَ عَنْ هَذَا؟! لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَهُ»

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا ‘ تو آپﷺ نے فرمایا: کیا میں نے اس سے منع نہیں کیا ؟ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے ایسا کیاہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5627

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5628

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى حِمَارٍ قَدْ وُسِمَ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَسَمَهُ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کا گزر ایک گدھے کے پاس سے ہوا جسے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص لعنت کرے جس نے یہ داغ لگایا ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَعْقِلٌ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5628

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5629

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي يُرِيدُ [ص:445] أَنْ يُحَنِّكَهُ، فَوَجَدْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ، وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا، قَالَ شُعْبَةُ: أَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: میں اپنے چھوٹے بھائی کو لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپﷺ اسے گٹھی دیں میں نے نبی اکرمﷺ کو باغ میں پایا آپﷺ بکریوں کو داغ لگا رہے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ← شُعْبَةُ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5629

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5630

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَلَهُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فَلَهُ حَسَنَةٌ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص سانپ کو مار دیتا ہے اسے سات نیکیاں ملیں گی اور جو شخص چھپکلی کو مار د یتا ہے اسے ایک نیکی ملے گی‘‘۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ أَبُو حَمْزَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5630

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5631

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَائِبَةَ، مَوْلَاةٍ لِفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعَةً، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: نَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ يَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا أَطْفَأَتِ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغُ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ «

سائبہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں : وہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ تو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا ۔ انہوں نے دریافت کیا: اے ام المومنین آپﷺ اس کے ذریعے کیا کرتی ہیں ۔سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے جواب دیا: ہم اس کے ذریعے چھپکلیاں مارتے ہیں کیونکہ نبی اکرمﷺ نے ہمیں یہ بات بتائی ہے : جب حضرت ابراہیم ؓ کو آگ میں ڈالا گیا ‘تو روئے زمین پر موجود ہر جانور نے اس آگ کو بچھانے کی کوشش کی صرف چھپکلی نے ایسا نہیں کیا یہ اس پر پھونک مار رہی تھی ۔ ( تاکہ وہ آگ زیادہ بھڑکے) ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔

سَائِبَةَ، مَوْلَاةٍ لِفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← نَافِعٍ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5631

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5632

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِيرَوَيْهِ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے پانچ فاسق جانوروں کو حل اور حرم ( ہر جگہ ) مار دینے کا حکم دیا ہے۔چیل ، کوا، چوہا ، بچھو اور پاگل کتا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِيرَوَيْهِ الْأَزْدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5632

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5633

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ [ص:449] الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْعَقْرَبُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْمُخْتَصَرُ مِنَ الْأَخْبَارِ هُوَ رِوَايَةُ صَحَابِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رِوَايَةِ الْعُدُولِ عَنْهُ بِلَفْظِهِ يَتَهَيَّأُ اسْتِعْمَالُهَا فِي كُلِّ الْأَوْقَاتِ، وَالْمُتَقَصِّي هُوَ رِوَايَةُ ذَلِكَ الْخَبَرِ بِعَيْنِهِ، عَنْ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ نَفْسِهِ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِزِيَادَةِ بَيَانٍ، يَجِبُ اسْتِعْمَالُ تِلْكَ [ص:451] الزِّيَادَةِ الَّتِي تَفَرَّدَ بِهَا ثِقَةٌ عَلَى السَّبِيلِ الَّذِي وَصَفْنَا فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ’ پانچ ( قسم کے جانور) فاسق ہیں انہیں جل اور حرم ( ہر جگہ ) کیا جا سکتا ہے ۔ بچھو ، چیل ، کوا ، چوہا اور پاگل کتا ‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) روایت میں سے مختصر وہ روایت ہوتی ہے ‘جو صحابی نبی اکرمﷺ کے حوالے سے نقل کر دیتا ہے ‘ جو کسی عادل شخص نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے ان الفاظ میں نقل کی ہوتی ہے ‘تو اس پر عمل ہر وقت میں کیا جائے گا اور متقصی وہ روایت ہوتی ہے ‘جو اس نے بعینہ صحابی کے حوالے سے اس کی ذات کے حوالے سے نقل کی ہو جو دوسرے حوالے سے الفاظ کی اضافے کے ہمراہ منقول ہو ا س اضافے پر عمل کرنا اس وقت لازم ہوتا ہے ‘جب اسے نقل کرنے میں کوئی ثقہ راوی منفرد ہو۔ یہ اس طریقے کے مطابق ہو گا ‘ جس کا ذکر ہم نے کتاب کے آخرت میں کیا ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ [ص:138] الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5633

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5634

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ الْوَزَغِ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا

سیدہ ام شریک جو بنو عامر سے تعلق رکھتی ہیں ‘ وہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ سے چھپکلی کو مارنے کے بارے میں دریافت کیا ‘ تونبی اکرمﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا۔

عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5634

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5635

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ، وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا»

عامر بن سعد اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔ آپ نے اسے چھوٹا فاسق ( جانور ) کا نام دیا ہے۔

«أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِقَتْلِ الْوَزَغِ، وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا» ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5635

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5636

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، [ص:453] عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : چھپکلی چھوٹا فاسق ( جانور )ہے۔ یہ روایت غریب ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، [ص:453] ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5636

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5637

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ، مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا تَحْتَ السَّرِيرِ فِي بَيْتِهِ، فَإِذَا حَيَّةٌ، فَقُمْتُ لِأَقْتُلَهَا فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، وَقَالَ: تَرَى هَذَا الْبَيْتَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّهُ كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ، فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُهُ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ، وَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ: «خُذْ سِلَاحَكَ فَإِنِّي [ص:454] أَخْشَى عَلَيْكَ» فَأَخَذَ سِلَاحَهُ ثُمَّ ذَهَبَ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ بَيْنَ الْبَابَيْنِ فَهَيَّأَ لَهَا الرُّمْحَ لِيَطْعَنَهَا بِهِ وَأَصَابَتْهُ الْغَيْرَةُ، فَقَالَتِ: اكْفُفْ عَنْكَ رُمْحَكَ حَتَّى تَرَى مَا فِي بَيْتِكَ، فَدَخَلَ فَإِذَا حَيَّةٌ عَظِيمَةٌ مُنْطَوِيَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا فَانْتَظَمَهَا فِيهِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهِ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتِ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ الرُّمْحِ وَخَرَّ الْفَتَى صَرِيعًا، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْفَتَى أَمِ الْحَيَّةُ، قَالَ: فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، وَقُلْنَا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحْيِيَهُ، فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِنْ رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ»

ابو سائب بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو سعید خدریؓ کے گھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو میں نے انہیں نماز ادا کرتے ہوئے پایا۔ میں ان کی نماز ختم ہونے کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ میں نے ان کے گھر میں پلنگ کے نیچے کسی چیز کی حرکت کرنے کی آواز سنی ‘ تو وہ ایک سانپ تھا۔ میں نے اسے مارنے کے لئے اٹھنے لگا ‘ تو حضرت ابو سعید خدری ؓ نے مجھے ارشادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو انہوں نے گھر میں موجود کمرے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا تم اس کمرے کو دیکھ رہے ہو۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: اس میں ہم میں سے ایک نوجوان رہتا تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ نوجوان دوپہر کے وقت نبی اکرمﷺ سے اجازت لے کر اپنے گھر واپس چلا جاتا تھا۔ حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں : ایک دن اس نے نبی اکرمﷺ سے اجازت مانگی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا تم اپنا ہتھیار ساتھ لے کر جاؤ کیونکہ مجھے تمہارے حوالے سے اندیشہ ہے ۔ اس نے اپنا ہتھیار لیا اور چلا گیا۔ جب وہ گھر پہنچا ‘ تو اس کی بیوی دروازے سے باہر کھڑی ہوئی تھی۔ اس نے وہ نیزہ اسے مارنے کا ارادہ کیا ۔ اسے غصہ آ گیا تھا۔ اس خاتون نے کہا: اپنے نیزے روک لو پہلے یہ دیکھ لو گھر کے اندر کیا ہے ‘ جب وہ گھرکے اندر داخل ہوا ‘ تو وہاں ایک بڑا سانپ موجود تھا جو فرش پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ شخص اس سانپ کی طرف بڑھا۔ اس نے اس نیزے میں اس کو پرو دیا پھر وہ اسے لے کر باہرآیا اور اس نے صحن میں اسے گاڑ دیا۔ نیزے کے سرے پر موجود سانپ میں حرکت ہوئی۔ ( ا س نے نوجوان کو ڈس لیا) ‘ تو نوجوان تیزی سے نیچے گرا ‘ یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ دونوں میں سے کون پہلے مرا ہے ‘ وہ نوجوان یا وہ سانپ ‘ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ ہم نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ اس نوجوان کو زندہ کر دے۔ نبی اکرمﷺ ے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کے لئے دعائے مغفرت کرو پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا : مدینہ منورہ میں کچھ جنات رہتے ہیں جو مسلمان ہو چکے ہیں جب تم ان میں سے کسی کو ( سانپ کی شکل میں ) دیکھو ‘ تو اسے تین دن تک آگاہ کرو اگر اس کے بعد وہ تمہارے سامنے آئے ‘ تو اسے مار دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔

أَبِي السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، ← صَيْفِي مولى ابْن أَفْلح ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5637

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ قَتْلِ الْحَیَوَانِ · حديث 5638

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ» قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ وَقَالَ: «فَمَنْ وَجَدَ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَمَنْ لَمْ يَقْتُلْهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا»

سالم بن عبد اللہ اپنے والد( حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ) کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ سانپوں کو مار دو ( بطور خاص) دو دھاری دم کٹے ہوئے ( کو ضرور مارو ) کیونکہ یہ بینائی کو ختم کر دیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں‘‘۔ ابن وھب کہتے ہیں : ایک اور سند کے ساتھ سالم کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ سے یہی حدیث منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہے۔ ’’ جو شخص دو دھاری یا دم کٹے ہوئے سانپ کو پائے اور اسے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ‘‘۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسُ وَغَيْرُهُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to killing animals · Hadith 5638

chevron_left Previous
1…678…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr