Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْمُثْلَۃِ · حديث 5615

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا، فَتَعْمَدُ إِلَى الْمُوسَى فَتَقْطَعُ آذَانَهَا، فَتَقُولُ: هَذِهِ بُحُرٌ، أَوْ تَشُقُّ جُلُودَهَا، وَتَقُولَ: هَذِهِ صُرُمٌ، فَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ؟ » قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ، سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ» ] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ» مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ الَّتِي لَا يَتَهَيَّأُ مَعْرِفَةُ الْخَطَّابِ فِي الْقَصْدِ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا بِهِ، وَقَوْلُهُ: «فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ» لَفْظَةُ أَمْرٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ [ص:434] سَبَبِ ذَلِكَ الشَّيْءِ، وَهُوَ اسْتِعْمَالُ الْقَوْمِ فِي الْإِبِلِ قَطْعَ الْآذَانِ وَشَقَّ الْجُلُودِ وَتَحْرِيمَهَا عَلَيْهَا «

ابوا حوص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپﷺ نے دریافت کیا: کیا ایسا ہے ‘ تمہاری قوم کے اونٹ صحیح و سالم کانوں والے بچے کو جہنم دیتے ہیں پھر کوئی شخص استرا لے کر اس کا کان کاٹ دیتا ہے۔ اور کہتا ہے : یہ بحر ( یعنی فلاں بت کے لئے مخصوص ) ہے یا وہ اس کی کھال کو چیر دیتا ہے اور یہ کہتا ہے یہ صرم ( یعنی فلاں بن کے لئے مخصوص ہے) اور پھر وہ شخص اس اونٹ کو اپنے لئے ا ور اپنے گھر والوں کے لئے حرام قرار دے دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں جو بھی چیز عطا کرتا ہے وہ حلال ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ تعالیٰ کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) روایت کے یہ الفاظ : ’’ اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے ‘‘۔ یہ لوگوں کے محاورے کے مطابق ہے کیونکہ سننے والے تک یہ مفہوم ان کے محاورے کے مطابق ہی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے وہ تمہارے لئے حلال ہے۔ ‘‘ یہاں پر لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے ‘ لیکن اس کے ذریعے مراد اس چیز کے سبب سے منع کرناہے اور وہ لوگوں کا اونٹوں کے بارے میں یہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہے ‘ وہ ان کے کان کاٹ دیتے ہیں اور ان کی کھال چیر دیتے ہیں پھر اسے اپنے لئے حرام قرار دے دیتے ہیں۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The proverbial section · Hadith 5615

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْمُثْلَۃِ · حديث 5616

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: إِنَّ عَبْدًا لِي أَبَقَ، وَإِنِّي نَذَرْتُ إِنْ أَصَبْتُهُ لَأَقْطَعَنَّ يَدَهُ، قَالَ: «لَا تَقْطَعْ يَدَهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِينَا فَيَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ»

حسن بصری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حضرت عمران بن حصین ؓ سے کہا میرا ایک غلام مفرور ہو گیا ہے ۔ میں نے یہ نذر مانی ہے اگر وہ مجھے مل گیا ‘ تو اس کے ہاتھ ضرور کاٹوں گا۔ حضرت عمران بن حصینؓ نے فرمایا: تم اس کے ہاتھ نہ کاٹنا ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ہمارے درمیان ( خطبہ دینے کے لئے) کھڑے ہوئے ‘ تو آپﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔

رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The proverbial section · Hadith 5616

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْمُثْلَۃِ · حديث 5617

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے ‘ جو جانور کا مثلہ کرے‘‘۔

«لَعَنَ اللَّهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The proverbial section · Hadith 5617

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5618

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَقَدْ قُدْتُ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ حَتَّى أَدْخَلْتُهُمْ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قُدَّامَهُ وَهَذَا خَلْفَهُ»

ایاس بن سلمہ اپنے والد ( حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کے حوالے سے یہ بیان نقل کرتے ہیں) ایک دن میں نبی اکرمﷺ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو ایک خچر پر سوار کروا کے لے جا رہا تھا ‘ یہاں تک کہ میں انہیں لے کر نبی اکرمﷺ کے حجرے کے اندر آیا ۔ ( حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ میں سے ) ایک نبی اکرمﷺ کے آگے بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسرے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5618

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5619

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «فَمَعْنَاهُ أَنَّهُ لَا يَسِيرُ بِهَا وَلَا يَنْزِلُ عَنْهَا»

سہل بن معاذ اپنے والد ‘ جو نبی اکرمﷺ کے صحابی ہیں ، ان کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ان جانوروں پر سلامتی کے ساتھ سواری کرو انہیں کرسی نہ بناؤ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس کا مطلب یہ ہے ‘ انہیں اس طرح سے لے کر نہ چلو کہ تم ان سے نیچے اتر و ہی نہیں۔

أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5619

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5620

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَيْهِ بِحِمَارٍ قَدْ كُوِيَ عَلَى وَجْهِهِ أَوْ وُسِمَ، فَلَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، لَا تَضْرِبُوهَا عَلَى وُجُوهِهَا»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے پہ داغ لگا یا گیا تھا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس شخص پر لعنت کی جس نے ایسا کیا تھا ‘ پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ ! تم لوگ ان کے چہروں پر نہ مارو۔

«سُبْحَانَ اللَّهِ، لَا تَضْرِبُوهَا عَلَى وُجُوهِهَا» ← جْهِهِ أَوْ وُسِمَ، فَلَعَنَ النَّبِيُّ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5620

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5621

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دَخَلْتِ امْرَأَةٌ النَّارَ [ص:439] فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی ۔ اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا وہ اسے کھانے کے لئے نہیں دیتی تھی اور اسے کھولتی بھی نہیں تھی کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی ‘ یہا ں تک کہ وہ بلی مر گئی‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5621

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5622

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: «انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ وَقُمْنَا، فَصَلَّى ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا يُحَدِّثُنَا، فَقَالَ: » لَقَدْ عُرِضَتَ عَلَيَّ الْجَنَّةُ، حَتَّى لَوْ شِئْتُ لَتَعَاطَيْتُ مِنْ قُطُوفِهَا، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَلَوْلَا أَنِّي دَفَعْتُهَا عَنْكُمْ لَغَشِيَتْكُمْ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ثَلَاثَةً يُعَذَّبُونَ: امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً، تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا، أَوْثَقَتْهَا فَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَلَمْ تُطْعِمْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَهِيَ إِذَا أَقْبَلَتْ تَنْهَشُهَا وَإِذَا أَدْبَرَتْ تَنْهَشُهَا، وَرَأَيْتُ أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ صَاحِبَ السَّائِبِتَيْنِ يُدْفَعُ بِعَمُودَيْنِ فِي النَّارِ، وَالسَّائِبَتَانِ بَدَنَتَانِ [ص:440] لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَهُمَا، وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّكِئًا عَلَى مِحْجَنِهِ، وَكَانَ صَاحِبُ الْمِحْجَنِ يَسْرِقُ مَتَاعَ الْجّاجِّ بِمِحْجَنِهِ، فَإِذَا خَفِيَ لَهُ ذَهَبَ بِهِ، وَإِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِ، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَسْرِقْ، إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي «

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ آپﷺ کھڑے ہوئے ہم بھی کھڑے ہوئے۔ نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کی۔ اس کے بعد بات چیت کرنے کےلئے آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا ‘ یہاں تک کہ اگر میں چاہتا ‘ تو اس کے خوشہ کو حاصل کر لیتا۔ میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا اگر میں اسے پرے نہ کرتا ‘ تو وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی ۔ میں نے اس میں تین لوگوں کو دیکھا‘ جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا۔ ایک یمن کی رہنے والی سیاہ فام لمبی عورت تھی جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا۔ اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا۔ اسے چھوڑا نہیں تھا کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی۔ اس نے اس بلی کو کچھ کھانے کے لئے نہیں دیا‘ یہاں تک کہ وہ بلی مر گئی ‘ تو وہ بلی اس کی طرف آتی تھی ‘پھر وہ اس کے پیچھے کی طرف سے آتی تھی۔ اسے نوچتی تھی۔ ( میں نے جہنم میں) بنو وعدع سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو دیکھا جس کا دو اونٹنیوں کا معاملہ تھا جسے جہنم میں دو ستونوں کے درمیان باندھا ہوا تھا ( راوی بیان کرتے ہیں) وہ دو اونٹنیاں نبی اکرمﷺ کے قربانی کے جانوروں میں سے تھی ‘جنہیں اس شخص نے چوری کر لیا تھا( نبی اکرمﷺ نے فرمایا) میں نے لاٹھی والے شخص کو دیکھا جو لاٹھی کے ذریعے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ یہ شخص اپنی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کا سازو سامان چوری کیا کرتا تھا ‘ جب اس کی چوری پوشیدہ رہتی تھی ‘ تو وہ سامان لے جایا کرتا تھا ‘ جب پکڑی جاتی تھی ‘ تو یہ کہتا تھا: میں نے چوری نہیں کی۔ یہ چیز ‘ تو میری لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی تھی۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5622

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5623

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، [ص:441] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ الْعَبَّاسَ، وَسَمَ بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً فِي وَجْهِهِ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ، فَقَالَ عَبَّاسٌ: لَا أَسِمُهُ إِلَّا فِي آخِرِهِ، فَوَسَمَهُ فِي جَاعِرَتَيْهِ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عباسؓ نے اپنے اونٹ یا کسی جانور کے چہرے پہ داغ لگایا جب نبی اکرمﷺ نے اسے دیکھا ‘ تو آپﷺ نے غصے میں آ گئے۔ حضرت عباسؓ نے عرض کی: اب میں ہمیشہ اس کے جسم کے پیچھے حصے پر داغ لگایا کروں گا ‘ تو پھر حضرت عباس ؓ نے اس کے جاعرۃ ( رات کا وہ حصہ جہاں تک جانور کی دم ہلانے تک پہنچتی ہے ) پر داغ لگایا۔

جْهِهِ، فَرَآهُ النَّبِيُّ فَغَضِبَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ الْعَبَّاسَ، وَسَمَ بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً فِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَمِّيَ مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5623

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5624

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ لَا أَسِمُهُ إِلَّا فِي أَقْصَى شَيْءٍ [ص:442] مِنَ الْوَجْهِ، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ، فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے چہرے پہ داغ لگایا گیا تھا ‘ تو آپﷺ نے اس کی سختی سے مذمت کی ۔ ان صاحب نے عرض کی: اللہ کی قسم اب میں اس کے جسم کے اس حصے پر داغ لگاؤں گا ‘ جو چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو‘ تو ان صاحب کے تحت ان کے گدھے کے رانوں کے اس حصے پر داغ لگایا گیا ( جہاں تک دم ہلانے تک پہنچتی ہے ) ‘ تو وہ پہلا جانور تھا جس کے رانوں کے حصے پر داغ لگایا گیا۔

رَأَى رَسُولُ اللَّهِ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5624

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5625

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، قَالَ: «وَاللَّهِ لَا أَسِمُهُ إِلَّا أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ، فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ، فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے چہرے پہ داغ لگایا گیا تھا ‘ تو آپﷺ نے اس کی سختی سے مذمت کی ۔ ان صاحب نے عرض کی: اللہ کی قسم اب میں اس کے جسم کے اس حصے پر داغ لگاؤں گا ‘ جو چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو‘ تو ان صاحب کے تحت ان کے گدھے کے رانوں کے اس حصے پر داغ لگایا گیا ( جہاں تک دم ہلانے تک پہنچتی ہے ) ‘ تو وہ پہلا جانور تھا جس کے رانوں کے حصے پر داغ لگایا گیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5625

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَضْلٌ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالدَّوَابِّ · حديث 5626

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، صَاعِقَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، [ص:443] أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: مَرَّ حِمَارٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كُوِيَ فِي وَجْهِهِ، تَفُورُ مَنْخِرَاهُ مِنْ دَمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا» ثُمَّ نَهَى عَنِ الْكَيِّ فِي الْوَجْهِ، وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک گدھا نبی اکرمﷺ کے پاس گزرا جس کے چہرے پہ داغ لگایا گیا تھا اس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے ایسا کیا پھر نبی اکرمﷺ نے چہرے پہ داغ لگانے اور چہرے پر مارنے سے منع کیا ۔

الْكَيِّ فِي الْوَجْهِ، وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ ← رَسُولُ اللَّهِ «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا» ثُمَّ نَهَى ← مَرَّ حِمَارٌ بِرَسُولِ اللَّهِ قَدْ كُوِيَ فِي وَجْهِهِ، تَفُورُ مَنْخِرَاهُ مِنْ دَمٍ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، [ص:502] أَنَّهُ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Merit with regard to the caterpillar · Hadith 5626

chevron_left Previous
1…567…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr